سو سلسلے خیال کے . . .

Facebook

Twitter

Pinterest

LinkedIn

Print Friendly

  طاهراحمد بھٹی

مکرم مبشر زیدی صاحب کی تحریر پڑھنے کو ملی تو سو لفظوں کی کہانیاں حافظے میں تازہ ہوئیں اور وہیں سے یہ مصرعہ عنوان ہوا۔

“ سو سلسلے خیال کے “
انگریزی ناول دنیا پہ حکمرانی کر رہا ہے اور اس کی ایک کیفیاتی توجیہہ ایک دفعہ برادرم فیض علی نے اسلام آباد میں بیان کی جو مجھے تا حال علمی اور نصابی توجیہات سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔ اسے میرا نصابی عجز سمجھ لیجئے!
کہتے ہیں کہ ایک انگریز لکھاری اپنے گھر کے لان میں بیٹھا ہچکیوں سے رو رہا تھا تو ایک ہمسایہ آیا اور از راہ ہمدردی کندھا تھپتپایا اور پانی پلایا۔ سسکیاں رکیں تو پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ رندھی ہوئی آواز میں جواب ملا کہ پیٹر فوت ہو گیا ہے۔
پوچھا کہ پیٹر کون تھا؟ آپ کا کوئی بھائی؟ جواب۔ نہیں کوئی کزن یا دور کا عزیز؟ نہیں۔ کوئی پرانا دوست؟ جی نہیں۔۔ تو پھر پیٹر کون تھا؟ موصوف نے کہا کہ میں آج کل جو ناول لکھ رہا ہوں پیٹر اس کا ایک کردار تھا اور آج رات ہی اس کی وفات ہوئی ہے۔ اور یہ کہہ کر پھر رو پڑے۔
جن لوگوں کو کسی شعبے میں عالمگیر پذیرائی ملتی ہے ان کا تعلق خاطر اپنے اپنے پیٹروں سے بہت گہرا اور دیر پا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اول تو تخلیقی اصناف میں اور علمی میدانوں میں پیٹر ہوتے ہی نہیں اور اگر کوئی لولے لنگڑے کہیں سے در آئیں تو ہمیں ان کے مرنے جینے کی پرواہ نہیں ہوتی۔ البتہ کھیلوں میں پیٹر کو کچھ ہو جائے تو ٹی وی سیٹ توڑ ڈالنے کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔
ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم موقع محل کی مناسبت سے قربانی اور وفا نہیں دکھاتے۔
ابر برسا بھی تو بس دریا کو چھلکاتا رہا۔۔۔
اس قبیل کی بے موقع مہربانیوں میں طاق اور مسلسل شاکی کہ ہم میں اہل کمال کیوں پیدا نہیں ہوتے۔
کل ہی برادرم حاشر صاحب نے جو بلیغ اور بھر پور طنز لکھا عورتوں کے حقوق کے قانون کے حوالے سے اس کو اگر الٹا کر مولویان اسلام کو دکھا دیا جائے تو بالکل آئینے کی طرح تصویر کھنچ جاتی ہے کہ ان حق تلفیوں اور ناانصافیوں کا رد عمل ہے یہ قانون۔ آپ نے پاوں کی جوتی کی جو ضرب المثل پالی ہوئی تھی یہ وہی پاوں کی جوتی ہے جو قانون کی صورت میں سر پہ آ پڑی ہے۔ میں اپنے سمیت ہزاروں گھروں کو جانتا ہوں جن کا گھریلو رکھ رکھاو حفظ مراتب کے طور پر باپ یا خاوند کو ہی آگے رکھتا ہے مگر یہ ان کا اختیاری (طوعی) معاشرتی رویہ ہے اور اس قانون کا ہونا نہ ہونا ان کے لئے برابر ہے۔ لیکن جن کو چٹیا سے گھسیٹ کر باہر پھینک دیا جاتا تھا اور معاشرہ بے حسی سے اس ظلم کو دیکھ کے چپ تھا ان مظلوموں کے لئے تو یہ قانون باپ جیسا تحفظ رکھتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ جس نے تعلقات استوار کر لینے کی سزا موت مقرر کر رکھی ہو اس کی غیرت کو نکیل ڈالنے کے لئے بہت اچھا اقدام ہے۔ رہا سوال مفتیان کرام اور علماء عظام کا۔ تو آپ پاکستان کی مختصر اور عالم اسلام کی مجموعی تاریخ میں ایک مثال لا دیجئے کہ انہوں نے کوئی فتوی، تحریک یا راست اقدام کبھی مظلوم غریب کمزور اور بے آسرا کے لئے بھی چلائی ہو اور بالخصوص پاکستان کی ایک بھی مذہبی تحریک جس کی تان سیاسی فوائد پہ نہ ٹوٹتی ہو ؟
تاہم حالیہ قانون ایک لحاظ سے دلچسپ ہے کہ یہ مظلوم عورتوں کے لئے ہے اور عورت تو صرف محکوم ہے۔ عورت کا تو کوئی فرقہ نہیں یہ تو ایک طبقہ ہے اس لئے علماء اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔ جلوس کے شرکاء نہیں ملیں گے ان کو۔ سب کو جا کے عورت کے چولہے پہ ہی بیٹھنا ہے۔
دوسرا اشارہ ابتدا میں مبشر زیدی صاحب نے ملالہ کے مغربی ایجنٹ ہونے کی طرف کیا اور اتفاق سے آج چند دوستوں نے ٹی وی پروگرام کا لنک بھی بھیجا جو آج ہی نشر ہوا اور اینکر اور مہمان ضیالدین اور ملالہ کو غدار کہنے سے مطمئن نہیں تھے اور اب عدالت سے ان کی غداری کا سرٹیفکیٹ جاری کروانے پہ مصر تھے۔ اس مقصد کے لئے ایک نیم دروں نیم بروں پارلیمنٹیرین محترمہ مسرت صاحبہ کو بھی ساتھ ملائے ہوئے تھے۔اور ان سب کی دانش سنبھالے نہیں سنبھلتی تھی۔ اور بغض تو کسی پھوڑے کی طرح پھوٹ بہتا تھا۔ ایسی طبیعتیں فیصلے دینے کی اہلیت کہاں رکھتی ہیں البتہ کیچڑ اچھالنے کا اسلوب خوب تھا۔
عبیداللہ علیم صاحب کا ایک شعر برمحل ہے۔ سن لیجئے پھر آگے چلتے ہیں۔
جو ابر ہے سو وہ اب سنگ وخشت لاتا ہے۔ فضاء یہ ہو تو دلوں میں نزاکتیں کیسی۔
وہ جو عدم برداشت اور خدا واسطے کی ناپسندیدگی مذہب کے نام پر شروع ہوئی اور انہی علمائے کرام کی پیروی میں شروع ہوئی اس نے آئین سے مہر تصدیق ثبت کروائی اور یہ جا وہ جا۔۔۔۔
عورتیں اس کی لپیٹ میں آئیں اور عدالتیں شرعی ہوئیں یا کیا معلوم شریعتی ہو گئی ہوں پھر این جی اوز کی باری آئی پھر تحریک نفاذ شریعت محمدیہ کے سر براہ کا فتوی چھپا کہ این جی او کی عورت جہاں ملے پکڑ کر گھر لے جائیں اور نکاح کر لیں۔(بطور سزا) اور پھر توہین کے قانون اور پھر مالا کنڈ کی عدالتیں اور حضرو کے مدرسے۔ لال مسجد کے مصلحین کا نفاذ اسلام اور پرویز مشرف کا سارا کیرئیر غداری کی نذر ہو گیا۔ آج بھی اگر ایک سرے سے شروع ہو جائیں تو ہمارے کرنے کے کاموں کی فہرست بہت طویل ہے ۔۔۔۔۔
کیرئیر کونسلنگ برائے طلباء
نصاب کی تطہیر اور تشکیل زرعی شعبے کو ماہرین کے تحت لانا رہن سہن کے ماحولیاتی منصوبے جنگلات کا فروغ ٹرانسپورٹ کے چھوٹے اور قابل عمل منصوبے صحت اور تعلیم پر دس سالہ کوشش کم آمدنی والے نوجوانوں کے لئے بیرون ملک تعلیم کے مواقع تلاش کرنا پانی اور توانائی کی فراہمی عورتوں، بوڑھوں بچوں کے تحفظ اور رواداری کی ہمہ وقتی فضاء کا فروغ۔
یہ سب کچھ جہاں پہ ہو ان ملکوں سے کوئی ہجرت نہیں کرتا۔ اور جہاں مکالمے کی فضاء ہمہ وقتی حق ہو وہاں غداری اتنی عام نہیں ہوتی۔ ایک بات طے ہے کہ آپ کا گروہی اسلام ہے جو کافر اور مرتدین پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام کلمہ شہادت سے مسلمان بنا دیتا تھا اور کفر کا فیصلہ اللہ کے پاس رہنے دیتا تھا۔ آپ نے اس میں تحریف کر دی ہے اس لئے اب آپ کافر در کافر دنیا کو دے رہے ہیں۔
بالکل اسی طرح قائد کا پاکستان ہر طبقے اور طرز فکر اور شعبہ زندگی کا پاکستان تھا جس میں ہر کوئی کھیل کر میرٹ سے آگے بڑھ جاتا مگر اچھے کھلاڑی کے ٹخنے پر ہاکی کھینچ مارنا جرم تھا اور جو اچھا کام کر رہا ہو اس کا نام اور کام سراہا جاتا تھا۔ ٹانگوں پہ ہاکیاں مارنے والے دولتانے اور احرارئے ہیں جنہوں نے غدار کا ٹائٹل عام کیا اور اب ملالہ اسی کو بھگت رہی ہے۔
حسب معمول شعر مکمل کر دوں تا کہ مبشر زیدی صاحب کا تلازمہ خیال قرین حال دکھائی دے۔
سو سلسلے خیال کے سو رنگ خواب کے
کچھ سوچ کر کسی کی تمنا کرے کوئی

Read More

غزل ۔ ۔ ۔ صابر ظفر

 صابر ظفر
عکس پانی میں اگر قید کیا جا سکتاعین ممکن تھا میں اس شخص کو اپنا سکتا
کاش کچھ دیر نہ پلکوں پہ ٹھہرتی شبنممیں اسے صبر کا مفہوم تو سمجھا سکتا
بے سہارا کوئی ملتا ہے تو دکھ ہوتا ہےمیں بھی کیا ہوں کہ کسی کام نہیں آ سکتا
کتنی بے سود جدائی ہے کہ دکھ ہے نہ ملالکوئی دھوکہ ہی وہ دیتا کہ میں پچھتا سکتا
زندگی بھر رہی ،عریانی ء دل کی یہ خلشمیں اسے درد کی پوشاک تو پہنا سکتا
نارسائی نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کوکاش وہ ہی نظر آتا کہ جسے پا سکتا
میں نے اوڑھی ہے ترے پیار کی اجرک ایسیاب تجھے چھوڑ کے پنجاب نہیں جا سکتا
الگنی پر ٹنگی آواز نچڑتی ہی گئیحرف ہر قطرہ میں اس واسطے آیا سکتہ
کوئی جاگا ہوا رہتا ،مرے پہلو میں ظفرمیں کسی وصل کے لمحے کو جو دہرا سکتا

Read More

طاھر احمد بھٹی

طاھر احمد بھٹی
آدمی اکیلا ہےراستے ہزاروں ہیںزندگی جمھیلا ہےجھمگٹے ہزاروں ہیںروشنی اکیلی ہےرنگ سو طرح کے ہیںسوچ چل نکلتی ہےسامنے اجالا ہویا کہ گھپ اندھیرا ہوذہن ساتھ دیتا ہےدل بھی ہاتھ دیتا ہےراستا سجھانے کوراہ جگمگانے کو
اس قدر مسافر ہیںراستوں کے جنگل میںایک راہ نکلتئ ہےوہ بھی دشت امکاں میںکتنا خون جلتا ہےراہ جگمگانے میںفاصلہ ہی بڑھتا ہےقربتیں بڑھانے سےکتنا یاد آتے ہیںوہ ہمیں بھلانے سےڈور ٹوٹ جاتی ہےاشک جھلملانے سےشور تھم سا جاتا ہےیاد گنگنانے سےآنکھ خود تماشا ہےکیا کہیں زمانے سے
دل کو تھام اٹھتے ہیںوقت کی لگاموں پرکس کا زور چلتا ہےساتھ کون چلتا ہےآدمی اکیلا تھاآدمی اکیلا ہےساتھ گو فرشتہ ہوایک وقت آتا ہےآدمی سے کہتا ہےیہ جو ایک بیری ہےیہی میری منزل ہےاب اگر میں چاہوں بھیآگے جا نہیں سکتابیری ، روک لیتی ہےپر بھی جلنے لگتے ہیں
آدمی کی ہمت ہےاور بشر کی قسمت ہےآسمان چھو آئےچاند دسترس میں ہےاور ستارا رستے میںسنگ میل ہے کوئینہ کوئی تعین ہےاک قدم زمیں پر ہےدوجا دشت وحشت میں
یہ بھی تیری منزل ہےوہ بھی تیری منزل ہےاور میں فرشتہ ہوںبیری میری منزل ہےآپ آدمی ٹھہرےاور آدمی اکیلا ہےآرزو کے جھرمٹ میںدل مگر اکیلا ہےآرزو سے کہتا ہےمجھ کو دور جانا ہےتیرا ساتھ کب تک ہےتو بھی اک فرشتہ ہےجہاں بیری دیکھے گیوہیں بیٹھ جائے گیساتھ چھوڑ جائے گیبیری تیری منزل ہےمجھ کو آگے جانا ہےآگے میری منزل ہے

Read More

طاھر احمد بھٹی

طاھر احمد بھٹی
ہمارے ایک رشتے میں چچا سیف الل بھٹی مرحوم سن اسی کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں اپنا کلسیاں بھٹیاں کا زمیندارہ اور ڈیرے داری تیاگ کر امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں جا آباد ہوئے۔ کم گو، نفیس طبع اور غور و فکر کر کے بے ضرر مگر دیرپا اثر چھوڑنے والے سوال اٹھاتے تھے اور جواب کو اپنی اتنی ہی بے ضرر مسکراہٹ سے مزین کر کے مجلس میں کھلا چھوڑ دیتے تھے۔دو چار سال بعد پاکستان آتے تو رات کو ڈیرے میں مجلس جمتی اور وہ اپنے دیرینہ دوستوں کو امریکہ کے اپنے سے متعلقہ واقعات سناتے ۔ ایسی ہی ایک شام بتانے لگے کہ ہم نے اپنے علاقے میں احمدیہ مسجد بنائی تو جب اس میں کارپٹ بچھانے کا مرحلہ آیا تو میں نے احمدیہ مشنری صاحب کو تجویز دی کہ فلاں جگہ ہائی وے پر ایک پٹرول پمپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد ہے وہاں میں نے بڑے دیدہ زیب کارپٹس دیکھے تھے ، کیوں نہ ویسے کارپٹس ہی بچھوائے جائیں۔ چنانچہ ہم دو تین لوگ کار میں سوار وہاں گئے اور پٹرول پمپ کے مالک سے ملے۔ موصوف بڑے خوش ہوئے ، اپنی مسجد دکھائی اور کارپٹس کے لئے رابطے کا بتایا اور چائے سے تواضع کی۔ اثنائے گفتگو جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ اتنی بڑی مسجد احمدیہ جماعت کی ہے تو کہنے لگے کہ میں تو بہت عرصہ پہلے یہاں آ گیا تھا اور احمدیوں کے بارے میں سنا تو تھا لیکن کبھی ان کے عقائد کی تفصیل معلوم نہیں ہوئی۔ اب یہ مسجد وغیرہ تو ہمارے جیسی ہے تو پھر کیا فرق ہے۔ یہی سنا تھا کہ آپ لوگ جہاد کے منکر ہیں اور ختم نبوت پر ایمان نہیں۔ تو کیا آپ بتائیں گے کہ جہاد کے بارے میں پھر آپ کا اصل عقیدہ کیا ہے؟ چچا کہتے ہیں کہ میرے جواب دینے سے قبل ہی مربی صاحب نے کہا کہ جناب، جماعت احمدیہ کا جہاد کے بارے میں سو سال پہلے وہی عقیدہ تھا جو اب آپ سارے مسلمانوں کا ہوتا جا رہا ہے۔ بانی جماعت احمدیہ نے جہاد کے نام پر فساد اور بغاوت کو حرام قرار دیا تھا اور اب آپ سارے بھی جہادی تنظیموں اور جہادی ملوانوں کو بین لگا لگا کر روک رہے ہیں یعنی عملی طور پر حرام قرار دے رہے ہیں۔ مرزا صاحب کی فراست نے خدا کے نور سے دیکھ کر قبل از وقت اس فتنے کو بھانپ لیا تھا اور اس سے دور رہنے کی تلقین اپنی جماعت کو فرمائی۔ آپ سو سال گزرنے اور عالم اسلام اور اسلام پر بہت سے داغ اس جاہل ملائیت کے ہاتھوں لگوانے کے بعد وہی عقیدہ اپنا رہے ہیں۔ ہمیں ساری سزا سو سال قبل سوچ لینے اور دیکھ لینے کی ملی ہے ورنہ منکرین ہم بالکل نہیں ہیں۔ اور کم و بیش یہی حال ختم نبوت کا ہے۔ آج یہ واقعہ یاد اس لئے آیا کہ امریک میں موجودہ وزیر اطلاعات کو پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیتے دیکھا اور سنا۔ ڈاکٹر کاشف چوہدری نے جو سوال اٹھایا تو وزیر موصوف نے جواب میں کہا کہ اینٹی احمدیہ قوانین اور اقلیتوں بارے جو کچھ پاکستان میں سن 1953 سے ہو رہا ہے اس کا کوئی سیدھا اور کھرا جواب تو نہیں دیا جا سکتا لیکن، ہاں ۔۔۔آپ احمدی مسلمان کے طور پر آئین کی رو سے وزیر صحت بن سکتے ہیں۔ اور یہ بات انہوں نے از راہ تفنن فرمائی۔ راقم کو وزیر اطلاعات کی حس مزاح پر کوئی اعتراض نہیں لیکن فواد چوہدری کل تک ایک دانشور اور تجزیہ نگار کے طور پر ٹاک شوز میں بیٹھ کر ہمارے علم میں اضافے کیا کرتے تھے۔ آج کیوں منہ میں گھنگھنیاں ڈال لی ہیں جناب نے۔؟ گزارش یہ ہے کہ اب بحیثیت وزیر اور حکومت و ریاست کے نمائیندہ کے طور پر پبلک کو ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔ جس طرح پچھلی حکومت اور پھر موجودہ حکومت نے سرعام گالیاں اور مغلظات بکنے والوں کو سیدھا جواب نہیں دیا اور ان کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہ کے قتل کے سر عام فتوے دینے لگے تو ایک رات کے کریک ڈاون سے ہی سانپ پٹاری میں پڑ گئے۔ اب سارے ملک کی عوام اور اقلیتیں تو بیک وقت چیف جسٹس یا چیف آف آرمی سٹاف نہیں بن سکتے۔ ان کے حقوق کا تحفظ تو چیف بنائے بغیر ہی کرنا پڑے گا۔ آپ بندر کے ہاتھ سے بندوق اس وقت تک نہیں چھینتے جب تک اس کی بندوق کا رخ آپ کی جانب نہ ہو۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقوق کی پامالی کی اذیت صرف عام آدمی کو پہنچتی ہے۔ کبھی سوچا آپ نے کہ چیف جسٹس کو بھی واجب القتل اسی الزام اور دلیل سے قرار دیا گیا لیکن ہاتھ فوری پڑ گیا۔ عام آدمی منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ لیکن ریاست کا بڑا ستون تو عوام ہیں جناب! ضمنی طور پر یاد آیا کہ جسٹس ایم آر کیانی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ میں ایک دن اپنی کوٹھی کے لان میں ٹہل رہا تھا کہ باہر کسی کے ابکائیاں لینے کی آواز آئی۔ کوئی مفلوک الحال آدمی پیٹ درد اور الٹی سے بے حال ہو رہا تھا ۔ مجھے اس کی مدد کا خیال آیا لیکن چیف جسٹس کے عہدے اور پروٹوکولز کی وجہ سے میں شش و پنج میں تھا اور نوکر کو آواز دینے گیا کہ وہ اس کا پتہ کرے۔ اتنے میں سائیکل پر جاتے کسی عام آدمی نے اس کو سنبھالا دیا اور ساتھ لے گیا۔ اور میں نے سوچا کہ،
ایک عام آدمی اور چیف جسٹس میں بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے!!!
مذکورہ بالا کہانیاں سنانے کا مقصد یہ تھا کہ عدل و انصاف اور حقوق کی فراہمی کے لئے سمجھوتوں اور کیٹگریز سے باہر نکلنا پڑے گا۔ یہی خادم رضوی، اور دیگر یاوہ گو اس سے پہلے بھی روز گالیاں دے رہے تھے، بغاوت اور فساد پر انگیخت کر رہے تھے لیکن ہاتھ ڈالنے اور ان پر بغاوت اور فساد کے مقدمات قائم کرنے کے لئے یہ کیوں ضروری تھا کہ پہلے ان کی آگ کی لپٹیں دو چیف صاحبان کے نام تک پہنچیں؟ یہاں سے آپ امتیازی قوانین اور سیلیکٹڈ جسٹس کا راستہ کھولتے ہیں جس کو بند کرنے کے لئے پھر دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ حضرت فواد چوہدری صاحب ، وزیر اطلاعات و نشریات، آپ سے دو حکومتیں قبل قمر الزمان کائرہ بھی یہی کچھ ہوا کرتے تھے جو ان دنوں آپ ہیں۔ موصوف کو ہم نے سی۔ پی۔ ڈی۔آئی کے ایک سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا۔ تو اب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ وزیر اطلاعات کو کس کس طرح حکومت کے سچ جھوٹ کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ سو کائرہ صاحب نے وہ سماں باندھا کہ آپ ان کے سامنے کیا بیچتے ہیں۔ آپ کے تو چہرے پہ شرم اور حجاب سا آ جاتا ہے مگر کائرہ صاحب تو جہاندیدہ منسٹر تھے۔ آخر پر فرمانے لگے کہ آپ لوگوں کی کوئی تجاویز ہیں تو بتائیں۔ میں نے ہاتھ کھڑا کیا تو بڑی خوشدلی سے کہا، جی بھٹی صاحب، فرمائیں۔ عرض کیا کہ جناب ایک ہی تجویز ہے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس وقت چھوٹے بڑے ملا کہ ساٹھ سے کچھ اوپر وزیر تو ہیں وفاقی کابینہ میں۔ کہنے لگے، جی درست۔ میں نے عرض کی کہ، ان میں سے صرف ایک وزیر۔۔۔۔۔۔جناب صرف ایک، انفارمیشن منسٹر ہی عوام کو دے دیا جائے۔ باقی سب حکومت اپنے پاس رکھے مگر ایک تو ہمیں دیں ۔ کم از کم ایک تو ہماری زبان بولے، ہمارے مسئلے سمجھے اور ہمارے لئے بولے۔ کائرہ صاحب آپ تو حکومت کے وکیل ہیں۔ ہمیں بتائیں ہمارا کون ہے؟ تو جناب فواد چوہدری صاحب، آج ان سطور کے ذریعے میں اپنا مطالبہ دہراتا ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت ایک وزیر تو عوام کو دے۔ باقی سب اپنے پاس رکھے۔ آپ کل تک عوامی تھے تو اب عوام کے ہی رہیں۔ تا کہ پیروں کا پیغام سر تک پہنچ تو سکے۔ آپ نے سن 53 والی دولتانہ کی سرپرستی میں چلنے والی احرار موومنٹ اور اس پر پنجاب حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ ایک وکیل کے طور پر بھی پڑھی ہوئی ہے، اور پھر 1974 کی اسمبلی اور ضیاء آرڈیننس کے ما لہ اور ما علیہ سے بھی واقف ہیں۔ اب آہستہ آہستہ پبلک سے چھپانے کی بجائے بتانے کا راستہ اپنائیں اور کھل کے بتائیں کے احمدیوں کو سزا سو سال آگے کی سوچ رکھنے، جناح کے پاکستان کی معاونت کرنے اور ہر ظلم کے باوجود اپنی پاکستانیت اور وطنیت کی حفاظت کرنے کی مل رہی ہے، ورنہ ، ایہہ بندے تے ایڈے ماڑے نئیں نیں۔۔۔۔۔ اختتام پہ قابل اجمیری کے چند اشعار، جن کے مفاہیم اس مضمون سے لگا کھاتے ہیں سن لیجئے تا کہ باتوں کی تلخی کا دف مر جائے
تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے؟
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے؟
کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے؟

Read More

طاہر احمد بھٹی

طاہر احمد بھٹی

“سو تم دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو “
12 نومبر 2019ء
0 پڑھنے کے لئے 4 منٹ

FacebookTwitterای میل کے ذریعے شیئر کریںپرنٹ کریں
(وفاقی وزیرِ پاکستان جناب اعظم سواتی کے نام)
اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر ،اعظم سواتی نے ایک ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں بلا وجہ اور بلا اشتعال، صرف ایک مفتی صاحب کی ‘تسلّی’کروانے کے لیے بلا جھجک اور بے دھڑک جماعت احمدیہ پر ‘لعنت’ بھیجنے میں خیریت جانی اور اپنے موقف کو مضبوط اور مستند بنانے کے لیے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کر لیا۔جب یہ ‘آفیشل’اور سرکاری ‘بیان’ دیا جا رہا تھا تو سکرین پر سرکردہ اینکرپرسنز مالک صاحب اور مہر عباسی بھی موجود تھے۔افسوس کی بات ہے کہ ‘اسلامی’ جمہوریہ پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف مظالم اور تکالیف کا سلسلہ تو ایک طرف ان کے بارے میں اس قدر غلط فہمیاں پیدا کی جا چکی ہیں کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور مفادات کے لیے ایک طبقے کی طرف سے اگر جھوٹے طور پر بھی دعویٰ کر دیا جائے کہ فلاں سیاسی گروہ ‘جماعتِ احمدیہ’ کو سہولت دے رہا ہے تو دوسری جانب سے ‘سادہ’ تردید کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا بلکہ جماعتِ احمدیہ کے خلاف جب تک کوئی سخت بیان یا کوئی ‘کارروائی’ نہ کر دی جائے بات نہیں ٹھہرتی۔کچھ ایسا ہی جناب وفاقی وزیر موصوف نے کیا۔تاریخِ پاکستان ایسے معروف ناموں سے بھری پڑی ہے جو وقتی مفادات کے حصول کے لیے جماعت احمدیہ کے خلاف ‘بیان بازیاں’اور ‘کارروائیاں’کرتے رہے اور ان کا ‘پھل’ یا کہنا چاہیے خمیازہ خود بھی بھگتا اور پاکستان کے عوام تو آج تک ان ‘اقدامات’ کے نتائج سہنے پر مجبور ہیں۔ اور اب یہ الفاظ ان پر صادق آتے محسوس ہوتے ہیں کہجو ابر ہے سو وہ اب سنگ و خشت لاتا ہےفضا یہ ہو تو دلوں میں نزاکتیں کیسی……؟بات مزید آگے بڑھانے سے قبل قارئین کو اپنے ایک مرحوم اور غیر معروف شاعر دوست ارشد طارق کا ایک شعر سنا دوں، جو کوئی پچیس برس قبل ان سے سنا اور آج یہ سطور لکھتے ہوئے بر محل ہونے کی وجہ سے اچانک حافظے میں تازہ ہو گیا؎گدھ کی چونچ پہ جب خونِ شہر دیکھا تھاچشم حیراں نے کئی بار ، ادھر دیکھا تھایہ بات درست ہے کہ وہ بیان چونکہ حکومت کے ایک وفاقی وزیر کا تھا اور اس میں وزیر اعظم کا نام لے کر ساتھ شامل کیا گیا ہے اور مین سٹریم میڈیا کے مشہور اینکرز کے سامنے وہ بات کی گئی ہے اس لیے سماجی اور سیاسی ریکارڈ کی خاطر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے اس پر تشویش اور اس کی تردید بھی کی ہے اور دیگر شرفاء کو بھی اس پر تشویش ہے۔لیکن آپ سے سیاسیات اور سماجی تاریخ کے طالبعلم بھی تو پوچھتے ہیں کہ جناب آپ کو لعنت کے لفظ کا شعور تو ہو گا؟ ناکامی و نامرادی،سماجی ابتری اور معاشی بد حالی آپ کے نزدیک کسی زائچے میں شمار ہوتی ہوں گی؟ تعلیمی پس ماندگی، صحت اور سلامتی کی ابتری، معاشرتی امن کا فقدان، سیاسی عدم استحکام، ریاستی طور پر متزلزل خود مختاری اور ادارہ جاتی بد نظمی اور بد حالی بھی کچھ تصویر کو واضح کرتی ہوں گی؟ اسی طرح حقوق انسانی کی عدم فراہمی، آئین و قانون کی مثالی پائمالی ،گلی کوچوں میں پائے جانے والے عام طور پر احساس عدم تحفظ اور مستقبل کا خدشات اور خطرات کی دھند میں غائب ہو جانا ……یہ ایک معاشرے اور ملک کے لیے کیا ہوتا ہے، یہ بھی آپ جانتے ہوں گے؟اس کے علاوہ بے شمار اشارئیے ہیں جو وطنِ عزیز میں جاری تنزل اور بڑھتی ہوئی بد حالی پر دلیل ہیں۔ان تمام اقسام کی ‘آفتوں’کی کشتی میں بیٹھ کر ایک ایسی جماعت پر لعنت ڈالنا جس کے……قدم قدم پر اللہ کا فضل دکھائی دیتا ہے، جس کی نہ صرف اپنی مجموعی تعلیمی حالت مثالی ہے بلکہ وہ دنیا کے دور دراز، غریب اور پس ماندہ علاقوں میں تعلیم کی دولت کو عام کر رہے ہیں، جنہوں نے صحت کی سہولتوں کا بین الاقوامی معیار کا بندوبست کر رکھا ہے جس سے نہ صرف اپنے بلکہ بلا تفریق رنگ و نسل مذہب و قومیت ہر شخص کی بے لوث خدمت کا سلسلہ جاری ہے، جن کی ‘معیشت’ دنیا کے کسی ملک میں بھی مقروض اور دوسروں پر انحصار کرنے والی نہیں ہے۔ جن کی معاشرت مثالی سطح کی پُرامن ہے۔ جن کا منظم ہونا بین الاقوامی فورمز پر رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جن کی لیڈر شپ ان کی اجتماعی خوبیوں کی آئینہ دار…… یعنی درحقیقت، اِمَامُکُم مِنْکُم کی حقیقی مصداق ہے، جس کے زیرِ سایہ وہ تعلق باللہ اور توکّل علیٰ اللہ کے سالک بننے کی تگ و دو میں مگن ہیں۔یہ کیفیاتی، احساساتی اور نظریاتی جواب تھا جو آپ کونہیں بلکہ آپ کی وجہ اور حوالے سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر میں موجود سعید الفطرت طبقے کی سہولت کے لیے لکھا گیا ہے کہ ان کے حافظے میں رہ جائے۔ اور خدا تعالی کی آئندہ میں ظاہر ہونے والی ‘رحمتوں’ اور ‘لعنتوں’ میں فرق کرنے کے لیے مددگار ہو۔آج کے مضمون کا عنوان میں نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک اقتباس سے لیا ہےجس میں آپؑ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرما رہے ہیں کہ، تم دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو……کہ یہ دن کو رات نہیں کر سکتی، البتہ خدا کی لعنت سے ڈرنے کے لیے کہا کہ وہ جس پر پڑے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر دیتی ہے۔سواتی صاحب!آخر پہ ‘آنمحترم’ اور قارئین کے لیے وضاحت کر دوں کہ از روئے لغوی مفہوم لعنت خدا سے دوری کا مفہوم بھی اپنے اندر رکھتی ہے اور اہل خدا کو زیبا ہے کے وہ دنیاوی بے اختیاری کی حالت میں کسی ظلم وستم سے ستائے جائیں تو اپنی بے اختیاری اور بے بسی میں خدا تعالی سے استمداد اور اس کے قہر کو اپنی کمزوری کی ڈھال بنا کر اپنے مخالفوں کے لیے مانگیں اور معاملہ خدا پر چھوڑ دیں۔سوال یہ ہے کہ کیا آپ اس تعریف کے تحت لعنت ڈالنے کے لیے کوالیفائی بھی کرتے ہیں! لیکن خیر وطنِ عزیز میں تو ہر سمت الٹی گنگا ہی بہ رہی ہے
مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین
تیغ کو کھینچے ہوئے اس پر کہ جو کرتا ہے وار

Read More

Languages

Archives

Advertise with us: اشتہارات

Amazon

Pin It on Pinterest

Share This