ہوم / حقوق/جدوجہد / لکیر واضح ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

لکیر واضح ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے، روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔
کچھ اچھا سننے کو ہی نہیں مل رہا۔ یہ ڈاکٹر دانش ٹائپ حضرات تو ہم عرصہ دراز سے دیکھتے آ رہے ہیں لیکن اس قبیل کے لوگ پہلے سائے کے درمیان دھوپ تھے مگر اب تو صرف دھوپ اور خشک سالی کا راج ہے۔ سائے اٹھ گئے ہیں۔ اچھے بھلے صحافتی ادارے اپنی کھال بچانے کے لئے ساکھ نیلام کرنے پر اتر آئے ہیں۔ اور ان کے لگے بندھوں کا رویہ بھی ویسا ہی ہو گیا ہے۔ سارے کود پڑے ہیں اور خدا کے نام پہ اور رسول کی ناموس پہ میدان میں اترے ہیں لیکن اپنے مکرو فریب اور بے وقاری اور دروغ گوئی پہ مستزاد جہالت اور کم علمی سے یکسر بے پروا۔۔۔۔۔۔۔ایک خیالی خدا سے استمداد طلب کرتے ہوئے ایک من گھڑت شریعت کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں۔
دھرنے ہوئے اور مغلظات بکی گئیں بلکہ اب وہ گالیاں محاورے اور روزمرہ کی جگہ رواج پاگئیں اور لوگ اس ردیف میں شعر کہتے سنائی دئیے لیکن اس پہ تعجب نہیں ہوا کہ گند کی پٹاری سے یہی کچھ نکلنا تھا۔
مطالبے ٹوٹے چھتر کی طرح بڑھتے گئے اور ڈی چوک میں پھانسیوں کی بازگشت سنائی دی اور اہل جاہ و حشم چھپنے لگے، پولیس کی وردی چوک میں پامال کروائی گئی اور فوج بلائی گئی جو نہیں آئی۔ جب آئی تو سب ملاں اور پٹواری کے منہ پہ کالک تھوپ گئی۔ حکومت کی رٹ کو ننگا کر گئی اور ملاں کے عشق رسول کا راز طشت از بام کر گئی۔
اوریا مقبول کی ڈگڈگی اور ڈاکٹر دانش و سمیع ابراہیم اور اسی قماش کے ہمنواوں کی آوازوں میں جان پڑ گئی لیکن اس کے آفٹر افیکٹس میں ایک اور کٹا کھل گیا۔ عین اس وقت جب وسیم بادامی اپنے پروگرام میں حضور ، حضور کر کے مرغے لڑا رہا تھا تو کاشف عباسی نے سرعام سرٹیفکیٹ لینے اور مسلمانی ثابت کروانے سے انکار کر دیا۔
پتا سب کو ہے کہ اگر یہ گائے گواچی تو کھرا کدھر کو جائے گا۔
ملک جب ملائیت کے زیر اثر نظریاتی ہوا تو "انجمن پاسداران انقلاب” اور اس کے چیلے چانٹوں کےسوا سب کی دھوتیاں اتریں گی اور اس وقت احتجاج کا وقت گزر چکا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔بلکہ ہزار ہزار روپے کے لفافوں کی تقسیم کے بعد وقت گزر ہی چکا ہے۔ حکومتی وزراء نے اگرچہ سوٹ ٹائیاں پہن رکھی ہیں مگر کپڑے سب کے اتر چکے۔ جب سے وزراء نے حج اورمیلاد کی تصویریں لگا کہ اپنے مسلمان ہونے کی گواہیاں سوشل میڈیا پہ عام کی ہیں تبھی سے وہ اب جنرل فرمان علی بن چکے جن سے فرمان چھن چکا ہے۔ ایک ایسے جاہل کے ساتھ مذاکرات کی میز پہ آکے بیٹھ گئے ہیں جو کل تک ٹٹھ پونجیا تھا اور اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔ اس کے ساتھ مذاکرات کر کے یہ سب ٹٹھ پونجئے ہو گئے۔ میرے لیڈر تو یہ کبھی بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔اب تو یہ حکام بھی کہلانے کے اہل نہیں رہے۔ اب یہ کھیل اپنے کلائیمیکس کو پہنچنے والا ہے۔
عدالت حکومت کو، حکومت پولیس کو، پولیس انتظامیہ کو اور سارے مل کے عوام کو الزام دیں گے اور ایمپائر کی انگلی۔۔۔۔۔۔کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔
لیکن ایک بات واقعی بہت مایوس کن ہوئی۔ غیر جانبدار اور غیر متعصب عام آدمی کی پشت ننگی ہو گئی۔ حکومت علماء و مشائخ کی گود میں بیٹھ گئی اور فوج نے ایسوں کی پیٹھ تھپتھپا کے انہیں اٹھا دیا جن کے بد زبان اور کج کلام ہونے میں کسی کو شبہ نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اب کاشف عباسی ٹائپ لوگ کس کا منہ دیکھیں گے جنہوں نےمولوی سے سرٹیفکیٹ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
اس منظر نامے میں اب بفر زون کوئی نہیں بچا۔ ملاں کے ساتھ مل جائیں اور ظلم اور تاریکی کے نفاذ والے قافلے میں شامل ہو جائیں۔ خون بہائیں اور پیشاب پئیں۔ ان بد زبانوں نے یہ سب کچھ عام کر دیا اور سنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پہ اپنی ذات کے مہیب اور تاریک سائے ڈال دئیے۔ حکومت اور ریاستی ادارے ان کی بد نیتی اور جھوٹ اور خبث باطن سے آگاہ تھےمگر ظالمانہ سمجھوتا کر گئے۔
بھٹو نے اسلام کے نام پہ غیر اسلامی اور غیر انسانی سمجھوتہ کیا اور تحریک نظام مصطفوی کے ساتھ غرق ہو گیا۔
ضیا الحق نے بنیادوں پہ عمارت اٹھائی اور اس جہاد کا چورن بیچا جس کا بانی جماعت احمدیہ نے سو سال پہلے انکار کیا تھا۔ خود بھی گیا اور اپنے ساتھ اپنے سپانسرز کو بھی لے ڈوبا۔
پاکستان ہر روز ملائیت کی دلدل میں مزید گہرا اترتا چلا گیا اور نوبت باایں جا رسید کہ اب ایک سینیئر آرمی افسر کے بقول اگر پاکستان میں جنگلات اگانے کا دس سالہ پراجیکٹ بھی شروع کیا جائے تو مولوی اس پہ بھی توہین رسالت اور ختم نبوت کے منکرین کا الزام لگا کے اس بے ضرر تعمیری کام کا بیڑہ غرق کر دیں گے۔ ریاست کا حکم اور عدل ہونے کردار ختم ہے۔۔۔۔۔۔اب ریاست فریق ہے اور اپنی رٹ کو للکارنے اور جوتی کی نوک پہ رکھنے والے فریق کے ساتھ مل کے معتدل عناصر کی سرکوبی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اور یہ کام بڑی لگن سے انجام دے رہی ہے اور ایک اچھے شرابی کی طرح ندامت کا گناہ کئے بغیر پئیےجا رہی ہے۔
اس پہ یاد آیا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان نے امام جماعت احمدیہ مرزا طاہر احمد صاحب کی مجلس سوال و جواب میں ایک سوال اٹھایا کہ جب الکوحل حرام ہے تو جن کھانسی کے شربتوں میں ایک دو فیصد الکوحل ہو وہ کف سیرپ کیوں حرام نہیں ہیں۔ جواب دلچسپ تھا۔
فرمایا کہ الکوحل نشے کی وجہ سے حرام ہے ناں۔ تو نشہ ہوتا ہے اس کی سوفیصد والے گھونٹ سے۔ تو جب آپ دو یا پانچ فیصد والے کھانسی کے سیرپ سے سو فیصد نشہ لینے کے لئیے کئی بوتلیں دوائی کی چڑھائیں گے تو نشے کی سٹیج سے پہلے ہی آپ دوائی کے دیگر اجزاء سے ہلاک ہو جائیں گے اور مردے پے توکوئی حرام حلال کا حکم لا گو نہیں ہوتا۔
پاکستان میں ریاست اور سوسائیٹی ملائیت کو کف سیرپ کے طور پر تو 1953 سے ہی استعمال کرتی آرہی ہے لیکن اب سانحہ یہ ہواہے کہ ریاست اور ریاست کے اداروں نے اس کے پانچ فیصد الکوحل کو سو فیصد کرنے کے لئے اس کی درجنوں شیشیاں حلق میں انڈیلنے کا احمقانہ اور خطرناک فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نشہ آنے سے بہت پہلے آپ کے اداروں کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس لئے ملائیت کو کف سیرب تک ہی رکھتے۔۔۔۔۔۔اس کے پیگ بنا کے نہ پئیں تو اچھا ہے۔
اگر کوئی سن کے غور کریں تو ایک بات اور بھی یاد دلا دیں؟
آئین میں اسمبلی کے ذریعے 1973-74 والی ترمیم میں ایک بڑی سیاسی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو اہم الفاظ ڈالے گئے تھے۔ فار دی پرپوز آف لاء اینڈ کانسٹی ٹیوشن۔ یعنی” قانون اور آئین” کی اغراض کے لئے احمدی مسلمان نہیں ہیں۔
اب آپ دیکھ لیں کہ جن دو مقاصد کے لئے احمدی مسلمان نہیں ہیں کا فیصلہ سرکاری دستاویز بنا ان دو مقاصد کا حشر کیا ہوا؟
آئینی بحران پاکستان کو جذام کی طرح چمٹے اور آج تک پہلے سے ایک قدم آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ عدلیہ کے ساتھ تنازعات، الیکشن کے ضابطہ ہائے کار، جمہوریت اور اس کی پٹڑی، آمریت اور اس کی ریشہ دوانیاں۔۔۔۔۔۔۔غرضیکہ دنیا بھر میں آئین سے ملک چلائے جاتے ہیں اور آپ کے ہاں سارا ملک مل کر آئین کو چلا رہا ہے۔
اور قانون اور اس کو نافذ کرنے والے اداروں کا جنازہ تو فیض آباد چوک میں نکل گیا۔
تو "آئین و قانون” کی غرض سے جو کچھ کیا اس نے تو ان دونوں ہی کو نگل لیا۔ اب اور کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟
سلیم کوثر کا ایک شعر سنیں اور سوچیں۔
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
وہ گفتگو درو دیوار کرنا چاہتے ہیں۔
اور اب جب درو دیوار تک بولنے لگے ہیں تو اب کہتے ہیں کہ اس مسئلے پہ بات نہیں کرنی۔
نہیں صاحب اب نہیں۔ اب بات ہونی ہے۔ اب آپ کے ٹوٹے ہوئے جوتے نے اپنی جگہ پہ نہیں رکنا۔ اور اس نے دھوتیاں اتروا کر مسلمانیاں چیک کرنے کو عین اسلامی اور عین شرعی ہونے کے فتوے جاری کرنے ہیں اور کسی نہ کسی احسن اقبال نے پھر آرمی کی طرف بھاگنا ہے۔ اور ابھی ٹاک شو میں چسکے لینے والے اینکروں کو بوتلوں کی سپلائی بند ہونی ہے۔ ابھی تو سارے سکولوں کا نصاب مدرسوں والا ہونا ہے۔ ابھی آپ کی ٹائیوں کی جگہ تسبیح اور مسواک آنی ہے اور ابھی آپ کو کار پہ مزاروں کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنی انگلیوں کی پوروں کی چمیاں لینی ہیں۔ ابھی محرم کے جلوس خلاف شریعت قرار پانے ہیں۔ ابھی فاسٹ فوڈ پہ کدو اور ٹینڈے کے برگر بکنے ہیں۔ مکہ کولا اور مدنی آئس کریم نافذ ہونی ہے۔ اعلی سرکاری ادارے اور سربراہان سمجھوتے پہ سمجھوتہ کرتے جائیں گے اور پبلک مفادات بیچتے جائیں گے تا وقتیکہ کوئی رانا ثنا اللہ کہے کہ،
یہ رہی وزارت اور یہ رہی سرکاری حفاظت۔ اسیں ہونے آں راجپوت ۔۔۔۔تے کڈھو باہر ذرا مولوی نوں۔
کیونکہ معاملات کم نظری سے بڑھ کر تمدنی ابتری تک چلے جائیں تو پھر سوال سمجھوتوں کا نہیں بلکہ سروائیول کا اور زندہ رہنے یا نہ رہنے کا بن جاتا ہے اور جب وسیع پیمانے پر جان مال آبرو خود بچانی پڑے اور ریاست درمیان سے غائب ہو جائے تو اسی کو عرف عام میں طوائف الملوکی کہتے ہیں۔
اس قافلے نے دیکھ لیا کربلا کا دن
اب رہ گیا ہے شام کا بازار دیکھنا۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

One comment

  1. ناصر احمد وینس ـ ٹورانٹو، کینڈا

    آپ کے اس دلگداز شذرہ پر احمد فراز کا ایک شعر بے اختیار یادوں کی لوح پر امڈ آیا ھے کہ ……….ع

    مرا اُس شہرِ عداوت میں بسیرا ھے فراز
    جہاں لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا بُرا چاھتے ھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend