جنت نیکوکارہ سے شیریں مزاری تک۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

جنت نیکوکارہ سے شیریں مزاری تک،طاہر احمد بھٹی
بات شروع کرنے سے پہلے یہ گزارش کر دوں کہ اس کالم کو لکھتے ہوئے مجھے بیوروکریسی کے ابتدائی کل پرزے یعنی اسٹنٹ کمشنر سے لے کر وفاقی کابینہ کی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری تک نہ تو کسی سے شکوہ ہے اور نہ ہی کوئی امید۔۔۔۔۔ان سطور کا مقصد پاکستان کی مجموعی صورتحال پر انگشت بدنداں شرفاء سے مکالمہ اور ارباب اختیار کو ان کی بے اختیاری کو متمثل کر کے دکھانا ہے۔
ضمنی مقصد اس بے اختیار چابی بھری مشینری کو یہ بتانا بھی ہے کہ اب آپ اس قابل نہیں رہے کہ آپ کی بات دھیان سے سنی جائے، اور ایسے بے پیندے کے لوٹے ہیں جو ہمارے سربراہ اور سر خیل ہیں۔ الحمد للہ کہ آپ نے اس قعر مذلت میں سر کے بل گرنے سے کوئی پینتالیس سال قبل ہمیں ووٹ دینے کے حق سے بڑے طمطراق کے ساتھ محروم کر دیا بلکہ زیادہ درست یوں ہے کہ آپ کے آئیندہ کو دیکھتے ہوئے، زمانوں کے خالق اور مالک خدا نے ہمیں آپ کے سوشیو پولیٹیکل دھارے سے الگ کر لیا کہ ہم اس کے لگائے ہوئے پودے تھے اور یہ پنیری اللہ تعالی کی تقدیر نہ تو ضائع کرنا چاہتی تھی اور نہ اس کی ابتدائی روئیدگی کو ڈھور ڈنگروں کے پیرو ں تلے آنے دینا چاہتی تھی۔
ڈاکٹر شیریں مزاری اور ڈاکٹر ڈشکہ مشاہد حسین دو دبنگ پروفیسرز تھیں قائد اعظم یونیورسٹی میں سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں جن کی اکیڈیمک دھاک اس وقت کے ہمارے دوستوں پر تھی اور مجید ہٹس یا کیفے ٹیریاء پر ان کا ادب سے تذکرہ سن کر ہم بھی ان کی غائبانہ عزت ہی کرتے تھے اگرچہ ہم ان کے سٹوڈنٹ نہیں تھے اور ان کو پی ٹی آئی میں شامل ہوتے، جگہ بناتے، اوپر آتے دیکھا اور بس دیکھا ہی کئے۔ کچھ سوچا یا کہا نہیں۔
مگر پرسوں الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے چند منٹ کی گفتگو میں ہی وہ سارا بھرم توڑ دیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر کے طور پر جو احمدیہ ایشو پہ لائن اپنائی اس نے ان کا اکیڈیمک قدو قامت برباد کر دیا۔
ایسا دوغلا پن اور جھوٹ تو صرف سیاستدان اور وفاقی وزیر کو زیب دیتا ہے، وہ بھی اس صورت میں کہ وہ پاکستان یا ہندوستان کی حکومت کا وزیر ہو، جن کو ڈیموکریسی کا ڈھول پیٹ کر غیر آئینی اور غیر انسانی قدروں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ مہذب دنیا اپنے وفاقی وزراء کو ایسے ننگے جھوٹ کی عیاشی کی اجازت نہیں دیتی۔
لیکن افسوس کی آپ نے یونیورسٹی پروفیسر کی شخصیت کا اکیڈیمک اعتبار بھی گنوا دیا۔
مجھے آپ پر افسوس نہ ہوتا اگر آپ شیعہ اقلیت کے لفظ پر بر افروختہ ہو کے اینکر کو یہ نہ کہتی کہ، ایکسیوز می۔۔۔۔میں خود شیعہ ہوں، ہم کوئی اقلیت نہیں اور ہم مسلمان ہیں۔۔۔اور وغیرہ وغیرہ۔
مگر ہاں احمدی مسلمان نہیں، ان کو کانسٹی ٹیوشن نان مسلم کہتا ہے۔
میڈم آپ کا ایک سٹوڈنٹ مجھے پاکستان کی آئینی تاریخ پہ لیکچر دے رہا تھا اور سن 62 کے آئین پر اس نے یہ جملہ بول کر مجھ سے داد وصول کی کہ، بھٹی صاحب،1962 کا آئین غیر آئینی طور پر بنایا گیا تھا ۔
آپ سوشل سائینسز اور آئی۔آر کے پڑھائے گئے اصولوں کے تحت خوب جانتی ہیں کہ سیاسی فورم یعنی پارلیمنٹ کو ایمانیات پر فیصلے دینے کا کوئی اختیار نہیں، تو اس کو جانتے ہوئے آپ کو الجزیرہ کے پروگرام میں یہ لائن نہیں لینی چاہئے تھی۔
دوسرا جو معین جھوٹ آپ نے بولا وہ یہ کہ احمدیوں کو ایک پاکستانی شہری کے طور پر سب حقوق مل رہے ہیں اور ان سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔
یہ جھوٹ عام ہو چکا ہے اور حکومتی وزراء جس بھی پارٹی کے ہوں یہ ان کے لئے ٹیپ کا مصرعہ ہے اور ہم بھی اور بین القوامی ادارے اور حکومتیں اب از خود اس کا ترجمہ الٹا کر پڑھنے سے کر لیتے ہیں کیونکہ اب وہ بھی جان چکے ہیں کہ آپ بزدل اور مجبور وزراء احمدیوں پر اپنی رعونت برقرار رکھتے ہوئے یہی بات کریں گے۔ اسی لئے اینکر نے عاطف میاں کی مثال سے آپ کا منہ بند کیا مگر آپ نے عاطف میاں کے امریکن شہری ہونے کو ڈھال بنا لیا۔ اسی شام ڈیجیٹل پاکستان کے پروگرام میں جہاں پرائم منسٹر سمیت ساری کابینہ تیس مارخانی قہقہے لگا رہی تھی وہاں تانیہ ادریس نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ وہ بھی امریکہ سے ہی لائی گئی مگر وہ احمدی نہیں تھی اس لئے عاطف میاں جیسی بد سلوکی کا مورد نہیں بنی۔
مگر کل شام سے جنت نیکوکارہ کی وائرل ویڈیو نے تو آپ کے سارے سسٹم کے منہ پہ طمانچہ دے مارا ہے۔
نیکو کارے جھنگ چنیوٹ کے ایسے زمیندارہ وسیب سے تعلق رکھتے ہیں کہ ان کی بہو بیٹیوں کی اس طرح کچہری لگا کے جواب طلبیاں نہیں ہوتی ہیں۔ دلیر لوگ ہیں مگر جنت بیچاری کا منہ خشک اور زبان ساتھ نہیں دے پا رہی تھی۔ اور ایک کل کا لونڈا ڈپٹی کمشنر آفس میں انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی میں کیسے بکواس کر رہا تھا۔ خوشی ہوئی کہ ہم نے اس زمانے میں سی ایس ایس ناں کیا اور ذہن میں وہ سارے دوست گھوم گئے جو اس وقت پاکستانی بیوروکریسی کا حصہ ہیں۔
اس دو ٹکے کے لونڈے کے سامنے ایسے بیٹھا کریں گے ڈی سی اور کمشنر اور گلی کے لونڈے آئین کی تشریحات کیا کریں گے۔ اور کمشنر گھگھیائے گی کہ میرے بیٹے کا نام محمد ہے۔۔اور احمدی کافر ہیں۔ وہ قطعی طور پر دیگر پاکستانیوں کے ساتھ بریکٹ نہیں ہو سکتے۔ یہ کہلوا کر جنت نیکو کارہ کی جان بخشی ہوئی اور آپ انٹرنیشنل میڈیاء پر کہہ رہی تھیں کہ احمدیوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ احمدیوں کا نام لینے پر اسٹنٹ کمشنر کو جان کے لالے پڑے ہیں اور آپ کو انسانی حقوق کی وزیر کے طور پر ایسا ننگا جھوٹ بولتے ہوئے۔۔۔۔۔۔وہ نہیں آئی جو آنی چاہئے تھی۔
دیکھ لیں یہ پائمالی جو احمدیوں کے حقوق سے شروع ہوئی تھی، وہ اب آپ کی رٹ اور حکومتی وقار کو پیروں تلے روند رہی ہے۔ اور ایکسیوز می۔۔۔۔ڈاکٹر شیریں مزاری،۔۔ہم بالکل غیر مسلم اقلیت نہیں ہیں۔ جیسے آپ کو اینکر کے منہ سے شیعہ اقلیت سن کے جوتیوں میں انگارے بھر گئے تھے، ہمیں بھی غیر مسلم اچھا نہیں لگتا، اس لئے آئندہ زبان سنبھال کے بات کریں۔ یہ گلی کے لونڈوں سے اسلام کے سرٹیفکیٹ آپ ہی لیں۔ ہمیں ناں ان کی احتیا ج ہے اور نہ ہی پرواہ۔
آپ کی بیوروکریسی اور حکومتی رٹ کے بارے میں ایک واقعہ آج ذہن میں تازہ ہو گیا ہے، اس کو سنا کے بات ختم کرتے ہیں۔ جھنگ کے ایک شریف النفس ڈی سی نے نوے کی دہائی میں ایک بار ربوہ میں خدام الاحمدیہ کااجتماع منعقد کرنے کی اجازت دے دی اور اگلے دن عین دوران کاروائی منسوخ بھی کر دی۔ ہم نوجوان مقام اجتماع سے مجسٹریٹ ربوہ کی عدالت کی طرف احتجاج کرنے کے رنگ میں چلے تو مہتمم مقامی سید خالد شاہ صاحب نے سائیکل سے ہمارا راستہ روک کر ایک ہی بات کہی کہ کس حکومت کے مجسٹریٹ کے پاس احتجاج کرنے جا رہے ہیں؟
جو ایک پرائمری فیل ملانے کے کہنے پر لیٹ گئی ہے۔ جائیں اور اللہ کے سامنے سر بسجود ہوں۔ وہ مالک ہے اور وہی ہے جس کے سامنے اپنے حقوق کی پائمالی کی فریاد کرنی ہے۔ ان کے سامنے کبھی نہیں۔
ڈاکٹر شیریں مزاری، ہماری بچپن اور لڑکپن سے اس طرح تربیت ہوئی ہے۔ اب آپ سے امید کوئی نہیں البتہ آپ پہ اور جنت نیکوکارہ پہ ترس اور رحم آتا ہے۔
ان کی پلکوں پر ستارے، اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہء غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں