ہوم / حقوق/جدوجہد / ختم نبوت کی سیاست کا تاریخی پس منظر،از چوہدری اصغر علی بھٹی

ختم نبوت کی سیاست کا تاریخی پس منظر،از چوہدری اصغر علی بھٹی

اسلام میں ختم نبوت کی سیاست برصغیر میں ہی کیوں؟

آج کل وطن عزیز میں مذہبی سیاست کا دور دورہ ہے۔ ہر کوئی ختم نبوت پر بات کر رہاہے ٹی وی اینکر ہوں یا جناب ظفراللہ جمالی ۔ رانا ثناء اللہ صاحب ہوں یا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر صا حب۔ سب ہی ختم نبوت پر لب کشائی فرما رہے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی حیران کھڑا ہے تو وہ ہے مولوی فضل الرحمن صاحب اور ہم نوا پارٹی۔ یعنی وہ جن کے آباء نے برصغیر میں ختم نبوت پر سیا ست متعارف کروائی اور پھر ساری عمر اسے بیچ کر روٹی کھائی وہ پریشان ہیں کہ بولوں تو کیا بولوں۔ کل کسی شریر نے FACE BOOK پر ان کے گزشتہ ہفتے میں دئیے گئے پانچ مختلف و متضاد بیانات اکھٹے کرکے چھاپ دئیے ہیں جن میں آخرتان جاکر امریکہ پر ہی ٹوٹی ہے
آپ کا بیان اول تھا۔۔۔۔۔ختم نبوت کے حوالےسے شق میں ترمیم پروپیگنڈہ ہے
دوسرا بیان۔۔۔۔۔۔شق میں ترمیم کی گئی ہے مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تیسرا بیان۔۔۔۔۔۔ترمیم واپس لی جا رہی ہے۔غلطی تسلیم کرنا ن لیگ کا بڑا پن ہے
چوتھا بیان۔۔۔۔۔میرے فون اور حافظ حمداللہ کے احتجاج نے حکومت کو ترامیم واپس لینے پر مجبور کردیا
ان چار بیانوں کے بعد آپ چناب نگر ( ربوہ ) پہنچے یہاں آپ نےختم نبوت کانفرنس اٹینڈ کرنی تھی یعنی احمدی آبادی کی خبر لینا تھی تو آپ نے حسب روائیت بیان یوں بدل دیا
پانچواں بیان۔۔۔۔۔۔۔حکومت نے امریکہ کے کہنے پر ختم نبوت قانون میں ترمیم کی۔
سب حیران ہیں کہ آخر وہ کیا مجبوری ہے کہ مولوی فضل الرحمٰن صاحب اور ان کا فرقہ ہر وقت اپنی توپوں کا رخ جماعت احمدیہ کی طرف ہی رکھتا ہے۔آئیے میں آج آپ کو ان کی وہ خفیہ مجبوری دکھاتا ہوں جس پریہ بے چین ہو کر یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ اگر سمندر کی تہہ میں دو مچھلیاں بھی لڑتی ہیں تو اس میں بھی احمدیوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔
بانی جماعت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے1880ء میں اپنی پہلی کتاب لکھی جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی بشارات و الہامات کا تذکرہ کیا اور پھر یہ تحریر و دعاوی کا سلسلہ آپ کی زندگی کے اخیر تک یعنی1908ء تک جاری رہا۔ اِس عرصہ میں دیو بند کے 5ابتدائی بزرگان حیات تھے۔
1۔دیو بند کے موسس اعلیٰ: مولوی محمد قاسم نانوتوی
2۔دیو بند کے قطب عالم: مولوی رشید احمد گنگوہی
3۔دیو بند کے شیخ الحدیث: مولوی خلیل احمد سہارنپوری
4۔دیو بند کے حکیم الامت: مولوی اشرف علی تھانوی
5۔دیو بند کے امام الہند: مولانا ابو الکلام آزاد
ان میں سے موخر الذکر مولانا ابوالکلام آزاد تو مرزا صاحب کے جنازہ کے ساتھ لاہور سے قادیان تک گئے اور واپسی پر اپنے اخبار میں مرزا صاحب کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ’’فتح نصیب جرنیل‘‘ اور اسلام کا عظیم دفاع کرنے والا، قرار دیا۔ دنیا ان دیوبندی حضرات سے جاننا چاہتی ہے کہ پھر1908ء کے بعد یہ کیا ماجرا ہو گیا کہ بعد میں آنے والے قدر ے کم درجہ کے علماء دیوبند نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف جماعت احمدیہ کے لئے سخت زبان استعمال کرنا بنالیا۔یہ یو ٹرن کیوں اور کیسے آیا؟ اور آخر کس مجبوری نے اہالیانِ دیوبند کا قبلہ و کعبہ بدل کر رکھ دیا؟
دوسراسوال جو دنیا ان دیوبندی حضرات سے مزید حیران ہو کر پوچھتی ہے کہ مرزا صاحب کی زندگی میں اول المخالفین کی صف میں زیادہ بڑی تعداد میں غیرمقلدین کا گروہ نظر آتا ہے جن میں مولوی ثناء اللہ امرتسری،مولوی نذیر حسن دہلوی،مولوی محمد حسین بٹالوی،مولوی بشیر حسین بھوپالوی، اور غزنوی خاندان کے افراد وغیرہ ہیں جن سے مرزا صاحب کے تحریری بھی اور زبانی بھی مباحثے و مذاکرے ہوئے مگر پھر اچانک منظر بدلتا ہے اور دیو بندی حضرات کبھی احرار کی شکل میں اور کبھی محافظین ختم نبوت کے نام سے جماعت احمدیہ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور پھر مخالفت بلکہ اندھی مخالفت کی پہلی صف کو سنبھال لیتے ہیں۔اچانک مخالفین احمدیت کی صفوں میں یہ تبدیلی اور دیوبندی حضرات کا صف اول میں آنا۔یہ حادثہ اسلام اور ختم نبوت سےمحبت تھی یا کسی سیاسی مجبوری کا شاخسانہ ؟
1905 کا وہ سر بستہ راز
ظاہراً سادہ سے نظر آنے والا یہ سوال اپنے دامن میں بہت سے سر بستہ راز سمیٹے ہوئے ہے۔ بہت سی تلخ سچائیاں اوربہت سے تلخ حقائق ۔وہ دل کیسا ہوگا ؟۔۔۔ وہ آنکھ کیسی ہوگی؟۔۔۔ وہ زبان کیسی ہو گی ؟ ۔۔۔وہ ہاتھ کیسے ہونگے ؟ جنہوں نے فاطمۃالزہرا ؓکی گود میں کھیلنے والے۔۔۔۔علی المرتضیٰ ؓکے بازووں میں چہکنے والے ۔۔۔۔سرکار دو عالم ﷺکے کندھوں پر بیٹھ کر کلکاریا ں مارنےوالے سردارِ بہشت کو بھوکا پیاسا رکھ کر تڑپاتڑپاکر شہید کیا اور پھر نماز ادا کی ۔وہ مفتی صاحب کیسے ہونگے؟۔۔۔اور اُن کا قلم کیسا ہوگا؟ جنہوں نےخانوادہ رسولﷺ کے علی اصغر جیسے معصوم کم سن بچےپر پانی بند کیا اور پھرپانی مانگنے پر اس کے حلق پر تیر مار کراُسے دکھوں سے آزاد کیا وہ جرنیل کیسے ہونگے؟۔۔۔اور اُن کے سپاہی کیسے ہونگے ؟ جو خاندان نبوت کی پاک دامن تتلیوں جیسی شہزادیوں کو بھوکے پیاسے ،ننگے سر اور ننگے پاوں اسیر کرکے پیدل چلاتے ہوئے بڑے فخر سے حاکم وقت کے دربار میں لے کر حاضر ہوئے ۔
تاریخ اِن تمام سوالوں کو جواب دیتی ہے۔ ایک ایک ظلم کے پیچھے چھپے حقائق کو بے نقاب کرتی ہے اور چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ جب مذہب کے نام پر سیاست شروع ہوجائے تو آنکھوں پر اقتدار کے حصول کی پٹیاں بندھ جاتی ہیں۔ ایسے میں ضرور کربلا کے سانحے ہوتے ہیں۔ اورایسے میں ضرور انجمن تحفظ اسلام بنتی ہیں۔کاتب وقت آج بھی تاریخ لکھ رہا ہے ۔ اس لئے ان سوالوں کے جواب جاننے کے لئے ضروری ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکا جائے۔
آئیے آج ہم آپ کو سناتے ہیں 1905ء کے اُس سیاسی و مذہبی کھیل کی کہانی جس نے دیو بندی علماء کی راتوں کی نیند حرام کر دی۔ ۔۔یعنی مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کاعلمائے دیوبندپر وہ جوابی حملہ جسے تاریخ اب ’’حسام الحرمین‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔۔۔یعنی بریلوی اوردیوبندی فرقوں کی لڑائی کا وہ منظر نامہ جس میں دیوبندی اور بریلوی امت کے علماء ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کھیل میں احمدیت کو بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔ مگر یہ گھسیٹنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔آئیے مذہبی دنیا ئے تاریخ کی ایک اور سیاسی مجبوری دیکھتے ہیں۔

بریلوی دیوبندی جھگڑا
گزشتہ صدی کے ہندوستان میں بریلوی دیوبندی جنگ اپنے عروج پر تھی ۔دیوبندی حضرات بریلویوں کو مشرک،کافر، تو ہم پرست ،پیر پرست،میلاد، عرس، قوالی، فاتحہ، نذر، نیاز، دسواں، بیسواں، چالیسواں وغیرہ کرنے والے بدعتی ،قبوری کے نام سے یاد کرتے اور انہیں قرآن وحدیث کے ذریعہ توحید کی طرف بلاتے بلکہ ان کو تجدید اسلام کی دعوت دیتے اور انہیں مکہ کے مشرکوں سے بدترہونے کا اعلان کرتے۔بلکہ مشہور دیو بندی مولوی عامر عثمانی تو بریلویوں کا تعارف اِن الفاظ میں کرواتے نظر آتے تھے۔

بریلوی تعارف دیوبندی نظر سے

’’بریلویوں سے کچھ بعید نہیں کیونکہ ان کے علم و فکر اور اخلاقی حالت کا جو اندازہ ان کی بے شمار تحریروں سے ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ جہالت و سفاہت کی کوئی قسم ایسی نہیں جن کا صدور اِن سے ممکن نہ ہو۔ رکیک الکلام، آوارہ زبان،گھٹیا پیام،قرآن و حدیث سے جاہل ، منطق و علم کلام و ادب سے ناآشنا، اللہ کی بجائے مردوں اور پیروں فقیروں سے مرادیں مانگنے والے دوسروں کی تحریریں مسخ کرنے والے، افتراء پردازی و ہرزہ سرائی میں طاق و ماہر۔ اپنے سوا ہر شخص کو دوزخ میں دھکا دینے کے رسیا…یہی خرافات ،فتنہ پروری، ابوالفضولی، کفر سازی، ہر زہ سرائی ان کا دین و مذہب۔‘‘
(ماہنامہ تجلی دیوبندی یوپی، بحوالہ دیوبندی کتاب اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کے کارنامے ،صفحہ:34)

کچھ عرصہ تک تودیو بندیوں کا پلّہ بھاری رہا۔ مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد صورت حال بدل گئی۔ بریلوی فرقہ کو مولوی احمد رضا خان کی شکل میں ایک تیز زبان لیڈر میسر آگیا اور پھر جو انہوں نے جوابی مسند سنبھالی تو الامان والحفیظ۔ وہ وہ الفاظ اور فتاویٰ سامنے آئے کہ دیوبندی اپنے تمام تر شیوخ الحدیث اور اقطاب عالم سمیت حیران و پشیمان نظر آنے لگے۔

دیوبندی تعارف بریلوی نظر سے

مولوی عامر عثمانی کی طرح سر خیل بریلویت جناب احمد رضا خان صاحب بریلوی نے بنفس نفیس دیوبندیوں اور وہابیوں کی تصویرجو اپنے فرقے کے لوگوں کو دکھائی وہ یوں تھی۔

’’فرقہ وہا بیہ، شیطانیہ، ابلیس لعین کے پیرو،بے دین، مکار، سرکش، کافر، بد بخت، دین کے دشمن ، خدا کے مشہور کافر معاند، مفسد گروہِ شیطان، زیاں کار مردود، کمینے ،کجی والے مشرک ، ظالم،ہٹ دھرم کافر، دوزخ کے کتے، فاجر کافر، دین سے خارج،کافروں کے منادی، جاہلوں کو دھوکہ دینے والے ، کافروں کے راز دار ،کافران گمراہ گر، سخت جھوٹے، مفتری، ظالم،ان کی کہاوت کتے کی طرح کجرو،مُضل، ملحد، ان کا کافر ہونا پہروں دن آفتاب ساروشن ،یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی،انہیں بہرہ کر دیا۔ ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔وہ دین سے نکل گئے۔خدا کی قسم وہ کافر ہو گئے۔وہابی ،فاجر، متمرد، ان پر کفر کا حکم ہے۔ دہریئے۔ 100کافروں سے بدتر،قیامت تک ان پر وبال، گھنائونی گندگیوں میں لتھڑے ہوئے ،کفری نجاستوں میں بھرے ہوئے۔ ہر کبیرہ سے بدتر کبیرہ، ہر ذلیل سے زیادہ ذلیل۔ ان کا ٹھکانہ جہنم۔‘‘

(حسام الحرمین۔73،74،75،79 بحوالہ اعلیٰ حضرت،حیات اور کارنامے ،صفحہ31)

مزید بعض دیوبندی حضرات کا نام لے کر فرماتے ہیں۔

’’ابوالکلام آزاد، حسین احمدمدنی،مفتی کفائت اللہ دہلوی،خان عبدالغفار خاں سرحدی گاندھی ،عبدالشکور لکھنوی، احمد سعید شبیر احمد عثمانی، عطاء اللہ شاہ بخاری، فرقہ احرار اشرار بھی فرقہ نیچریت کی ایک شاخ ہے اس ناپاک فرقے کے یہ بڑے بڑے مکلبین(کتے) یہ ہیں۔”
(تجانب اہل السنۃ، صفحہ160بحوالہ اعلیٰ حضرت ، حیات اور کارنامے صفحہ27)

مولوی احمد رضا خان کو ارض حجاز میں سزا دلوانے کا پروگرام

برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں بریلوی اور دیوبندیوں کی کفر واسلام کی یہ جنگ بڑی مستقل مزاجی اور گرم جوشی جاری تھی کہ اسی دوران1905ء کے حج کا موسم آن پہنچا۔ مولوی احمد رضا خاں صاحب نے حج کے لئے حجاز عازم سفر ہونے کا پروگرام بنایا تو دیوبندیوں نے اُن کے پیچھے پیچھے مولوی خلیل احمد سہارن پوری کو بھجوانے کا پروگرام تیار کر لیا۔اور اس دوران ایک طویل محضر نامہ تیار کر کے بہت سے لوگوں کے دستخط بھی لے لئے جس میں درج تھا کہ فلاں…بن…فلاں شہر کا رہنے والا ہے جو آج کل حجاز میں ہے۔ یہ شخص اعلیٰ درجے کا خواہش نفسانی اور بدعات میں مبتلا ہے۔ تمام مسلمانوں ،خصوصاً علمائے کرام اور بزرگان دین کو فاسق اور گمراہ کہتا پھر رہا ہے اور لوگوں میں ان حضرات کے بارے میں نفرت پھیلاتا رہتا ہے اب تک اس نے سینکڑوں علمائے کرام کی تکفیر اور سب و شتم میں رسالے لکھ ڈالے ہیں۔ غلط عقائد لوگوں میں پھیلاتا رہتا ہے ہر گھر میں اس کی وجہ سے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
(عقائد علمائے دیوبند اور حسام الحرمین مصنفین مولوی خلیل احمد، مولوی حسین احمد مدنی ،مولوی منظور احمد نعمانی، مولوی تقی عثمانی،صفحہ25،دارالاشاعت اردو بازار کراچی نمبر1)

مشہور دیوبندی مولوی حسین احمد مدنی پہلے ہی سے حجاز میں مستقل سکونت رکھتے تھے جبکہ شیخ محمد معصوم صاحب نقشبندی رامپوری اور مولوی منور علی صاحب دیوبندی شریف مکہ کے مشیروں میں شامل تھے۔ شیخ محمد معصوم صاحب نے اس محضر نامے کو آفندی عبدالقادر شیبی کنجی بردار خانہ کعبہ کے ذریعہ شریفِ مکہ تک پہنچوا دیا۔ شریفِ مکہ نے اس محضر نامے کو پڑھتے ہی مولوی احمد رضا خاں صاحب کی گرفتاری کے احکامات صادر فرما دیئے اور یوں مولوی صاحب کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا۔
مولوی احمد رضا خان کو حجاز میں سزا کیوں دلوائی جائے؟؟؟
دیو بندی مولوی حسین احمد نجیب اس محضر نامے کی ضرورت کے متعلق فرماتے ہیں۔

’’ اس محضر نامے کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزی حکومت اس شخص کی پشت پنا ہی کر رہی ہے جس کی وجہ سے اس کے خلاف عدالت میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں آسکتی۔ لیکن خطہ عرب میں چونکہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور وہ مسلمانوں اور علمائے اسلام کے ایسے بدخواہ کو قرار واقعی سزا دے سکتی ہے۔‘‘

(عقائد علمائے دیو بند اور حسام الحرمین ،صفحہ26-25)

مولوی احمد رضا خان حجاز کی جیل میں

مولوی احمد رضا خان صاحب کو فوری طور پرجیل میں ڈال دیا گیا۔بعد ازاں آپ کو شریف مکہ کے سامنے پیش کیا گیا۔چونکہ خاں صاحب کے عقائد و نظریات کے بارے میں کوئی ایسی کتاب مکہ مکرمہ میں دستیاب نہ تھی جس سے ان کے عقائد معلوم ہو سکتے ۔ البتہ مولوی عبدالسمیع رامپوری کی کتاب انوارالساطعہ پر ان کی ایک تقریظ موجود تھی اُسی تقریظ کو بنیاد بنا کر مندرجہ ذیل تین سوالات مرتب کر کے خاں صاحب کو دیئے گئے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ
1۔رسول اللہ ﷺ کو ازل سے ابدّتک کی جملہ چیزیں معلوم ہیں۔
2۔آپ ؐ سے کائنات کی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہ تھی۔
3۔آپ نے تقریظ کے آخر پر لکھا ہے وصلی اللّٰہ علیٰ من ھوالا ول والاخر والظاہر والباطن۔
اور حکم دیا گیا کہ ان تینوں سوالوں کے جواب فوری لکھو اور اپنا عقیدہ بیان کرو جب تک ان سوالوں کا جواب نہ دے دو گے تمہیں سفر کرنے کی اجاز ت نہیں۔

احمد رضا خان صاحب کا اپنا بیان

مولوی احمد رضا خا ن نے اپنے سفر مدینہ کا مکمل حال کتابی شکل میں شائع فرمایا ہوا ہے۔ آپ اس واقعہ کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ
’’ان میں سے بعض جواب میرے دیکھنے میں آئے جن میں فرمایا ہے کہ یہ خبیث کذابوں کا کذب خبیث ہے اس کو تو مکہ معظمہ میں وہ اعزاز ملا جو کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔وہابیہ کی تو کیا شکایت کہ وہ اعداء ہیں…ان کے افترائوں نے بعض جاہل کچے سنیوں کو بھی میرے مخالف کر دیا تھا۔ یہ بہتان لگا کر کہ یہ معاذ اللہ حضرت شیخ مجدد کو کافر کہتا ہے اور جب مکہ معظمہ میں علم غیب کا مسئلہ بفضلہ تعالیٰ باحسن وجوہ روشن ہو گیا تو اب یہ جوڑی کہ عیاذ باللہ یہ قدرت نبوی ؐ کو قدرت الہٰی کے برابر کہتا ہے کچھ نا سمجھ لوگ آیۃ کریمہ یا یھا الذین امنوا ان جاء کم فاسقٌ بنبائٍ فتبینوا۔پر عمل نہ کرنے والے ان کے دائوں میں یعنی فریبوں میں آگئے۔ مدینہ طیبہ میں ایک ہندی صاحب شیخ الحرم عثمان پاشا کے یہاں کچھ دخیل تھے…یہ بھی ان کذابوں کی باتوں سے متاثر ہوئے۔
(اعلیٰ حضرت کا سفر مدینہ مصنفہ مولوی احمد رضا خان،صفحہ46ناشر مکتبہ اعلیٰ حضرت مزنگ لاہور)

مولوی احمد رضاخان صاحب کا جوابی حملہ

مولوی احمد رضا خان صاحب نے جیسے تیسے ان تینوں سوالوں کے جواب دے دیئے جس پر مسئلہ رفع دفع ہو گیا اور آپ کو سفر کرنے کی اجازت مل گئی۔ مگر خاں صاحب کو ان دیو بندی حضرات پر بہت غصہ تھا جن کی وجہ سے ان کو حجاز میں جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔ اس لئے انہوں نے فوری واپسی کرنے کی بجائے حساب برابر کرنے کا پروگرام بنایا اور اپنے وکیل مفوض شیخ صالح کمال کے ذریعہ شریفِ مکہ کے پاس پیغام بھجوایا کہ
’’افسوس مجھ پرتو اس طرح لے دے ہو رہی ہے حالانکہ میں خواص اہل سنت سے ہوں مگر ایک شخص(مولوی خلیل احمد سہارن پوری جو یہ محضر نامہ لے کر گئے تھے) یہاں ایسا موجود ہے جو خدا کو جھوٹا اور شیطان کو رسول اللہ ﷺ کہتا ہے اس پر کسی قسم کا مواخذہ نہیں کیا جاتا۔‘‘ مزید یہ کہ
1۔انہوں نے مولانا محمد قاسم نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس میں سے ختم نبوت کی تفسیر والے حوالے۔
2۔مولوی رشید احمد گنگوہی کی کتاب سے کہ اگر کوئی اللہ کی نسبت یہ اعتقادرکھتا ہے کہ اللہ جھوٹ بولتا ہے توا س کو کافر مت خیال کرو۔
3۔مولوی خلیل احمد کی کتاب براہین قاطعہ سے کہ شیطان کے علم کو جناب رسول اللہ ﷺ سے زائد سمجھتے ہیں۔
4۔مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب حفظ الایمان سے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا علم زیدو عمر بلکہ چوپایوں کے برابر ہے۔
5۔۔اسی طرح لکھا کہ ان دیو بندی حضرات کے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ محبت کے تعلقات ہیں اور آگے آپ کے متعلق تفصیل درج کی کہ آپؑ دعویٰ مہدویت و مسیحیت کے ساتھ ساتھ ختم نبوت کی وہی تفسیر فرماتے ہیں جو مولانا قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں درج کی ہے ۔ یوں ان تمام حوالوں کو لیکر ان کا عربی ترجمہ کر کے علمائے حرمین کے سامنے فتویٰ کفر کے لئے پیش کر دیا اور اپنی اس تحریر کو ’’المعتمد المستند‘‘ کے نام سے معنون کر دیا۔
احمد رضاخان صاحب کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا۔
علمائے حرمین کی ایک بڑے تعداد نے دیوبندیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ان پر کفر کا فتویٰ صادر فرما کر مہریں لگا دیں۔یوں مولوی احمد رضا خان صاحب خوشی خوشی واپس ہندو ستان لو ٹ آئے اور ان تمام فتاویٰ اور اپنی تصنیف’’المعتمد المستند‘‘ کو اکٹھا کر کے حسام الحرمین کے نام سے شائع کر دیا۔بلکہ بقول دیوبندی مولوی عبدالرحمن ’’احمد رضا خان بریلوی نے حرمین شریفین کا وہ متبرک فتویٰ ہندوستان لا کر اتنی کثرت سے شائع کیا کہ مشرق ومغرب تہہ وبالا ہو گئے۔‘‘
(اعلیٰ حضرت کے علمی کارنامے ،صفحہ16 مصنفہ مولوی عبدالرحمن مطاہری ربانی بک ڈپو کٹرہ شیخ چاند لال کنواں دہلی،نمبر6)
یوں دیو بندیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے تھے حرم میں اُن کو قید کروانے کے جواب میں مولوی صاحب نے ان کے کفر کا فتویٰ حاصل کر لیا چنانچہ بریلوی مولوی ارشد القادری ایڈیٹر جام نور اسی حسام الحرمین کے فتویٰ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں
خاتم النبیین کی تشریح میں جماعت احمدیہ بانی دیوبند کے مسلک پر ہے۔

’’جماعت احمدیہ خاتم النبیین کے مضمون کی تشریح میں اسی مسلک پر قائم ہے جو ہم نے سطوربالا میں جناب مولوی محمد قاسم نانوتوی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔‘‘(زیرو زبر ،صفحہ123،مصنفہ ارشد القادری شائع کردہ رومی پبلی کیشنز38 اردو بازار لاہور)
اسی طرح ارشد القادری صاحب مزید احمدی اور دیوبندی نقطہ نظر کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ

’’قادیانیوں کا یہ دعویٰ اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار نہیں کرتے بلکہ خاتم النبیین کے اس معنی کا انکار کرتے ہیں جو عام مسلمانوں میں رائج ہے…اسی بناء پر مولوی محمد قاسم نانوتوی نے بھی عوام کے معنوں کو نادرست قرار دیا آپ تحریر فرماتے ہیں عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذّات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔‘‘

پھراس پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
لفظ خاتم النبیین کے معنی کی تشریح کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ نانوتوی کے مسلک پرہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا نوتوی دونوں کے انداز فکر اور طریقہ استدلال میں پوری پوری یکسانیت ہے۔
اتنی عظیم مطابقتوں کے بعد کو ن کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں دونوں کا نقطہ نظر الگ الگ ہے۔
بلکہ آخر پر اپنا تجزیاتی فیصلہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’اگر قادیانی جماعت کو منکر ختم نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس انکار کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت نہ قرار دیا جائے۔‘‘
(زیروزبرمصنفہ ارشد القادری ایڈیٹر جام نور،صفحہ122تا124،روحی پبلی کیشنز38اردو بازار لاہور)

دیوبندیوں کو احمدیت کی دشمنی میں نمبر1ہونے کا خیال کیوں آیا؟

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ مولوی احمد رضا خا ن صاحب نے حرم سے نکلنے سے پہلے پہلےتین باتیں حرمین کے علماء کو رٹا دیں۔
اول:۔۔۔۔۔دیوبندی منکر ختم نبوت ہیں۔
دوئم:۔۔۔۔۔۔ان کے بانی جماعت احمدیہ سے محبت و اخوت کے تعلقات ہیں اور دونوں کا ختم نبوت پر یکساں موقف ہے۔
سوئم: ۔۔۔۔۔۔یہ کہ یہ فرقہ گستاخ رسول ہے۔

دیوبندکو حرم کے علماء کے مزید26 سوالوں کا سامنا

دیوبندی حضرات نے دوبارہ اپنی طاقت اکٹھی کی اور حرم کے ایک ایک مفتی کے پاس حاضر ہوئے اور بتا یا کہ یہ آپ سے ظلم ہو گیا ہے۔ ہم ایسے نہیں ہیں۔مولوی احمد رضا خان صاحب نے حوالے تروڑ مروڑ کر پیش کئے ہیں۔ اس پر حرم کے علماء نے26سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ تیار کر کے دیوبندیوں کے علماء کے لئے ہندوستان روانہ کر دیا جس میں سوال نمبر10 تھا کہ کیا آپ حضرات حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی و رسول کو جائز سمجھتے ہیں؟
اسی طرح سوال نمبر26 کہ آپ حضرات قادیانی( مرزا غلام احمد قادیانی بانئ جماعت احمدیہ) کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں جس نے مسیح و نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ یہ سوال اس لئے کیا جارہا ہے۔ کہ یہ بریلوی لوگ آپ حضرات کی جانب یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ آپ حضرات اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔‘‘
(اعلیٰ حضرت حیات اور کارنامے،صفحہ93-92)

دیوبندی تاریخ کا یہی وہ turning point ہے۔ یہاں وہ مولوی احمد رضا خان بریلوی کی حسام الحرمین سے زچ ہو جاتے ہیں اور یہاں سے پھر وہ ایک طرف
٭’’ختم نبوت کی تفسیر میں احمدی دیو بندی یکساں موقف رکھنے ‘‘
٭یا’’احمدیت سے محبت رکھنے‘‘
٭ ’’یااحمدیت کی تعریف کرنے‘‘ کے الزام کو دھونے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں

تو دوسری طرف مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس پر غلاف چڑھانے بلکہ طعن کرنے بلکہ ان کے موقف سے مکمل انحراف میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اور یہیں سے ظلم کی اس اندھی رات کا آغاز ہوتا ہے جس میں احمدی نعشوں کو قبروں سے اکھاڑ باہر پھینکنا،بچوں بوڑھوں نوجوانوں حتی کہ عورتوں پر ظلم کرنا، گھر بار کو لوٹ لینا،بیوت الذکر سے کلمہ طیبہ کو گندگی مل کر مٹا دینا،معصوم نمازیوں کو بموں سے اڑا دینا،کلمہ طیبہ سینے پر لگانے والوں کو جیل کی کال کوٹھڑیوں میں جھونک دینا، جہاد بن جاتا ہے اور یہ ہے وہ خفیہ راز اور خفیہ مجبوری جس میں دیوبندی علماء تمسخر اڑاتے ، قبریں اکھیڑتے ،بیوت الذکر گراتے ، قرآن جلاتے اور یہ نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں کہ ہاں’’ہم احمدیوں سے وہیں سلوک کر رہے ہیں جو مکہ میں مشرکین مکہ معصوم مسلمانوں سے کیا کرتے تھے‘‘۔

مشہور دیوبندی مصنف طاہر عبدالرزاق نے’’ختم نبوت کے محافظ‘‘ کے نام سے مختلف علماء کے بیانات شائع کئے ہیں جس میں مولوی تاج محمود فیصل آبادی صدر تحفظ ختم نبوت مغربی پاکستان بڑی مسرت اور بڑے فخر سے اعلان کرتے نظرآتے ہیں۔
’’خون کی ندیاں بہا دوں گا۔ اور سب احمدیوں کو ذبح کرد وں گا۔‘‘
’’اگر مجھے اقتدار ملے اور میں پاکستان کا سربراہ بنوں تو میرا فیصلہ… مولانا نے اپنا ہاتھ کھو ل کر بازو پھیلایا اور اسے تلوار کی طرح لہراتے ہوئے فرمایا کہ میں تو ان سب کا صفایا کردوں گا یعنی خون کی ندیاں بہادوں گا۔بچوں بوڑھوں عورتوں سب کو ذبح اور املاک کو آگ لگا دوں گا۔(اناللہ وانا الیہ راجعون)

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ازپروفیسر محمد طاہر بحوالہ ختم نبوت کے محافظ از طاہر عبدالرزاق،صفحہ37)

وہ جو کہتے ہیں کہ، خود بدلتے نہیں اور قرآن بدل دیتے ہیں والی بات عملی طور پر نظر آنے لگے جاتی ہے۔1905ء کے بعد کے دیوبندی حضرات نے تحذیر الناس سے کیا انحراف کیا۔۔۔۔۔۔۔ تمام اسلامی اقدارسے بھی کنارہ کش ہو گئے اورپھر صرف اور صرف ایک ہی اصول طے پا گیا کہ ہم نے دنیا کو دکھانا ہے کہ ہماری ختم نبوت کی تفسیر احمدیوں سے بالکل نہیں ملتی،بلکہ ہمارا احمدیوں سے کوئی ہمدردی کا رشتہ نہیں،بلکہ ہم تو احمدیوں کے اول المخالفین ہیں،بلکہ ہم تو ان کے ازلی دشمن ہیں، بلکہ ہم کو موقعہ ملے تو ہم ان کو ذبح کر دیں اور زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیں،بلکہ ہم تو ان کو بموں سے اڑا دیں،ان کی مساجد کو’’مرزواڑے‘‘کا نام دے دیں اورا ن کے گھروں پر سے کلمہ طیبہ کو کھرچ ڈالیں،ان کو شعائر اسلام یہاں تک کہ السلام علیکم کہنے اور آذان دینے سے بھی روک دیں اور ان ’’تمام نیک کاموں‘‘ کا سہرا ہمارے سرپر ہو اور کاش ان تمام’’نیک کاموں‘‘ سے ہمارے ماتھے پر لگا ’’تحذیر الناس‘‘ کا داغ دھل جائے اورکاش دنیا ہمیں یہ طعنہ کبھی نہ دے کہ ہمارے بانی مولانا قاسم نانوتوی نے ختم نبوت کی وہی تفسیر کی تھی جو آج احمدی کر رہے ہیں اس الزام کو دھونے کے لئے ہم سب کاموں کے لئے تیار ہیں خواہ وہ اسلامیِ اخلاق سے انحراف ہو یا ہمارے اسلاف کی تحریرات سے ۔ہم سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مصنف admin

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

2 تبصرہ

  1. ناصر احمد وینس ـ ٹورانٹو، کینڈا

    دیو بندیوں کی بابت ــــــ یہ تو وھی صورت احوال بن گئی جیسا کہ غالب نے بھی ایک مصرعے میں کہہ رکھا ھے کہ. ………..ع
    الــــــــــــــــــزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا !!

  2. محمد کولمبس خاں

    بہت عمدہ انداز سے پس منظر کو سامنے لایا گیا ہے۔ لیکن کیا پاکستان کا زہر آلود معاشرہ اس سچ کو جاننے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ بات فی الحال نظر نہیں آتی۔ یہ ان کی مجبوری دنیاداری کی خاطر مصنوعی ہے اور اس پر محسن کی ایک غزل ملی ہے۔ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں

    چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری

    میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی
    میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری

    روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری

    ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہربلب
    جبرِ وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے، سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

    مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسن
    ہم نے ساری عمر نبھائی اپنی پہلی مجبوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend