ہوم / حقوق/جدوجہد / دھوپ تو پہلے بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

دھوپ تو پہلے بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

عدنان رحمت نے اپنی والدہ محترمہ بشری رحمت صاحبہ کی وفات کی اطلاع دی تو ان کی خوبیوں میں سے ایک لفظ نے خیال کو وفات سے حیات کی بعض جہتوں کی طرف جانے کے لئے راہنمائی کی۔ وہ اپنے انگریزی میں لکھے پیغام میں کہتے ہیں کہ مرحومہ ایک

over indulging

دادی تھیں۔ بس اسی سے یہ خیال آیا کہ دادی تو ہوتی ہی وہ ہے جس کا دھیان نگہداشت کی معروف سرحدوں سے آگے چلا جائے۔ فطری محبت اور معروف معنوں کی نگہداشت والدین کا حصہ ہوتا ہے اور جب اس فطری محبت میں ہمہ وقتی نگہداری اور دھیان میں خوف کا عنصر بھی شامل ہو جائے تو پھر دادا یا دادی کی محبت بنتی ہے۔ کہ،
ایک عشق، ہزار بد گمانی ایست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی منزل پہ یہی ہوتا ہے۔
برادرم عدنان رحمت سے تعزیتی گفتگو تو کچھ دیر ہی رہی مگر تاثراتی اور کیفیاتی خود کلامی تا دم تحریر جاری ہے۔ مرحومہ نے اڑسٹھ برس کی عمر پائی اور اپنے خاوند محترم رحمت اللہ خان مرحوم کے ساتھ ملکوں ملکوں رہائش رکھی مگر سفارتی طرز بودوباش کے نیچے اپنی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پیدائش اور پچاس کی دہائی والی مشرقیت کو دبنے نہیں دیا۔
معاشرت کو بے ریاء اور سادہ رکھتے ہوئے بھی سماجیات میں اپنا تعمیری حصہ بھر پور طور پر ڈالا۔ تین بیٹے اور ایک بیٹی میں سے کوئی بھی تعلیمی میدان میں پیچھے نہیں رہا۔ ذہنی ترقی کبھی بھی احساس کمتری یا برتری سے مشروط اور مربوط نہیں رہی اسی لئے
باہر باہر چپ سادھے رکھ
اندر اندر ہنستی جا۔۔۔۔۔۔
کے مصداق وہ اشرافیہ کے بکھیڑوں اور چونچلوں میں پڑے بغیر ہی اپنے بچوں کو اعتماد اور تیقن دیتی رہیں اور اہلیت کو امتیاز کی رکھیل نہیں بننے دیا۔ ہائی پروفائل کے الجھاوے کی بجائے ہائی مورل گراونڈ اور لحاظ داری کی ترجیحات پہ ڈال کے خود سادگی سے دعائیں کرتی رہیں۔ اور جب دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو۔۔۔۔۔۔

عدنان رحمت۔۔۔۔۔۔نامور میڈیاء ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ
رضوان رحمت۔۔۔۔۔۔۔دوہا کے ایک بڑے میڈیاء کے ادارے کے ساتھ سپورٹس جرنلسٹ
کامران رحمت۔۔۔۔۔۔۔۔گلف ٹائمز کے حالات حاضرہ کے نامور جرنلسٹ
یعنی اپنے عہد میں اپنا حصہ ڈال گئیں اور پوتے پوتیوں کی ہمہ وقتی سہیلی بن کے ان کے لئے بھی ناگزیر بن کے رہیں۔ اپنی نسل کو علم اور تعلیم کی چاٹ لگانا اور اپنے جیسے انسانوں سے یگانگت اور امن کی راہ پہ ڈال دینا اگر آج کے پاکستان میں کسی بزرگ کو نصیب ہو جائے تو اس کے لئے زندگی تو جنت ہے ہی۔۔۔۔۔۔۔اچھی بات یہ کہ ایسا گھرانا چھوڑ کے جانے والوں کے لئے مرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ صبیحہ اسد اور عصمت جبیں اگر بشری رحمت کی وفات کے صدمے کو ایک جیسا محسوس کر رہی ہوں تو مرنے والے نے اپنی زندگی کی سماجی ذمہ داری خوب نبھائی۔ اور آج کے اسلام آباد کی پیدائش اور امریکہ کے گریجوئیٹ پوتے کو اگر روزانہ دادی سے بات کرنا یاد رہتا ہے تو ۔۔۔۔۔۔پنجابی کے محاورے کے مطابق، فیر تے ستے ای خیراں نیں۔
اللہ ہمارے گھرانوں کو ایسی نسلیں پروان چڑھانے والی مائیں عطا کرے اور موجودہ پوتوں پوتیوں کے نصیب میں

over indulging

دادیاں تا دیر سلامت رکھے۔ اور مرحومہ بشری رحمت کو ان کی وفات کے بعد بھی ان کی اولاد کے لئے بشری۔۔۔۔۔۔اور رحمت بنائے رکھے۔ آمین

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔ملک نجیب احمد فہیم

ہم سے تو دل کا درد سنبھالا نہیں گیا دل کو بھی شہرِ جاں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend