ہوم / حقوق/جدوجہد / مخبوط الحواس قوم اور اسلامی مصنوعات، قسط دوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری اصغر علی بھٹی

مخبوط الحواس قوم اور اسلامی مصنوعات، قسط دوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری اصغر علی بھٹی

مشہور کالم نگار جناب ہارون الشید صاحب اپنے 08/02/2018 کےکالم’’ دین ملا فی سبیل اللہ فساد ‘‘میں اپنے ایک مذہبی تنظیم کے اجتماع میں شمولیت کی داستان لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مقرر نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل کا قصہ بیان کیا کہ فتح مکہ کے بعد سمندر کا اُنہوں نےرخ کیا کہ دور دراز کی کسی زمین میں جا بسیں۔ کشتی کو طوفان نے آلیا تو مسافروں نے پروردگار کو پکارا یا اللہ یا اللہ عکرمہ نے کہا کہ اپنے بتوں سے مدد کیوں نہیں مانگتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں زمین و آسمان کے خالق کو ہی پکارا جاتا ہے ۔ آپ نے یہ سنا تو واپس لوٹ آئے۔ اپنے مرکزی خیال کو واضح کرنے کےبعد مقرر نے کہا کہ پاکستانی مسلمان مشرکین مکہ سے بھی بھی بدتر ہیں مصیبت اور موت میں بھی قبروں کو پکارتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ مشہور اہل حدیث مولوی جناب احسان الہی ظہیر صاحب نے بھی اپنی آ نکھیں بند کرنے سے پہلےپاکستان کے سواد اعظم کی تصویر کشی کرتے فرمایا تھا کہ’’ان کے عقائد کا اسلام سے دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بعینہ وہی عقائد ہیں جو جزیرہ عرب کے مشرک اور بت پرست رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے رکھتے تھے بلکہ دور جاہلیت کے لوگ بھی شرک میں اس قدر غرق نہ تھے جس قدر یہ ہیں‘‘۔( البریلویہ صفحہ9)بریلویوں کے امتیازی عقائد وہ ہیں جو دین کے نام پر بت پرستوں، عیسائیوں، یہودیوں اور مشرکوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوئے ہیں‘‘۔(صفحہ55)’’کفار مکہ۔جزیرہ عرب کے مشرکین اور دور جاہلیت کے بت پرست بھی ان سے زیادہ فاسد اور ردی عقائد نہ رکھتے ہونگے‘‘۔(البریلویۃ صفحہ65)
پاکستان کے انہیں درگاہوں کےمتولی حضرات کا 7 دن میں شریعت کے نفاذ کا دھمکی نما مطالبہ اور کشمیر اسمبلی میں جماعت احمدیہ کو کافر قرار دینے والے ان’’ عظیم مسلمانوں ‘‘کو تاریخ کس لقب سے یاد کرے گی وہ ایک مستقبل کا ملگجا ہے مگر جناب مودودی صاحب جو ساری عمر انقلاب اسلامی کے لئے صالحین کی فوجیں تیا ر کرنے میں ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہے مگراپنی عمر رفتہ کے ساتھ ایک ڈھلتی شام اپنی ناکامیوں اور اپنی قوم کا نوحہ کہتے ہوئے دل کےکرب کوچھپا نہ سکے اور چیختے ہوئے گویا ہوئے’’لوگ اسلام سے انحراف کرنے ہی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ اب یہ ہو گیا ہے کہ مسلمان جو کچھ بھی کرے وہ اسلامی ہے حتیٰ کہ وہ اگر اسلام سے بغاوت بھی کرے تو وہ اسلامی بغاوت ہے ۔ یہ سودی بینک کھولیں تو اس کا نام اسلامی بینک ہوگا ۔ یہ انشورنس کمپنیاں قائم کریں گے تو وہ اسلامی انشورنس کمپنی ہو گی۔ یہ جاہلیت کی تعلیم کا ادارہ کھولیں تو وہ مسلم یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج یا اسلامیہ سکول ہوگا۔ ان کی کافرانہ ریاست کو اسلامی ریاست کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔ ان کے فرعون اور نمرود اسلامی بادشاہ کے نام سے یا دکئے جائیں گے۔ ان کی جاہلانہ زندگی اسلامی تہذیب و تمدن قرار دی جائے گی۔ ان کی موسیقی و مصوری اور بت تراشی کو اسلامی آرٹ کے معزز لقب سے ملقب کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ سب سوشلسٹ بھی ہو جائیں تو مسلم سوشلسٹ کے نام سے پکارے جائیں گے۔ ان سب ناموں سے آپ آشنا ہو چکے ہیں اب صرف اتنی کسر باقی ہے کہ اسلامی شراب خانے ، اسلامی قحبہ خانے ،اور اسلامی قمار خانے جیسی اصطلاحوں سے آپ کا تعارف ہو جائے‘‘
( سیاسی کشمکش حصہ سوئم طبع اول ص 26)
مودودی صاحب تو ڈھلتی عمر کے ساتھ اپنا بوجھ میاں طفیل صاحب کے کندھوں پر ڈال کر عازم امریکہ اور پھر وہیں سے راہی عدم ہو گئے ۔ مگرمیاںطفیل صاحب نے جو سرمایہ پیچھے چھوڑا اسی واقعی یہ حق حاصل تھا کہ وہ دوسروں کے ایمان تو کیا زندگیوں کے فیصلوں کی بھی مجاز مطلق ہوں ۔قوم کی مخبوط الحواسی کا ٹمپریچر بتاتے ہوئے میاں طفیل صاحب نے اپنے عاقبت نامہ کو یوں پڑھا تھا’’’’قوم میں کس پراسلام لایا جائے؟کس پر اسلام نافذ کیا جائے؟قوم کا اس وقت کیاحال ہے؟کیا آپ نہیں جانتے…امر واقعہ یہ ہے کہ یہ قوم تو بالکل سڑگئی ہے پیسے بغیر کوئی ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔کوئی ناچ رہا ہو کوئی زانی زنا کررہا ہو۔کسی کو پرواہ نہیں پیسہ ہوتو وہ لیڈربن جائے گا۔کسی کو امانت اور دیانت کی کوئی پرواہ نہیں نہ ضرورت جتنا بڑا کوئی رشوت خور ہو۔جتنا بڑا کوئی بددیانت ہو۔جتنا بڑا کوئی سمگلر ہو۔زانی ہو۔بدمعاش ہو اس کو ووٹ دیں گےاب آپ ہی بتائیں کس پراسلام نافذ کیا جائے؟۔آپ کے علماء کا کیا حال ہے؟ایک حلوے کی پلیٹ کسی مولوی صاحب کو کھلادیں جوچاہے فتویٰ لے لیں ہر مولوی دوسرے کوکافر بنا رہاہے۔جماعت اسلامی50سالوں سے کام کررہی ہے۔مولانا مودودی جیسا شخص اس قوم کے واسطے سر کھپاتا رہا۔گیارہ کروڑ کی آبادی میں سے اس وقت بھی 5ہزار جماعت اسلامی کے ارکان ہیں وہ بھی چھوٹی برادریوں اور ذاتوں کے تعلق رکھنے والے یا دفتروں کے چپڑاسی کوئی قابل ذکرآدمی جماعت اسلامی کے ساتھ نہیں‘‘۔(بیدار ڈائجسٹ اگست90ء صفحہ9ضیاء الحق شہید نمبر)
آج شام عبد المالک صاحب اپنے پروگرام with malick breakingviewsمیں سینٹ 2018 میں نامزد ہونے والے ’’نئے صالحین‘‘ کو’’ ہیرے ‘‘کے نام سے معنون کرکے ان کے کارہائے نمایاں قتل ، منی لانڈرنگ وغیرہ بتا رہے تھے۔اس میں جلنے کی آخر کیا بات ہے؟اور ایسا آخر کیوں نہ ہو بھائی ؟مستند اسلامی سوسائٹی کے لئے مستند اسلامی قانون سازی کرنے کے لئے مستند اسلامی سپوتوں کی شکلیں ایسی ہی ہو نی چاہیئں۔ مور جنگل میں ناچتے ناچتے اپنے پائوںکو دیکھ کر کیوں روتا ہے وہ مجھے اپنے سکہ بند اسلامی بھائیوں کے ان بیانات کو پڑھ کر اس دکھ کا اندازہ بخوبی ہو گیا ہے۔بقول مولانا عبدالماجد دریاآبادی ایڈیٹر صدق جدید وخلیفہ مجاز اشرف علی تھانوی’’مبارک ہے وہ دین کا خادم جو تبلیغ واشاعت قرآن کے جرم میں قادیانی یا احمدی قرار پائے‘‘۔(صدق جدید22دسمبر1961ء)اوربقول مشہور عالم دین اور جماعت اسلامی کےسابقہ عہدیدارجناب مولوی عبد الرحیم اشرف مدیر المنیر لائل پور’’ہر وہ چیز جو انسانیت کے لیے نفع رساں ہو اسے زمین پر قیام وبقا ہوتا ہے۔قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جوہر موجود ہیں ان میں اولین اہمیت اُس جدوجہد کو حاصل ہے کہ جواسلام کے نام پر وہ غیر ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ لوگ قرآن کو غیر ملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں۔تثلیث کو باطل کرتے ہیں۔سید المرسلین سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں۔ان ممالک میں مساجد بنواتے ہیں اور جہاں کہیں ممکن ہو اسلام کو امن وسلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔غیر مسلم ممالک میں قرآنی تراجم اور اسلام تبلیغ کاکام صرف اصول’’نفع رسانی‘‘کی وجہ سے قادیانیت کے بقا اور وجود کا باعث ہی نہیں ہے ظاہری حیثیت سے بھی اس کی وجہ سے قادیانیوں کی ساکھ ہے ایک عبرت انگیز واقعہ خود ہمارے سامنے وقوع پذیر ہوا1954میں جب جسٹس منیر انکوائری کورٹ میں علم دور اسلامی مسائل سے دل بہلا رہے تھے اور تمام مسلم جماعتیں قادیانیوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھیں۔قادیانی عین انھیں دنوں ڈچ اور بعض دوسری غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ قرآن مکمل کرچکے تھے اور انہوں نے انڈونیشیا کے صدر حکومت کے علاوہ گورنر جنرل پاکستان مسٹر غلام محمد اور جسٹس منیر کی خدمت میں یہ تراجم پیش کئے گویا وہ بزبان حال وقال کہہ رہے تھے کہ ہم ہیں وہ غیر مسلم اور خارج از ملت اسلامیہ جواس وقت جبکہ آپ لوگوںہمیں کافر قرار دینے کے لیے پر تول رہے ہو غیر مسلمانوں کے سامنے قرآن اُن کی مادری زبان میں پیش کررہے ہیں۔‘‘(المنیر لائل پور2مارچ1956ء صفحہ10)
بقول مولانا ارشد القادری ایڈیٹر جام نور جمشید پور بھارت:
’’جماعت اسلامی جن لوگوں کو اسلام سے قریب تر کرتی ہے وہ ہزار بگڑنے کے باوجود کسی نہ کسی نہج سے اسلام کے ساتھ بہرحال کوئی تعلق رکھتے تھے لیکن قادیانی جماعت کا لٹریچر مغرب کے عیسائیوں کو جو اندر سے لے کرباہر تک اسلام کے غالی دشمن اور حریف ہیں۔انہیں اسلام سے قریب ہی نہیں کرتا اپنے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھواتا ہے‘‘۔۔۔۔’’یورپ،ایشیا،امریکہ اور افریقہ کے جن ملکوں میں قادیانی جماعت نے اپنے تبلیغی مشن قائم کئے ہیں۔جن کے ذریعہ وہ منظم طریقے پر بنام اسلام اپنے مذہب کا پیغام اجنبی دنیا تک پہنچا رہے ہیں کام کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے صرف ان کے نام پڑھیے:
انگلینڈ۔امریکہ۔ماریشس۔مشرقی افریقہ۔مغربی نائیجیریا۔ انڈونیشیا۔ ملایا۔ اسپین۔ سوئٹزر لینڈ۔ ایران۔ فلسطین۔ہالینڈ۔جرمنی۔جزائر غرب الہند۔ سیلون۔ بورنیو۔برما۔شام۔ لبنان۔ مسقط۔ پولینڈ۔ ہنگری۔ البانیہ۔ اٹلی۔
قادیانی جماعت کے تبلیغی سرگرمیوں اور دائر ہ عمل کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کے لیے صرف اتنا معلوم کرنا کافی ہوگا کہ دنیا کی چودہ اجنبی زبانوں میں انہوں نے قرآن کریم کے تراجم شائع کئے ہیںان کی فہرست ملاحظہ فرمائیے:
انگریزی۔ڈچ۔جرمنی۔سواحیلی۔ہندی۔گورمکھی۔ملائی۔فینسٹی۔انڈونیشئین۔روسی۔فرانسیسی۔ پرتگیزی۔ اطالوی۔ ہسپانوی‘‘۔
نوٹ: یہ1977ء کی بات ہے۔(جماعت اسلامی صفحہ 104و 106-107نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی کچا رشید روڈ بلال گنج لاہور)
سو 2018 میں میری قوم کو نئے ’’ ہیروں ‘‘ کے ساتھ اسلامی سینٹ کے اسلامی قانون سازممبران مبارک ہوں او’’ر سرکاری کافرین‘‘ آپ کو بقول مولانا عبد الماجد دریا بادی صاحب سرکاری مجرم ہونا مبارک ہو’’مبارک ہے وہ دین کا خادم جو تبلیغ واشاعت قرآن کے جرم میں قادیانی یا احمدی قرار پائے‘‘۔ ( جاری ہے )

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend