ہوم / حقوق/جدوجہد / ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔۔۔۔۔۔رانا محبوب اختر

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔۔۔۔۔۔رانا محبوب اختر

شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
سینے میں گداز دل اِک عذاب ہے۔ درد مند دل پہلو میں شور کرتا ہے۔ قطرہ ¿ خوں قیامت ڈھاتا ہے۔ مشعال خاں کی زندگی کی مشعل کچھ اس انداز سے بجھائی گئی کہ دل سے اِک شور آسماں کو اٹھتا ہے۔ ایسا المیہ کہ اِک شور آسماں سے اٹھتا ہے۔
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اِک آسماں سے اٹھتا ہے
اس موضوع پر لکھنے کی ہمت نہیں تھی۔ پھر ایک دوست نے مشعال کے عظیم والد‘ اقبال خان کی بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو کی ویڈیو بھیجی۔ بہادر پٹھان کی ویڈیو کئی بار دیکھی ہے۔ آنکھ سے آنسو نکل آئے تو قلم تھامنے کا حوصلہ ہوا۔ آنسو جیسے قلم کی سیاہی بن گئے ہوں۔ مقدر کی سیاہی کو دھندلا کرنے کا آبِ زمزم ہوں۔ حوصلے کا لرزتا پہاڑ بولتا ہے‘ ”اِس ملک میں اظہارِ رائے پر پابندی ہے۔ یہ لوگوں کی زبان کاٹتے ہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ مار بھی دیا اور الزام بھی ایسا لگایا…. میں اُس کا باپ ہوں۔ وہ اکثر گھر میں بیٹھ کر محمد کا پیغام دیتا تھا۔ وہ جرنلزم کا طالب علم تھا۔ وہ حضرت عمرؓ کے نظامِ انصاف کا حوالہ دیتا تھا۔ میں اپنی ریاست سے انصاف چاہتا ہوں کہ کل کسی اور کے بچے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ اکیلا میرے بیٹے کا مسئلہ نہیں ہے۔ لوگوں نے یونیورسٹی میں آکر حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔ حکومت خود اپنا سوال پوچھے“۔ بی بی سی کے افسردہ رپورٹر نے پوچھا کہ آپ کو انصاف ملنے کی امید ہے؟ غمزدہ باپ نے ہمارے سماج کا سب سے بڑا سچ سادگی سے بول دیا کہ میں جب نظامِ انصاف کا تجزیہ کرتا ہوں تو کبھی ایسا ہوا نہیں ہے کہ ہم غریبوں کو انصاف ملے کہ قانون ایک ایسی چیز ہے جو امراءکے لئے الگ اور غریبوں کے لئے الگ ہے۔ عرصہ ہوا جوناتھن سوِفٹ نے کہا تھا: ”قانون مکڑی کا جالا ہے جس میں مکھی پھنس جاتی ہے اور بھڑ اسے توڑ کر نکل جاتے ہیں“۔ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ اقبال خاں نے پانامہ کا خوابیدہ فیصلہ جیسے سنادیا ہو! اپنے ذاتی دکھ کو قوم کا اجتماعی دکھ بنادیا ہو!ریاست کی افادیت پر بحث کا دروازہ کھول دیا ہو۔
ریاست کا پرانا تصور پٹ گیا ہے۔ پرانی ریاست ہر دم بدلتی دنیا کا ساتھ دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ریاست اس لئے وجود میں آئی تھی کہ وہ انسان کو انسان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آپ کو مجھ سے اور مجھے آپ سے بچالے۔ میرے اور آپ کے جھگڑے میں انصاف کا بندوبست کرے۔ بہت سی دوسری ریاستوں کے ساتھ پاکستانی ریاست کی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی بنیادی وجہ آبادی کا دباﺅ‘ یوتھ بلج یعنی آبادی میں نوجوانوں کا بڑھا ہوا تناسب‘ بیروزگاری‘ بے سمتی اور ٹیکنالوجی کی چکرادینے والی رفتار ہے۔ مذہبی طبقہ بھی ان تبدیلیوں سے پریشان ہے۔ سب کی طرح وہ بھی اِک عجب انتشار کا شکار ہے۔ دہشت گردی‘ اس پریشانی اور ژولیدہ فکری کی محض علامت ہے۔ مسلم دنیا نے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے نمٹنے کے چار طریقے آزمائے ہیں۔ پہلا طریقہ‘ مغرب کی نقالی ہے۔ ترکی اور ملائیشیاءاس کی مثال ہیں۔ ترکی کا اردوان اب سیکولر ترکی کو اپنی روایت سے ہم آہنگ کرنے کا جتن کرتا ہے۔ دوسرا ردعمل جمہوریت اور اسلام کے ملاپ سے ایک ایسی اصلاح شدہ ریاست کا قیام ہے جو رند کی رند ہو اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ مصر اور پاکستان نے یہ راہ اپنائی مگر دونوں تجربات ناکام ہوئے ہیں۔ تیسرا راستہ مکمل روایت پرستی کا ہے۔ یعنی تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں اس کی مثال ہیں۔ وہ جدیدیت کی فکری اساس کے بغیر جدید ریاست کا خواب دیکھتے ہیں لیکن تیل کی آمدنی اور غیرملکی لیبر اور افرادی قوت کے بغیر ان ریاستوں کا مستقبل خطرات میں گھرا نظر آتا ہے۔ چوتھا ردعمل بنیاد پرستی ہے۔ ایران اور افغانستان میں بنیاد پرستوں نے قسمت آزمائی کی ہے۔ افغانستان میں ملا عمر کی حکومت نے خواتین اور ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ جو کیا اس کے بعد ان سے ایک جدید ریاست کے بنانے اور چلانے کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔ ایرانی انقلاب نے شیعہ اسلامی بنیاد پرستی کا سہارا لے کر ولایتِ فقیہہ کے تصور سے ایران کا آئین تشکیل دیا۔
”اسلامی حکمرانی:فقیہ کی حکومت“ امام خمینی کی وقیع کتاب ہے۔ وہ خدا کی مرضی سے حکومتی معاملات چلانے کی بات کرتے ہیں اور خدا کی مرضی فقیہہ جانتا ہے۔ یہیں سے تضادات کا آغاز ہوتا ہے۔ کب بندہ ¿ مومن کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے اور کب ایک انسان کا‘ سارے تضادات اُس ہاتھ میں رعشہ پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کلیسا‘ گرجا اور مجاور ناکام ہوئے۔ جدید فکر اس خلا کو اداروں سے پُر کرتی ہے۔ شراکتی ادارے‘ مباحثہ‘ مکالمہ‘ تدبر‘ تفکر اور تعقل اس کا جواب ہیں۔ خدا خوفی اور انسان دوستی کی اقدار تاہم ساتھ رہتی ہیں۔ مشرق میں جاپان واحد ملک ہے جس کی مثال سمجھنے کو سعودی عرب اور ایران وفود بھیجتے ہیں۔ جاپان نے قدیم اور جدید‘ جدت اور روایت کے متوازن امتزاج سے اپنی کہانی میں توازن پیدا کیا ہے۔جبکہ ہم استرداد یا قبولیت سے اپنی کہانی لکھنا چاہتے ہیں۔ اچیبے نے کہانی کا توازن نہیں‘ کہانیوں کے توازن پر بات کی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا شراکتی اداروں‘ قانون کی حکمرانی اور ترقی کی کامیاب مثالیں ہیں۔ مسلمان ملک ایک بھی ایسا نہیں جو آج کی دنیا میں قابل تقلید ہو۔ پاکستانی ریاست کو توازن درکار ہے۔ وہ توازن جو پیدل چلنے والے آدمی کو درکار ہوتا ہے۔ ریاست اگر تنی ہوئی رسی پر چلتی ہو تو روز گرتی ہے۔ مشعال کا خون اپنے چہرے پر ملتی ہے اور پھر سرکس کے بے عقل جانور کی طرح تنی ہوئی رسی پر کرتب دکھانے کا جتن کرتی ہے۔ سر کے بل گرنے سے پہلے بارِدِگر کرتی ہے۔ بار بار گرتی ہے۔
مشعال کی موت نے پاکستانی ریاست اور سماج کے انتشار پر شہادت دی ہے۔ ہمارا سماج لخت لخت ہے۔ اخلاق اور اقدار سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اقدار کی محافظ حکمران اشرافیہ دھن پرست ہے۔ مشعال کی قاتل ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ پر انگلی اٹھی ہے۔ توہین کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ بحث اور کج بحثی کی گواہی مل رہی ہے۔ بدعنوانی کی شکایت عام ہے۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے چیدہ افراد پر بھی الزام ہے۔ گویا پورا بھان متی کا کنبہ منفی اقدار کا بدنما عفریت ہو اور مشعال کے مشتعل مگر معصوم خون سے اپنی بدصورتی کو تقدیس کی قبا پہناتا ہو۔ ہم سادہ طبع ہیں۔ بڑی آسانی سے ملا اور تشدد کے بیانیے کا سہارا لے کر حکمران اشرافیہ کو چیلنج کرنے سے دامن بچاتے ہیں۔ رضا شاہ پہلوی ایران میں جدیدیت کے سب سے بڑے داعی تھے اور یہ طے ہے رضا شاہ کی عوام دشمن پالیسیاں اور ساواک کا ظلم ایرانی انقلاب کے مددگار بنے۔ اُسی طرح بدعنوان اشرافیہ ہمارے ہاں ریاستی انتشار اور زوال کی ذمہ دار ہے۔ سماجی انتشار ہمارے اداروں میں جھلکتا ہے۔ مرچوں میں برادہ اور چائے کی پتی میں کیکر ملانے والوں کو پھر بھی تقوی کا زعم ہوتا ہے۔ ہماری اخلاقی اقدار کے چوکیدار ہیں۔ وہ اشرافیہ کے پرہیز گار ساتھی ہیں۔ ان پارساﺅں کی گڑگڑاتی دعاﺅں کے ہنگام اشکوں کے عرقِ انفعال سے اشرافیہ تزکیہ ¿ نفس کرتی ہے۔ دھماکوں پر بغلیں بجاتی ہے۔ مشعالوں کے قتل پر اخباروں کی شہ سرخیوں میں جگہ گھیرتی ہے۔ برصغیر میں عجب غلامانہ حماقت کا راج ہے۔ ہندوستان میں ہولی برپا کرنے والے مہذب ہندو گائے کے گوشت پر مسلمانوں کو ذبح کرتے ہیں۔ ہندو توا کا سبق ملا نے تو نہیں پڑھایا۔ مخالف کا دل چبانے والے سبھی شامی سنگ دل پاکستانی مدرسوں سے نہیں گئے۔ کربلا والوں کے قاتل ہمارے مدرسوں کے طالب علم تو نہیں تھے۔ قرآن کریم انسان کو ظالم اور جاہل کہتا ہے۔ قال قال رسول اللہ کہنے والے سادہ دل ہیں یا اجرتی مزدور جو معصومیت سے پانامہ کے حسابی کھاتوں پر دعاﺅں کی جلد لگاتے ہیں۔ کتاب بند ہوتی ہے‘ حساب کا شور جاری رہتا ہے۔ سرحد کے اس پار ہندو سادہ دل مسلمانوں کو قتل کرتا ہے۔ افغانستان‘ شام‘ فلسطین‘ یمن اور عراق میں بھی ہمارا خون بہتا ہے۔ سرحد کے اس طرف بھی ہم قتل کرتے ہیں۔ قتل ہوتے ہیں۔ ستر سالوں میں جن کے ہجر میں ہمارے بالوں میں سفیدی آئی‘ اُن کا عشق مگر سینوں میں جواں رہتا ہے۔ مشعال‘ ہجوم کے انصاف کا شکار ہوتا ہے کہ ریاست کمزور ہے‘ اشرافیہ کے ذہنی انتشار سے ژولیدہ فکری کا شکار ہے۔ مشعال کی ماں اپنے مردہ بیٹے کا ہاتھ چومتی ہے‘ روتی ہے۔ اُس کے لعل کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹی تھیں۔ بارِ خدا‘ تیرے بندے بدل گئے۔ شکل تو رحمتِ عالم کے کرم سے نہیں بدلی‘ دل سیاہ ہوگئے۔ یہی انسان مسجودِ ملائک ہے؟ مشعال کی ماں نے سوچا تو ہوگا! انور اقبال نے مشعال کی اماں کے غم پر نوحہ لکھا ہے:
چومے جو میں نے ہاتھ
تو ٹوٹی تھیں انگلیاں
ماتھا جو میں نے چوما
پیشانی پہ زخم تھا
چہرے پہ ہاتھ پھیرے تو
چہرہ ہی مسخ تھا
سارے بدن پہ اُس کے
تشدد کے تھے نشاں
ٹوٹے اگر تھے ہاتھ
شکستہ تھے پیر بھی
کیسے بتاﺅں تجھ کو
جو مجھ پہ گزر گئی
اِک عمر کی کمائی
لمحوں میں لُٹ گئی
مشعال کے باپ نے کہا:
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی!!
ماں کے نوحے اور باپ کے سوال سے زندگی بدل بھی تو سکتی ہے! شاعر فرح رضوی نے بڑی دلگیری سے فیس بک پر صرف اتنا لکھا‘ دردمندی سے سارا دکھ ایک سطر میں سمودیا:
حامی ¿ بیکساں ،کیا کہے گا جہاں!
(بشکریہ خبریں آنلائن)

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend