ہوم / حقوق/جدوجہد / اس اونٹ کی کروٹ بہت خطرناک ہو گی۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید
از واحد اللہ جاوید

اس اونٹ کی کروٹ بہت خطرناک ہو گی۔۔۔۔۔۔۔واحد اللہ جاوید

برادرم طاہر بھٹی اپنے مضمون، "پاکستان میں اونٹ کسی وقت بھی مر سکتا ہے” میں ایک مسیحی ملزم کے ساتھ غیر انسانی، مکروہ اور انتہائی گھٹیا بد سلوکی پر سیخ پاء ہیں اور غصہ ان کی تحریر سے ٹپک رہا ہے۔ اللہ انہیں بھی صبروتحمل اور مجھے بھی برداشت کی توفیق دے، آمین
پطرس مسیح پر توہین کا الزام لگایا۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے ایسے الزام لگتے رہتے ہیں۔ جلوس نکالا اور نعرے بازی کر لی، کرتے رہتے ہیں یہ سب کچھ۔ مولوی اکثر پروں کی ڈار بنا کر اڑاتے اور اپنی مٹتی ہوئی حیثیت کا احساس دلانے کے لئے اس طرح کے اوچھے پن کا مظاہرہ کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ بات مکروہ اور گھٹیا ضرور ہے مگر نئی نہیں ہے۔
عدالت عظمی کے ایک معزز جج نے کہا کہ، جب مذہب کا معاملہ آ جائے تو پھر سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ملائیت اس بیان کے سر چڑھ کر خوب ناچی، جلسے جلوس، ہڑتالیں اور دھرنے۔۔۔۔اور آخر کو پیسے لے کر گھروں کو روانہ ہوئے مگر یہ منافقت میں لپٹی ہوئی دین کے نام پر ہلڑ بازی تو اب اتنی عام تھی کہ اس پہ کان کھڑے نہیں ہوتے، لیکن مذکورہ واقعے نے تو ہلا کے رکھ دیا۔
ان کا ایسا عشق رسول اور اسلام پسندی شائد کھل کے سامنے نہ آتے اگر اللہ تعالی نے اس چھت سے کودنے والے ساجد مسیح کی جان نہ بچا لی ہوتی۔ وہ مر جاتا اور بیان نہ دے پاتا تو ان عاشقان کہ اصلیت بھی سامنے نہ آتی۔
عشق رسول کے پروانوں ، ختم نبوت کے پہرے داروں اور ناموس مذہب کے علمبرداروں نے نئی نسل کو گندی زبان اور گندی حرکات سے تو خوب متعارف کروا دیا ہوا ہے لیکن اب اس واقعے سے پتہ چلا ہے کہ اپنی فطرتوں کی پیداوار ان گھناوءنی حرکات کو اسلامی رنگ دینے کے درپے ہیں۔

مالک مہرو وفا ارض و سما کیوں چپ ہے
ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں، خدا کیوں چپ ہے

اس لئے اب اونٹ تو مرے گا ہی لیکن مرنے سے پہلے انفرادی تذلیل کم ہو اور انسانی نفسیات پر ایسے چرکے نہ لگیں جن کی ٹیس ختم نہ ہو، اس لئے اب واقعی اونٹ جلد مرنا چاہئے۔
جس طرح تم لوگوں نے اسلام کو جبر کا استعارہ بنا دیا ہے جب کہ قرآن لا اکراہ فی الدین کی نوید سنا رہا ہے،
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا رحمت بنا کے بھیج رہا ہے اور تم انسانیت کو دی جانے والی ہر اذیت اور بربریت کو اس مقدس نام پر ڈال دیتے ہو۔ تمہارے بد باطن اور جھوٹا ہونے کے لئے اور کیا دلیل لائی جائے۔
اسلام نام ہی امن اور سلامتی کا تھا اور تم نے ریاستی جبر، سماجی مظالم، معاشرتی بغض و عناد اور تہذیبی بد فعلیاں اسی مقدس مذہب کی ناموس کے قیام کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ اس میں اب شک رہ کیا گیا ہے کہ اسلام کی ناموس اور سیرت محمدی پر سب سے کریہہ داغ تو خود تم اور تمہارے کرتوت بن گئے ہیں۔
مجھے پوچھنا ہے جسٹس شوکت صدیقی اور ان کی معاونت کرنے والے اسلامک جیورسٹ سکالروں سے کہ توہین مذہب کے ملزمان سے تفتیش اور ٹارچر کا یہ اسلوب جو ایف آئی اے کے اہلکاروں نے ساجد مسیح اور پطرس پر استعمال کیا اس کی سند اور جواز میں کیا پیش کریں گے۔ سوائے اس کے کہ ، ایک ایسا زمانہ آئے گا جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔والی حدیث اور پیش گوئی کے مصداق ہی آپ خود ہیں اور پاکستان کی ملائیت نعرے لگا لگا کر اپنے بارے میں ہی، شر من تحت ادیم السماء کی گواہی دے رہی ہے۔ اور اگر یہ دور اور علماء وہی ہیں تو پھر ان کے نصیب میں عبرت بھی نہیں۔۔۔۔یہ بذات خود ایک نشان اور عبرت کا نشان ہیں۔
میرا آج تک تو طرز عمل یہ رہا ہے کہ اگر مجھے کسی کے جرم یا گناہ کا پتہ چلے تو میں شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے بچایا ایسا گناہ کرنے سے۔۔۔۔۔اور پھر اس شکرانے کے طور پر میں اس گناہ گار کے لئے معافی کی دعا کرتا ہوں کہ الہی وہ بھی میری طرح کمزور ہے اسے معاف فرما۔
مجھے آج یہ اعتراف کرنا ہے کہ پطرس اور ساجد کو بدفعلی پر مجبور کرنے والے بد بخت کے لئے مجھے دعا کی توفیق نہیں مل سکی۔ بس اتنا ہی کہنا تھا۔ آگے وہ مالک الملک جانے
کیونکہ فرعونیت تو اب ننگی ناچ رہی ہے پاکستان میں۔۔۔۔۔۔
تو پکڑ بھی اب قریب ہی کہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔راستے میں
اور جب کوئی فون پہ بتائے کہ، جی جناب، اون مائی وے۔۔۔۔۔
تو پھر چپ کر کے اس کے آنے کا انتظار ہی کیا جاتا ہے، اور کچھ نہیں پوچھا جاتا۔

مصنف admin

Check Also

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو،۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف اللہ بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend