ہوم / حقوق/جدوجہد / ہاتھی کی دم کا نازک مسئلہ۔۔۔۔۔عبید اللہ خان

ہاتھی کی دم کا نازک مسئلہ۔۔۔۔۔عبید اللہ خان

ہاتھی کی دم کا نازک مسئلہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں تھا جسکے رہنے والوں نے کبھی ہاتھی نہ دیکھا تھا۔ وجہ سادہ تھی۔ ہاتھی اس علاقے میں تھا نہیں۔ اور گاؤں والے کبھی گاؤں سے باہر گئے نہیں تھے۔ ایک بار اس گاؤں کے چند افراد نے کہیں سفر کے دوران ہاتھی دیکھ لیا۔ بس پھر کیا تھا۔ انہوں نے آتے ہی ہاتھی کے قصے بیان کرنے شروع کردیے۔ رفتہ رفتہ مجلسیں لگنے لگیں اور ہاتھی کے قصے ان مجلسوں میں چلنے لگے۔ جب قصے مقبول ہوئے تو مجلسوں سے آمد بھی ہونے لگی۔ اور جونہی مایا دیوی نے قدم رکھا بات حقیقت سے نکل کر داستان بننے لگی اور زیب داستاں کے لئے مبالغہ آرائی نہ ہو تو کہانی میں مزا کہاں؟ لہٰذا جلد ہی ہاتھی ایک غیر مرئی مخلوق بن گیا جسے دیوتاؤں کا مجسم روپ قرار دیا جانے لگا۔ اور اسکی برکت صرف انہیں لوگوں کے لئے مخصوص ہوگئی جنہوں نے اسے دیکھا تھا اور وہ اسے آگے بھی دینے کے اہل بنائے گئے تھے۔ اور یوں اس گاؤں پر ہاتھی کی پوجا ہی نہیں شروع ہوئی اسکے نام کے چڑھاوے اور عطیے بھی شروع ہوگئے جو سب کے سب ان چند قصہ گوؤں کی جھولی میں ہی آکر گرتے تھے۔ اس دوران ایک اور مسافر کا اس گاؤں سے گذر ہو ا ۔ اس نے جب دیکھا کہ ہاتھی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اور ان سے دولت بٹوری جارہی ہے تو ا سنے عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا شروع کیا اور بتایا کہ ہاتھی صرف ایک جانور ہے اور کچھ نہیں ہے۔ اور وہ ایسا ہوتا ہے۔ ایسے کھاتا ہے۔ اور ایسا دکھتا۔لالچ اسے تھا کوئی نہیں۔ جب چند سمجھدار لوگوں نے اس کی طرف کان دھرنے شروع کردیے تو قصہ گوؤں کو اپنے رزق پر لات پڑتی نظر آئی تو انہوں نے اس مسافر کے خلاف ایکا کرنے کی ٹھان لی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ بیانیہ کیا بنایا جائے جس سے مسافر کو ملعون و مطعون کیا جاسکے۔ سوچا گیا کہ بیانیہ جو بھی ہو اسے مذہبی رنگ دینا ضروری ہوگا تاکہ لوگوں کے جذبات کو انگیخت کیا جاسکے اور مسافر کے خلاف نفرت پیدا کی جاسکے۔ لہٰذا طے ہوا کہ ایک مناظرہ ہوگا جس میں دونوں فریق اپنا موقف پیش کریں گے۔ پہلے باری قصہ گوؤں کی آئی۔کہا گیا کہ ہاتھی خشکی کا سب سے بڑا جانور ہے اور کوئی اسکے برابر نہیں۔ یہ تو ایسی مخلوق ہے کہ اسکا منہ اسکی دم کے نیچے لگا ہوتا ہےاور وہ اس دم سے پانی بھی پی لیتا ہے اور اس سے غذا لینے کے لئے بھی استعمال کرتا ہے ۔ کیا کوئی اور جانور بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ بس پھر کیا تھا۔ انکے مریدوں نے نعرے بلند کردیے ، سر جھومنے لگے۔ ایک آدھے نے تو دھمال بھی ڈال دی۔ جب مسافر کی باری آئی تو اس نے کہا بھائی ایسی بات نہیں ہے ہمارا کوئی واقعاتی اختلاف نہیں ہے۔ بات درست ہے کہ ہاتھی ہی خشکی کا سب سے بڑا جانور ہے۔ ہاتھی کا منہ بھی وہیں ہوتا ہے جہاں دیگر چار پاؤں والے جانوروں کا ہوتا ہے۔ صرف اسکے منہ کے سامنے ایک اضافی عضو ہوتا ہے جسے سونڈ کہتے ہیں۔ اس لئے ہاتھی کی جسمانی ساخت دونوں کے نزدیک ایک ہی ہے بس فرق یہ ہے کہ تم لوگ سونڈ کو اسکی دم سمجھ رہے ہو۔ اور جسے تم دم کہہ رہے ہو میں اسے سونڈ کہہ رہا ہوں۔ بس پھر کیا تھا۔ توہین توہین کا شور مچ گیا۔ ہاتھی کی توہین کردی۔ یہ واجب القتل ہے۔ اس نے اکثریت کی رائے کو نہیں مانا اور ہاتھی کی دم کا انکار کیا ہے۔ اب وہ بھلا لاکھ شور مچائے کہ میں نے ہاتھی کی دم کا انکار نہیں کیا بلکہ اسے سونڈ کہہ رہا ہوں جسے تم دم کہہ رہے ہو۔ مگر نقار خانے میں طوطی والی بات تھی۔ بس اسے کافر قرار دے دیاگیا۔ اور کہا گیا کہ ہاتھی کی دم ہی تو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ۔ اور جو ہاتھی کی دم کا انکار کرے وہ ہاتھی کو کیسے مان سکتا ہے۔ اس لئے ہم نے ہاتھی کی دم بچانی ہے۔ ہاتھی کی دم کا عقیدہ ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔اس گستاخ نے ہاتھی کی دم پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ اور ساتھ ہی اس بے چارے مسافر کی زبان بندی بھی کردی گئی ۔ اور پھر یہ اعلان کیا گیا کہ یہ مسافر چونکہ ہاتھی کی دم کو نہیں مانتا اور اسکا انکار کرتا ہے اس لئے اسے کافر قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہی آئندہ سے گاؤں کا قانون بنا دیا گیا ہے۔ لہٰذا آئندہ کے لئے اب یہ مسئلہ طے ہوگیا ہے۔ کوئی آئندہ سے ہاتھی کی دم کا انکار نہیں کرے گا۔ اگر کسی نے یہ کہا کہ ہاتھی کی دم نہیں سونڈ ہوتی ہے تو وہ قانو ن کا باغی ہوگا اورایک طے شدہ مسئلے کو متنازع بنا کر فساد ی اور فتنہ پردازقرار پائے گا۔اسکی سزا موت ہے۔ اس تمام کارروائی کا ایک اور فائدہ بھی ہوگیا ۔ پہلے قصہ گو قصے سنانے کے عوض روپے بٹور رہے تھے۔ مگراب گاؤں کے قانون پر بھی ہاتھی کی دم کی طرح انہیں کی اجارہ داری تھی۔
عبید اللہ خان

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend