صاحب استغراق، مشتاق احمد یوسفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

عنوان میں جس استغراق کا ذکر ہے یہ دراصل یوسفی صاحب سے پہلی ملاقات کا نقش اولیں ہے جو بعد میں زیادہ گہرا ہوتا گیا اور اس میں استغناء اور انکسار کے رنگوں کی آمیزش ہوتی رہی۔
وسط سن 1994 میں قومی مقتدرہ والوں نے اسلام آباد میں ایک اردو کانفرنس کروائی اور اسلام آباد ہوٹل میں پاکستان بھر کے اہل علم و ادب کا جلسہ لگ گیا۔ ہمارے دوست آذر لقمان نے آ کر کہا کہ ضرور جانا ہے کیونکہ یوسفی صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔ کاراوائی ختم ہوئی اور امجد اسلام امجد، منو بھائی، افتخار عارف جیسے نام اور لوگوں کا ہجوم۔
ہال کی جنوبی دیوار کے ساتھ گم سم اکیلے یوسفی صاحب ، انگریزی مصرعہ،
Standing in the corner, watching the world…..
کی تصویر بنے کھڑے تھے اور پہلو میں یہ عاجز۔ علیک سلیک کے بعد رسمی طور پر پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟
میں نے عرض کی کہ زیر لب دعا کر رہا ہوں کہ ان مشاہیر کی موجودگی میں اپنی جگہ کھڑے رہنے کی طاقت اور استقامت نصیب ہو جائے اور بس۔
گہری ہوتی ہوئی مسکراہٹ سے فرمانے لگے کہ، جیسے ہم دیوار سے لگے کھڑے ہیں۔۔۔۔۔لگتا ہے کہ دعا قبول ہو گئی ہے۔
اس ابتدا اور بالمشافہ شرف ملاقات کے بعد اٹھارہ سال اور چار کتابیں بیت گئیں مگر دوبارہ مل بیٹھنے کی نوبت نہیں آئی۔ ان کا لکھا پڑھتے رہے اور ان کا کہا سنتے رہے مگر سرائیکی کافی کے مصداق۔۔۔۔۔۔
متاں ول نہ ٹکروں، زندگی پرائی اے۔
تا وقتیکہ سن دو ہزار بارہ کے نومبر میں ایک ڈاکومنٹری پراجیکٹ پہ کراچی جانا ہوا اور ایک شام فون کیا کہ حاضر ہونا چاہتا ہوں۔
فرمانے لگے کہ میں نے آرٹس کونسل کی ایک تقریب سے بھی معذرت کی ہے۔
عرض کیا کہ میں آرٹس کونسل سے نہیں ہوں۔
مجھے تو آنا ہے کیونکہ جس کتے کی وفات آپ کی بوگن بیلیاء کی بیل کے پاس ہوئی تھی اس کا افسوس کرنا ہے۔
لمبی چپ کہ بعد بولے۔۔۔۔اچھاااا
تو آپ کیسے آئیں گے؟
اگر ٹیکسی سے آئیں تو آپ کو آدھ گھنٹا لگے گا، ساتھ ہی خیابان بدر کا ایڈریس لکھوایا جس کا تلفظ بھی درست کروایا کیونکہ میں بدر کی دال پر زبر کے ساتھ بول رہا تھا اور وہ د پر جزم کے ساتھ درستی کروا رہے تھے۔
وضع داری کا عالم یہ کہ بڑا سا پرانی طرز کا فون گود میں لئے بیٹھے تھے کہ اگر دیر ہو یا راستہ بھولیں تو میں فون کے پاس ہی ہوں۔
ملاقات میں سلیبرٹی کا رنگ کہیں نہیں تھا اور استغراق اور گہرا اور معنی خیز ہو چکا تھا۔ بایں ہمہ وہ گھمبیرتا باہمی گفتگو میں مزاحم نہ تھی کیونکہ وہ ملاقاتی کے لئے اوڑھی ہوئی نہیں بلکہ شخصیت میں گندھی ہوئی تھی۔
اور وہ ملاقات پانچ بجے شام سے لے کر ساڑھے سات کے کچھ بعد تک چلی۔ اس میں ان کو نہ تو کوئی کام یاد آیا اور نہ ہی گفتگو کہیں رکی۔ ان کی بیگم کی وفات کا تذکرہ کتاب سے ہی ہوا مگر اس پہ ان کے تاثرات نصابی اور کتابی نہیں تھے۔ عرض کی کہ مجھے تو آپ اور آپ کی تحریروں پر سنجیدگی اور رنجیدگی غالب دکھائی دیتی ہے اور مزاح اور طنز بھی ہلکے محسوس نہیں ہوتے۔ اسی لئے اس کتے کے مرنے کی تصویر کشی کا اثر اس کی زندگی کی ظرافتوں سے زیادہ گہرا ہے۔
اس پر انہوں نے صوفے کی ٹیک چھوڑ دی اور گفتگو میں اتر گئے، کہیں پایاب پانیوں میں انگریزی کے جملے بول دیتے اور کہیں پائینچے چڑھا کر شعروں میں اتر جاتے۔ چوہدری محمد علی مضطر صاحب مرحوم کی نظم تنہائی اور غزلوں کو مصرعہ در مصرعہ اپنے استفہام سے نوازتے ہوئے عبیداللہ علیم تک آئے۔
کہنے لگے کہ، کبھی کبھی لگتا ہے کہ علیم جلدی چلا گیا۔۔۔!
میں نے عرض کی کہ اگر وہ اپنے حصے کا کام کر گئے تو پھر عمر کے سالوں کے حوالے سے جلدی یا دیر کا تعین کیا کرنا..؟
بلا تامل فرمانے لگے کہ، ہاں۔۔۔۔یہ بھی ٹھیک بات ہے۔
ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کی کتاب پس نوشت ان کے پاس آ چکی تھی۔ اور ان کے کام پر بہت مسرور تھے۔ میں نے عرض کیا کہ دوسری جلد پس پس نوشت بھی آ چکی ہے۔ سن کر کھل اٹھے۔ فرمانے لگے کہ اگر پروازی صاحب سے بات ہو تو میرا دونوں ہاتھوں سے سلام کہیں اور کہنا کہ دیار غیر میں بغیر لائیبریریوں کی سہولت کے آپ نے اردو سوانح عمریوں پر جو کام کر دیا ہے یہ ہماری نوجوان نسلوں کے لئے بہت بڑی خدمت کی ہے آپ نے۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے۔
دوسری بار چائے کا کپ تھماتے ہوئے فرمایا۔۔۔۔۔کچھ عطا کریں اپنے کلام میں سے۔
یوسفی صاحب کی آنکھوں کا ارشاد اور ہونٹوں سے “عطا کریں” سننے کے بعد بھی اگر بندہ شعر سنا دے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہو گا کہ ان کی مجلس اور برتاوا احساسات کمتری و برتری کی آلائشوں سے الگ ایک باہمی یگانگت اور موانست کا ہی رنگ رکھتی تھی جس میں اگر فارسی نہ بھی آتی ہو تو،

تا کس نہ گوئید بعد ازاں من دیگرم تو دیگری ،

کا مفہوم سمجھ میں آ جاتا تھا۔ اس بہاو میں چھوٹی بحر کی ایک غزل کے چند شعر عرض کئے تھے۔ دو تین آپ بھی سنئے، کہ

اس کے آنے تلک نہ جانا کہیں
اشک اول، ڈھلک نہ جانا کہیں

خواب در خواب جستجوئے خیال
پائے ادراک، تھک نہ جانا کہیں

تیرے سائے میں سرفرازی ہے
دست رحمت، سرک نہ جانا کہیں

ساری غزل کو اپنے انہماک سے نواز کر کچھ دیر کو چپ ہو گئے۔ چند منٹوں کے سکوت کے بعد گویا ہوئے ، اور فرمایا،
ہمارے ایک دوست ہیں محبوب خزاں، ان کا کبھی کا کہا ہوا ایک جملہ ہے کہ،
“کم لکھو، اچھا لکھو اور اپنا لکھو۔۔۔”
شکر ہے کہ تمہارا کلام اس معیار پہ پورا اترتا ہے۔ کہنے لگے کہ پنجاب میں کہاں رہائش ہے؟
عرض کیا کہ ہوم ڈسٹرکٹ تو شیخوپورہ ہے مگر سکونت ربوہ میں ہے۔
پھر ایک مختصر سکوت اور پھر یوں گویا ہوئے،

“ہمیں بھی آپ کے ربوہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے ، لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب قبلہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب، ابھی ربوہ ہی میں قیام فرما تھے”
اس رکھ رکھاو اور اس احترام کے ساتھ امام جماعت احمدیہ کا تذکرہ کرنے کے لئے مشتاق احمد یوسفی یا فیض احمد فیض کے قد و قامت ہی کے لوگ درکا ہیں۔ اگر کسی کا اپنا قامت اتنا بلند نہ ہو جتنا یوسفی صاحب کا تھا تو ان سے انسان تہذیبی شائستگی کے ایسے معیار کی توقع بھی کیا رکھے۔
حضرت چوہدری محمد علی مضطر صاحب سے جب بھی یوسفی صاحب کا تذکرہ ہوا تو وہ ایک جملہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ، یوسفی صاحب کو نوبل پرائز پتا نہیں کیوں نہیں ملا،
You see, Yousufi is world class……!
اور خیر یوسفی صاحب ورلڈ کلاس تو ایسے تھے کہ ان کی نثر یہ یقین دلاتی ہے کہ اردو میں کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے۔ اور اردو کا ظرف ہے کہ اس میں کوئی سے بھی مفاہیم اور محسوسات کو بیان کیا جا سکتا ہے۔ گویا کہ اردو اپنے قارئین کو یوسفی صاحب کی نثر کے توسط سے یہ کہتی ہے کہ،

اے خواجہ، درد نیست وگرنہ طبیب ہست۔
اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اب تمہیں میں کیا آٹو گراف دوں گا کیوں کہ ایک جملہ اور ایک مصرعہ لکھ کر کئی کئی دن اس کے نشے میں بیٹھے رہنے والے لوگ بہت متمول ہوتے ہیں اور تم ان میں شامل ہو، اس لئے اب میں تمہیں کیا لکھ کے دوں۔ لائیے میں اپنی عزیزہ، آپ کی بیگم کے لئے ایک دعا لکھ دوں جس کی کیفیت ان دنوں مجھ پہ طاری رہتی ہے۔
اس کے بعد انہوں نے،” اے اللہ زوال نعت سے پہلے اس کی قدر۔۔۔۔۔۔۔ ”
والی ایک دعا خاکسار کی بیگم کے نام لکھ کر دستخط کر کے ڈائری مجھے تھما دی۔
یوسفی صاحب دعا اور حالت دعا کو کتنا عزیز رکھتے تھے، اس بات کو دستاویزی حیثیت دینے کے لئے اتنا حصہ اس ملاقات کا ان دنوں ربوہ الفضل میں ایک مختصر شذرے کےطور پر چھپوا دیا تھا۔
باقی یہ کہ فون پہ بات کرتے ہوئے بھی اب وہ تھک جاتے تھے اور اس شعر پہ تو کراچی میں بھی دیر تک چپ ہو گئے تھے کہ،
میں اب تک دن کے ہنگاموں میں گم تھا
مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے۔
ان کی وفات سانحہ نہیں ہے بلکہ ایک انجام بخیر کا مثالیہ ہے۔ وہ ایک صدی کے قریب بھر پور، فعال اور پر تاثیر زندگی گزار کر اپنے خالق کے حضور حاضر ہو گئے ہیں۔ اور آنے والی نسلوں کو راستا دکھا گئے ہیں کہ ایسے کمٹمنٹ، ایسی گہرائی، ایسے مطالعہ اور ایسے استغراق کے نتیجے میں صفحہ زندگی پر ایسے دیرپا نقوش چھوڑے جا سکتے ہیں۔ ہلکے آسمانی رنگ کے لباس میں ملبوس مشتاق احمد یوسفی اب ویسے بھی اتنا ہلکا پھلکا ہو چکا تھا کہ وہ کسی بھی وقت اڑان بھر سکے۔ ان کی پچانوے سالہ زندگی کی مناسبت سے یہ شعر بر محل لگ رہا ہے کہ

گر سو برس رہا ہے، آخر کو پھر جدا ہے۔
شکوے کی کچھ نہیں جاء، یہ گھر ہی بے بقا ہے۔
خدا حافظ یوسفی صاحب۔ اللہ آپ کو غریق رحمت کرے اور آپ کے نام اور کام کو لمبی زندگی دے۔ آمین

صاحب استغراق، مشتاق احمد یوسفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں