اس لفظ کو سنتے اور اس کے کچ پنے کو برداشت کرتے کافی دن ہو چکے تھے اور طبیعت اس کو طرح دینے پر ہی مائل تھی۔ مگر آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس اور اس سے قبل اور بعد سوشل میڈیاء پر منافقانہ اصلاح پسندی، جمہوریت نوازی اور جعلی مظلومیت نے مجبور کر دیا ہے کہ کچھ تو کہا جائے۔
فیض صاحب کے مصرعے سے تان اٹھاتے ہیں کہ
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے۔۔۔۔
قطع نظر اس کے کہ جنرل غفور نے بعض واہیاتیوں پر جواب نہ دینے کو” تھک سکن ” کہہ کے ٹال دیا اور ایک وجہ صرف نظر کی یہ بھی بتائی کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے اس لئے ہم شام سات بجے سے پارہ بجے کے ہر ٹاک شو کا جواب دینے پر نہیں اتر سکتے اور نہ اپنی منزل کھوٹی کر سکتے ہیں۔
الزامات اور مسلح افواج کے پاکستانی سیاست پر قبضہ کر لینے کی تاریخ بھی ساٹھ سال پرانی ہے اور خود پاکستان کی اپنی ستر سال۔
اس دورانیئے میں ایوب خاں، جنرل یحیی خان ، ضیالحق اور جنرل مشرف تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والے نام ہیں لیکن جنرل موسی، جنرل ٹکا خان اور آئی ایس آئی کے ڈی جیز کے نام بھی بہت بے دھڑک ہو کے لئے جاتے ہیں۔
ان کے متوازی ممتاز دولتانہ، خواجہ ناظم الدین،م ذوالفقار علی بھٹو، فارق لغاری، غلام اسحق خان اور حالیہ لیڈر شپ بھی چلتی رہی۔ دانشور کہتے رہے کے اتنا بجٹ فورسز لیتی ہیں۔ سیاستدان بے قصور اور افواج پاکستان ڈکٹیٹر اور غاصب۔
ان الزامات سے اخباروں کے کالم اور سیاسی تجزیاتی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ہمارے اہل دانش یہ بتاتے ہیں کہ مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کو آرمی چیف یا چیف جسٹس کا نام بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن ہمارے ملک میں ٹرکوں اور رکشوں پہ "شکریہ راحیل شریف” لکھا ہوتا ہے۔
یہ کہانی ایک دن کی نہیں۔ اور پبلک مفادات کا تحفظ کرنے والی جمہوریت ہم نے آج تک نہیں دیکھی۔ اب بگڑے ہوئے تناظر سے فوج کی کردار کشی کشید کی جا رہی ہے۔ اور اگر فوج کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں کی کردار کشی کو جمع کیا جائے اور کتابی شکل دی جائے تو اس کتاب کے مطالعے کے بعد قاری بہ آسانی اس نتیجے پہ پہنچ سکتا ہے کہ یہ کسی اور خطے کی فوج ہے جس نے پاکستان پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اور ان کو للکارنے اور ان کے چنگل سے نکالنے کے لئے سیاستدانوں کی نسلیں لاٹھی گولی کو جھیلتی ہوئی پھانسی کے تختے تک گئیں اور اب جیل میں چکی پیسیں گی۔
سید ظفر علی شاہ کے اکلوتے بیٹے حسن ظفر علیشاہ نے ایک دفعہ بتایا کہ ہم اسلام آباد کی میئر شپ کے لئے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ شاہ صاحب کی ذاتی جائیداد اتنی ہے کہ تمہاری کفالت کر سکے اور شاہ صاحب نے ابھی تک سیاست کو مالی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ آپ جب تک اپنی ذات میں اپنے باپ کی خوبیاں اپنا نہیں لیتے تب تک ووٹر ایجوکیشن کا کوئی پراجیکٹ شروع کرو اور کسی انٹرنیشنل ڈونر ایجنسی کی مدد سے ووٹر کو نچلی سطح تک اس کے حقوق بارے آگاہی دینے پہ اگلے پندرہ سال کام کرو تو یہ اسلام آباد سے ممبر اسمبلی بننے کی نسبت بڑا اور دیرپا کام ہے۔ باپ کی سیاسی گدی کو کم عمری میں سنبھالنے کا کام مصطفی نواز کھوکھر کے لئے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔مگر حسن ظفر کو اس میں کوئی چارم نظر نہ آیا۔
زرداری صاحب نے صدر کا حلف اٹھانے کے لئے مونچھیں چھوٹی کروائیں اور پھر وہ لیڈر بنتے چلے گئے۔ تاج حیدر صاحب کو ایک سیشن میں مہمان خصوصی بننے کے لئے کہا تو موصوف نےکہا کہ، میں توکراچی ہوں۔ آپ نے آصف سے نہیں کہا؟
تو میں نے عرض کیا کہ تاج بھائی اگر آصف سے مراد آپ کی آصف زرداری ہے تو میں تو خالی آصف کہنے سے اشارہ سمجھنے کا سیاسی مرتبہ بھی نہیں رکھتا۔ تو آصف زرداری صاحب کو آصف کہہ کے بات کرنے والے تاج حیدر جیسے علمی، ادبی اور سیاسی نابغے، مخدوم امین فہیم جیسے پرانے وفادار اور رضا ربانی جیسے اپ رائیٹ اور عام آدمی کی دسترس اور پہنچ والے سیاستدان پارٹی چیئرمین اور شریک چیئر مین نہیں بن سکتے۔ بلکہ رضا ربانی کی کسی بات کو تو پچھلے دنوں زرداری صاحب نے سپیچ رائیٹر کی رائے سے تشبیہہ دی جو سن کر بہت برا لگا۔اعتزاز احسن جیسے جہاندیدوں کا مقدر ہے کہ وہ بلاول کے اقوال زریں سنا کریں اور ان اقوال کے حوالے دیا کریں۔
مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ملفوظات کو سید ظفر علیشاہ سنا کریں۔ اور مریم اب بے نظیر بھٹو کی اتباع میں
بی بی کہلایا کرے۔ پولیٹیکل ڈائناسٹی تعمیر ہو رہی ہے اور عوام اور ان کا مینڈیٹ ان کے پروٹو کولز اور اتھارٹی کو مستحکم کرتا جائے بس یہ کہ حصہ رسدی بدعنوانی اور ظالمانہ اقتداری تعیش میں سے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو حصہ ملتا رہے۔
ہسپتال کے رفاحی کام سے عوامی مقبولیت میں پیر رکھنے والا اس زمانے میں پاکستان کا مصلح اعظم بن کر سیاسی اکھاڑے میں کودے اور لوگ اپنے جہاز، لینڈ کروزریں اور اے ٹی ایم کارڈز لے کر ایک دوسرے پر گرتے پڑتے اس پر نثار ہونے کو لپکیں اور وہ پہلے ایک الٹرا ماڈ کو فسٹ لیڈی کے مقام پر لٹا دے اور پھر اس پہ کاٹا پھیر کر جن بھوتوں کو گوشت ڈالنے والی پیرنی کے سپرد عوامی مینڈیٹ کر دے۔ وژن اس کا یہ ہو کہ سارے مچھندروں کو الیکٹیبلز کہہ کے ٹکٹ دے دے اور تبدیلی کے منتظر اس کے مزاروں کے سجدوں اور گولڑے کی تائیدوں سے نیا پاکستان ابھرتا دیکھیں۔
اور ان سطور کے لکھتے لکھتے حسین نواز کی یہ اردو میں لکھی ٹویٹ ملی کہ،
"‏مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے والد کو رات کو سونے کے لئے بستر نہیں دیا گیا اور غسلخانہ انتہائی غلیظ تھا، عرصۂ دراز سے صفائی نہیں ہوئی تھی۔ اس ملک میں عوامی نمائندوں کی عزت کا دستور نہیں لیکن یہ بنیادی حقوق ہیں جن کا روکنا تشدد ہے۔”
تو ایسی جیلوں کو جن میں لوگ لیٹرینوں میں کپڑے کے جھولے ڈال کے سوتے ہوں اور رات کو گرہ کھلے تو دھڑام سے گر پڑتے ہوں، عام انسانی ضرورتوں کے مطابق بھی اپ گریڈ نہ کرنا اور ملکی اموال سے لندن کے فلیٹ خرید لینا بھی تو تشدد تھا جسے آپ نے تیس سال جاری رہنے دیا۔
اب ذرا واپس آئیں خلائی مخلوق کی طرف۔ بات یہ ہے کہ آرمی کو یہ سارے پینترے آپ ہی نے سکھائے ہیں۔ بس فرق یہ کہ افواج اگر منظم نہ ہوں تو وہ اپنا کام کر ہی نہیں سکتیں اور ان میں پیش آمدہ حالات کے مطابق خود کو اپ گریڈ کرنے کا خود کار میکنزم ہوتا ہے۔ اور ایڈہاکزم سے افواج کا سسٹم چل نہیں سکتا اور افواج کے پاس یہ آپشن بھی نہیں ہوتا کہ مشکل وقت آنے پر وہ اپنے سربراہ اور معتوب جرنیلوں کو جدہ، لندن یا دبئی کینیڈا بھیج دیں۔ فوجیوں نے دوران سروس ادھر پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ آپ والے پینترے سروس میں ہوتے ہوئے نہیں بدل سکتے۔
پھر ان کو ایک ڈیکورم کو بھی آخری وقت تک نبھانا پڑتا ہے۔ روزانہ ڈرل اور شیو کرنے کی ایک ظاہری وجہ یہ بھی ہے۔جن ملکوں کے جمہوری نظام کی مثالیں کوٹ کر رہے ہیں ان کے سیاستدانوں نے کبھی انسانی حقوق اور رول آف لاء پہ ایسا کمپرومائز نہیں کیا جیسا آپ کے سیاستدان نے کیا۔
تاج حیدر صاحب ہی سے ایک گفتگو میں جب انہوں نے کہا کہ "ہم پیپلز پارٹی والے تو سن انچاس سے رائٹ ونگ سے لڑتے آ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ تاج بھائی زرداری اور بے نظیر تو پیپلز پارٹی کا پانی ملا ہوا پیگ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو آپ کا نیٹ وہسکی گلاس تھا۔ اور رائیٹ اور ملائیت کے سامنے تاریخ میں پہلی بار آئین اور پارلیمنٹ کی سطح میں بھٹو ہی کی سربراہی میں 1973 میں آپ نے اعلانیہ ہتھیار ڈالے اور ملائیت کو آئینی اور قانونی طور پر ریاستی امور میں بالا دستی دی۔ بعد کو ضیالحق نے تو صرف اس ہائی وے روڈ کو موٹر وے بنا دیا۔ اصل مجرم آپ اور آپ کا لولا لنگڑا سوشلزم ہے۔ لیکن ان لوگوں سے بات ہو سکتی تھی۔ حمزہ، بلاول اور مریم یا عمران خان اس قابل کہاں کہ ان سے آدھا گھنٹہ مسلسل بات ہو سکے یا دس منٹ مسلسل ان کو سنا جا سکے۔
سیاسی اور جمہوری بساط پہ یہ سب ہے۔
میڈیاء کے اسفل سافلین کا ذکر اس وقت چھوڑتا ہوں کہ یہ معاشرتی آنکھیں اگر آشوب چشم سے بیمار نہ ہوتیں تو ملک اجتماعی تنزل کی طرف اتنی تیزی سے کیوں جاتا۔ مالی بدعنوانی میں باقاعدہ حصہ دار میڈیاء اور دانشور میرے بتائے بغیر بھی خوب جانے جاتے ہیں۔
اب وہ سوال جو جنرل غفور سے کیا گیا، کہ خلائی مخلوق کے بارے میں بتائیے؟
بات سنیں آرمی نے آپ سے سیکھا ہے۔ اور ان کے انتہائی اندر کے سرکل بھی اب قبضہ اقتدار کو پاکستان اور فوج کے مفاد میں نہیں دیکھتے۔
جنرل آصف جنجوعہ کے دنوں میں بی ایم ڈبلیو کاریں آفر کرنے والا واقعہ فوج کو بھی یاد ہے اور آپ کو بھی۔ پھر جنرل بٹ کو راتوں رات سٹار لگانے کا شب خون مارنا بھی آرمی کے لئے ایک سبق تھا۔ لال مسجد اسلام آباد پر اپنی رٹ مکمل کرنے جا رہی تھی اور شمیم کے گھر سے لڑکیاں فحاشی کے نام پر جی سکس سے اٹھا لی گئیں اور ایف آئی آر درج کرنے سے اسلام آباد پولیس خوفزدہ تھی۔ ہم ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی چھت پر چڑھ کے دیکھ رہے تھے جب پہلا جان لیوا فائر کرنل ہارون پر لال مسجد سے ہوا۔ پھر لال مسجد کا قبضہ سیاستدانوں اور میڈیاء کے جغادریوں کی پیہم التجا پر واپس لیا گیا اور اسلام آباد واگزار ہوا لیکن آپ کی گیدڑ ٹپوشیوں نے بعد میں مطالبہ کر دیا کہ اب پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں لٹکانا ہے۔ اور ان دنوں سعد رفیقوں کی بڑھکیں سننے والی ہوتی تھیں۔
آرمی اپنا ایکس آرمی چیف اگر بوٹیاں نوچنے کے لئے آپ کے ہاتھ میں دے دیتی تو آئیندہ کوئی آرمی چیف بننے کو کیسے تیار ہوتا۔ اور آرمی یہ حرکت اپنے سپاہی یا میجر کے ساتھ نہیں کرتی کہ پہلے مہم پہ بھیجے اور جب پیر جلیں تو اسی کو پیروں کے نیچے رکھ لے اس لئے انہوں نے اپنا ایکس چیف ملی بھگت والی عدلیہ اور کینہ ور حکومت کے سپرد نہیں کیا۔
اب آپ یہ بتائیں کہ جب جنرل راحیل کے بعد جنرل باجوہ کی تقرری ہوئی تو حکومتی پارٹی کے سینیٹر کی بیان بازیوں سے آپ نے اسے احمدی بنانے پہ ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ختم نبوت والے ایشو کو سیاسی مقصد کے لئے تو آپ سارے ہی استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی آپ نے کسی فورم پر تسلیم کیا کہ وہ نیچ حرکتیں آپ ہی کروا رہے تھے۔
صفدر نے دامادی کے زور پہ نیشنل اسمبلی میں وہ بکواس کی ایک بے ضرر جماعت کے خلاف۔۔۔۔تو کیا آپ نے کسے فورم پہ مانا کہ اس کے پیچھے کون تھا اور سیاسی مقاصد کے لئے آپ کسی بھی سطح پہ گر سکتے ہیں۔ کہانی یہ ہے حضور کہ آپ کی سیاسی کمینگی اور ننگی منافقت کا جواب اب آپ کو آپ کی کرنسی میں مل رہا ہے تو اب جنرل غفور سے آپ یہ امید کاہے کو لگاتے ہیں کہ وہ آپ کی پریس کانفرنس میں قہقہہ مار کر کہیں گے کہ،
خلائی مخلوق۔۔۔ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔آپ کو نہیں پتا؟
اوہ تے اسیں آں۔۔۔۔۔
اس کچ پنے سے نکلیں۔ سیاستدان کو پہلے فنانشل کرپشن سے نکالیں، پھر ان عوام کے حقوق اور عزت نفس بحال کریں جن کے نمائیندے کے طور پر آپ جیلوں میں بستر مانگتے ہیں۔
پھر سیاستدان کو اتنا اپ گریڈ کریں کہ وہ ووٹ کے چکر میں سجدے دینے اور علماء و مشائخ کی کاسہ لیسی سے باہر آئے۔ اتنی ہمت تو کرے کہ جبران ناصر کی طرح پبلک میں کہے کہ مذہبی ایشو کے نام پر اور احمدیوں پہ بد زبانی کروا کے اگر ووٹ دینا ہے تو مت دیں۔
پہلے فیز میں مالی کرپشن کو ٹوٹل انکار اور نو کہیں
اگلے فیز میں رول آف لاء اور پھر حقوق اور شہری آزادیاں بلا امتیاز مذہب اور فرقہ۔
پھر کوئی پانچ سال شفاف حکومت بے دھڑک عوامی نمائیندوں کے ذریعے ہو جو قومی اموال سے قومی ادارے اور بنیادی سہولتیں دیں اور احسان نہ کریں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کریں۔ اور حسن ظفر علیشاہ جیسے دور کے مسلم لیگئیے ووٹر ایجوکیشن پہ کام کریں اور پھر منتخب ہوں۔ جلد بازی میں خدمت کی مصیبت مول نہ لیں۔ بے لوث خدمت کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے،
ہم نشیں سانس پھول جاتی ہے۔
جب یہ ہونے لگے گا تو خلائی مخلوق خود ہی واپس چلی جائے گی۔ اگر ابھی جائے تو پھر سب کچھ جائے گا۔ صرف خلائی مخلوق نہیں۔ بحر حال بستر اور تکئے دیں میاں نواز شریف صاحب کو۔ لیکن کسی دن نو نمبر بیرک کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ ساٹھ آدمیوں کی گنجائش میں کس طرح لوگ بکریوں کی طرح بند کئے جاتے ہیں۔
خیال ہے کہ جب تک بڑے لوگ جیل میں ہیں،،،قسط وار جیل بیتی لکھنی شروع کی جائے۔ تا کہ پتہ چلے کہ دری اور کمرہ تو عیاشی ہے۔ لیکن اللہ معاف کرے، جیل جیل ہی ہوتی ہے۔