ہوم / حقوق/جدوجہد / آزاد کشمیر اسمبلی کی محسن کش قرارداد۔۔۔۔۔محمد فاتح ملک

آزاد کشمیر اسمبلی کی محسن کش قرارداد۔۔۔۔۔محمد فاتح ملک

وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے

آزاد کشمیر حکومت نے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیے دیا
احسان فراموشی کیا ہوتی ہے ؟ اس کی اگر تازہ ترین مثال دیکھنی ہو حال میں ہی پاس ہوئے آزاد کشمیر اسمبلی کے بل کو دیکھ لیں۔ آزادجموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین 74(12 ویں ترمیمی) ایکٹ، 2018ءپیش کیا گیا جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان کی قومی اسمبلی سے بھی پہلے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 1974ء میں ایک قرارداد کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا دیا گیا تھا تاہم آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974ء میں غیر مسلم کی تعریف نہیں تھی۔ The Azad Jammu and Kashmir Inter-Constitution Act 2018کے نام سے موسوم اس بل میں مسلمان کی بھی تعریف کر دی گئی ہے۔اس بل کی منظوری کے بعد احمدی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ مسجد کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر کرنے، اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جبکہ جملہ شعائر اسلام جن میں مسجد کے مینار، اپنی عبادت گاہ پر کلمہ اسلام لکھنے سمیت تمام رسومات اور عبادات سرعام کرنے پر پابندی عائد ہو گی۔اس بل اور ایکٹ پر اگر تبصرہ کر سکوں تو صرف اتنا کہ

"ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے”

کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے لئے احمدیوں نے کتنی کوششیں کی۔ جولائی 1931 میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنی اور اس کے پہلے صدر جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی نے کشمیر کی آزادی اور کشمیر میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کیا کوششیں کیں اس سے تاریخ کشمیر بھری پڑی ہے۔ 1931 میں جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنی اس سے پہلے کشمیر کی کیا حالت تھی اور اس کے بعد جتنے عرصہ جماعت احمدیہ کے امام اس کمیٹی کے صدر رہے کیا کیا کار ہائے نمایاں انجام پائے اور ان کے بعد کس ان کی قیادت میں کس طرح جماعت احمدیہ نے کشمیر کے حقوق کی جنگ لڑی ، یہ سب ایک کھلی کتاب ہے۔
جماعت احمدیہ کو تو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ جب امام جماعت احمدیہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر تھے تو ان کے حکم پر ’’کشمیر رلیف فنڈ‘‘ قائم کیا گیا جس کے تحت ہر احمدی کے لئے ایک پائی فی روپیہ اس مد میں دینا لازمی تھا۔ کوئی ایک تنظیم، کوئی ایک جماعت سیاسی یا مذہبی بتا دیں جس نے کسی زمانے میں کشمیریوں کے لئے ایسے چندہ دینا لازمی قرار دیا ہے؟
اس زمانہ میں امام جماعت احمدیہ کے خطبات اور تحریرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ احمدیوں نے کس طرح کشمیر کے لئے دن رات کام کیا۔ جماعت احمدیہ کو کشمیری مسلمانوں سے کس قدر محبت تھی۔ امام جماعت احمدیہ نے جو خطوط کشمیر کے مسلمانو ں کے لئے لکھے وہ بھی جماعت احمدیہ کی کشمیر کے مسلمانوں سے لگاؤ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا ترجمان اخبار ’’الفضل‘‘ ان ایام میں کشمیریوں کی ترجمانی کرتا رہا۔ شیر کشمیر کہلانے والے شیخ محمد عبد اللہ کو کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ لیکن انہیں شیر کشمیر بنایا کس نے؟ اس کے لئے جماعت احمدیہ کے اشد مخالف مولوی ظفر علی خان نے لکھا تھا:
’’ شیخ محمد عبداللہ صاحب تو اخبار الفضل کے اداریوں سے شیر کشمیر بنے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے ’’شیر کشمیر‘‘ کے عنوان سے 11۔ستمبر 1932ء کو ایک نظم لکھی جس میں شیخ محمد عبداللہ صاحب کی زبان سے یہ شعر کہے

 شیر کشمیر بن گیا ہوں میں
فقط’’الفضل‘‘ کے مقالوں سے

گزشتہ دو تین دہائیوں سے پاکستان میں جو ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘منایا جا رہا ہے۔ اس کے آغازکا سہرا بھی جماعت احمدیہ کے سر ہے۔ پہلی بار آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر، امام جماعت احمدیہ کے حکم پر ہی 14 اگست 1931 کو کشمیر ڈے منایا گیا۔ اس کے لئے پورے ہندوستان میں کوششیں کی۔ 25 جولائی 1931ء تا 7 مئی 1933ء تک کل 651 دن امام جماعت احمدیہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر رہے لیکن جو کام آپ نے اس قلیل عرصہ میں کر دکھایا اتنا کام آگے آنے والے 85 سال کے عرصہ میں بھی نہ ہو سکا۔ کشمیری قعر اسیری سے نکل کر آزادی کا سانس لینے لگ گئے اور ان کو وہ حقوق حاصل ہوگئے جن سے وہ پچھلی کئی صدیوں سے محروم تھے۔

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا
مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

کشمیریوں کی آواز اور ان کے حقوق کی جنگ کے لئے جماعت احمدیہ نے ہی ایک اخبار ’’اصلاح‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ اس اخبار نے کشمیر کی مظلوم عوام کی جس طرح ترجمانی کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تقسیم ہند کے بعد امام جماعت احمدیہ نے کشمیر اور حیدر آباد کے الحاق سے قبل ہی حکومت کو اس طرف توجہ دلانی شروع کر دی تھی کہ کشمیر مسلمان آبادی کی ریاست ہے اس کے پاکستان سے الحاق کی طرف توجہ کرنی ہو گی۔ اس ضمن میں انہوں نے مضمون بھی شائع فرمایا۔ لیکن حکومت نے اس وقت اس پر نظر التفات نہ کی۔ 4 اکتوبر 1947 کو جو کشمیر کے پہلے صدر بنے وہ بھی ایک احمدی خواجہ غلام نبی گلکار تھے۔ لیکن ستم ظریقی کا یہ عالم ہے کہ اب تاریخ سے اس نام کو ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
مسئلہ کشمیر جب سلامتی کونسل میں پیش ہوا تو اس وقت اگر قائد اعظم کو کوئی شخص کشمیر کا کیس لڑنے کے لئے نظر آیا تو وہ بھی ایک احمدی ہی تھا۔ سر ظفر اللہ خان صاحب نے جس عمدگی سے کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں لڑا اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اس قدر عرض کئے دیتا ہوں کہ جن قراردادوں پر اتفاق ہوا تھا وہ آج تک وہیں کی وہیں ہیں۔ اس سے آگے پاکستان ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکا۔بلکہ اخبار ’’نوائے وقت‘‘ لاہور 24 اگست 1948ء نے تو یہ لکھا:
’’ کشمیر کمیشن کا تقرر ظفر اللہ کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مسلمان کبھی نہ بھولیں گے۔‘‘
اخبار ’’سفینہ‘‘ (2 جولائی 1949ء) نے سلامتی کونسل کی کاروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’جس دن وادی کشمیر کا الحاق حکومت پاکستان سے اعلان کیا جائے گا تو سر ظفراللہ خان کی عزت اور شہرت اور بھی بڑھ جائے گی ان کی شخصیت حکومت پاکستان کی تاریخ میں درخشندہ ستارہ رہے گی۔‘‘
بات میدان جنگ کی ہو تو اس میدان میں بھی جماعت احمدیہ نے کشمیر کی حفاظت کے لئے سر تن کی بازی لگا دی۔ فرقان بٹالین کی خدمات کو کون بھلا سکتا ہے؟ وہ بٹالین جس نے وادی کشمیر کی حفاظت کے لئے محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا۔ بات اگر احمدی جرنیلوں کی ہو تو بھی چھمب کے میدان کو کون بھول سکتا ہے۔ کشمیر میں چھمب کی فتح کا کارنامہ انجام دینے والے ایک احمدی لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک تھے۔ یہ ایک بڑی فتح تھی جس کے اعتراف میں آپ کو سب سے پہلے دوسرا بڑا جنگی اعزاز ہلالِ جرأت دیا گیا ۔
کس کس بات کا ذکر کروں؟ کس کس احسان کو یاد دلاوں جو جماعت احمدیہ نے کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ میدان عمل ہو یا میدان کارزار، ہر میدان میں جماعت احمدیہ نے کشمیر یوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام نہ کیا ہو۔ اس وادی کا چپہ چپہ گواہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے کشمیر کے لئے اپنے وسائل سے بڑھ کر کام کیا۔ لیکن آزاد کشمیر کی اسمبلی نے اس سب کا یہ صلہ دیا کہ وہ جنہوں نے کشمیر اور کشمیر کے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلوائے ان سے ان کا حق چھین لیا ۔ ان سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق چھین لیا ۔ ان سے اپنی مساجد کو مساجد کہنے کا حق چھین لیا ۔ ان سے آذان کا حق چھین لیا۔ ان سے کلمہ لکھنے کا حق چھین لیا۔ جنہوں نے ان کی خاطر جنگیں لڑیں مذاکرات کی میز پر بھی اور میدان جنگ میں بھی انکو ہی غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ واہ کیا کمال کا صلہ دیا ہے اہل کشمیر نے!
وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

مصنف admin

Check Also

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی دیپ کچھ تھے ، مگر جلے ہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend