رانامحبوب ا ختر۔۔۔۔۔رند بخشے گئے قیامت میں

رانامحبوب ا ختر

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا‘ حساب حساب
ہالینڈ کے انتخابات میں گیرت ولڈرز نے حساب حساب کا ورد کیا۔ تارکین وطن کےخلاف دلائل کے طومار باندھے۔ سفید فام نسل پرستی کی دہائی دی۔ عیسائی بنیاد پرستی کو آواز دی۔ اقتدار اعلیٰ اور سکیورٹی خدشات کا الارم بجایا مگر ہار ان کا مقدر ٹھہری۔ سنہرے بالوں والوں نے دنیا میں اندھیر مچارکھا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ‘ برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن اور ہالینڈ کے ولڈرز بایں معنی ہم زلف ہیں۔ انسانوں کیلئے رشتوں کی اہمیت سمجھنے کو زلف محض استعارہ ہے کہ رشتے بھی زلفوں جیسے ہوتے ہیں اور ہوا چلے تو برہم ہوجاتے ہیں جب کہ زندگی کا بُت طناز پیچیدگی کا خوگر ہے۔ زندگی پُرپیچ راہوں سے ہم تک پہنچی ہے۔ دائروں میں سفر کرتی ہے۔ سنہری بالوں والے آخر زندگی کو سادہ فارمولوں میں کیوں باندھتے ہیں؟
ہمیشہ سر کو جھٹک کر جواب دیتا ہے
وہ ہر سوال کو زُلفوں کا خم سمجھتا ہے
آپ نے Dutch Courage یا ولندیزی شجاعت کی اصطلاح سنی ہوگی۔ دلیری جو پیر مغاں کے کرم سے ملتی ہے۔ تاریخ کی گواہی ہے کہ اس کی شہ سرخیاں خون کی سرخی سے لکھی جاتی ہیں۔ 1618ءسے 1648ءتک یورپ میں تیس سالہ جنگ ہوئی۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ جب حضرت عیسیٰ ؑکی محبت میں ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ اس جنگ میں 80لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ یہ سب عیسائیت کے نام پر ہوا۔ اس جنگ میں حصہ لینے وا لے انگریز سپاہیوں نے دیکھا کہ ولندیزی سپاہی ایک مشروب پینے کے بعد بڑی بے جگری سے لڑتے ہیں۔ پتہ چلا کہ وہ ایک خاص ولندیزی مے سے مست ہوکر شجاعت کے جوہر دکھاتے ہیں۔ پھر جرا¿تِ رندانہ پارساﺅں کو شکار کرتی ہے۔ یہ بات برسبیلِ تذکرہ ہے۔ نفسِ مضمون سے اس کا شاید کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ ریاض خیرآبادی خُمریات کے شاعر ہیں مگر ساری زندگی انہوں نے مے نہیں چکھی۔ کمال یہ ہے کہ وہ شاعری میں رندِ خرابات لگتے ہیں اور حیران کن مضامین باندھتے ہیں:
شرابِ ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے
حرم کے لوگ طوافِ خم و سبوُ کرتے
شاعروں کے امام نے جرا¿تِ رندانہ کو گل افشانی ¿ گفتار سے جوڑا ہے:
پھر دیکھئے اندازِ گل افشانی ¿ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانہ ¿ صہبا میرے آگے
ولندیزی شجاعت کی کمی نے دمِ حسرت غالب کو یہ کہنے پر مجبور کیا:
میں اُنہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پئے ہوتے
یورپ اور امریکہ میں مغائرت کی ہوا چلی ہے۔ Brexit کے بعد برطانیہ اپنے ہمسایوں سے بیگانگی کی راہ پر ہے۔ امریکہ کے رجعت پسند ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے بجائے زندگی کی شبِ تاریک کی پناہ میں سونا چاہتے ہیں۔ غلاموں کی طاقت جب سے روبوٹ میں منتقل ہوئی تو غلاموں کے سجدوں کی اہمیت کیا ہوئی؟ امریکی اور برطانوی امیر ہوکر غریبوں کے محلوں میں زندگی بسر کریں گے تو سڑاند کی بُو نہیں آئے گی؟ غریبوں کا امیر ہمسایہ انسانیت کوتیاگ دے گا؟ غربت کے سمندر میں خوشحالی کے جزیرے سمندروں کے مزاج کے محتاج ہی تو ہوتے ہیں۔ امریکی نیتاﺅں کو غور کرنا چاہیے کہ حال ہی میں جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل امریکہ کے دورے پر گئیں تو ایک مغربی اخبار کی شہ سرخی تھی کہ فری ورلڈ کی رہنما امریکہ کے دورے پر ہیں۔ کل تک امریکہ کو آزاد دنیا کا قائد مانا جاتا تھا۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے!
اس پس منظر میں ہالینڈ کے انتخاب کی اہمیت دوچند ہوگئی تھی۔ یورپی یونین کا اتحاد داﺅ پر لگا تھا۔ فرانس‘ جرمنی اور ہالنڈ میں ہونے والے انتخابات میں سب سے پہلے ہالینڈ نے رجحان سازی کا کردار ادا کرنا تھا۔ فرانس کی میری لی پین‘ جرمنی کی فراک پٹری‘ ہالینڈ کے ولڈرز اور ان کے ووٹرز کی نظریں ہالینڈ کے انتخاب پر تھیں۔ 15مارچ 2017ءکے انتخاب میں ولڈرز کی فریڈم پارٹی ا کثریتی جماعت نہ بن سکی۔ 150 کے ایوان میں موجودہ وزیراعظم مارک رَتے 33ارکان کے ساتھ پارلیمان میں سب سے بڑی پارٹی کے قائد ہیں۔ ہالینڈ میں کوئی 94سیاسی جاعتیں ہیں اور گزشتہ 120سال سے مخلوط حکومت کی روایت چل رہی ہے اور وزیراعظم مارک نے حکومت سازی کےلئے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔ اس انتخاب میں 80فیصد سے زیادہ ووٹرز نے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا کہ ہائر ٹرن آﺅٹ کی وجہ سے یورپی یونین کے حامیوں کو کامیابی ملی ہے۔ فرانس کے صدارتی امیدوار ایمانوائیل میکرون نے کہا کہ دائیں بازو کی جیت کا مفروضہ غلط ثابت ہوگیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر جنکر نے اسے روادار اور خوشحال یورپ کی فتح قرار دیا۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ بریکسٹ کے بعد یورپ کے اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات میں کمی ہوگی اور ہالینڈ کے انتخاب جرمنی اور فرانس کے انتخاب پر مثبت طور پر اثرانداز ہوں گے۔
آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی نے جغرافیائی دیواریں گرادی ہیں۔ 30سال کی خونیں جنگ کے بعد یورپ میں ویسٹ فیلیا کا معاہدہ 1648ءمیں ہوا۔ اس معاہدے کے بعد قومی ریاستوں اور اقتدارِاعلیٰ کے تصورات نکھر کر سامنے آئے۔ قومی حمیت اقتدار اعلیٰ کے سائے میں جوان ہوئی۔ بیسویں صدی میں دو جنگیں ہوئیں۔ کروڑوں لوگ قتل ہوئے۔ اقوامِ متحدہ بنی۔ پچھلے 70سالوں میں جنگجو اور قبضہ گیر آدم کو پسپائی ہوئی ہے اور قومی ریاستوں کے اقتدارِ اعلیٰ اور خودمختاری کے پرانے تصورات کو ضرب لگی ہے۔ سکیورٹی‘ تارکین وطن اور ہجرت کو بہانہ بناکر پرانی دنیا اپنی بقاءکیلئے لڑرہی ہے۔ دہشت گردی پرانی دنیا کے دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ ابلاغِ عام‘ اطلاعات کی مفت فراہمی‘ ڈیٹا کا بے دریغ فلو اور Internet of All Things سے پرانے آدمی کو خوف آتا ہے۔ پرانا آدمی تعصب‘ قومیت‘ نفرت اور دہشت کی چھتری کے نیچے چھپ رہا ہے۔ ہالینڈ کے انتخابی نتائج نئی دنیا اور یورپ کیلئے خوشگوار ہیں۔ ہالینڈ کے عوام کو مبارک ہو۔ نئی دنیاکے باسیوں اور تارکین وطن کو مبارک ہو۔ ہالینڈ میں مقیم کامریڈ اسد مفتی کی خیر ہو اور یورپی یونین کی جے ہو۔

شیخ کہتا رہا‘ حساب حساب۔

بشکریہ خبریں آنلائن

اپنا تبصرہ بھیجیں