ہوم / حقوق/جدوجہد / مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

جس دن حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات ہوئی تو عاجز کچھ ان کہے احساسات کے ساتھ رات کے وقت حضرت چوہدری محمد علی مضطر صاحب کی رہائش گاہ بیت الظفر جا پہنچا۔ چوہدری صاحب نے قدرے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔خیر اے؟ ایس وقت۔۔۔۔۔
عرض کیا کہ چوہدری صاحب، میاں صاحب کی تعزیت کے لئے آیا ہوں۔ یہ سن کر ایک اداس استفہام چوہدری صاحب کے چہرے پر پھیل گیا۔ مجھے لئے اندر کو چلے اور اپنے کمرے میں جانے کی بجائے حضرت چوہدری ظفراللہ خاں صاحب والا ڈرائنگ روم کھول کر کہنے لگے۔۔۔۔۔”ایتھے بیٹھو، تسی میاں صاحب دا افسوس کرن آئے جے”
وہ پرسہ تو صبح چھ یا سات بجے تک چلا مگر اس کی ابتدا چوہدری صاحب نے جس بات سے کی وہ آج صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کے حوالے سے اپنی خود کلامی کی تمہید میں رکھنا چاہتا ہوں۔ اور اب چوہدری صاحب کی بات اردو میں عرض کر رہا ہوں۔ چوہدری صاحب سے ملاقات رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ جذباتی اور کیفیاتی گفتگو پنجابی میں انگریزی کی آمیزش کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ فرمانے لگے،
میاں صاحب چلے گئے ہیں۔۔۔۔۔وہ اتنا بڑا، ثقہ اور ناگزیر وجود تھے کہ ان کو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے اور اپنی تقرری کا حق ادا کرتے ہوئے جب جب اور جو کوئی بھی قریب سے دیکھتا تھا تو بے اختیار یہ خیال آتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور کبھی کہیں یہ منہ سے بھی نکل جاتا تھا کہ، جب میاں منصور احمد صاحب نہیں ہونگے۔۔۔۔۔تو یہ کام کیسے ہونگے۔۔!
اس کے بعد چوہدری صاحب کے ضبط غم میں پھڑپھڑاتے ہونٹ ۔۔۔۔۔۔اور رندھی ہوئی آواز میں یہ کہا کہ، ہماری یہ بات اولڈ گاڈ۔۔۔۔۔یعنی اللہ تعالی کو اچھی نہیں لگتی اور وہ پھر اپنے پیاروں کو واپس بلا کر ہماری تربیت کرتا ہے۔ اور اپنے سلسلے کے کاموں کو اسی روانی اور روز افزونی سے چلا کر دکھا اور سمجھا دیتا ہے کہ کام۔۔۔۔۔۔میں چلاتا ہوں اور میرے بندے عارضی اور فانی ہیں۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وقت کے امام کو قبول کرنے کی بدولت ہمیں جینے کے ہی نہیں مرنے کے اسلوب بھی باقی دنیا سے مختلف عطا ہوئے ہیں۔ اور جماعت احمدیہ کا ایک عمومی رویہ ایسا قائم ہو گیا ہے کہ بڑے سے بڑی ایسی خبر۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالی کے فضل، رحم اور اس کی دائمی دستگیری پر ایمان کو متزلزل نہیں ہونے دیتی۔
البتہ کچھ کچھ مواقع ایسے ضرور ہوتے ہیں کہ
تاب لاتے ہی بنے گی۔۔۔۔۔والی کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ حضرت صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کی وفات اسی طرح سے ایک سانحہ لگی۔۔۔۔۔اور اب یادوں کے ہجوم میں سے سرکردہ اور چنیدہ واقعات اور تصویریں علیحدہ کرتے کرتے یہ دن بیت گئے مگر ایک احساس مستحکم ہو رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔اب کی بار نہ تو چوٹ عام تھی اور نہ ہی یہ ٹیس عارضی ہوگی۔
اگر میں جاوید اختر کے شعر میں ایک آدھ لفظ کی تبدیلی کر کے عرض کروں تو یوں بھی کہ،

جہاں اتنے مسائل ہوں، جہاں اتنی پریشانی،
کسی کا یوں جدا ہونا، ہے کوئی سانحہ کیا۔۔۔؟
بہت معقول ہے یہ بات، لیکن اس حقیقت تک،
دل ناداں کو لانے میں، ابھی کچھ دن لگیں گے!

دفاتر صدر انجمن احمدیہ کے ناظران اور افسران میں سے چند ایسے تھے جن کا چائے کا وقفہ الکیمسٹس کے سامنے والے نعمت ہوٹل کے ایک قدرے کم آمیز گوشے میں ہوتا اور ان میں سید عبدالحئی شاہ صاحب، کے علاوہ کبھی کبھار صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کو دزدیدہ نظروں سے دیکھا بھی کئے اور یک گونہ جھجھک سے سلام بھی کر لیتے تھے۔
حفظ مراتب کی بندشیں اور عمر کے تفاوت دو ایسے عوامل تھے کہ جن کا چارا ہمارے پاس نہیں تھا، مگر اس وقت یہ عرض کرنا ہے کہ ان بزرگوں کے پاس تھا۔ اور انہوں نے وہ چارا ہمیشہ ہی کیا۔ اول اول تو سلام میں پہل سے، بعد میں کبھی کبھار کی پرسش احوال سے اور آخر کار یوں کہ تا حیات دعائیں کرتے رہے۔
کل ہی کسی دوست سے عرض کیا تھا کہ میاں احمد کے رعب سے ہم کنی کتراتے تھے۔۔۔۔۔یہ ہمارا ادب تھا لیکن خود انہوں نے ہمیں زندگی بھر اون کیا۔۔۔۔۔پہچانا اور ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھا اور اپنے مرتبے کو ہم سے بے گانگی کا جواز نہیں بنایا اور بوقت ضرورت۔۔۔۔۔نیچے اتر کے شفقتیں کیں اس لئے اب ہم ان کی وفات کو ایک انتظامیہ کے اہم رکن کی وفات نہیں سمجھ سکتے اور اسی وجہ سے دکھ کی ایک لہر ہے جو افق تا افق ہم میں سرائیت کر گئی ہے۔
صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کے تذکرے میں روا روی میں ان کی خشیت انگیز اور رقت خیز نماز کا ذکر آ گیا۔۔۔۔۔کیا پتا تھا کہ چند دنوں بعد ہی اس جملے کی تشریح کرنی پڑ جائے گی۔
یہ حدیث تو سن رکھی تھی کہ نماز کی صفوں میں کہنی سے کہنی ملا کے کھڑے ہونے سے مومنوں کی روحانیت باہم سرائیت کرتی ہے اور شیطان نہیں گھس سکتا۔۔۔۔۔لیکن قارئین سے یہ عرض کرتا چلوں کہ ہمارے ربوہ میں اگر آپ مسجد مبارک میں نماز پڑھیں تو وہاں ایسی کہنیاں اکثر آپ کی کہنیوں سے ٹکراتی ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم کیفیاتی سطح پہ کھلنے لگتا ہے۔
میرے ایک ہمجولی نے جو میرے ساتھ ہی لڑکپن سے میاں احمد کو مسجد مبارک میں نماز پڑھتے دیکھنے کی سعادت میں شریک تھا، ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ ۔۔۔۔۔ایہہ میاں صاحب مستقل ایک ہی کیفیت میں اور مستقل گداز میں کیسے رہ لیتے ہیں؟
تو میں نے عرض کیا کہ تمہارا تعجب ہی بتا رہا ہے کہ ایسا کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں۔۔۔۔۔یہ اللہ کی خالص عطا ہے اور میں تو میاں صاحب کو اس کیفیت میں بصد رشک دیکھ لینا بھی اپنے لئے کار ثواب ہی سمجھتا ہوں۔ اور دوسرا سادہ جواب یہ ہے کہ تمہیں بھی پتا ہے کہ میاں احمد کی شخصیت میں کتنا رعب ہے ۔۔۔۔تو میاں احمد کو ایک ذہین اور بافراست شخصیت کے طور پر خود بھی پتا ہے اس لئے وہ دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے اپنی رعب دار شخصیت کے کنارے کھرچ دیتے ہیں تا کہ عامتہ الناس سے دوری نہ پیدا ہو۔
بعد میں میرا وہ دوست اور میں اسلام آباد میں مختلف وزارتوں کے اعلی سرکاری افسران کو دیکھتے اور ملتے رہے مگر خشیت اور خوف کا یہ عالم کسی اور بارعب اور باختیار کے چہرے پر دیکھنے کو نہیں ملا۔
کہاں سے لاو گے ناصر وہ چاند سی صورت
گر اتفاق سے وہ رات بھی پلٹ آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ناصر کاظمی)

میں جب میاں احمد صاحب کے لئے اس مضمون کا عنوان سوچ رہا تھا۔۔۔۔تو خیال آیا کہ میاں صاحب کے وجود کے ظاہر میں اور شخصیت کے اولین تاثر میں پہلے نمبر پر میاں صاحب کی آنکھیں تھیں۔جن سے وہ دیکھنے کے علاوہ ایڈمنسٹریشن کا کام بھی خوب لیتے تھے، بلکہ جب 28 مئی 2010 والے واقعے کے بعد ان کا ٹی۔وی پروگرام آرہا تھا تو میں وفاقی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر کے ساتھ اسی کے دفتر میں وہ پروگرام دیکھ رہا تھا۔ ماحول کچھ تعزیتی اور سوگوار سا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ دوست ٹی۔ وی پر میاں غلام احمد صاحب کے چہرے پر نظریں جمائے بولا۔۔۔۔۔تسی مرزا صاحب دیاں اکھاں دیکھیاں نیں۔۔۔۔۔۔انہاں اگے کون گل کرے گا۔
تو میں نے کہا کہ۔۔۔۔ہاں، میاں صاحب کی آنکھیں دیکھنی ہمیں ہی تو نصیب ہوئی ہیں۔
اہل دہلی کا محاورہ تھا کہ میاں، ہم نے پچھلی صدی کے بزرگوں کی آنکھیں دیکھ رکھی ہیں۔
اس محاورے کے مطابق میری نسل کے اہل ربوہ آج خوش بخت ہیں کہ ہم نے میاں احمد کی آنکھیں دیکھ رکھی ہیں۔۔۔۔۔۔اور ہمارے میاں احمد صاحب کی آنکھیں اکثر نمناک رہیں اور زندگی بھر ہمارے لئے آگ کو ٹھنڈا کرنے والے آنسووں سے بھری رہیں اور اب ہماری آنکھیں ان کے آنسووں کی مقروض ہیں۔۔۔۔۔بلکہ ان سے سند یافتہ ہیں۔۔۔الحمد للہ۔
میاں صاحب کی آنکھوں کا تذکرہ اس پنجابی ماہئے میں بھر پور طور پر ہوا ہے کہ،

کوئ جوڑی پکھیاں دی
تیرے سارے بدن وچوں سرداری اکھیاں دی

یہاں میں جملہ معترضہ کے طور پر اپنے ان قارئین کے لئے عرض کر دوں کہ جو احمدی نہیں ہیں اور ان کیفیات پہ یک گونہ متعجب ہوتے ہیں کہ

ہم میں یہ عشق و وفا کی حالت
اک مسیحا کی دعا سے آئی
ہم نے ہر شے کو الگ سے دیکھا
ہم میں یہ بات جدا سے آئی (عبیداللہ علیم)

ان مرحومین بزرگوں نے ہم لڑکوں کو اپنی اور احمدیت کی نسلیں سمجھتے ہوئے ہم پہ ہمیشہ اپنائیت کی نظر رکھی اور اپنی دعا کا دائرہ اپنے اہل و عیال سے پھیلا کر ہمیں اس میں شامل رکھا اور کتنی باریکیوں میں ہمارا خیال رکھا۔۔۔۔۔۔یہ ہم خود بڑی مشکل سے سمجھ پاتے ہیں، تو آپ کیسے سمجھیں گے۔
لیتا ہی نہیں کہیں پڑاو، یادوں کا عجیب کارواں ہے، کے مصداق پچیس سال کھلے پڑے ہیں۔ کیا بتائیں اور کیا چھوڑیں۔ پندرہ سال قبل رمضان کے آخری عشرے میں ایک خط لکھا اور مرزا فرید احمد صاحب والے گیٹ سے گزر کر میاں احمد صاحب کے گھر کی گھنٹی بجا کر دے آیا، اور اس میں لکھ دیا کہ جواب نہ دیں بس دعا کی درخواست ہے۔
اگلے دن شام کی نماز سے پہلے تیز قدموں سے آئے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ مبہوت سے فرمانے لگے، تمہارا خط مل گیا تھا انشاللہ یاد رکھوں گا۔
وہ سلسلہ راقم کے پاکستان سے آنے کے بعد بھی جاری رہا اور ایک دن صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب نے بتایا کہ آج میں نے بھائی احمد کو بتایا تمہارے بیرون ملک جانے کے بارے میں تو کہنے لگے کہ اسے کہو کہ کچھ پس انداز کرنے کی بھی عادت ڈالے۔
اس میں، "تمہارا خط”، اور "اسے کہو”…….. اور عاجز کو غائبانہ نصیحت میں جو مان، خیال خاطر اور اپنائیت ہے وہ کس قدر کمیاب ہے۔۔۔۔۔۔۔بس یہ ہے احساس زیاں اور اسی سے وہ گداز پیدا ہوتا ہے جس کا انجام پھر اس پہ ہوتا ہے کہ۔

تا کس نہ گوئید بعد ازاں من دیگرم تو دیگری

ان تفاصیل سے مدعا ایک تو خود کلامی سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا اور دوسرا اپنے قارئین کو بتانا کہ سوا سو سال کی سینچائی سے یہ اخوت اور تعلق ہمارے شامل حال ہوا ہے اور اب اس کے ذائقے اور کیفیات ہم ہی سمجھ پائیں تو بہت، آپ کو ہم کیسے ان سے آشنا کروائیں۔ کل ایک اسلام آباد کے بڑے جرنلسٹ تا دیر یہی کہتے رہے کہ انتظامی سربراہان سے ایسی محبت؟
تو بالآخر مجھے عرض کرنا پڑا کہ ہم آپ کی کیفیات سمجھ سکتے ہیں کہ ہم آپ میں سے ہی ہیں مگر آپ ہماری حالتوں سے اس لئے بے خبر ہیں کیونکہ آپ ہم میں سے نہیں ہیں۔
اللہ تعالی حضرت صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کے گداز اور حضور قلب کی کیفیات کو جماعت کے افراد میں عام کرے اور ان کے لہجے کا اعتماد ہمیں وفا شعاری اور جانثاری پر ایستادہ رکھے۔
اس غم کی کوکھ سے جماعت، میاں صاحب کے اہل خانہ ،عزیزو اقارب اور خلیفہ وقت کے لئے خوارق عادت دلداری اور نصرت کے سامان جلد پیدا فرمائے۔
باقی یہ تذکرہ ادھورا ہے اور شائید رہے بھی۔
سب رقیبوں سے ہیں ناخوش پر زنان مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں۔
اس لئے احباب اور ان کی یادوں اور میاں صاحب سے متعلق یاداشتوں کو ہم آئینہ ابصار کے صفحات پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ادارہ اس سلسلے میں از خود بھی انٹرویوز اور مضامین کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ پاکستان میں تو
سنگ و خشت مقید ۔۔۔۔۔۔۔۔کا سا سماں ہے اور میاں احمد کی ایک لیگیسی یہ بھی ہے کہ بات کرنی ہے اور پیروں پہ پورا وزن ڈال کے کرنی ہے۔ سو انشاللہ ہم بات کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔آپ بھی کیجئے، پاکستان سے بھی اور دنیا بھر سے بھی۔ کیونکہ،

مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Rabwah visit by LUMS Students creates unrest ; by Raye Sijawal Ahmed Bhatti

Recently, a group of students from University of Management Sciences(LUMS) visited Rabwah. The city of

6 تبصرہ

  1. Mashaallha.haq ada kar diya hay. Ws

  2. آپ کی یہ خود کلامی بہت گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ خاتون ہونے کے ناطے کبھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا لیکن آپ کی تحریر سے ان کی شخصیت سے تعارف ہوا۔ جزاک اللہ

  3. محمد عبدالمالک

    آپ کی دلگداز و دلفریب یادوں نے کئی ذاتی باتوں کو بھی سامنے لا بٹھایا ھے۔یہ 1975 =76 کی دن تھے کہ الکیمسٹ کے سامنے سے ہٹ کر بائیں جانب ریویو کے دفتر کے کہیں پاس بھی اتنا ہی بڑا سادہ سا ھوٹل تھا۔ جس میں شام ڈھلے حضرت مرزاغلام احمدصاحب مرحوم اور شفیق قیصر ایڈیٹر خالد بیٹھے چائے پیتے اور ناچیز انہیں رشک سے دیکھا کرتا کہ کتنے بڑے لوگ ھیں اور میرے پلے تو کچھ بھی نہیں۔ دوستی تو دور کی بات ھے۔
    کہیں 1994 ء میں مجھے نیشنل بینک ربوہ میں منیجر بنا کر تعینات کیا گیا۔ رسالہ انصار اللہ میں میرے سوامی شگن چندر۔ کیپٹن ڈگلس۔ براھین احمدیہ وغیرہ پر مضامین چھپنے لگے تو پوچھ پاچھ کر بزرگان میرے پاس آکر حوعلیہ افزائی کر جاتے۔
    میرے والد گرامی چوہدری محمد عبدالغنی صاحب مرحوم جھنگ کی نسبت سے ربوہ میں احباب مجھے زیادہ جانتے تھے۔ میری ایک بھول کے باعث ایک بار میاں احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر تعلیم اکٹھے میرے پاس آئے تھے جس کی تفصیل پھر کبھی لکھوں گا۔
    اصار اللہ کی تنظیم میں خدمات کرتے ھوئے زیادہ قربت میسر آئی جب میں نے”١٣١٣ اصحاب صدق و صفاء ” لکھی تو میںاں صاحب نے اس کا پیش لفظ لکھا۔ پھر "براھین احمدیہ اور مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔” لکھی تو میاں صاحب کا حوصلہ افزائی کا فون آیا جس میں علادہ دوسری باتوں کے "شرکاء جلسہ قادیان ١٨٩٢ء” کی شخصیات سے متعلق لکھنے کا ارشاد تھا۔ جسے میں نے ترتیب دے کر سال دو سال کے عرصے میں لکھ لیا۔اس دوران میاں احمد صاحب کئی بار اس کی پراگریس کا پوچھتے رھتے تھے۔ بالآخر کمپوز کرو کے یہ کتاب آپ کی خدمت میں بھجوا دی جو آپ کی منظوری سے اشاعت والوں کو آپ نے بھجوا دی جو اب پائپ لائن میں ھے۔
    باقی باقی

  4. اس بات میں کوئی شک نہی کہ ربوہ کے نوجوانوں کو اپنے عہد کی عظیم روحانی شخصیات کو دیکھنے ان سے فیض حاصل کرنے کے مواقع دن رات ملتے رہے یہ بزرگ اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے اپنے رب کے حضور حاظر ہوتے جا رہے ھیں اب اگلی نسل جو اس وقت دنیا بھر میں پھیل چکی ہے کا فرض ہے کہ ان خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کرکے اپنے ماحول کو بعقہ نور بنائیں تب ان مرحومین کی نیکیاں ہم میں زندہ رہیں گی۔ حضرت مرزا غلام احمد بھی ہمارے وقت کی ایک عہد ساز شخصیت تھے ۔

  5. امتہ القدوس قدسیہ

    اسلام علیکم
    بہت ہی دلگداز باتیں اور محبت اور وفا میں گندھے ہوئے یہ لوگ اب کہاں ملیں گے۔ کاش کہ ہم انکے نقش قدم پے چلتے ہوئے ان جیسے بننے کی کوشش ہی کرتے رہیں خدا ہمیں اسکی توفیق دے۔ امین
    آپ سچ کہتے ہیں۔ جو ہم میں سے نہیں۔ وہ اس خلوص محبت اور ان آنکھوں کی زبان اور مظبوطی اور چمک کو نہیں سمجھ سکتا۔
    خدا ہماری قوم کو سمجھ دے۔ امین
    واسلام

  6. بہت خوب بھٹی صاحب ۔۔۔جذبات بعینہ یہی ہیں بس لفظ کمیاب تھے ۔۔آپ نے میاں احمد صاحب کو دیکھنے سننے والوں کی کیفیات کی ترجمانی کا خوب حق ادا کیا ہے ۔جزاکم اللہ احسن الجزا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend