ہوم / حقوق/جدوجہد / ہے کوئی رجل رشید۔۔۔۔۔۔۔۔؟ واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید

ہے کوئی رجل رشید۔۔۔۔۔۔۔۔؟ واحد اللہ جاوید

قوم نوح پر عذاب کب مقدر ہوا تھا؟ جب سرداران نے عوام الناس کو اس قدر گمراہ کردیا کہ آنے والی نسل بھی انکی غلیظ سوچ کی غلام رہے۔ پاکستانی عوام کو بھی ایسی صورتحال کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریاں کہنے سے آپ بری الذمہ نہیں ہوسکیں گے۔ آنے والی تباہی کا ذکر جب بھی ہوگااربابِ اختیار کے ساتھ ساتھ اشرافیہ بھی ذمہ داروں میں شمار ہوگی۔یہ بات کون نہیں جانتا کہ جو اسلام پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا میرے آقا حضرت محمد ﷺ سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ جن مقاصد کے لئے پاکستان بنا تھا وہ مسخ کرکے پس ِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے بہت سارے احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ قیامت تک کےلئے لے رکھا ہے۔ فرید پراچہ صاحب نے نے ایک دفعہ ٹی وی پر ایک مجلس میں قرآن کی تحریف کرنےکی ناکام کوشش کی تھی۔ دو مختلف آیات کو ملا کر ایک آیت کا کہہ کر وقتی طور پر محفل میں جھوٹی داد حاصل کرلی تھی۔ اور اسلام کو دہشت گردی کا حامی ثابت کردیا تھا۔ جب ایک ٹی وی چینل MTA نے انکی اسکی مذموم حرکت کو بے پردہ کردیا تو موصوف تردید نہ کرسکے۔ الگ بات ہے کہ شرمندہ بھی نہ ہو ئے ۔ بہرحال الحمدللہ قرآن اصل حالت میں محفوظ ہے۔ اسلام جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے سلاملتی کا دین ہے۔ سلامتی کا پیغام ہے۔ سلامتی کا ضامن ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پوری قوم میں ایک بھی رجل رشید نہیں رہا۔ لے دے کے چیف جسٹس ثاقب نثار پر نظر جارہی ہے کیونکہ کٹاس مندر کی بے توقیری کا نوٹس آپ نے لیا تھا۔ اب انکی جرآت اور انصاف پسندی کا تقاضا ہے کہ سوؤ موٹو لیں۔
23 اور 24 مئی کی درمیانی رات کو سیالکوٹ کی احمدیہ کمیونٹی کی نہ صرف مسجد کو منہدم کیا بلکہ احمدیوں کے مقدس ورثے کو بھی ضائع کرنے دیا گیا ۔ یہ سب حکومت کی سرپرستی میں ہوا۔ اس طرح کی بے توقیری کی مثال مذہبی دنیا میں کم ہی ملتی ہے کہ ہجوم کے حملے کو حکومت کی حمایت بھی حاصل رہے۔
رمضان ایسا مہینہ ہے جو قبل از اسلام بھی حرمت والا تھا۔ کافر بھی اسکو واجب الاحترام سمجھتے تھے۔ ایسے حالات میں جبکہ اسلام کو دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، پاکستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بتایا جاتا ہے۔ پاکستان پر پابندیاں لگانے کے بہانے تلاشے جارہے ہیں۔ سیاسی طور پر پاکستان کو تنہا کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں ایسی مذموم حرکتیں کوئی مسلمان تو درکنار کوئی پاکستانی بلکہ ایک انسان بھی نہیں سوچ سکتا۔ میں حق بجانب ہوں کہ چیف جسٹس کی طرف توجہ مرکوز کردوں ۔ اب ان کا سوؤ موٹو کیا کرے گا؟ انصآف کا ترازو سیدھا رکھیں گے یا مصلحت پوشی خاموش رکھے گی۔ قارئین کرام ! اگر آج ہم چیف جسٹس صاحب کو بھی بے بس دیکھ لیں تو پھر ہماری حالت قومِ نوح سے مختلف نہیں ہے۔ اپنے مضمون کو اس دکھ کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ ہم ایسے رسول ﷺ کو ماننے والے ہیں جو اپنے بہت بڑے دشمن منافقین کے سردار عبداللہ بن ابئ کے لئے صرف اس لئے ستر بار سے زائد بار معافی طلب کرتا ہے کہ اللہ نے حکم دیا تھا کہ تو اگر ستر بار بھی معافی مانگے میں نے اسکو معاف نہیں کرنا۔ اپنا کرتہ کفن کے طور پر دیتاہے کہ شاید عذاب سے محفوظ ہوجائے۔ کوڑا ڈالنے والی عورت کی مزاج پرسی کو جاتا ہے اور اسکی زندگی کی دعا کرتا ہے۔ ایسے مرد کامل کی محبت کے دعوے دار کیسا اسلام دنیا میں پیش کررہے ہیں۔
واحد اللہ جاویدؔ

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend