ہوم / تراجم / ڈاکٹر عبدالسلام کے مضامین کے تراجم پر مضمون۔۔۔شھزاد احمد

ڈاکٹر عبدالسلام کے مضامین کے تراجم پر مضمون۔۔۔شھزاد احمد

معروف اردو شاعر جناب شہزاد احمدصاحب کی ایک تحریر

ہم نے جناب شہزاد احمد صاحب کا اختتامی مضمون بعینہِ اس لئے شائع کردیا ہے کہ ایک تو ان کی ترجمہ کردہ کتاب’’ارمان اور حقیقت‘‘ پرکلامِ شاعر بزبانِ شاعر کے رنگ میں ایک تبصرہِ کتاب کی طرح کا مضمون شاملِ اشاعت ہو جائے اور دوسرے یہ کہ مزید اہلِ علم تراجم کی طرف توجہ فرمائیں کیونکہ جن دنوں تخلیقی فضاء میں’’موسمِ کمیابیِ گُل‘‘ چل رہا ہو تو یہ طرز عمل بھی بہت سود مند ثابت ہوتا ہے کہ
؂ اٹھا کر چوم لی ہیں چند مرجھائی ہوئی کلیاں
نہ تم آئے تو یوں جشنِ بہاراں کرلیا میں نے

(ایڈیٹر۔ آئینہ ابصار)


ڈاکٹر عبداسلام کا نام ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں، پنجاب یونیورسٹی کے مختلف امتحانات میں پھر ان کی غیر معمولی کامیابیاں پاکستان بننے سے پہلے بھی ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتی تھیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم انہیں ایک مشہور سائنسدان کے طور پر جاننے لگے اور۱۹۷۹ء میں جب انہیں نوبل انعام کا مستحق قرار دیا گیا تو یہ بات ہم سب پاکستانیوں اور تیسری دنیا کے رہنے والوں کیلئے افتخار کا باعث تھی، وہ شاید تنہا ایسے سائنس دان ہیں جو نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد تیسری دنیا اور خصوصاً پاکستان کو بھولے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں اور پھر یو این او کی مدد سے اٹلی میں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جہاں تیسری دنیا کے ممالک کے سائنس دان( خصوصاً ماہرینِ طبیعات) تازہ دم ہونے کیلئے جاسکتے ہیں۔اس کی تفصیل اور اس کی اہمیت کے بارے میں آپ اس کتاب میں بہت کچھ پڑھ چکے ہیں اسے یہاں بیان کرنا مقصود نہیں۔ صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے نہ صرف نظریاتی طبیعات میں اعلیٰ درجے کا کام کیاہے بلکہ عملی طورپرانہوں نے تیسری دنیا کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی طرف پیش قدمی کی ہے، خصوصی طور پر پاکستان کی صورتحال ان کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
جدید دور میں یہ ممکن نہیں ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کئے بغیر کوئی ملک ترقی یافتہ بن سکے، تیسری دنیا کے چند ممالک ایسے ضرور ہیں جو تیل کے باعث امیر تو ہیں مگر ترقی یافتہ وہ بھی نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ ہونے کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سلسلے میں ایک مخصوص رویے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں اسکی نشاندہی بھی بڑی تفصیل کے ساتھ کرد ی ہے۔
اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے چند ایسے مضامین کو اردو میں منتقل کیا جائے جن کو جاننا ہم سب کیلئے بے حد ضروری ہے۔ میں ڈاکٹر صاحب کے شائع شدہمضامین کبھی کبھی پڑھ تو لیتا تھا مگریہ خیال مجھے کبھی نہ آیا کہ میں ان کا ترجمہ کروں۔ ہمارے گورنمنٹ کالج کے زمانے سے ایک ساتھی جناب غالب احمد نے میری توجہ اس طرف مبذول کروائی ، ان دنوں میں ایک طویل بیماری گزارنے کے بعد اس قابل ہوا تھا کہ تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا کام کرسکوں، چنانچہ اشفاق احمد صاحب کے کہنے پر میں نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی ایک کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔انہی دنوں میں نے سائنس کے مختلف موضوعات پر دو کتابیں بھی لکھی تھیں جن میں شامل مضامین مختلف رسالوں میں شائع بھی ہوئے تھے، اسی بنیاد پر غالب احمد کو یہ خیال تھا کہ ڈاکٹر عبدالاسلام کا ترجمہ کرسکتا ہوں۔ چنانچہ۱۹۸۸ء ہی کے اوائل میں میری ایک ملاقات ڈاکٹر صاحب سے کروائی گئی۔ انہوں نے ترجمہ کرنے کے سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی، لہٰذا چند ہفتوں کے بعدمیں نے ان کے ایک مضمون کا ترجمہ کرکے ان کو بھجوا دیا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا، کہ اگر آپ کو یہ ترجمہ پسند آ جائے تو پھر مجھے بتائیے گا کہ میں کن کن مضامین کا ترجمہ کروں، ڈاکٹر صاحب سے ذ اتی ملاقات کے دوران مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ اردو بھی بہت اچھی جانتے ہیں۔ڈاکٹر وحید قریشی مجھے بتا چکے تھے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے بی اے کے اردو کے پرچے میں ان سے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے۔ مجھے خیال تھاشاید میرا ترجمہ ڈاکٹر صاحب کو پسند نہ آئے، یہ بھی سنا تھا کہ جو تراجم مجھ سے پہلے ڈاکٹر صاحب کو دکھائے گئے تھے، انہیں ڈاکٹر صاحب نے رد کردیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس قدر مصروف آدمی ہیں کہ اکثر اوقات ان کی طرف سے مہینوں خط کا جواب نہیں آتا۔ مگر اس بار میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب دس روز کے بعد مجھے ان کا ایک تار ملا، جس میں انہوں نے نہ صرف ترجمہ پسند کیا بلکہ مضامین کے انتخاب کی ذمے داری بھی مجھ پر ڈال دی تھی۔
اس سے کچھ ہی دیر پہلے میں ڈاکٹر محمد اجمل صاحب کی ایک کتاب کا ترجمہ بھی کر چکا تھا۔ وہ بھی انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر پوری گرفت رکھتے ہیں۔ میرا کیا ہوا ترجمہ ان کو پسند بھی آگیا تھا، الطاف گوہر صاحب نے مجھے یہ بتایا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی پسند۔۔۔۔۔۔کبھی رو رعایت کا شکار نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ میرے لئے اعزاز تھا کہ میں ان کا ترجمہ کروں۔
مضامین کے انتخاب کیلئے میں نے کچھ دوستوں سے مشورہ کیا تھا۔ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ وہ مضامین منتخب کئے جائیں جن میں اردو پڑھنے والوں کو دلچسپی ہو۔ ظاہر ہے ہماری پہلی دلچسپی تو ہمارا اپنا ملک ہے پھر تیسری دنیا اور اس کے مسائل ہیں اور ہماری کچھ نہ کچھ دلچسپی جدید علوم میں بھی ہے۔ اگرچہ آزادی ملنے کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر اس کرۂ ارض کے باشندے ہونے کے ناطے ہمارا کچھ تعلق اس آسمان سے بھی ہے جس کے ستاروں کو ہم اتنی حیرت سے دیکھتے ہیں، لہٰذا جو مضامین منتخب کئے گئے وہ صرف ان کی کتاب’’Ideals and Realities‘‘ تک محدود نہیں ہیں۔ زیادہ مضامین تو اسی کتاب سے لئے گئے ہیں، باقی مضامین ایسے ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے مختلف مواقع پر اس کتاب کی اشاعت کے بعد لکھے ہیں۔ یہ کتاب۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی تھی، مگر ہم نے اس کے دوسرے ایڈیشن سے استفادہ کیا، اب تو اس کا تیسرا ایڈیشن بھی آ چکا ہے۔
میں ڈاکٹر صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے اجازت دے دی کہ میں ان کی کسی بھی تحریر کا اردو ترجمہ کرسکتا ہوں اور اسے شائع کروا سکتا ہوں، میں نے زیادہ تر مضامین ایسے چنے ہیں جن میں بطور پاکستانی ہمیں گہری دلچسپی ہے۔ مگر یہ سوال بھی باربارذہن میں اٹھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو جس بات پر نوبل انعام ملا وہ کیا تھی، چنانچہ نوبل انعام کی دعوت کے موقع پر کی گئی تقریر اور اس موقع پر دیا گیا ایک لیکچر خاص طور پر شامل کئے گئے ہیں۔ وحدت پیمائی Guage Unification پر دیا گیا۔ یہ لیکچر ترجمہ کرنا میرے لئے بے حد مشکل تھا، میں طبیعات کا کوئی باقاعدہ طالب علم تو ہوں نہیں، اور نہ ہی ریاضی دان ہوں، لہٰذا مجھے اس سلسلے میں کسی صاحب علم کی رہنمائی درکار تھی، پروفیسر منیر احمد خان کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس سلسلے میں میری مدد فرمائی، میں ڈاکٹر سہیل احمد خان کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے طبیعات کے موضوع پر اردو کی بعض کتابیں مجھے مہیا کیں اور اس کام میں دلچسپی بھی لی، اشفاق احمد صاحب کابھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی، جمیل الدین عالی صاحب کابھی خاص طور پر ممنون ہوں، ان کی مدد کے بغیر اس کتاب کا شائع ہونا مشکل تھا۔ طاہر اسلم گور اور ان کے ایک رفیق افتخار احمد بھی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں، انہوں نے اس کتاب کے مختلف مراحل میں میری بہت مدد کی۔ غالب احمد کاممنون ہوں کہ وہی اس کتاب کے آغاز کا سبب بنے اور پھر انہوں نے اس پر نظرثانی بھی کی۔
مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت یقیناً مجھ سے غلطیاں ہوئی ہونگی میں آپ کا ممنون ہوں اگر آپ مجھے ان سے آگاہ کریں تاکہ اگلے ایڈیشن میں یہ کتاب اس سے بہتر صورت میں شائع ہو سکے۔
شہزاد احمد

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

بریکنگ نیوز۔۔۔۔سٹیفن ہاکنگ انتقال کر گئے

فزکس کی دنیا کا مستند اور مشہور نام اور ” اے بریف ہسٹری آف ٹائم”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend