ہوم / حقوق/جدوجہد / جستہ جستہ یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نعمان محمود

جستہ جستہ یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نعمان محمود

آہ صاحبزادہ مرزا غلام احمد بھی رخصت ہوگئے۔
گذشتہ سوموار رات کھانے کے بعد حسب معمول وٹس ایپ پر اپنی فیملی کیساتھ بات چیت ہورہی تھی کہ درمیان میں ایک پیغام آیا کہ میاں احمد صاحب کی وفات ہوگئی ہے۔ پہلی مرتبہ پیغام سرسری طور پر نظر سےگذرگیا لیکن چند لمحوں کے بعد دوبارہ اوپر جاکر پیغام پڑھا اور لکھنے والے سےپوچھا کہ کون سے میاں احمد؟ لکھنے والے نے وضاحت کی کہ صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ناظراعلی۔ اتنا سننا تھا کے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند لمحوں کے بعد پھر خبر کی تصدیق کی اور پوچھا کہ خبر کہاں سے نکلی ہے؟ بتانے والے نے بتایا کہ میاں صاحب مرحوم کے گھر سے تصدیق ہوئی ہے لیکن پھر بھی یقین نہیں آیا تو مرزا لقمان احمد صاحب کو فون کرکے پوچھا۔ انہوں نے بھی تصدیق کی۔ پھر کیا تھا جگر میں ایک تیر آکر پیوست ہوگیا۔ ساری رات کرب میں گذری صبح اُٹھ کر سوچا کہ شاید رات کو کوئی ڈراونا خواب دیکھا تھا لیکن وائے افسوس کے یہ ایک تلخ حقیقت تھی۔
محترم صاحبزادہ صاحب سے پہلا تعارف تب ہوا جب ہم ابھی بہت چھوٹے تھے اور آپ مسجد مبارک کے شمالی دروازے سے مسجد میں داخل ہوتے تھے اور آتے ہی نماز میں مشغول ہوجاتے تھے۔ آپ جیسے ہی کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر الله اکبر کہتے تو ساتھ ہی اس دنیا سے تعلق منقطع کرلیتے۔ آپ اپنے اردگرد کے ماحول کے کلیتہً بے خبر ہوجاتے اور شدید گریہ وزاری شروع ہوجاتی۔ یہ ایک دفعہ کی یا کبھی کبھار کی بات نہیں بلکہ آپکی جوانی سے لیکر آخر وقت تک میں نے جب بھی آپکو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو یہی عالم تھا۔ آپکی نماز باجماعت کی پابندی بھی قابل رشک تھی۔ میرا بچپن اور جوانی مسجد مبارک میں نماز ادا کرتے ہوئے گذری ہے اور کبھی آپکو ربوہ میں ہوتے ہوئے مسجد سے غیر حاضر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ بھی نہیں۔
حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد اپنی جگہ آپکو احمدیہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا سرپرست مقرر فرمادیا اور پھر مجھے آپ کے ایک معاون کے طور پر آپ کیساتھ ایک لمبا عرصہ کام کرنے کا موقع ملا اور آپکی شخصیت کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
آپ ایک مکمل شخصیت کےحامل انسان تھے۔ آپ بہت کھرے اور بہادر تھے۔ آپ کے تعلقات کی بنیاد حب للہ اور بغض للہ پر مبنی تھی۔ آپ کی دوستی کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کے تحت تھی کہ اگر میرا کوئی دوست شراب پی کر سڑک پر اوندھا پڑا ہو تو میں کسی کی مخالفت کی پروا کئے بغیر اسکو اُٹھا کر لے آؤں گا۔ آپ بھی عہد دوستی کو اسی طرح نبھاتے تھے۔ آپ کی دوستی کا سلسلہ نسل در نسل چلتا تھا۔ میں ذاتی طور پر اسبات کا گواہ ہوں کہ ایک دفعہ آپ کے ایک قریبی دوست ایک بڑے قرض تلے دب گئے۔ اور قرض خواہ نے اسکی زندگی اجیرن کردی چناچہ آپ اس دوست کیساتھ چل کر قرض خواہ کے گھر گئے اور ذاتی ضمانت دے کر اسکو مہلت لیکر دی۔ لیکن اگرکسی کو جماعت کی طرف سے کوئی سزا ہوجاتی تو اسکی روح پر عمل کرتے ہوئے آپ اس مکمل طور قطع تعلق کرلیتے گویا اس سے کبھی کوئی تعلق رہا ہی نہیں
جب کبھی کسی کی مدد کا موقع آتا تو آپ اسکےلئے آخری حد تک چلے جاتے۔ ایک دفعہ جبکہ آپ ناظر تعلیم تھے میں ایک احمدی طالب کی تعلیمی قرضہ کی درخواست لیکر حاضر ہوا۔ وہ طالب علم آپ کے طے کردہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا چناچہ آپ نے خلیفہ وقت کو قرض کی سفارش کرنے سے انکار کردیا۔ میں نے عرض کی کہ یہ طالب علم اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو نسل در نسل جماعت کی خدمت کررہا ہے لہذا کوئی صورت نکالیں۔ آپ فرمانے لگے کہ مجھے بھی اسبات کا احساس ہے لیکن میں تو جو اصول طے ہوچکا ہے اسکو نہیں توڑ سکتا لیکن اگر یہ طالب علم حضرت صاحب کو میری شکایت کردے کہ میں نے اسکی درخواست رد کردی ہے تو مجھے یقین ہے کہ حضرت صاحب بھی اس خاندان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے اپنا اختیار استعمال کرکے اسکو قرض عطا کردیں گے اور بلکل ایسا ہی ہوا۔ اور حضور نے اسکو قرض عطا فرمادیا۔
آپ بہت شرمیلی طبعیت کے مالک حیادار شخص تھے۔ آپ کا ایک خاص حلقہ احباب تھا آپ عمومی طور پر بہت ریزرو رہتے تھے لیکن اپنے دوستوں کیساتھ مذاق بھی کرتے تھے اور کھل کر کرتے تھے۔ آپ جب کبھی کوئی لطیفہ سنانے لگتے تو پہلے ہی ہنسنا شروع کردیتے۔ یہاں تک کے سننے والے بھی آپکے ساتھ لطیفہ سننے سے پہلے ہی ہنسنا شروع کردیتے۔ آپ ہمیشہ نظریں جھکا کر اور اپنے سامنے دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔
آپ کا اپنے بڑے بھائی حضرت مرزا خورشید احمد صاحب سے تعلق بھی بہت بے مثال تھا۔ آپ دونوں بھائیوں کو الثر ایک ساتھ دیکھا گیا۔ باوجود بڑے بھائی کیساتھ گہری دوستی اور بے تکلفی کے، انکا بہت احترام کرتے تھے۔ آپ ایک کامل مرد تھے اور مردانہ صفات آپکے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ آپ کی وفات نہ صرف آپکے خاندان بلکہ ہر اس شخص کیلئے جو آپ سے بہت معمولی تعلق بھی رکھتا تھا، ایک گہرا اور باآسانی پر نہ ہونے والے خلا چھوڑ گئی ہے۔ الله تعالی آپکے درجات بلند فرمائے اور آپ نفس مطمئنہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ الله تعالے آپکے بیٹوں کو بھی آپکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend