سو تم دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

سو تم دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی
پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر اعظم سواتی نے ایک ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں بلا وجہ اور بلا اشتعال، صرف ایک مفتی کفایت اللہ کو شٹ اپ کروانے کے لئے بلا جھجک اور بے دھڑک جماعت احمدیہ پر لعنت بھیج دی اور اپنے موقف کو مضبوط اور مستند بنانے کے لئے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کر لیا۔
اور جب یہ آفیشل اور سرکاری کھچ ماری جا رہی تھی تو سکرین پر سرکردہ اینکرز مالک صاحب اور مہر عباسی بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
اگر ہماری نظر میں اعظم سواتی کی کوئی مذہبی یا روحانی حیثیت ہوتی، یا وزیر موصوف کی ذات سے خدا شناسی ، خدا ترسی اور خدا رسیدگی کے کچھ دھاگے الجھے ہوتے تو یقینی بات ہے کی ان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر فکر بھی لاحق ہوتی، اور احمدیوں کو اس کے تدارک کی بھی فکر ہوتی لیکن اعظم سواتی کی پیدائش سے بھی پہلے اس نوعیت کے اعلی اوصاف پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی افق سے رخصت ہو چکے ہیں اور اپنی جگہ تاریک، نیم تاریک، مٹیالے اورملگجے رنگ چھوڑ گئے ہیں جن میں سے نہ دن کو سورج کی روشنی پوری طرح گزر کے آسکتی ہے اور نہ راتوں کو چاندنی کو رستہ ملتا ہے کہ وہ بلا روک ٹوک اس سرزمین کو نور بخشنے آ سکے۔
بقول شاعر،
جو ابر ہے سو وہ اب سنگ و خشت لاتا ہے
فضا یہ ہو تو دلوں میں نزاکتیں کیسی۔۔۔؟
اندر ایں حالات معاشرے کی اکثریت کے پاس ٹامک ٹوئیاں ہی بچتی ہیں سو وہ جتنی مرضی مار لیں۔ سمت کا تعین، راستے کا ادراک اور منزل سے شناسائی ایسے مسافروں کا نصیب نہیں ہوتی۔
اور دکھ یہ ہے کہ یہ سر پٹختا اور ٹھوکریں کھاتا ہجوم ہمارے ہم وطنوں پر مشتمل ہے اور ان کی سربراہی کرنے والے کوے اور چیلیں ہیں اور عربی کے زمانہ جاہلیہ کے ایک شاعر کا سماجی شعور بھی اتنا روشن تھا کہ وہ یہ بات کہتا تھا کہ،
اگر کوے اور گدھ تمہارے راہنما ہوں گے تو وہ ضرور تمہیں مردارتک پہنچا دیں گے، کیونکہ ان کی منزل ہی مردار ہیں۔ مفتی کفایت اللہ اور دیگر ملاں تو اس زمانے میں طے شدہ گدھ ہیں جو اول معاشرے کی انسانی اور سعید قدروں کو موت تک پہنچاکر پھر اس مردار خوری سے اپنی زندگی کشید کرتے ہیں۔ اور ان گدھوں کے رابطہ کار ، سہولت کار اور بعض اوقات ان کے سپورٹر اور سپوکس پرسن وہ سیاستدان، وہ صحافی اور وہ دانشور ہوتے ہیں جو اپنی سروائیول اور نمود کا رس ان گدھوں اور مرداروں سے کشید کرتے ہیں۔
بات مزید آگے بڑھانے سے قبل قارئین کو اپنے ایک مرحوم اور غیر معروف شاعر دوست ارشد طارق کا ایک شعر سنا دوں، جو کوئی پچیس برس قبل ان سے سنا اور آج یہ سطور لکھتے ہوئے بر محل ہونے کی وجہ سے اچانک حافظے میں تازہ ہو گیا۔

گدھ کی چونچ پہ جب خون شہر دیکھا تھا
چشم حیراں نے کئی بار ، ادھر دیکھا تھا

یہ بات درست ہے کہ وہ بیان چونکہ حکومت کے ایک وفاقی وزیر کا تھا اور اس میں وزیر اعظم کا نام لے کر ساتھ شامل کیا گیا ہے اور مین سٹریم میڈیا کے مشہور اینکرز کے سامنے وہ بات کی گئی ہے اس لئے سماجی اور سیاسی ریکارڈ کی خاطر جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین صاحب نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے اس پر تشویش اور اس کی تردید بھی کی ہے اور دیگر شرفاء کو بھی اس پر تشویش ہے لیکن آپ سے سیاسیات اور سماجی تاریخ کے طالبعلم بھی تو پوچھتے ہیں کہ جناب آپ کو لعنت کے لفظ کا شعور بھی ہے کہ نہیں؟
دوسرے یہ کہ ناکامی و نامرادی اور سماجی ابتری اور معاشی بد حالی کو آپ کس کھاتے میں شمار کرتے ہیں؟
تعلیمی پسماندگی، صحت اور سلامتی، معاشرتی امن، سیاسی عدم استحکام، ریاستی طور پر متزلزل خود مختاری اور ادارہ جاتی بد نظمی اور بد حالی کو آپ کس مد میں شمار کرتے ہیں؟
اسی طرح حقوق انسانی کی عدم فراہمی، آئین و قانون کی مثالی پائمالی ، گلی کوچوں میں پائے جانے والے عام طور پر احساس عدم تحفظ اور مستقبل کا خدشات اور خطرات کی دھند میں غائب ہو جانا ۔۔۔۔یہ ایک معاشرے اور ملک کے لئے کیا ہوتا ہے؟
اس کے علاوہ بے شمار اشارئیے ہیں جو ایک جاری تنزل اور بڑھتی ہوئی بد حالی پر دلیل ہیں۔
ان تمام اقسام کی لعنتوں کی کشتی میں بیٹھ کر بلکہ لعنت کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ایک ایسی جماعت پر لعنت ڈالنا جس کی۔۔۔۔۔
تعلیمی حالت مثالی ہے
جنہوں نے صحت کی سہولتوں کا بین الاقوامی معیار کا بندوبست اپنے طور پر کر رکھا ہے۔
جن کی معیشت دنیا کے کسی ملک میں بھی مقروض اور دوسروں پر انحصار کرنے والی نہیں ہے۔
جن کی معاشرت مثالی سطح کی پر امن ہے۔
جن کا منظم ہونا بین الاقوامی فورمز پر رشک سے دیکھا جاتا ہے۔
جن کی لیڈر شپ ان کی اجتماعی خوبیوں کی آئینہ دار ۔۔۔۔۔یعنی درحقیقت، امامکم من کم کی حقیقی مصداق ہے۔
اور جن کا تعلق با اللہ اور توکل علی اللہ آپ کی سرحد ادراک سے آگے واقع ہے

ایسی جماعت پر لعنت بھیجنے کے لئے آپ جیسی سطح جہالت اور بے حس قیادت اور قابل مذمت شقاوت ہی درکار ہے، اور آپ ان اوصاف سے مالا مال ہیں۔ یہ کیفیاتی، احساساتی اور نظریاتی جواب تھا جو آپ کونہیں بلکہ آپ کی وجہ اور حوالے سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر میں موجود سعید الفطرت طبقے کی سہولت کے لئے لکھا گیا ہے کہ ان کے حافظے میں رہ جائے۔ اور خدا تعالی کی آئیندہ میں ظاہر ہونے والی رحمتوں اور لعنتوں میں فرق کرنے کے لئے مددگار ہو۔
اور آج کے مضمون کا عنوان میں نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک اقتباس سے لیا ہےجس میں آپ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرما رہے ہیں کہ،
تم دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو۔۔۔۔کہ یہ دن کو رات نہیں کر سکتی،
البتہ خدا کی لعنت سے ڈرنے کے لئے کہا کہ وہ جس پر پڑے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر دیتی ہے۔
سواتی صاحب، آخر پہ آپ اور قارئین کے لئے وضاحت کر دوں کہ از روئے لغوی مفہوم لعنت خدا سے دوری کا مفہوم اپنے اندر رکھتے ہے اور اہل خدا کو زیبا ہے کے وہ دنیاوی بے اختیاری کی حالت میں کسی ظلم وستم سے ستائے جائیں تو اپنی بے اختیاری اور بے بسی میں خدا تعالی سے استمداد اور اس کے قہر کو اپنی کمزوری کی ڈھال بنا کر اپنے مخالفوں کے لئے مانگیں۔
آپ اور مفتیان و عالمان پاکستان خود صاحب اختیار، فتنے اور شر کے تمام ہتھکنڈوں سے لیس اور خدا شناسی اور خدا ترسی سے کوسوں دور ہیں۔ آپ لعنت ڈالنے کے لئے کوالیفائی نہیں کرتے۔ البتہ لعنت کا مصداق بننے والوں کی میرٹ لسٹ میں آپ جیسوں کا نام پہلے دوسرے کالم میں ہی مل جائے گا۔

مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین
تیغ کو کھینچے ہوئے اس پر کہ جو کرتا ہے وار۔

(از درثمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں