ہوم / حقوق/جدوجہد / پاکستان کو سعودی فوجی اتحاد سے کیوں علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ از ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

پاکستان کو سعودی فوجی اتحاد سے کیوں علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ از ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

اب جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں پانچ عرب ممالک نے سعودی عرب کا کھانا اور پانی بند کر دیا ہے، تو پاکستان کو خود سے یہ بات ضرور پوچھنی چاہیے کہ وہ سعودی عرب کی زیرِ قیادت 41 سنی اکثریتی ممالک کے ‘اسلامی فوجی اتحاد’ کا حصہ کیوں ہے۔

عام طور پر اسلامی نیٹو قرار دیا جانے والا یہ فوجی اتحاد سابق ہیرو ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی زیرِ کمان ہے۔ بظاہر عسکریت پسند دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایک انسدادِ دہشتگردی اتحاد کا روپ رکھنے والی یہ فورس درحقیقت ایک سعودی-امریکی-اسرائیلی آلہ ہے جس کا رخ ایران کی جانب ہے۔

اس اتحاد کے حقیقی مقاصد کے بارے میں جو بھی شکوک و شبہات تھے، وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاض میں گذشتہ ماہ تقریر کے بعد ختم ہوگئے۔ سعودی عرب کو 110 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کو عالمی دہشتگردی کا واحد مددگار قرار دیا: "لبنان سے عراق اور یمن تک، ایران دہشتگردوں، ملیشیاؤں، اور دیگر انتہاپسند گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں تباہی اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے ایران نے فرقہ وارانہ تنازعات اور دہشتگردی کو بڑھاوا دیا ہے۔”

اسرائیل کی خوشی کے لیے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو اس سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے سی آئی اے کر سربراہ کے طور پر تقرری کے فوراً بعد انہوں نے تہران کو "امریکا کی تباہی کے لیے پرعزم” ہونے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا، اور ٹوئیٹ کیا کہ وہ اوباما کے ایران کے ساتھ کیے جانے والے "تباہ کن” ایٹمی معاہدے کو کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تہران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں: "کانگریس کو ایرانی رویہ اور ایرانی حکومت تبدیل کرنے کے لیے ضرور اقدامات کرنے ہوں گے۔”

پاکستان کے لیے اسلامی فوجی اتحاد کیوں برا ہے، اور ہمیں اس سے کیوں فوراً دستبردار ہوجانا چاہیے۔

پہلی بات، اس لڑائی میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹرمپ کی ٹوئیٹ، کہ قطر کو علیحدہ کر دینا "دہشتگردی کے عفریت کے خاتمے کا آغاز ہوگا”، شاید سعودی عرب کے لیے تو خوش کن ہو، مگر ہم پاکستان جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب کی فرماں بردار پتلیوں کی طرح مالدیپ اور موریطانیہ نے قطر سے اپنے روابط توڑ لیے، مگر ہمارا ایسا کوئی بھی اقدام، مثلاً قطر ایئرویز کا پاکستانی حدود میں داخلہ بند کر دینا، بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔

بدو قبیلوں اور عربوں کے آپسی جھگڑے ہمارا مسئلہ نہیں ہیں۔ دوحہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام شیخ محمد ابنِ عبدالوہاب مسجد ہونا سعودی عرب کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہوگا، مگر ہمارے لیے نہیں۔ اور نہ ہی ہمیں اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ ایک بے نام قطری شہزادے خود کو عبدالوہاب کا پڑپوتا قرار دینے میں حق بجانب ہیں یا نہیں۔

اپریل 2015 میں پارلیمنٹ کا متفقہ طور پر یمن جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے خلاف فیصلہ کرنا ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اگلے 18 ماہ میں سعودی اتحاد، جس کی پشت پناہی امریکا اور برطانیہ نے کی، نے کم از کم دس ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوقو کے مطابق "اتحاد نے غیر قانونی طور پر گھروں، بازاروں، ہسپتالوں، اسکولوں، سویلین کاروباروں، اور مساجد کو نشانہ بنایا۔” سب سے زیادہ ہلاکتیں اتحادی افواج کے فضائی حملوں سے ہوئیں۔

بدقسمتی سے تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد ہماری حکومت کے اعصاب کمزور پڑ گئے۔ نوؔے سالہ ناراض سعودی بادشاہ اور ان کے تلملائے ہوئے شہزادوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہمارے وزیرِ اعظم، آرمی چیف، وزیرِ دفاع، سیکریٹری خارجہ اور کئی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فوراً ریاض بھاگنا پڑا۔ اگر ان کے اندر اخلاقی جراۤت ہوتی تو وہ کبھی ایسے نہ گھبراتے۔ سمندر پار ایک غیر ملکی خانہ جنگی میں پاکستانی فوجیوں کو مرنے اور مارنے کے لیے بھیجنا بالکل غلط ہے، اور کتنا ہی مفت تیل اور نوٹوں کی کتنی ہی گڈیاں اس غلط کو صحیح میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔

دوسری بات، پاکستان کو مسلم دنیا کی اس وحشیانہ شیعہ سنی فرقہ وارانہ تقسیم میں کسی ایک فریق کا ساتھ دے کر اپنے مزید دشمن نہیں بنانے چاہیئں۔ عرب ایران تنازع آج کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ علاقائی اثر و رسوخ کی بھی جنگ ہے۔

ایران ایک انقلابی طاقت ہے جس کے مولوی کھلے عام تمام بادشاہتوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب ہے، جو امریکی اسلحے اور امپورٹڈ فوجیوں کی مدد سے اپنا تسلط برقرار رکھنا اور بڑھانا چاہتا ہے۔

سعودی قطر تنازع فرقہ وارانہ تقسیم کا نہیں بلکہ طاقت کی جنگ کا اشارہ ہے۔ سرکاری طور پر قطر حنبلی قانون کے تحت چلنی والی ایک شریعہ ریاست ہے، مگر شیعہ ایران اور سنی ترکی، دونوں ہی روزے دار قطریوں کو کھانا اور پانی پہنچا رہے ہیں۔ ترکی کی پارلیمنٹ نے تو قطر کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 3000 فوجیوں کا دستہ بھیجنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

تیسری بات، پاکستان کو ایسے کسی بھی ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جو عرب دنیا کی ماڈرنائزیشن کے خلاف ہو۔ مسلم دنیا کا کوئی بھی ملک سماجی اور ثقافتی طور پر سعودی عرب سے زیادہ قدامت پسند نہیں ہے۔

بھلے ہی سعودی عرب اور دولتِ اسلامیہ ایک دوسرے کے سخت دشمن ہوں، مگر دونوں کئی باتوں میں ایک جیسے ہیں۔ دونوں دنیا کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دونوں ہی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔

حکمران خاندان کو جواز فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب کے نزدیک وہابی مکتبہءِ فکر — جو جمہوریت کو درست نہیں سمجھتا — ہی درست اسلام ہے۔ سعودی عرب میں جمہوریت کا مطالبہ کرنا آپ کو جیل، یہاں تک کہ تلوار کے نیچے بھی بھیج سکتا ہے۔

چوتھی بات، سعودی کیمپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلسطین کے لیے اپنی روایتی حمایت بھی جاری نہیں رکھ سکے گا۔ حقیقتاً، سعودی قطر تنازع کی ایک وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ قطر حماس سے اپنے تعلقات ختم کر لے، جو کہ اس نے اب تک نہیں کیے ہیں۔ بھلے ہی حماس کے طریقہءِ کار کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، مگر مؤثر طور پر صرف حماس ہی وہ قوت ہے جو اسرائیلی قبضے کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔

پانچویں بات، تیل کی دولت کے سامنے جھک کر پاکستان نے اپنی خودداری کا سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ہم سعودیوں کو اپنا بھائی کہتے ہیں، مگر پاکستانیوں کو سعودی عرب میں مسکین اور بھکاری کہا جاتا ہے۔ وہاں موجود کئی پاکستانی مزدوروں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2015 کے درمیان دو لاکھ 43 ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ اس سال کے چار ماہ میں مزید 40 ہزار پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے۔

ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کے مطابق اجتماعی ڈی پورٹیشن میں اکثر اوقات تشدد بھی کیا جاتا ہے، جبکہ زیادہ تر معاملات تنخواہوں کی عدم ادائیگی یا کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کے ہوتے ہیں۔

سعودی عرب کا یہ ہتک آمیز رویہ صرف غریب پاکستانیوں تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے وزیرِ اعظم کو اسلامو فوبیا کے شکار ڈونلڈ ٹرمپ — جو مسلم مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے مشہور ہیں — کا سعودی عرب کی کانفرنس میں اسلام پر لیکچر خاموشی سے سننا پڑا۔ 30 دیگر مسلم سربراہانِ مملکت کے ساتھ نواز شریف صاحب کو بھی دعوت دی گئی، مگر صرف سننے کے لیے، بولنے کے لیے نہیں۔ بعد میں مانگی گئی علامتی معافی سے پاکستان کی بے عزتی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

پاکستان کو اسلامی فوجی اتحاد سے دستبردار ہو کر سعودی ایران تنازع میں فوری طور پر خود کو غیر جانبدار قرار دے دینا چاہیے۔ تہران میں اہم مقامات پر حالیہ حملے — جن کی ذمہ داری یوں تو دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے مگر پاسدارانِ انقلاب اس کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈالتے ہیں — اس مسئلے کو مزید فوری توجہ طلب بنا دیتے ہیں۔

سعودی عرب کی جنگیں لڑنے کے لیے پاکستانی فوجیوں کی بھرتی بند ہونی چاہیے، اور جنرل راحیل شریف کو فوری طور پر وطن واپسی کا حکم دینا چاہیے۔ اگر وہ دہشتگردی سے لڑنا ہی چاہتے ہیں، تو اپنے ملک میں ابھی بہت کام باقی ہے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں چھپا

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

علامہ طاہر اشرفی کو چیلنج کا جواب الجواب، از قلم۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان احمد داؤد

قصہ کچھ یوں ہوا کہ علامہ طاہر اشرفی صاحب نے قومی سیرت کانفرنس میں تقریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend