بقاء کا روزنامچہ، افریقہ۔۔۔۔۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

کیا مالی میں کرونا  وائرس کے صرف دو کیسز ہیں ؟
(چوہدری نعیم احمد باجوہ )
مالی مغربی افریقہ ایک مسلمان ملک ہے۔ ا س کا  رقبہ ساڑھے بارہ لاکھ مربع کلومیٹرز ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے یہ افریقہ کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔جب کہ آبادی  دو کروڑ کے قریب ہے ۔  ہمسایہ ممالک میں  سنیگال ، برکینا فاسو ، ایوری کوسٹ ،الجیریا، گنی ، نائجر اور موریطانیہ ہیں۔ اس کا پرانا نام فرنچ سوڈان تھا اورفرانس کی کالونی رہنے کی  وجہ سے یہاں کی سرکاری زبان فرنچ ہے۔ یہاں سے لوگوں کا فرانس آنا جانا عام ہے  کوئی ڈیڑھ لاکھ کے قریب  مالین فرانس میں قیام پذیر ہیں۔
حالیہ کرونا وائرس وبا نے سر اٹھایا تو فرانس میں اس کی شدت بہت زیادہ دیکھی جارہی ہے ۔   فرانس میں  تیس ہزار کیسز میں سے سترہ  سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
مالی میں کرونا کے دو کیسز مورخہ 25مارچ 2020کو کنفرم ہوئے ہیں ۔ یہ دونوں لوگ فرانس سے ۱۲ مارچ کو مالی آئے تھے ۔ مالی نے اس وقت تک اس وائرس کے خلاف دفاع کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ۔ قرنطینہ کا کوئی انتظام  تھا نہ چیکنگ کا۔ ابھی بھی فلائٹس بند نہیں ہوئیں ۔ یہ دونوں لوگ اپنے اپنے خاندان میں چلے گئے۔ فرانس سے واپس آنے کے عین چودہ دن بعد ان میں کرونا وائرس کنفرم ہو ا ہے۔  اب ان دونوں نے کتنے لوگوں کو یہ وائرس منتقل  کیا ہے  اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا ۔
مالی ایک  غریب ملک ہے ۔ جو 2012سے خانہ جنگی اور دہشت گردی کا شکا رہے ۔ اس لڑائی میں ہزاروں لوگ اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں ۔  ملک کے بہت سارے علاقوں میں   لا اینڈ آرڈر کی صورت حال نازک ہے ۔ اور اگر خدا نخواستہ یہاں وائرس پھیل گیا تو بہت سارے علاقوں میں  لوگوں کی مناسب راہنمائی کرنا معلومات دینا  اور میڈیکل سہولیات پہنچانا   ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔
کیا اس  نئی صورت حال سے نبٹنا مالی کے لئے آسان ہوگا ۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔ جس کا جواب وقت کے ساتھ ہی مل سکتا ہے ۔   تاہم خوش آئند بات  یہ ہے کہ کیسز کنفرم ہونے کے ساتھ ہی سیاسی قیادت نے فوری رد عمل دکھایا ہے ۔پہلے  روز ہی صدر مملکت نے ملک بھر میں رات نو بجےسے صبح پانچ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اپنی تمام سرحدیں بندکر دی ہیں ۔ جن میں سے زیادہ تر دوسرے ممالک کی طرف سے  پہلے ہی بند کی جاچکی تھیں ۔ 
لیکن دوسری طرف ممبران پارلیمنٹ کے لئے ہونے والے عام  انتخابات  ملتوی نہیں کئے ۔  انتخابات اتوار۲۹ مارچ کو ہونا قرار پائے ہیں ۔  یہ انتخابات 2018کے آخر پر ہوناتھے لیکن ملتوی ہوتے ہوتے یہاں تک آپہنچے ہیں ۔
کیا مالی اپنے محدود  وسائل ، وسیع رقبہ، لوگوں کے لائف اسٹائل  اور خانہ جنگی  کے باوجود کرونا وائرس پر قابو پا سکے گا ۔ اگر یہ ہو جائے تو یقیناً  بہت بڑا  معجزہ ہو گا۔ احترام انسانیت میں  یہ دلی تمنا ہے کہ ایسا ہو جائےلیکن یہ چیلنج اتنا آسان نہیں ہوگا ۔
۲۶ مارچ ۲۰۲۰

اپنا تبصرہ بھیجیں