ہوم / حقوق/جدوجہد / کیا حکومت پاکستان ایک مشعال یونیورسٹی بنا سکے گی۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کیا حکومت پاکستان ایک مشعال یونیورسٹی بنا سکے گی۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

توہین مذہب کانام لے کر مارنے اور درندگی و بربریت سے مارنے والوں کے جنازے امڈ رہے ہوں اور بے کسی کی موت مرنے والوں کاجنازہ پڑھانے سے مقامی مسجد کا مولوی انکاری ہو۔۔۔۔
اور ممتاز قادری کا مزار تو مرجع خلائق بننے کو تلا کھڑا ہو اور سلمان تاثیر کی قبر کے کتبے توڑے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
ایسے میں مردان یونیورسٹی کی بربریت کی گونج تو اقوام متحدہ تک پہنچ جائے لیکن۔۔۔۔۔۔
کیا ریاست پاکستان اور صوبائی اور وفاقی حکومت پاکستان سارے جتن کر کے بھی اب ۔۔۔۔۔۔۔۔سر زمین پاکستان پرکسی بھی جگہ ۔۔۔۔۔۔۔ایک "مشعال خان یونیورسٹی” بنا سکتے ہیں؟؟؟
نہیں ناں۔۔۔۔۔؟
اس لئے جان لیں اور لکھ رکھیں کہ مشعال خان کااس نوعیت کا قتل آخری نہیں ہے۔۔۔۔۔اور بد بختی اور بد قسمتی یہ ہے کہ پاک سر زمین پر یہ قتل۔۔۔۔پہلا بھی نہیں ہے۔
تو بتائیں پھر۔۔۔۔۔؟
کیا اس صورت حال کو عامتہ الناس قبول کر کے بیٹھ جائیں اور مذہبی انتہا پسندوں اور ان کی سائیڈ پر کھڑی ریاست کو مشرقی جرمنی کی "گسٹاپو” فورس کے طور پر مان لیا جائے؟
لیکن اس طرح کی درندگی کو تو 60 سال پہلے بھی انسانی فطرت نے دھتکار دیاتھا تو آج کیسےقبول ہوگی۔
اب ذرا منظر نامہ دیکھ لیں۔
مذہبی جماعتیں اور انتہا پسند طبقوں کو کبھی آپ چین کے خلاف جلوس نکالتے نہیں دیکھیں گے۔
نہ ہی ان کو کبھی کینٹ ایریاز میں کوئی بے راہ روی نظر آتی ہے۔
حاکم وقت ہندو تہوار میں نمبر بنانے چلا بھی جائے تو بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔
اور ہم پچھلے پندرہ سال میں پانچواں آپریشن "رد الفساد” بھگت رہے ہیں۔
مگر مریض بستر سے نہیں اٹھ کے دے رہا بلکہ اب تو اسے بری طرح سے "بیڈ سور” بھی ہو گیا ہے۔
اس لمبی اور اب تو لگتا ہے کہ۔۔۔۔جان لیوا بیماری کی وجہ یہ ہے کہ سرجن کمزور اعصاب کے مالک ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں چیرہ دینے سے ڈرتے ہیں۔ مولوی کے خون سے ان کا دل گھٹنے لگتا ہے البتہ پبلک کا خون تو بس بکرے کا خون ہے اور اس کو بہتا دیکھنا تو عام سی بات ہے۔
اسے چھری پھرتے دیکھ کر ان کے اقتدار اور رٹ کا صدقہ اترتا ہے اس لئے ایسی "وائرل ویڈیوز” کا اثر کوئی نہیں ہوتا۔
میں نے البتہ اب تک مشعال خان کے واقعے کی ویڈیو بغرض معلومات بھی نہیں دیکھی اور سلمان تاثیر کا سانحہ بھی ایف سکس میں اگرچہ چند سو گز پے تھا مگر نہیں دیکھنے گئے۔
لال مسجد کا گھیرا پڑ چکا تھا لیکن ابھی دو بدو لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی اور رات کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں ایک رخصتی کی تقریب میں سراسیمہ سے ماحول میں مہمان میزوں پہ بیٹھے دبے لہجے میں شھر کی کشیدگی پہ کھسر پھسر کر رہے تھے کہ ایس ایس پی کیپٹن ظفر بھی آ گئے اور ساتھ ہی کسی ایمرجنسی اطلاع پہ انہیں جلدی واپس جانا پڑا۔
میزبانوں سے کہا کہ میری حاضری قبول کر لیں۔۔۔۔ایہہ مولویاں نے مصیبت پائی ہوئی اے۔۔۔۔۔ورنہ مزید بیٹھتے۔
میرے ساتھ بیٹھے ایک دوست ظفر باجوہ نے سرگوشی کی۔۔۔
"ایہہ اک مولوی نوں برا کہندے نیں تے نال ای اک ہور مولوی نو ں "رحمتلہ الیہ” بنائی رکھدے نیں۔ جدوں تک ریاست ملائیت دا انکار نہیں کردی ایہہ مصیبتاں انج ای رہنیاں نیں”
آپ دیکھ لیں کہ ایک برانڈ کا سگریٹ چھوڑ کے دوسرا شروع کر لینے سے کینسر تو نہیں رک جائے گا۔
ریاست ہر سانحے پہ برانڈ بدلتی ہے۔
مشعال تو بیچارہ در حقیقت۔۔۔۔
تاریک راہوں میں ۔۔۔۔۔مارا گیا
اور اس کی دردناک موت اس کے خاندان کے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی انتہائی دکھ کاباعث ہے اور خیال جھٹکنے کے باوجود سامنے آ جاتی ہے لیکن۔۔۔۔۔اس سے بھی بری خبر یہ ہے کہ،
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے۔۔۔۔
والی صورت نظر نہیں آ رہی۔عشاق بھی کہیں نہیں اور قافلے بھی کہیں نہیں۔
اپنی سرحدوں کی حفاظت ہورہی ہے اور خوب ہورہی ہے۔۔۔۔۔نظریاتی بھی اور جغرافیائی بھی۔
اور نظریات کے اندر جو کوڑھ پڑگیا ہے اور جغرافیائی سرحدوں کے اندر جو تعفّن پھیل رہا ہے اس کی وجہ سے اب تو دم گھٹنے سے بھی اموات ہونے لگیں گی۔
میں نے ایک گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اکنامک کاریڈور کے تحت بنائی گئی سڑکوں، ریلوے ٹریکس اور بندر گاہوں کے لئے اپنے لوگ اور عوام بھی بچا لیں ورنہ ان سڑکوں پر آرمی جیپوں میں بیٹھ کر کیا صرف چینی ہی دوڑیں گے۔ پاکستانی ۔۔۔۔۔یا مر چکے ہونگے یا بھاگ گئے ہوں گے۔
اس بات کو آپ مایوسی پھیلانا نہ قرار دیں۔ بلکہ چشم کشا سمجھیں۔
ضرب عضب کا جڑواں بھائی تھا نیشنل ایکشن پلان۔
ضرب عضب نے وزیرسستان خالی کرا لئے ، کراچی کا قبضہ لے لیا اور مالی کرپشن پہ ہاتھ ڈال لیا۔
اس کا دوسرابھائی نیپ، فوجیوں کے گھر نہیں بلکہ حکومتوں کے گھر پلا تو اس نے بڑی چھلانگ یہ لگائی کہ
ربوہ سے شکور بھائی کو کتابیں بیچنے پہ گرفتار کر لیا اور ضمانت نئیں ہونے دی
طاہر مہدی کو الفضل اخبار کی اشاعت پہ پکڑ لیا اور دوران حراست اس کے دو بھائی فوت ہو گئے مگر جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نئیں دی، ضمانت کا تو ذکر ہی کیا….
ربوہ میں پر امن دفتر تحریک جدید پر زبردست ریڈ کر کے دکھا دیا اور جو بے گناہ پکڑ سکے پکڑ لیا۔
چکوال میں احمدیوں اور ان کی مسجد پر جلوس چڑھا دیا ۔۔۔۔
نیز جہلم فیکٹری نذر آتش کروا دی۔۔
ہر جگہ توہین مذہب کا ہتھیار استعمال ہوا۔ جسٹس کیانی تو 1953 کے ہنگاموں کی رپورٹ میں ہی یہ اصطلاح استعمالکر چکے ہیں اور مولوی کی ذہنیت بھی بتا چکے ہیں۔
اب ہم یہ نہیں مان سکتے کہ آپ کو پتہ نہیں بلکہ ہم اب یہ کہنے پہ مجبور ہیں کہ آپ مولوی کی ان "خوبیوں” کو جان بوجھ کر پروان چڑھا رہے ہیں اور یہی آپ کا "سٹریٹیجک ایسٹ” ہے۔
اس لئے آپ ایک مہربانی کیجئے۔
وہ یہ کہ اعلان کر دیجئے کہ،
"آپریشن رد الفساد کا دائرہ کار صرف فوجی اغراض ومقاصد تک ہے.”
ابھی لوگ امید پہ مارے جا رہے ہیں اور جن پہ توقع ہے ان کی یہ ڈومین ہی نہیں کہ وہ انتہا پسندوں سے مشعالوں، یا شکور بھائیوں کو ریسکیو کریں۔ اور رہاسوال سیاسی نظام کا ۔۔۔۔۔۔۔تو نواز شریف اور زرداری یا عمران خان تو خیر کیا بیچتے ہیں۔۔۔۔۔پاکستانی سیاست کے چرچل۔۔۔۔یعنی زیڈ۔ اے بھٹو۔۔۔۔۔۔کے گھر اتنے دانے نہیں تھے کہ وہ چودھویں صدی کے ملانوں کے پیش کردہ ” نظام مصطفی” کے آگے کھڑے ہو سکیں
یاد رکھیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام میں جلوس، مارکٹائی، کافر قرار دینا، بلوے، فتوے اور لاشوں کوکتوں کی طرح بنبھوڑنا اور گھسیٹنا جیسی خرافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ اس زمانےکے عذاب الہی یعنی ملائیت کا ہی حصہ ہے۔
اس لئے ان سے توقع ہے جو ہمیں مروا رہی ہے اور منظم طور پر قتل کروا رہی ہے۔ پولیس حرکت می آئے گی۔ ان کے خلاف۔ کبھی بھی نہیں۔ سابق صدر مشرف جو مکے لہرانے میں مشہور ہیں ان سے امریکہ میں پچھلے ہفتے سوال پوچھا گیا تو موصوف گھبرا گئے اور مسئلے کی حساسیت کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔
باقیوں کی کیا مجال کہ زبان کھولیں۔۔۔۔۔البتہ اگر آپ اتنی مہربانی کریں کہ آپریشنوں کی چوسنی اب نکال لیں عوام کے منہ سے تو امکان ہے کہ اپنی سروائیول کی جنگ لڑ لیں۔ ابھی تو آپ کی ڈھارس ان کی موت کا باعث بن رہی ہے۔
آپ عام آدمی کو بتا تو دیں کہ آپ کی بندوق وقت پڑنے پر بھی نہیں ملے گی تا کہ وہ کوئی ڈنڈے سوٹے کا انتظام کر کے گھر سے نکلے۔۔۔۔۔یا ہو سکے تو نہ ہی نکلے۔
جناب آپ کے کھوکھلے دعوے پبلک کو سنگساری کی موت مروا رہے ہیں۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹل ایک سے چار تک کے لڑکوں میں یہ شعر بڑے طمطراق سے پڑھا جاتا تھا ۔۔۔۔اور یہ 1994 سے 1998 تک کے طلباء تھے۔
میں خود ہی منزل تلاش لوں گا
راستے۔۔۔۔۔! ہٹ جا درمیاں سے۔
اب وہ سارے بھی پتہ نہیں کہاں مر گئے ہیں۔۔۔۔۔لگتا ہے سبھی افسر لگ گئے ہیں۔ اب یہ للکارا کون مارے ؟
اس لئے مشعالوں کے جنازے پڑھنے سے انکار پر تعجب کیسا اور کیوں۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرزا محمد افضل، کینیڈا

خواب در خواب ہراک سمت سیاحت کی ہے ​​​​نیند در نیند کئی نوع کی مسافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend