ہوم / حقوق/جدوجہد / آپ کے مضمون کے ریسپونس میں۔۔۔ کچھ خیالات۔….از نجمہ صدیقی، واشنگٹن

آپ کے مضمون کے ریسپونس میں۔۔۔ کچھ خیالات۔….از نجمہ صدیقی، واشنگٹن

یہ موضوع تو نیا نہیں، نہ ہی خان صاحب کو تجاویز دینے کا شوق، لیکن اس کو نبھانے کا انداز ضرور مختلف ہے۔ طاہر بھٹی کی بیٹی کی لیول جو بھی ہو (وہاں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ تمام کا تمام ملک ہی ہائی سکول لیول تک نہیں پہنچتا) ہمارے لیے تو یہی بہت ہے کہ اس بچی (اور بہت سے اور بچوں) کو شوق ہو رہا ہے سننے، سوچنے اور سمجھنے کا۔ اگر اور کچھ نہیں تو یہ “تبدیلی” بھی ایک بہت بڑا معرکہ کہلائے گی معاشرے میں تحریک پیدا کرنے کے حساب سے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ کھمبے ہار گئے۔ جیسا طاہر بھٹی نےکہا کہ،

“ووٹ پڑے اور برج گرے۔ مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو عمران خان کے جیتنے کی ایسی مسرت نہیں ہوئی جتنی مولانا فضل الرحمن اور امیر جماعت اسلامی جیسوں کے ہارنے کی ہوئی۔حافظ سعید اور خادم رضوی قماش کے حاملین دین متین کو اور ملائیت کے کھڑے کئے گئے کھمبوں کو پبلک نے اپنے سیاسی مفادات کی نگرانی اور نمائیندگی کا حق دینے سے انکار کر دیا ہے۔“
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ “پبلک” کون سی ہے اور کس کے زور پر چل رہی ہے؟ کیا یہ وہی پبلک ہے جو کل تک کھمبوں کو ووٹ دے رہی تھی؟ اور اگر ہے، تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ آج یہ کھمبوں کے خلاف ہو گئی ہے؟ پھر دیکھا جائے تو پنجاب میں کیا نہیں کیا گیا تھا ووٹ کے لیے تو ان کےووٹ کیوں کٹے، یا کاٹے جا سکے؟ اور خاص طور سے سندھ میں کونسے کمالات دکھائے گئے تھے ان پارٹیوں کی طرف سے جن کو ووٹ پڑے اور جن کی سیٹیں بڑھیں؟! اور پھر لیاری میں (سندھ، پنجاب، اور ملک بھر میں) جو لبیک کو ووٹ پڑے ہیں وہ اسی پبلک نے نہیں ڈالے کیا؟ مانا کہ ووٹ سیٹ میں کنورٹ نہیں ہوئے، لیکن اتنے ووٹ پڑنا ہی بہت بڑا پیغام ہونا چاہیے قوم کا درد رکھنے والوں میں۔ تو خوشی لازمی ہے، لیکن آنکھ کھولے رکھنا بھی لازمی ہوگا۔
جہاں تک سجدے کی بات ہے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آج کی “بڑی” سیاسی پارٹیوں کے لیڈران میں کونسے ایسے رہے ہیں جنہوں نے پیری، فقیری پر بھروسہ نہیں کیا۔ اگر خود پیر اور گدی نشین نہیں بھی ہیں تو قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے ہاتھ میں تسبیح کس نے نہیں گھمائی؟ اور خود کو بیوقوف بنانے کے لیے پیِروں کے ڈنڈے نہیں کھائے، یا کالے بکروں کی جان کے دشمن نہیں بنے۔ اب اس بات پر یہ کہنا کہ ذاتی زندگی میں (یعنی چھپ کر؟) یہ سب کام کیجیے تو ٹھیک لیکن کھل کر کریں گے تو ہم آپ کی عزت نہیں کر پائیں گے، یہ بھی کچھ بے معنی سا لگتا ہے! بھٹو کو ہم پسند اس لیے کرتے تھے کہ وہ کھل کر کہہ سکتا تھا، “شراب پیتا ہوں، کسی کا خون تو نہیں پیتا”۔ لیکن پھر وہی کرسی سنبھالے رکھنے کا شوق اس کو کسی اور طرف لے گیا۔ باقی جو آئے انھوں نے بہت کچھ چھپ کر کیا۔ اب اگر کوئی ہمت رکھتا ہے یہ کہنے کی کہ “مزار پر حاضری دیتا ہوں، دوسروں کا پیسہ تو نہیں کھاتا” تو ہمیں اعتراض کیسا؟
تو بات یہ ہے کہ ہماری “ذاتی” پسند نا پسند ایک طرف، اور جو کچھ ملک اور معاشرے میں ہو رہا ہے، کروایا جا رہا ہے، وہ ایک طرف۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ کھیل کس کا ہے، قاعدے کس کے ہیں، اور کھیل میں شامل کس کو کیِا جا رہا ہے۔ پھر بات یہیں پر بات ختم ہوگی کہ،
“ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو، ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

،ہم نے عزیزو ، چاک کئے ہیں ، چار گریباں۔۔۔۔۔ تم سے زیادہ”

محترمہ نجمہ صدیقی صاحبہ نے آئینہ ابصار کی کسی تحریر کو اپنے تبصرے سے نوازا ہے، موصوفہ پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں عوام الناس سے بالفعل "گراس روٹ” لیول کا رابطہ رکھتی تھیں کیونکہ اکثر پراجیکٹس کی نوعیت ایسی ہی تھی جن کی وہ سربراہ رہیں۔ بعد ازاں ورلڈ بینک کے ساتھ لمبا عرصہ وابستہ رہیں اور تا حال اسی بینالاقوامی موقر مالی انصرام کے ادارے کے ساتھ ٹریننگز کے شعبے میں کنسلٹنٹ ہیں اور واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں۔
دل و دماغ پاکستان ہی رہتا ہو گا جبھی تو ہر چھوٹی بڑی خبر پہ نظر رکھتی ہیں۔ آئینہ ابصار کے ایڈوائزری بورڈ کی سربراہ بھی ہیں اور اپنی گراں قدر راہنمائی اور نیک خواہشات سے نوازتی رہتی ہیں۔ آج خاکسار کے حالیہ مضمون پہ اپنے موقر تبصرے سے بھی نوازا ہے۔ قارئین کی بصارتوں کی نذر۔۔۔۔۔صلائے عام ہے یاران نقطہ داں کے لئے۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر/ایڈمن، آئینہ ابصار، جرمنی

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

آئینے پریشاں ہیں، اب نگارخانے میں۔۔۔۔۔۔غزل، ،۔۔صائمہ شاہ

بے کلی سی رہتی ہے دل کے چار خانے میں اتنی دیر کیوں کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend