ہوم / حقوق/جدوجہد / !لوگ کہتے ہیں۔۔۔آپ سنئیے تو۔۔

!لوگ کہتے ہیں۔۔۔آپ سنئیے تو۔۔

ہمارے ہاں ارباب اختیار یہ سمجھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔اب یہ ایسے ہی چلے گا اور لوگ بھی تسلیم کر چکے ہیں۔۔۔۔ہمہ وقت مرتے رہنے کو اور اب چپ چاپ مرتے رہیں گے۔
لیکن ایسا نہیں ہے۔
لوگ بول رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اور تول بھی رہے ہیں۔ اور اپنا اظہار جمع کر رہے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ کسی وقت یہ اظہار انکار بن کر پھوٹ بہے اس لئے ان کو سنئے۔
سوشل میڈیا سے عوام کا غم و غصہ اور دکھ ہم آئینہ ابصار کے ذریعے آپ کو دکھاتے ہیں۔۔۔۔مگر آپ آئینے سے آنکھیں چار کیسے کریں گے؟؟؟

او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ھیں یارانِ وطن؟
کیا اب بھی یونہی پہلے کی طرح
اٹھتا ھے دھواں، جلتے ھیں چمن
کیا اب بھی وہاں لوگوں کے دل
ملا کے دیں سے ڈرتے ہیں
اور خودکش حملوں میں وحشی
حوروں کی خاطر مرتے ہیں
کیا اب بھی ہمارے پیر و جواں
قبروں پہ مرادیں مانگتے ہیں
اور جنوں بھوتوں کے ڈر سے
دل تھر تھر تھر تھر کانپتے ہیں
کیا اب بھی سعودی دولت سے
جاپانی پراڈو آتی ھے
اور اس میں بیٹھے ملا کی
ریشم کی قبا لہراتی ھے
کیا اب بھی عبادت گاہوں میں
نفرت کی فصل ھی پھلتی ھے
اور اس کو کھا کر لوگوں کی
آنکھوں سے آگ نکلتی ھے
کیا اب بھی وطن میں بچوں کو
سب جھوٹ پڑھایا جاتا ھے
جو سچ کا طالب ھو اس کو
اللہ سے ڈرایا جاتا ھے
کیا اب بھی عقل پہ پہرے ھیں
اور انساں گونگے بہرے ھیں
کیا اب بھی سوچنے والوں کی
قسمت میں صرف کٹہرے ھیں
کیا اب بھی جنّوں کے قبضے سے
لوگوں کو چھڑایا جاتا ھے
اور ایسے شعبدہ بازوں کو
ٹی وی پہ دکھایا جاتا ھے
کیا اب بھی وہاں کے شہروں میں
گٹروں کا پانی بہتا ھے
اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر
کچرے کا قبضہ رھتا ھے
کیا اب بھی کاروکاری میں
معصوموں کی جاں جاتی ھے
اور ان کی قبروں پر خلقت
انصاف کے دیپ جلاتی ھے
کیا اب بھی اندھی عقیدت کی
لوگوں پہ حکومت جاری ھے
اور ان کے جینے مرنے پر
ملا کی اجارہ داری ھے
کیا شام پڑے گلیوں میں اسی
آسیب کا ڈیرہ رھتا ھے
اور دل کی سونی بستی میں
ھر وقت اندھیرہ رھتا ھے
(طارق عزیز)
پاکستان کے 25 مشہور یک سطری لطیفے ملاحظہ کیجیے
1۔ شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
2۔ فلاں صاحب سب سے پہلے شہید/زخمی/ریپ کی شکارکے گھر پہنچ گئے ہیں ۔
3۔ اہل کاروں کو معطل کر دیا گیا ہے ۔
4۔ تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔
5۔ دہشت گردوں کو ملک کا امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔
6۔ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔
7۔ اس میں ”را” اور ”خاد” ملوث ہیں ۔
8۔ دشمن ہماری شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھے ۔
9 ۔ فلاں ادارہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے ۔
10۔ انکوائری کی جائے گی ۔
11۔ کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔
12۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے ۔
13۔ حالات بہتر ہو رہے ہیں ۔
14۔ نوٹس لے لیا گیا ہے ۔
15۔ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔
17۔ قوم دہشت گردوں کے خلاف یک آواز ہے ۔
18۔ یہ واقعات سی پیک کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ۔
19۔ ہر صورت میں میرٹ قائم رکھا جائے گا ۔
20۔ غریب کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے گا
21۔ سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے ۔
22۔ اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں کام کرنا چاہئے ۔
23 ۔ازخود نوٹس لے لیا
24۔ آئین سے کوئی بھی ماورا نہیں ہے ۔
25۔ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا

Abida Hussaini, courtesy, Adnan Rehmat

یں ایک لمحے کیلےفرض کر لیتے ہیں ۔۔ کہ صوفیاء کرام کے مزار شرک کی فیکڑیاں اور کاروباری مراکز ہیں ۔۔۔مان لیتے ہیں کہ یہ لوگ بدعت میں مبتلاء ہیں۔
تو بھی ان پر حملہ کرنے والوں کو اس بات کی اجازت کس نے دی کہ وہ سزا کا تعین کریں ؟
کیا کسی بھی مذہب یا دستور میں ریاستی معاملات کو ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے ؟
نو خیز جوانیوں کو سر بازار برہنہ کریں ؟
اپنے بوڑھوں اور بزرگوں کی بے حرمتی کریں ؟ جنہیں دیکھ کر رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حیاء آتی تھی ۔
گل بدن بچوں کے لاشے پھلانگیں ؟ , جن کا مذہب ان کے کھلونوں تک محدود ہے ۔۔ جن کی بدعت ان کی نت نئی خواہشات میں پوشیدہ ہے ۔۔۔ جن کا شرک ان کی ممتا ہے ۔۔
انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کریں ؟
پھر تو روز محشر کے عقیدے سے ایمان ہی اٹھ جانا چاہیے ۔ اس کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔۔۔ کہ سفاک حیوانوں نے اپنے کمزور خدا کے کام میں ہاتھ بٹادیا ۔۔ اس پر عظیم احسان کردیا ۔۔ اسے مقروض بنا ڈالا ۔ کہ انصاف تو زمین پر ہی ہو چکا ۔۔۔ عدالت لگ گئی ۔ فیصلے صادر ہو گئے ۔۔
جب زمین پر موجود انسان خدا بن جائیں , تو کسی الوہی وجود کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔۔۔اور ان قاتلوں کو کبھی شہادت کی سنگھاسن پر براجمان کرکے پوجا جاتا ہے تو کبھی ان ہی کے مزار بنا کر جنت اور دوزخ میں پلاٹوں کی بکنگ کی جاتی ہے ۔۔
کسی کو خدا کی ذات میں شریک کرنے سے زیادہ اور خالص شرک تو یہ ہے کہ خدا کے فیصلوں کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی جائے ۔۔۔ اس کی صفات کو ہائی جیک کرنے کی سعی کی جائے ۔ یہ دعوی خدائی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یعنی اپنے تئیں شرک کا خاتمہ کرنے والے ہی سب سے بڑے مشرک ٹھہرتے ہیں ۔
میکاولی نے کہا تھا کہ مذہب کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا دانشمندی اور معقول بات ہے ۔ اس انتشار کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر اندرونی یا بیرونی طاقتیں مذہب کو من چاہے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں تو اس سب کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے ۔۔ اور اگر حکومتی مشینری اس ذمہ داری سے عہدہ براء ہونے کی سکت نہیں رکھتی تو اس کی ذمہ داری بھی عوام کے ناتواں شانوں پر پڑتی ہے کہ انہوں نے ایسے ناکارہ لوگوں کو لیڈر شپ سونپی , جو پرائمری ٹیچر بھرتی ہونے کے بھی اہل نہیں ۔۔۔
Shahid Ejaz

And following is the update or loud thinking by,

Shan Taseer:

"There is much confusion about who is responsible for the recent orgy of suicide bombings. Many of my countrymen are debating whether it’s this group or that group. To them I want to explain how the basic infrastructure of terrorism works in Pakistan.
There is a network of terrorism that executes mass suicide bombings in Pakistan made up principally of a series of Deobandi Madrassahs. It doesn’t have a name as it is basically a network, united by a common ideology that sees any land including the state of Pakistan not governed by Sharia as "dar-ul-harb” – the land of war, to convert which to "dar-ul-islam” is their divine mandate.
Within this network are various sub groups essentially run by different commanders, some of which are the LeJ, SSP, JeM, who differ only in terms of their tactical objectives. LeJ wants to exterminate Shias, JeM wants to conquer Kashmir. What’s important is that they all believe they are at war with the dar-ul-harb which is people like you and me.
And this network and these groups are allowed to exist as they are seen as semi-combatants by the Pakistan Army in it’s lunatic obsession with "strategic depth”
Know your enemy, whether they go by the name of Jandullah, ISIS, Taliban or Kentucky Fried Chicken. These names are red herrings.”

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend