سن 2012 ہو گا، میں اسلام آباد کے لئے گھر سے سامان کار میں ڈال کے نکلا ہی تھا اور ابھی اپنے شھر کے اپنے محلے دارلنصر والی کالج روڈ پہ ہی تھا کہ جدید پریس کے ساتھ پولیس چوکی کے سامنے ایک ٹریفک کے سپاہی نے "بلا اشتعال” یعنی بلا وجہ مجھے روک لیا۔ اوروہی معمول کے جملے۔۔۔۔کاغذات دکھائیں، لائیسنس کتھے جے؟ کہاں جانا ہے، کیا کرتے ہو۔
میں نے بہتیرا کہا کہ مجھے جلدی ہے اور آپ اندرون شھر آ کر یہ کیا تفتیش کرنے لگے ہیں۔۔۔۔۔آخر میں نے دو ڈھائی سو میل سفر کرنا ہے اور پچھلے دس سال سال سے یہی روٹین ہے اور وہ سامنے میرا گھر ہے ابھی تو میں ہائی وے پر بھی نہیں چڑھا ۔۔۔۔۔۔توجناب یہ تماشا ناں لگائیں اور مجھے جانے دیں۔
مگر موصوف نے تو روکا ہی دیہاڑی لگانے کے لئے تھا۔۔۔۔تو ایسی منت سماجت ان پہ کیا اثر کرتی۔
کہنے لگے ، آپ نہیں جا سکتے۔
میں نے کہا کہ ٹھیک ہے جناب۔
پاس سے گزرتے ایک خالی رکشے کو میں نے اشارہ کیا اور کار سے سامان اتار کر رکشے میں رکھنا شروع کر دیا۔ سب کچھ نکال کے میں نے کار کی رجسٹریشن بک اور چابی اس ٹریفک کے سپاہی کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ،
جناب۔۔۔۔اگر میں اس سڑک پر بھی کار لے کے نہیں آ سکتا جس پہ میرا گھر ہے تو مجھے اسلام آباد کون جانے دے گا؟
اور جب آپ کی مرضی کے بغیر میں گھر سے کار پہ نکل ہی نہیں سکتا تو میں نے کار رکھ کے کیا کرنی ہے۔ آپ یہ گاڑی، کاغذات اور چابی رکھیں۔ میں کل آر پی او فیصل آباد سے مل کر کوئی ایس او پی طے کر لوں، تو کار رکھوں گا ورنہ، یہ آپ ہی رکھیں۔
انڈیا نے جس طرح پاکستان سے کاغذات مانگے، اور جس طرح خود ہی جج جیوری بن کے آکر بمباری کر لی، اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں بچا تھا کہ یا تو وہ ملک انڈیا کے حوالے کر دیں اور یا پھر وہی کرتے جو کیا ہے۔
ڈی جی، آئی ایس پی آر نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے اور گرفتار پائلٹ کے ساتھ افواج پاکستان کا سلوک بھی قابل تقلید ہے۔
کووں کی خواہش کے تابع جانور نہیں مرا کرتے اور ایک انتہا پسند مائینڈ سیٹ والے وزیر اعظم کی ناپسند کے تحت بنا بنایا ملک، تربیت یافتہ فوج اور بائیس کروڑ عوام کی زندگیاں نہیں تیاگی جا سکتی ہیں۔
آپ کو پاکستان پسند ہے یانہیں۔۔۔۔مگر خطے کے اندر روئے زمین پر یہ ملک ایک حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کا قیام و استحکام اہل پاکستان کی موت زندگی کا سوال ہے۔ بات دلیری یا ہار جیت کی نہیں۔ جنرل غفور کی یہ بات ان کے سکرپٹ سے ہٹ کر اور بڑھ کر تھی کہ، جنگوں میں ہار جیت کسی کی نہیں ہوتی۔۔۔۔صرف انسانیت ہارتی ہے۔
جن کی سرحد کے اندر بم گرائے گئے ہوں اور دنیا بھر میں ساڑھے تین سو افراد مار دینے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہو، ان کی فوج کر جرنیل یونیفارم میں یہ جملہ بولے تو اس کے لئے بہت زیادہ حوصلہ درکار ہے۔۔۔۔۔لڑنے سے بھی زیادہ طاقت چاہئے ایسی بردباری کا مظاہرہ کرنے کے لئے!
آج بی بی سی نے خدا جانے کس لئے کچھ اعداد و شمار شائع کئے ہوئے تھے کہ انڈیا پاکستان کے پاس کتنے ٹینک اور توپیں اور کتنے جہاز اور آبدوزیں ہیں۔ تعداد کتنی ہے اور دنیا میں پاکستانی فوج کون سے نمبر پر ہے اور انڈیا کی کون سے۔
پاکستان کا یہ مسئلہ ہے ہی نہیں کہ دنیا اس کی فوج کو کون سے نمبر پر ریٹ کرتی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر ہم اپنے گھر والی سڑک پر کار نہیں لا سکتے تو ہمیں اسلام آباد تک کون جانے دے گا۔
یعنی اگر آپ کے الیکشن کی مہم کو ہم پر بمباری کر کے طاقت ملنی ہے تو ہم نے اس طرح کا امن کرنا کیا ہے جو اپنی خود مختاری گروی رکھ کر ملتا ہو۔
امن ایک طرف کی پسپائی اور دوسری طرف کی پیش قدمی کا نام نہیں ہے بلکہ اپنی اپنی جگہ اپنے پیروں تلے کی زمین پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کی حدود اور حقوق کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔
اگلا سوال ہے مائینڈ سیٹ کا۔
پاکستان میں ناعاقبت اندیش ادوار نے مائینڈ سیٹ کے ساتھ تیس سے چالیس سال کھلواڑ کیا اور پندرہ سال لگے اس دلدل سے باہر آنے میں۔
انڈیا پاکستان سے دس گنا بڑا اور چھ گنا زیادہ آبادی کا ملک ہے۔ پاکستان دائرے سے باہر نکل رہا ہے اور انڈین وزیر اعظم اور میڈیاء دوسرے سرے سے اسی دائرے میں بصد شوق داخل ہو رہا ہے۔۔۔یہ سوچے بغیر کی،
دل کے اس کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں۔۔!
حکومتی سر پرستی والی انتہاء پسندی جدید دور کی تیز ترین خودکش زہر ہے۔ آپ کی دانش کہاں کیا چرنے چلی گئی کہ برابر والے ہمسائے کے قریب ترین ماضی سے بھی سبق نہیں سیکھا اور دور کے اتحادی اور سر پرست امریکہ کے ایڈونچرز اور ان کا مآل بھی نظر نہیں آ رہا۔
آپ کی بیالیس لاکھ فوج اپنی جگہ لیکن پاکستان کا عمومی مائینڈ سیٹ اس سے خوفزدہ ہونا افورڈ نہیں کر سکتا۔
میرے پاس ایک بندوق اور ایک پسٹل ہے اور رات کو سوتےوقت مجھے کسی بڑے سے بڑے ڈکیت کا کوئی خوف نہیں، کیونکہ بوقت ضرورت اسلحے کے علاوہ، تقدیر، ضمیر، عزم اور یقین بھی تو اپنا کردار ادا کرتے ہیں ناں۔
اور سچ اور جھوٹ پہ ہونا اور حق اور ناحق کا بھی تو کوئی کردار ہوتا ہے کہ نہیں؟
پھر عام آدمی خود سے بھی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر عزت غیرت رہنی ہی نہیں تو پھر زندگی کیا کرنی۔
عبید اللہ علیم کی ایک مشہور غزل کا شعر صرف رومانوی معنوں تک محدود رکھنے سے کیا مزا آئے گا۔۔۔ایک مذکورہ بالا جہت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے کہ،

ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاوء تو کیا مر جاوء تو کیا۔۔!

اس فیصلہ کن بیزاری کو انتہاء پسندی نہیں بلکہ اصولی فیصلہ کہتے ہیں۔
انڈین عوام اپنی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں اور انڈین اکانومی بھی مضبوط رہ سکتی ہے اور ہم ہندوستان کو خیر خواہی کی دعا دیتے ہوئے نہیں ہچکچاتے۔
پاکستانی وزیر اعظم اور مسلح افواج کے ترجمان نے بھی زخم کھانے اور برا بھلا سننے کے باوجود بد خواہی کے کلمات نہیں بولے۔ ہندوستان کے عوام الناس اور اہل دانش بھی جنگ اور حملے کے حق میں نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ انتہاء پسندی کا تجربہ نہ کیا جائے اور مہلک ہتھیاروں کو پڑے پڑے ہی زنگ لگنے دیا جائے۔ ابھی نندن کی جان بچ گئی، وہ معمولی زخمی ہوئے۔۔۔۔جہاز تباہ ہوا تو وہ بھی مر سکتے تھے۔ وہ ایک کیرئیر آفیسر کی بے وقت موت ہوتی، اور ٹیکسٹ بک میں آنے والی نسلوں کو بیان کرنے کے لئے کوئی کاز اور جواز نہ مل سکتا۔
کیا یہ لکھتے کہ،
فروری کی ایک صبح وزیر اعظم مودی کی الیکشن کمپین کو بڑھاوا دینے کی خاطر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ آنے والے بچے منہ پھاڑ کر اساتذہ اور ٹیکسٹ بک بورڈ والوں کا منہ تکیں گے۔
آج ہی اپنے کم نظر سیاستدانوں کو روکیں اور افسران کا کیرئیر اور بچوں کا مستقبل بچائیں ۔
باقی رہے بین الاقوامی ادارے، عالمی رائے عامہ اور برادر ممالک،
تو جناب ہنستے بستے گھروں کے عزیز و اقارب ہوتے ہیں۔ اجڑے اور مرے مکے گھروں سے کسی کو بھی کیا لینا دینا۔
جنگ کے دھوئیں میں انسانی ترقی کے اشارئیے دب جائیں گے۔
نیوکلئیر ہتھیار آپ دونوں کو ہی کسی نے نہیں چلانے دینے، وہ اسی طرح پڑے رہیں گے اور آپ بمباری اور گولہ باری سے خود کو اور اپنے عوام اور معیشت کو سو سال پیچھے دھکیل دیں گے۔ بھوک، غربت، بیماری کون سے الیکشن لڑوائے گی اور کیسی جمہوریت پروان چڑھے گی۔
آپ جغرافیائی اور آبادی اور معیشت کے لحاظ سے بڑی حقیقت ہیں تو ارد گرد کی دیگر حقیقتوں کو تسلیم کریں اور ان کے تشخص کا احترام کریں۔ ورنہ سیر اور چھٹانک لڑیں گے تو آخر پہ دونوں چھٹانک ہو جائیں گے۔ اور چھٹانکوں کے نہ کوئی اتحادی ہوتے ہیں اور نہ برادر۔
اپنے موسموں عوام اور بہاروں کو انجوائے کریں اور الیکشن مہم اپنے حلقوں تک محدود رکھیں۔
آخر پہ ساحر لدھیانوی کے چند مصرعے۔۔۔۔۔
خطے میں امن و سلامتی کی دعا کے ساتھ۔۔۔۔
اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
(ساحر لدھیانوی)