طاھر احمد بھٹی

آدمی اکیلا ہے
راستے ہزاروں ہیں
زندگی جمھیلا ہے
جھمگٹے ہزاروں ہیں
روشنی اکیلی ہے
رنگ سو طرح کے ہیں
سوچ چل نکلتی ہے
سامنے اجالا ہو
یا کہ گھپ اندھیرا ہو
ذہن ساتھ دیتا ہے
دل بھی ہاتھ دیتا ہے
راستا سجھانے کو
راہ جگمگانے کو

اس قدر مسافر ہیں
راستوں کے جنگل میں
ایک راہ نکلتئ ہے
وہ بھی دشت امکاں میں
کتنا خون جلتا ہے
راہ جگمگانے میں
فاصلہ ہی بڑھتا ہے
قربتیں بڑھانے سے
کتنا یاد آتے ہیں
وہ ہمیں بھلانے سے
ڈور ٹوٹ جاتی ہے
اشک جھلملانے سے
شور تھم سا جاتا ہے
یاد گنگنانے سے
آنکھ خود تماشا ہے
کیا کہیں زمانے سے

دل کو تھام اٹھتے ہیں
وقت کی لگاموں پر
کس کا زور چلتا ہے
ساتھ کون چلتا ہے
آدمی اکیلا تھا
آدمی اکیلا ہے
ساتھ گو فرشتہ ہو
ایک وقت آتا ہے
آدمی سے کہتا ہے
یہ جو ایک بیری ہے
یہی میری منزل ہے
اب اگر میں چاہوں بھی
آگے جا نہیں سکتا
بیری ، روک لیتی ہے
پر بھی جلنے لگتے ہیں

آدمی کی ہمت ہے
اور بشر کی قسمت ہے
آسمان چھو آئے
چاند دسترس میں ہے
اور ستارا رستے میں
سنگ میل ہے کوئی
نہ کوئی تعین ہے
اک قدم زمیں پر ہے
دوجا دشت وحشت میں

یہ بھی تیری منزل ہے
وہ بھی تیری منزل ہے
اور میں فرشتہ ہوں
بیری میری منزل ہے
آپ آدمی ٹھہرے
اور آدمی اکیلا ہے
آرزو کے جھرمٹ میں
دل مگر اکیلا ہے
آرزو سے کہتا ہے
مجھ کو دور جانا ہے
تیرا ساتھ کب تک ہے
تو بھی اک فرشتہ ہے
جہاں بیری دیکھے گی
وہیں بیٹھ جائے گی
ساتھ چھوڑ جائے گی
بیری تیری منزل ہے
مجھ کو آگے جانا ہے
آگے میری منزل ہے