ہوم / حقوق/جدوجہد / کاش کچھ اقدار ہوتیں جو نہیں۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کاش کچھ اقدار ہوتیں جو نہیں۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کاش! کچھ اقدار ہوتیں، جو نہیں

آج زرداری صاحب کو حامد میر کے پروگرام میں بد ترین تکبر کرتے بلکہ بھگارتے دیکھا تو کیا کیا کچھ یاد آ کے رہ گیا۔
پروگرام میں زرداری صاحب سمیت بہت کچھ قابل گرفت تھا لیکن قابل ذکر بات یہ کہ
اپنے ہی بنائے ہوئے چئیرمین نیب کو پیروں پڑنے کی دھمکیاں،
حکومتی اہل کاروں کو لتاڑنا،
اور سول بیورو کریسی کو کہنا کہ ان کی کیا مجال۔۔۔۔
اس سے کچھ دن قبل ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی تحریک انصاف کے ممبر کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دیتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ میں دکھائی دئے۔اس کے علاوہ بھی بیت کچھ سننے اور دیکھنے کو ملتا رہتا ہے جسے آپ کچھ بھی کہئے مگر تہذیب اور شرافت بہر حال نہیں۔
منو بھائی کی ایک مشہورو معروف نظم ہے جو انھوں نے 1988 کے کل پاکستان مشاعرے میں ایوان محمود ربوہ میں بھی سنائی تھی۔ اس گفتگو میں ایک دو بند تو آ ہی جائیں گے کیونکہ بہت ہی بر محل ہیں۔ اول تو یہ ہی سنئیے کہ،

باندر بیٹھے جوءاں کڈھن، اک دوجے دے والاں چوں
دودھ پیاندی کڑی نوں ویکھن، امرت ٹپکے رالاں چوں
تے بڑے سیاسی نکتے لبھدے، ماں پہین دیاں گالاں چوں
پر اجے قیامت نئیں آئی!۔۔۔۔۔۔۔ پر اجے قیامت نئیں آئی۔

تو جناب یہ ہیں ہمارے لیڈر اور یہ ہیں ہمارے پالیسی میکرز۔۔۔۔۔۔اور یہی ہمارے لاء میکرز ہیں۔
زرداری صاحب آپ کو کسی نے نہیں بتایا کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں ہوتا اور میں نے تو آپ کا کوٹ لکھپت جیل کا دو کمرے کا مکان دیکھا ہوا ہے جس میں آپ نے آم کے درخت بھی لگوائے ہوئے تھے۔ اور ان دنوں آپ کھونڈی پکڑ کے چلتے تھے۔
جی جناب وہی چکی جس کی دیوار پانچ نمبر بیرک کا ساتھ لگتی ہے۔ میری اور آپکی چکی کی دیوار سانجھی تھی اور آپ کے صحن کی دیوار پھانسی گھاٹ کے ساتھ لگتی تھی۔ تو وہ کیس جب بنے تھے تو بنانے والوں کی مجال تھی ناں؟
یہ اس سے چند سال بعد کی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی پوسٹنگ آپ کے ایف ایٹ والے زرداری ہاوس پر تھی۔ ایک دن مجھے کہنے لگا کہ "اج زرداری صاحب نے مونچھیں چھوٹی کروائی ہیں، لگتا ہے واقعی صدر بننے لگے ہیں”
تو اس پہ میں نے کہا کہ پھر تو واقعی بہروپئیے ہی ہوئے ناں۔ کل تک داداگیری بلکہ اٹھائی گیری کرنے والے کو بس مونچھیں ہی کٹوانی ہیں اور بس۔۔۔۔۔بن گئے صدر
یہ ہے جمہوریت، اور یہ ہے میرٹ بلکہ میرٹ کا جنازہ۔
حامد میر صاحب آپ کی باتیں سنتے رہے اور سنتے رہیں گے۔ پلٹ کے یہی کہہ دیا ہوتا کہ جناب آپ اپنے لہجے کی رعونت ہی سنبھالئے، آپ پبلک میڈیم پہ بول رہے ہیں۔۔۔۔یہاں بڑی مونچھیں مناسب نہیں لگتیں۔
لیکن ایسا اب نہیں ہو گا۔ اب تو منو بھائی بھی بہت بوڑھے اور بیمار سے رہنے لگے۔ اور کروڑوں پاکستانیوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے راہنما اب یہی کچھ ہیں، اور اب الٹ پلٹ کے انھی سے کام چلانا ہے۔
عبیداللہ علیم مرحوم نے ایک مضمون کی ابتداء اس جملے سے کی تھی کہ،
"ہمارا ادب اتنا بے سیاست نہیں ہے جتنی ہماری سیاست بے ادب ہے”
لیکن یہ تو کوئی چار دہائیاں قبل کی صورت حال تھی۔ اب پڑھتے ہوئے ادب کے ساتھ تمیز اور تہذیب کا بھی اضافہ فرما لیا کیجئے۔
دوسرے سرے پر افواج پاکستان ہیں جن کے آئینی سر براہ مذکورہ بالا پائے اور معیار کے لوگ ہیں۔
پیپلز پارٹی میں تاج حیدر اور رضا ربانی زرداری نہیں بن سکتے اور اعتزاز احسن کی آخری سطح اس جانب کا چوہدری نثار
بن سکنا ہے اور بس۔
ن لیگ میں سید ظفر علی شاہ جیسے کمٹڈ لوگ وقت پڑنے پر اسلام آباد کے میئر بھی نہیں بن سکتے ہاں البتہ سینیٹر وغیرہ بن جائیں۔ عمران خان ابھی تک اسی گو مگو میں ہیں کہ میں کب کیا بنوں گا۔ سماجی خدمات میں ترقی کرتے کرتے عبدالستار ایدھی بن سکتے تھے لیکن وہ ایدھی صاحب جتنے بے لوث نہیں ہیں۔
بندریا کے پیر جلیں تو وہ اپنے بچے پیروں کے نیچے رکھ لیتی ہے، ان موصوف کے پیر کیا جب عاطف میاں کے ذکر پر سورج سوا نیزے پہ نہیں بس مولوی کے روپ میں ذرا سا چمکا تو انھوں نے جھٹ سے ختم نبوت کا سائبان تان لیا۔
اندر ایں حالات مجھے سادہ، شریف اور محب وطن مظلوم و مجبور پاکستانی سے یہ پوچھنا ہے کہ بھائی آرمی اور آرمی چیف اب آپ کے لئے مزید کیا کرے اور کیسے کرے۔
سر دست ان کے بس میں یہی کچھ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

ممکنہ سرحدوں کی حفاظت۔
ایٹم بم کی حفاظت اور پوری پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ حفاظت
کبھی کبھار مچھندروں کی پکڑ دھکڑ
میلی آنکھوں والوں کو آنکھیں دکھانا
سابق آرمی چیف کو غدار بنا کر لٹکانے لگیں یا لال مسجد آپریشن پہ سزا سنائی جانے لگے تو ایسی روائیت نہ پڑنے دینا اور اس کو ریسکیو کرنا
ایدھی صاحب کا جنازہ پڑھنے کو ممکن بنانا اور ان کے اہل خانہ کو جلا وطنی سے بچانا
اور کسی آئندہ آرمی چیف پہ احمدی ہونے کا الزام لگ جائے تو اس کا تدارک کرنا

علاوہ ازیں مسلح افواج میں دولتانہ دور کے مذہبی انتہا پسندوں اور اسلامسٹوں کے نفوذ کو روک کر افواج کا پیشہ وارانہ تشخص بر قرار رکھنا ، کیونکہ عدلیہ اور بیورو کریسی میں یہ عناصر حد اعتدال سے منظم انداز میں تجاوز کر رہے ہیں اور سیاسی نظام تو اب ان کی باقاعدہ آماجگاہ بن چکا ہے۔

اور بطور خاص یہ کہ اتنی رٹ قائم رکھنا کہ جس سے جرنیلوں اور چھاونیوں کا ماحول اور سی پیک جیسے پراجیکٹ مولوی کے بلاسفیمی کے حملوں اور سیاستدانوں کی چائنا کٹنگ اور کمشن کمشن سے محفوظ رہ سکیں۔
باقی رہے اللہ بھلا کرے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عاصم، ایان علی اور شرجیل میمن۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تو یہ ان کی ترجیحات میں نہیں ہیں بلکہ یہ چوہدری نثاروں اور جیالوں جانثاروں کی ڈومین میں آتے ہیں۔
رہا سوال عدلیہ کا۔۔۔۔۔اور وہ بھی اعلی ترین عدلیہ کا۔
تو سنئیے اور ذرا غور سے سنئیے۔
دو فیصلے محفوظ ہیں۔۔۔۔۔ایک کو چالیس سال ہونے کو آئے اور ایک کو یہی کوئی چالیس دن کے قریب۔
ربوہ میں ایک مسلم کالونی بنی ہوئی ہے جو جماعت احمدیہ کی سو سالہ لیز کی زر خرید زمین میں سے دریائے چناب کے ساتھ چند سو کنال پر مولویوں کا حکومت کی مدد سے جبری قبضہ ہے جو تمام شواہد کے ساتھ ایک "اوپن اینڈ شٹ”کیس ہے اور فیصلہ،…….. مولویوں کے حق میں تو کیس کے شواہد نہیں کرنے دیتے اور احمدیوں کے حق میں "حالات” اجازت نہیں دیتے۔
اس لئے وہ فیصلہ چالیس سالوں سے محفوظ ہے اور پاکستان کی خاموش اور بے بس اکثریت اس سے لا علم ہے۔ اور چالیس دن والے فیصلے پہ کان لگائے ہوئے ہے۔
نمبردار کے گھر کام کرنے والی نے لوگوں کو سیاپا کرتے اور پیٹتے روتے دیکھا تو پو چھا کہ کیا ہوا؟
کہا کہ نمبردار مر گیا ہے۔
وہ برتن دھوتے ہوئے بڑ بڑائی،
"ایتھے باپو ورگے مر گئے نیں۔ ایہہ نمبردار نوں روندیاں نیں”
بس اتنا سوچ لیں کہ عدالتیں حکومتوں میں ہوتی ہیں، اور ریاست کے سارے ستون ہی سلامت ہوں تو عمارت کہلائے گی ورنہ ایک آدھ ستون تو کھنڈرات میں ہی کھڑا نظر آتا ہے۔
پناما قسم کے فیصلے ایک ستون والی عمارت میں محفوظ بلکہ زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔
ویسے اس میں سے نکلے گا کیا؟
نواز شریف نا اہل ہو جائے اور شرجیل میمن اہل ہو تو فرق کیا پڑتا ہے۔ لوگ تو مرتے رہیں گے اور ان کو یہ کبھی بھی نہیں بتایا جائے گا کہ ان پر یہ عذاب اتر کیوں رہے ہیں، شھر جل کیوں رہے ہیں اور لوگ مر کیوں رہے ہیں اور پرندے ہجرت کیوں کر رہے ہیں۔
عربی کے ایک شعر کا آزاد ترجمہ ہے کہ،
اگر تم کووں کی پیروی کرو گے تو وہ ضرور تمہیں مردار اور ہلاکت تک لے جائیں گے۔
اور ان دنوں میڈیا پر کائیں کائیں تو بہت ہوتی ہے۔ آپ نے بھی سنی ہی ہو گی۔

دمبدم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شھر والو سنو۔
جیسے آئے دبے پاوں سیل بلا شھر والو سنو۔

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

غزل۔۔۔۔۔۔۔ملک نجیب احمد فہیم

ہم سے تو دل کا درد سنبھالا نہیں گیا دل کو بھی شہرِ جاں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend