ہوم / حقوق/جدوجہد / فیض آباد میں ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وسعت اللہ خان

فیض آباد میں ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وسعت اللہ خان

ایک داغدار کرپٹ قیادت والی حکومت کو بہرطور جانا ہی چاہیے۔ اس پر پارلیمانی و غیر پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے ہے۔ مگر کیسے پتہ چلا کہ مسلم لیگی حکومت داغ دار اور کرپٹ ہے؟ ظاہر ہے پاناما لیکس سے۔

ایک منٹ ! جب لیگی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد ہی چار حلقوں میں دھاندلی کا پتہ چلانے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کے بہانے ہانکے کا پہلا ڈھول بجا اور ایک برس بعد اگست 2014 میں گو نواز گو کا ڈھول مسلسل پیٹنے سے ہانکے کا باضابطہ آغاز ہوا تب تو پاناما کہیں نہیں تھا ۔

اے شریفو خدا کے لیے یہ مت کہنا کہ تم ہانکے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ پہلا ہانکہ پی این اے سے بھٹو کو گھیرنے کے لیے کروایا گیا تو اس وقت تم اصغر خان کی تحریکِ اسلتقلال میں تھے۔ پھر تم سے آئی جے آئی کے ہانکہ بردار جمع کروائے گئے ۔ پھر تم آپ اپنے استاد ہو گئے اور سجاد علی شاہ اور فاروق لغاری کا شکار کرنے کے بعد خود کو جم کاربٹ سمجھنے لگے اور اس دھوکے میں ایک ایسے شکار پر چھلانگ لگا دی جو جھکائی دے کر نکل گیا اور پلٹ کر تمہاری گردن دبوچ لی۔ تب کہیں جا کر تمہیں احساس ہونے لگا کہ ہانکہ کرنا اور اس کا حصہ بننا کتنا خطرناک ہے۔ مگر تب سے ہانکہ برداروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہے۔

ویسے بھی ہانکے میں استعمال ہونے والوں کو اکثر کھانا اور شاباش ہی ملتی ہے۔ کبھی کسی نے سنا کہ شکار میں سے بھی حصہ ملا ؟ اب بھی جو شکار ہوگا اس کے بھی شکاری تین برابر کے حصے کرے گا۔

یہ میرا، دوسرا میرے ساتھیوں کا، تیسرا تم سب کا، ہمت ہے تو اٹھا لو۔

مصنف admin

Check Also

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی دیپ کچھ تھے ، مگر جلے ہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend