پاکستان کا سفر کھوٹا نہیں مگر طویل ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پاکستان کا سفر کھوٹا نہیں مگر طویل ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی
ہمارے ایک مجذوب دوست سید وحید الزمان مرحوم کی نوے کی دہائی میں کہی گئی ایک غزل کا مطلع ہے جو بڑی تفصیل سے ان دنوں کے پاکستان کے سیاسی، سماجی، انتظامی اور معاشی منظر نامے کی عکاسی کر رہا ہے۔
پہلے شعر ہی سن لیجئے۔۔۔۔تو پھر بات کا سلسلہ آگے چلاتے ہیں۔

زندگی کے سلسلے کی اک کڑی گم ہو گئی
ڈھونڈنے نکلے تو ساری زندگی گم ہو گئی

زمانہ طالبعلمی کے احباب تو کڑی کی کاف پر پیش ڈال کر پنجابی والی کڑی پڑھ کے لڑکپن کے مزے لیتے رہے لیکن عبیداللہ علیم مرحوم نے ایک مشاعرے سے واپس آتے ہوئے اس شعر کی داد یہ کہہ کر دی کہ،
‘کاش یہ شعر میں نے لکھا ہوتا’
جملہ معترضہ سے اغماض برتئیے اور جس کربناک تفہیم سے اس وقت راقم دوچار ہے ذرا اس کا پر چار کرنے دیجئے۔
پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا مبارک ہو کے عنوان سے میرے گزشتہ کالم پر جو احباب جز بز ہوئے ان میں سے چند ایک کی فکری دیانت میرے لئے بہت قابل عزت ہے، مثال کے طور پر برادر مکرم جناب زاہد کاظمی صاحب ۔
انہوں نے بڑی محبت اور عجز سے ایک لفظ کی اصلاح بھی فرمائی اور ایک اختلافی جملہ بھی ارزاں فرمایا کہ،
” آپ کو بہت عرصے بعد اس مضمون میں ضعف استدلال کا شکار پایا”
ان سے اس لئے جوابی گزارش نہیں کی کہ ان کی فکری دیانت اور سادہ خوئی کا یہ عاجز معترف ہے۔
ان کے علاوہ دیگر احباب جیسے عدنان رحمت ، جواد ہمدانی، اور ان جیسے دیگر احباب کا بھی احساس تھا کہ یہ مجھے فوج نواز یا جمہوریت دشمن نہ سمجھ بیٹھیں۔
کچھ پانی کی اوپری سطح سے کھیلنے والوں کا یہ بھی کہا سننے کو ملا کہ احمدی تناظر میں ہی تکلیف ہوئی ہے ورنہ ایسے کا علاج پھانسی ہی تھی۔
ہفتہ عشرہ دانتوں تلے زبان دئیے رکھی تا وقتیکہ آئین کے پاس داروں اور جمہوریت کے علمبرداروں نے دونوں ایوانوں میں دھوتی میں پیشاب کر کے اپنا اپنا سیاسی قدوقامت اپنے پیروکاروں کو دکھا دیا۔

وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔

اب وضاحت کر دوں کہ راقم جمہوری نظام کو پسند کرتا ہے اور اس کا سیاسی موید بھی ہے لیکن، سنتیں ادا کرتے ہوئے فرض ترک کرنے سے معذرت ہے۔ سیاستدان نے اپنے مینڈیٹ کے ساتھ غداری کرنے کی جو بنیاد ممتاز دولتانہ سے ڈالی تھی وہ اب تک سیاسی بدعنوانی اور پبلک مفادات سے دور رس مجرمانہ غفلت کا ایک بھر پور کھیت بن چکا ہے جس میں بدعنوانی اور کم نظری کی فصلیں لہلہا رہی ہیں۔ ایسے میں ایک مقتدر قومی ادارے کو گالیاں دینے اور ان کے سروسز چیف کو پھانسی دینے سے انقلاب نہیں انارکی گلی کوچوں میں ناچے گی اور آئین کی بالا دستی کی صبح پھر بھی دیکھنی نصیب نہیں ہو گی۔
آپ کے پاس دور رس تبدیلی اور انقلاب کے لئے درکار ناں تو عوام ہیں اور ناں ہی لیڈر۔
رانا ثنااللہ مباہلے کے انداز میں جو قرآن اٹھا کے مخالفین کو عبرت کا نشان بنانے کی بد دعا دے رہے تھے وہ یہ بھول ہی گئے کہ اللہ تعالی ایسی کھلی کھلی تائیدات ان کی کرتا ہے جنہوں نے اسی کو سب کچھ سمجھ لیا ہو۔ نیم دروں نیم بروں حالتوں سے مباہلے نہیں مقابلے ہوتے اور اکھاڑے سجتے ہیں۔
تو اکھاڑا سجا ہوا ہے۔ کل تک جو عمران خان چار حلقے کھلوانے کے لئے بلک رہا تھا اب اس کا ہاتھ پڑ گیا ہے تو وہ بھی اپنی سی کرے گا۔ باقی میرے لئے تو خود عمران خان کی لیڈر شپ کی سطح تو اسی دن طے ہو گئی تھی جب کنٹینر پر عاطف میاں کا نام لے کر اگلے دن اسی کنٹینر کے کیبن سے احمدی حوالے سے ختم نبوت والوں سے سرعام معافیاں مانگ رہا تھا۔ لیڈر اگر سچ مچ میں انقلابی ہو تو وہ قوموں کی غلطیوں پہ ان کی اصلاح کرتا ہے ناں کہ اپنے نفوذ کے لئے اور رسوخ کے لئے خلاف ضمیر سمجھوتے کرتا پھرے۔ نواز شریف نے اور مسلم لیگ ن نے یہی کچھ کیا۔ بھٹو کے ہاتھوں پر پارلیمنٹ کو ملائیت کے آگے ذبح کرنے کا خون ہے۔ ضیاالحق کے داغ کسی حد تک مشرف نے دھونے کی کوشش کی، مگر ۔۔۔۔۔۔
خون کے دھبے دھلیں گے، کتنی برساتوں کے بعد۔
اب چین کے اتنے سارے اشتراکی منصوبوں کو اگر افواج پاکستان کی ضمانت ناں ہو تو وہ ایک قدم بھی نہیں چلیں گے آپ کے ساتھ۔ سعودیہ میں سابق چیف بٹھایا ہوا ہے۔ اور کور کمانڈرز اپنے ملٹری برینز کے ساتھ آنے والے دنوں میں اپنی بقاء کو ترجیح دئیے ہوئے ہیں۔ وہ اب معاملات پر کچی گرفت افورڈ نہیں کر سکتے ورنہ آپ کو آئین آئین کھیلنے ہی دیتے شائید۔
اب تو معاملات شفاف ہوں، ووٹر تعلیم یافتہ ہو، گلی محلے میں عدل و انصاف اور احساس تحفظ کی فضاء پیدا ہو۔
معیشت میں کچھ استحکام آئے،
ادارے از سر نو آباد ہوں،
عدلیہ کو عدل کرنا آجائے،
وکلاء قانون کے عالم کے ساتھ عامل بھی ہوں،
تھانے کا کلچر بدلے،
اور پاکستان کے شہریوں کو برابر کی شہریت کا حق اور درجہ حاصل ہو،
تو پھر ہی ممکن ہے کہ آپ آئین، جمہوریت، ووٹ کی حرمت اور سیاستدان کے وقار اور استحقاق کی بات کر سکیں۔
ابھی ممکن نہیں کیونکہ آپ کے سامنے قومی سطح کی بد فعلیوں پہ آپ نے منہ سیا ہوتا ہے تو اس کی مکافات کے طور پر یہ بے بسی اور بے توقیری اتری ہوئی ہے۔
میرا پاکستان کے ووٹ کو عزت دلوانے والے میڈیا اور لبرلز سے یہ سوال ہے کہ ملتان بار نے جب اقلیتوں کو بار کے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے بھی روک دیا تو آپ کی صفوں میں کوئی ابال آیا؟
اور اقلیتوں سے مراد صرف احمدی ہیں، کیونکہ وہاں بار کونسل کے اراکین نے صرف ختم نبوت والوں کی قرارداد پہ دستخط کئے۔ عیسائی اور ہندو۔۔۔۔۔ختم نبوت کے منکر نہیں ہیں، بلکہ وہ سرے سے رسالت اور نبوت محمدیہ ہی سے منکر ہیں۔ اسی لئے تو مسلم نہیں، ورنہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے تو مسلمان نہ ہو جاتے۔
تو جب آپ ایک ضلعے کی بار اور الیکشن کی حد تک ایسے بے حس، جھوٹے ، بد دیانت اور غاصب ہیں اور ان سماجی دو نمبریوں پہ چپ ہیں تو آپ مستحق ہی کب ہیں کہ آپ کو شفاف سیاست، عادل عدلیہ اور حقوق دینے والی اسٹیبلشمنٹ نصیب ہو۔
رانا ثنا اللہ کے اللہ سے فیصلہ چاہنے کی دعا والی پریس کانفرنس میں مجھے یہی خیال آرہا تھا کہ اللہ کی طرف سے ذلت اور رسوائی کے تو آپ سب مصداق بنے ہوئے ہیں، ناں ججوں کے پاس عزت و وقار، نہ پارلیمنٹ کے پاس یہ دولت، وفاقی وزہروں اور لاء منسٹروں تک کو تو حریم شاہ اور صندل کوڑھ کی طرح پڑ چکی ہیں، میڈیاء میں صحافیوں کو سرعام تھپڑ پڑ رہے ہیں ، ملوانے بچوں سے بد فعلیوں میں پکڑے جا رہے ہیں اور جن کو آپ چوکیدار کہتے ہیں وہ ڈنڈے سے آپ سے انگوٹھے لگوا رہے ہیں، تو اور ذلت اور رسوائی کے سر میں کیا سینگ ہوتے ہیں۔
خدا سے ڈرو اور اپنے جیسے دیگر انسانوں کے حقوق کا پاس کرو تو آسمان سے عزت اترے گی مگر وہ اب مشروط ہے آپ کے اپنے کیریکٹر کی تبدیلی کے ساتھ۔
نہیں تو بہت سے بدمعاش آپس میں لڑیں گے تو تگڑا ماڑے کی ایسی تیسی کرے گا ہی، یہ کون سی انہونی بات ہے؟
اس میں اب خدا کو کیوں بلاتے ہیں۔ اس کے عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ وہ پھر ایسوں کی آواز کو درخور اعتناء نہیں جانتا۔۔۔۔اور ملتان بار کونسل والی حرکتوں سے اب آپ اللہ تعالی کے پاس صرف نظر فرمانے کا جواز بھی نہیں چھوڑتے۔ تو ٹھیک ہے، بار کا الیکشن کیا چیز ہے،
ہم نے آئین میں یہ لکھا ہوا تو دیکھ لیا کہ کوئی احمدی پاکستان کا صدر، وزیر اعظم یا چیف جسٹس نہیں بن سکتا اور سینٹ، وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹیں چھوڑ دیں۔ اور تو اور ربوہ جس کی پچانوے فیصد آبادی احمدی اور شہر ہم نے خرید کر بنایا ہوا ہے اس کی یونین کونسل تک کے ہم ممبر نہیں۔۔۔۔۔تو ہم آپ کے آگے جھکے کبھی؟
کوئی فریاد، جقوق کی کمپین کی؟
تو اتنی تو عقل کریں کہ ملتان چھوڑ ساری پاکستان کی بارز میں ڈی بار کر لیں ۔۔۔۔۔مگر نتیجہ سامنے رکھ لیں۔
اب کوئی ہے آپ کے پاس۔۔۔۔۔۔صدر، وزیر اعظم یا چیف جسٹس یا پارلیمنٹ؟؟؟
فاعتبرو یا اولی الابصار۔
ہمارے نزدیک پاکستان کا راستا کھوٹا تو نہیں ہو گا کیونکہ اس کو بنانے والوں میں ہم احمدی صف اول میں تھے اور ہم آج بھی اس کے عملی اور حقیقی خیر خواہ ہیں،
لیکن اب پاکستان کے لئے تبدیلی، ترقی اور استحکام کا راستا ملتان بار کونسل جیسی حرکتوں کی وجہ سے لمبا ہوتا جا رہا ہے۔
کچھ خدا کا خوف کرو۔۔۔۔۔آپ کی ذلت پہ بھی اصل دکھ ہمیں ہی ہوتا ہے۔۔۔۔آپ کے لیڈر تو مسخرے ہیں جناب،۔۔۔یا پھر تماش بین اور حریم خور۔
فی امان اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں