ہوم / حقوق/جدوجہد / سازش۔۔۔۔۔۔تحقیق و تدوین، فضیل عیاض

سازش۔۔۔۔۔۔تحقیق و تدوین، فضیل عیاض

"فضیل عیاض صاحب محققانہ ذہن اور شفاف سوچ کے ساتھ لکھنے والے ان لوگوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن پہ یہ شعر صادق آتا ہے کہ
دئے کا کام ہے جلتے رہنا جلتے جلتے جل جانا
اس کے بعد بھی رات رہے تو اور کسی کے نام
خود ایک بین الاقوامی ٹی وی چینل کے سینئر پروڈیوسر ہیں اور نمل یونیورسٹی کے حوالے سے ہمارے گرینڈ سینئر بھی۔ زیر نظر مضمون جو انھوں نے پاکستان کے ایک چینل کے لئے لکھا لیکن بعض حقائق کے بیان سے اس چینل کے پر جلنے لگے اس لئے آئینہ ابصار اس تحقیق کو تاریخ کے گمنام گوشوں کو روشن کرنے کی خاطر قسط وار شائع کر رہا ہے۔ "

سازش

جولائی 1948 ء کی کسی شام کا ذکر ہے کہ
’’ پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خاں زیارت پہنچے اور نصف گھنٹے تک قائد اعظم کے پاس رہے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ قائد قریب المرگ ہیں، لیاقت علی خاں کے جانے کے بعد قائد اعظم نے محترمہ فاطمہ جناح کی روایت کے مطابق کہا’’ کیا تم جانتی ہو کہ وہ کیوں آئے تھے وہ جاننا چاہتے تھے کہ میری علالت کتنی شدید ہے۔ میں کب تک زندہ رہوں گا‘‘(۱)
مملکت خدادادپاکستان کا حصول جس صاحبِ فراست کی آئینی اور قانونی جدوجہد کا نتیجہ تھا اسے پاکستان کے ایک دور افتادہ مقام زیارت میں رکھا گیا ۔جہاں آج کل بھی پہنچنا مشکل اور کار دارد ہے ۔ ایک نوزائیدہ مملکت ،جس میں مواصلات اور رسل و رسائل کے انتظامات نہ ہونے کے برابر، ٹیلیفون کی سہولت ایسی کہ گھنٹوں فون نہ ملے،اور دوائیں کمیاب اور ڈاکٹر تک پہنچ مشکل۔ پھر قائد کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
خود قائد کو اس کا احساس تھا۔اس کا ثبوت ڈاکٹر الہی بخش کی وہ ڈائری ہے جو انہوں نے لکھی’’ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ غروب آفتا ب سے ذرا پہلے ہم کوئٹہ پہنچے ریذیڈنسی کو سب مہمانوں سے خالی کروا لیا گیا۔‘‘یہ 13اگست 1948 کی شام تھی۔
دوسرے دن چودہ اگست 1948ء کا دن تھا۔ مملکت خداداد پاکستان کی پہلی سالگرہ کا دن۔اس شخص کے خوابوں اور امنگوں اور آدرشوں پر ایک سال گزر چکا تھا جو بستر پر لیٹا ہوا اپنے گرد سازشوں اور فتنوں کے جال بُنے جاتے دیکھ رہا تھا لیکن کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ڈاکٹر الہی بخش نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے
’’ہم ساڑھے آٹھ بجے شب ان کے پاس گئے۔اور میں نے کہا ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہم آپ کو بخیریت کوئٹہ لے آئے۔کیونکہ ایسی حالت میں زیارت سے یہاں پہنچنا خطرے سے خالی نہ تھا۔یہ سن کر قائد اعظم مسکرائے اور کہنے لگے’’ ہاں میں بہت خوش ہوں وہاں میں ایک جال میں پھنس گیا تھا‘‘
اور پھر یوم پاکستان کے روز اخباروں میں ایک بیان چھپا یہ قائداعظم کا قوم کے نام پیغام تھا۔ قائد بیمار تھے۔وہ لکھنا پڑھنا یکسر چھوڑ چکے تھے۔یہ بیان انہوں نے نہیں لکھا تھا۔ نہ یہ ان کی منظوری کے لئے پیش کیا گیا تھا ۔ اس میں کیا کہا گیا تھا ، یہ بات صاحب بصیرت کے لئے ان رازوں سے پردہ اٹھانے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
’’آج ہم اپنی آزادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں،ہم نے حالات کا مقابلہ بڑی دوراندیشی سے کیا،اور دشمن کے وار سہنے میں ہماری کامیابیوں کا ریکارڈ بڑا شاندار رہا ہے۔میں وزیر اعظم کی قیادت میں کام کرنے والے تمام وزراء کو مبارک باد دیتا ہوں‘‘(۱)
تاریخ بڑی بے رحم اور وقت سب سے بڑا تاریخ دان ہے۔لمحے گزرتے جاتے ہیں لیکن وقت کے سینے پر وہ ان کہی داستانیں بھی لکھ جاتے ہیں جو گونگی ہوتی ہیں لیکن جب بولتی ہیں تو وہ راز بھی کھل جاتے ہیں جو پاتال میں ہوتے ہیں۔
"Verdict On India”
میں بیورلی نکلز نے قائداعظم کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا عنوان’’ ایک دیو ہیکل شخصیت کے ساتھ ایک مکالمہ ‘‘ لکھا ہے ۔ایک دبلا پتلا لانبا سا شخص جس کی روح یقینا دیو ہیکل تھی۔ وہ زیارت اور کوئٹہ کی ریذیڈنسیز میں ایک ایسی مرض میں مبتلا تھا جس کا علاج اس کے اپنے احساس تکلیف کے باوصف صرف موت تھا۔جب اس صاحب فراست نے ایک ایسی مملکت کی تشکیل کے لئے جدو جہد شروع کی جس کا منظر نامہ اس کے نزدیک ایک ایسے وطن سے عبارت تھا جہاں مذہبی اور قومی اور لسانی بنیاد پر تفریق کا کوئی وجود نہ تھا ۔ آئین ساز اسمبلی سے اس کا پہلا خطاب جو 11اگست 1947 کو ہوا جس میں اس نے آزادی ضمیر اور رائے اور مذہب کاو ہ آفاقی تصور پیش کیا جس کی جڑیں میثاق مدینہ اور خطبہ حجۃ الوداع اور اسلام کی آفاقی تعلیم جہان بانی میں پیوست تھیں تو بعض خفیہ ہاتھ اس تقریر کی Deletionکے لئے سر گرم ہو گئے۔ معرو ف صحافی ضمیر نیازی نے Press In Chains میں اس کا پردہ خوب چاک کیا ہے۔
ضمیر نیازی لکھتے ہیں:
ِOn August 7th ‘ 1947 Jinnah flew from Delhi to Karachi, the would be capital of the newly independent State, to become first Governer General of Pakistan. On August 11, he made the greatest speech of his life in which he said: ” You are free, You are free to go to your Temples, your are free to go to your mosques or any other place of worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed-that has nothing to do with the fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one state.Now thing that we should keep in front of us as our Ideal, and you will find that in the course of time,Hindus would cease to be Hindus and Muslim would be cease to be Muslims not in the religius sense, because that is the personal faith of each individual but in the political sense as citizens of the state.”
پھر لکھتے ہیں :
According to Hamid Jalal:
"This speech of Quaide became the target of what may be called FIRST OF THE PRESS ADVICES(emphasis added) issued by establishment.
پھر لکھتے ہیں:
After going through Hamid Jalal’s article this writer( Zamir Niyazi) made further inquiries into the matter. Zamir Siddiqui, gave the following version in writing.
"The Quaid’s famous speech on that day(August 11th) was not to the liking of some high-ups in the administration. They wanted that this portion of Quaid’s Speech should not be published, as in their opinion, it was the negation of the two nation theory which was the basis of the creation of Pakistan. It was the late Mr. Altaf Hussain who did not agree with them and insisted that the speech should go in to press with out any deletion.
الطاف حسین مرحوم واقعی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے DAWNکے صفحات کو اس مقتدر اور نہایت Bold تقریر سے مزین کیا۔لیکن اس سے اور کسی بات کا اندازہ ہونہ ہو اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض لوگ ابتداء پاکستان ہی سے اپنی ہوس اقتدار کے لئے ان تمام عناصر اور امور سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے جن میں قائد کی ذہانت سے بھر پور بصیرت کی جھلک نظر آتی ہے۔اس تقریر کی موجودگی میں کوئی سیاسی جماعت کبھی بھی مذہبی عناصرکو استعمال کرنے کی جرأت نہیں کر سکتی لیکن بقول ذوالفقار علی بھٹو کے اس تقریر سے نجات حاصل کرنے کے لئے جنرل شیر علی وزیر اطلاعات کی زیر ہدایت ریکارڈ کو جلانے یا ضائع کرنے کی کی بھی کوشش کی گئی
آج کا مؤرخ جب پیچھے مڑ کرتاریخ کو ٹٹولتا ہے تو اسے ذاتی ہوس گیری ،اور باہمی مناقشات کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے جس کا آغاز ان سیاست دانوں نے قائد کی زندگی ہی میں کر دیا تھا جو بعد کو پاکستان کی زمام اقتدار پر قابض ہوئے۔
مملکت خداداد پاکستان جس کا حصول ایک ایسے مقصد کے لئے کیا گیا تھا جس میں اس کا مقصد ایک وحدت ملی کا قیام تھا اس کی بنیاد اس بنیادی آفاقی اصول پر رکھی گئی تھی جس کا اعلان اسلام کی آفاقی تعلیم میں کیا گیا ہے ۔جہاں یہ کہا گیا ہے کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور وہ ہے کہ تمام ان لوگوں کو جو کسی ایک کتاب کے قائل ہیں مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اے اہل کتاب اس بات کی طرف آجائو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم ایک خدا کے سوا کسی کو معبود نہ بنائیں اور شرک نہ کریں اور آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں خداکو ایک طرف چھوڑ کر۔( آل عمران:64 )
قائد اعظم اور تمام ان لیڈرز نے جنہوں نے مملکت خدا داد پاکستان کے حصول میں ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا ان کے پیش نظر یہی ایک بات تھی۔ لیکن مملکت کے حصول کے بعد زمام سیاست ان لوگوں کے ہاتھ آگئی جو محض اپنے اقتدار کی ہوس میں مبتلا تھے جن کے نزدیک آزادی ضمیر کی کوئی حیثیت نہ تھی۔
قائداعظم کا دل ہوس اقتدار سے بالکل پاک تھا۔وہ تو ایک مرحلے پر لارڈ مائونٹ بیٹن کو گورنر جنرل تسلیم کرنے پر بھی تیار تھے لیکن مائونٹ بیٹن کا ہندو قوم کی طرف جھکاو اور ا سکے ساتھ ہمدردیاں دیکھ کر انہوں نے پاکستان کا گورنر جنرل بننے کی حامی بھری لیکن اس کے بعد کیا ہوا یہ داستان تلخ بھی ہے اور آنسووں اور آہوں کو بے اختیار آنکھوں اورلبوں پر لے آتی ہے۔
اس سے قبل کہ ہم بات کو آگے بڑھائیں اس جگہ ہم ایک گواہی پیش کرنا چاہتے ہیں وہ گواہی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے جناح کی قائدانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا ان کے اندر کے خلوص اور محبت کو دیکھا اور اپنے خواب کی تعبیر کو پانے کی آرزو میں ان باتوں کو بھی قبول کر لیا جو انکے ذاتی کردار پر بھی بار تھیں اور ان کی گرتی ہوئی صحت پر بھی۔
(قائداعظم کے گورنر جنرل بننے کے فیصلے کو قبول کرنے کے مضمرات کو سامنے رکھتے ہوئے )
Rush Brook Williams
لکھتے ہیں:
’’مسٹر جناح نے کافی تذبذب اور فی الواقعی جبر و اکراہ کے اظہار کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل کے عہدے کو لیگی قائدین کے بے پناہ اصرار پر قبول کیا۔ ان کی صحت، گو وہ ایک بھاری بھر کم آدمی نہ تھے، مسلمانوں کے لئے ایک وطن کے حصول کی طول و طویل مہم اور جدو جہد میں بہت خراب ہو گئی ۔ اس مہم کو بہر حال ان کی فتح کی صورت ہی میں نمودار ہونا تھا۔ انہیں آرام کی خواہش ہونی چاہئے تھی کم ازکم کچھ عرصے کے لئے ہی سہی۔ مگر وہ ایک ناگزیر ہستی تھے ان کے لئے کام کے بغیر کوئی چارہ ٔکار ہی نہ تھا۔وہ قائداعظم تھے۔ ایک ایسے عظیم رہنما جو کروڑوں مسلمانوں کی نگاہوں میں ان کا اپنا راہ بر اور میر کارواں تھا۔ جس کے ہاتھوں ان کی منزل مقصود مقدر ہو چکی تھی۔ان لوگوں کے لئے جو میری طرح ان سے بخوبی واقف تھے یہ بات بالکل واضح تھی کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے جس سے وہ وابستہ ہو چکے تھے اپنی اس صحت کی آخری قربانی پیش کر رہے تھے جن کو محفوظ رکھنے کے حقیقی مواقع موجود تھے وہ نہ صرف ایک نئے ملک کو جو متضاد قوتوں اور متصادم مفادات سے معمور تھا نہ صرف متحد رکھنے اور مربوط رکھنے کی ضرورت کے بارے میں کوشاں و متفکر تھے بلکہ پاکستان کی قوم کے لاکھوں عقیدتمندوں کے بارے میں بھی سوچ رہے تھے جن کی نظروں میں ان کی حیثیت ایک پیشوا اور روائتی ہستی کی سی ہو گئی تھی ۔ میں خوب سمجھ رہا تھا کہ ان جذبات اور اس روح کے ساتھ وہ اپنے نئے عہدے اور اپنی نئی ذمہ داری کو سنبھال رہے تھے۔‘‘(۱)
لیکن بعد میں آنے والے حکمران قائداعظم کے نام کو اپنی سیاست و سیادت کے چمکانے اور مملکت خداداد پاکستان کے خوبصورت اور چمکتے نوٹوں کی آرائش اور واٹر مارک کے لئے استعمال کرتے رہے۔ایک ایسا واٹر مارک جو نوٹوں کی صحت اور ثقاہت کا ضامن لیکن اس کے فرمودات جو مملکت کی رگوں میں خون اور اس کے لئے سانسوں کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں محض ردی کاڈھیر سمجھتے ہیں۔

خدا کے نام پر حاصل کی گئی اس مملکت میں سازشوں کے کھیل کا آغاز کس طرح ہوا اس کی ایک جھلک ہم نے آپ کو دکھائی ہے۔ کچھ نادیدہ ہاتھ جو قائد کو مملکت سے دور رکھنا چاہتے تھے ۔ جو اس کے مملکت کے لئے Visionکو Deleteکرنا چاہتے تھے وہ پہلے دن سے ہی سرگرم عمل ہو گئے تھے۔اس دن سے بھی پیشتر جب ابھی مملکت کی آزادی کے دن کی تعیین نہیں ہوئی تھی۔اس کا ذکر ہم نے Press in Chains کے حوالے سے کیا۔اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ وطن اور مملکت کس طرح ان لوگوں کے ہاتھوں میں گیا جو انگریز کے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا تھے ۔ جن کی جاگیریں برطانوی حکومت کی دین تھیں ۔ جن کی تربیت صفہ کے چبوترے پر نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ غداری کے عوض رزق پا رہے تھے۔تب تک کے لئے اجازت۔اللہ حافظ

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend