ہوم / حقوق/جدوجہد / ایک آپشن یہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔نعمان محمود

ایک آپشن یہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔نعمان محمود

پاکستان کس کا ہے؟
گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں یہ بحث چل رہی ہے کہ قائدِ اعظم رحمة اللہ علیہ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ ایک طبقہ اس بات پر بضد ہے کہ پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ پر ہے اور دو قومی نظریہ ہی پاکستان کا مستقبل ہے جبکہ دوسرا طبقہ قائدِ اعظم کے گیارہ اگست کے خطاب کا حوالہ دیکر پاکستان کو ایک روشن خیال مملکت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں کوئی تاریخ دان تو نہیں اور نہ ہی ڈاکٹر صفدر محمود کے پایہ کا آدمی ہوں اور نہ ہی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے ہمیں آئن سٹائن کا دماغ چایئے بلکہ تعصب سے پاک ایک عام آدمی ہونا ہی بہت ہے۔

ہمیں پہلے یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ حضرت قائدِاعظم رحمة اللہ علیہ کوئی مذہبی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ ایک انتہائی باکردار، زیرک اور اصول پسند سیاستدان تھے۔ مسلم لیگ نے جس وقت مسلمانوں کیلئے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا تو اسوقت دو قومی نظریہ کے علاوہ کوئی اور وجہ علیحدہ ملک کے مطالبہ کا جواز نہیں بن سکتی تھی۔ لہذا تمام مسلم قائدین دو قومی نظریہ پر قائم ہوگئے۔ اسکے علاوہ اگر کوئی بھی اور وجہ ہوتی تو کسی معقول دلیل سے اسکو رد کیا جاسکتا تھا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان بن گیا تو پھر حضرت قائدِاعظم رحمة اللہ علیہ نے یو ٹرن کیوں لیا؟ اسکی وجہ بلکل عیاں ہے کہ انکو بخوبی علم تھا دراصل مسلمان ایک امت واحدہ نہیں ہیں ۔ اسے ایک سیاسی نعرہ کے طور پر تو استعمال کیا جاسکتا تھا لیکن لا الہ الااللہ ایک قدر مشترک نہیں تھی اورپاکستان کی سترسالہ تاریخ میری اسبات کی گواہ ہے۔ جس دو قومی نظریہ نے ہندو اور مسلمانوں کو علیحدہ کیا تھا کچھ عرصہ کے بعد اسی نظریہ کے تحت سنی اور شیعوں کے دو علیحدہ ملک پاکستان س اور پاکستان ش بن جانے تھے۔ اسکے بعد مزید تقسیم ہوکر ایک بریلوی اور ایک اہل حدیث پاکستان بنتے اور اب تک پاکستان کے چالیس پچاس ملک بن چکے ہوتے۔ ایک ملک ایسا ہوتا جس میں تمام لوگ آمین بالجہر کہہ سکتے تو دوسرے ملک میں رفع یدین کرسکتے۔ لہذا پاکستان کو ایک ملک رکھنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ملک بنتے ہی ہندو، ہندو نہ رہتا ، عیسائی ،عیسائی نہ رہتا اور مسلمان مسلمان نہ رہتا مگر بدقسمتی سے ایسا ہو نہ سکا اور اسوقت ملک کا جو نقشہ ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔

جیسا میں کہا کہ حضرت قائدَاعظم ایک سیاسی لیڈر تھے نہ کہ ولی یا قطب اور انہوں نے ایک جمہوری مملکت کی بنیاد رکھی تھی جس میں فیصلہ سازی کا اختیار جمہور کو ہوا کرتا ہے نہ کہ لیڈر کو۔ حضرت قائدِ اعظم خواہ کیسا ہی پاکستان چاہتے تھے یہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ہمارے ملک میں کون سا نظام ہوگا؟ دو قومی نظریہ کا تو ستر سال مزہ چکھ لیا ہے اب اگر چند سال مذہبی رواداری کے نظام کا بھی تجربہ کرلیں تو کیا مضائقہ ہے؟ اگر ایسا کرلیں تو کون سی چیز کی کمی ہوجائے گی؟ اگر آصف زرداری کی بجائے رانا بھگوان داس صدرِ پاکستان ہوتے تو کیا بگڑتا ؟ اگر ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان میں ہی رہتے تو پاکستان کو کیا خطرہ تھا؟ ویسے بھی اگرآج قائدِ اعظم زندہ ہوتے اور دو قومی نظریہ پر ہی قائم ہوتے لیکن پاکستان کے عوام پاکستان کو ایک سیکولر اور روادار مملکت بنانے کا فیصلہ کرلیتے تو قائدِاعظم کیا کرتے؟ یا ایک جمہوری ریاست میں کیا کرسکتے تھے؟

ہم لوگ یورپ میں رہتے ہیں جہاں نہ تو مسجد سے لاؤڈ سپیکر پر کوئی چیخ چیخ کر وعظ سناتا ہے اور نہ کوئی راستوں کا حق غصب کرکے دھرنے دیتا ہے ۔ ایک سیکولر معاشرہ میں ہر کسی کو عقیدے اور عمل کی پوری آزادی ہے۔ کوئی کسی کو نماز یا روزے سے منع نہیں کرتا۔ نہ پولیس رشوت لیتی ہے اور نہ ہی کافر حکمران ملک اور عوام کی دولت اپنی جیب میں ڈالتے ہیں۔ اگر کسی لامذہب حکمران پر کوئی الزام بھی لگ جائے تو وہ اخلاقی طور پر ہی حکومت چھوڑ دیتا ہے ، عدالت میں جانے کی نوبت نہیں آتی۔ عدالتیں ہر کسی کیساتھ انصاف کرتی ہیں۔ وزیراعظم کیلئے سڑکیں بند نہیں ہوتیں ۔ پھر خدا کی بھی ہر نعمت ان کافروں پر نازل ہوتی رہتی ہے۔ نہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب اور نہ خشک سالی کا خطرہ۔ نہ ملاوٹ والا دودھ ملتا ہے اور نہ ہی کتے یا گدھے کا گوشت۔ آج تک یوٹیوب اور فیس بک بند نہیں ہوئیں بلکہ جن لوگوں کو اسکے مواد پر اعتراض ہے وہ ان سائیٹس پر جاتے ہی نہیں۔۔ اگرسترسال کے ناکام تجربہ کے بعد چند سال کیلئے اس نظام کا تجربہ بھی کرلیں تو کیا حرج ہے؟ اگر ناکام ہوگیا تو ضربِ عضب سے دوبارہ شروع کرلیں۔

یہاں ایک اور بے وقت کی راگنی شروع ہوگئی ہے کہ قراردادِ لاہور کس نے تحریر کی تھی؟ ایک آدھ بیچارے نے کہہ دیا کہ سر ظفراللہ خان نے پیش کی تھی تو اسپر ایک طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ اسبات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کس نے تحریر کی تھی؟ اسوقت تحریکِ پاکستان کے تمام سرکردہ کردار خدا کے حضور حاضر ہوچکے ہیں اور کیا معلوم کہ اس دنیا میں تو ہم یہ دعوی کر رہے ہوں کہ فلاں نے نہیں بلکہ فلاں نے تحریر کی تھی اور ادھر پاکستان میں ہر سلمان تاثیر اور مشال خان کی شہادت کے بعد سب لوگوں کی پیشی ہوتی ہو اور پوچھا جاتا ہو کہ قرار دادِ پاکستان کس نے تحریر کی تھی اور ہر کوئی کہتا ہو کہ خدا کی قسم میں نےنہیں بلکہ فلاں نے تحریر کی تھی۔

(نعمان محمود کا شمار نئے لکھنے والوں میں ہی کیا جائے گا لیکن ایک علم دوست گھرانے میں آنکھ کھولنے کی بدولت ان کی تحریر اپنے مدعا کو بیان کرتے ہوئے قاری کو اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ ایڈیٹر ؛ آئینہ ابصار)

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو سینٹ کے حالیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend