وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہم اپنے سکول کے زمانے میں گرمیوں کی چھٹیاں اپنے آبائی گھر کلسیاں بھٹیاں میں گزارا کرتے تھے جہاں ہمارے بچپن تک ابھی زمیندارہ اور ڈھور ڈنگر کے ساتھ ساتھ ایک بڑھ کے چھتنار درخت والا مہمانداری اور نشست و برخاست والا ڈیرہ بھی تھا جہاں اسی رواج کے مطابق، حقہ چلم، دور و نزدیک کے مہمان اور بندوق بردار وضع دار زمینداروں کا آنا جانا ہم دیکھ دیکھ کر بڑے ہوئے اور ہمارے دادا میاں بہاول خاں مرحوم کو میزبان، وضع دار اور “اہل بندوق” کے طور پر ہم نے دیکھ رکھا تھا اور لا شعوری طور پر ہتھیار سے متعلقہ اخلاقیات ہم میں بھی راستا بنا رہی تھیں۔ انہی گرمیوں کی تعطیلات میں سے ایک سال کا ذکر ہے کہ ہم اپنے گھروں کے ساتھ والے ایکڑ میں اپنے آم اور جامن کے درختوں تلے کھیل رہے تھے کہ ہمارے چچا زادوں اور پھوپھی زادوں میں سے ایک دو نے ہمیں اپنے ہی درختوں سے جامن کھانے سے بیدخل کر کے بھگا دیا اور خود قابض ہو گئے۔
ہم دونوں بھائی بڑے رنج اور غصے میں گھر گئے اور اونچی چارپائیوں پہ رکھی بندوق نکال رہے تھے کہ ہماری والدہ آئیں، جو اس وقت ہمارے گاوں کی واحد تعلیم یافتہ خاتون اور مقامی سکول کی ہیڈ مسٹریس تھیں۔ ماجرا پوچھا اور ہم نے موقف بیان کیا کہ ہماری زمین اور ہمارے درخت، تو اس سے بیدخلی اور ایسی سینہ زوری کا جواب ضرور دینا ہے چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔
کہنے لگیں، بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سر بھی بڑے ہیں اور ذہن بھی اچھے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ ہم آپ کی اچھی تعلیم پر بھی خرچ کر رہے ہیں اور آپ کو محدود وسائل کے باوجود شہر میں رکھ کر تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ان کم نظر اور جہالت کے پروردہ چچیروں اور پھپھیروں سے لڑ کر اپنا مستقبل نہ خراب کریں۔ آپ لوگوں کو دنیا میں جا کر آئیندہ اللہ جانے کون کون سے پھل کھانے کو ملیں مگر یہ جنہوں نے آج آپ کے جامنوں کے درختوں سے آپ کو نکالا ہے یہ بس یہی جامن کھاتے رہ جائیں گے۔ اس لئے ان کی دیکھا دیکھی لاٹھیاں بندوقیں نہ اٹھائیں اور آرام سے گھر میں اپنا چھٹیوں کا ہوم ورک کریں۔
ایک سمجھدار اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ماں نے بات آئی گئی کروا دی، اور بچپنے کے غصے کی عمر بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ تین دہائیاں بعد میں نے اٹلی میں عبدالسلام سنٹر میں قیام کے دوران پہلی بار سپین کا مالٹا کھایا تو مجھے برسوں پہلے کہی گئی اپنی والدہ کی بات کی بہت اچھی طرح سمجھ آ گئی۔
اس ساری ذاتی کہانی کو اپنے قارئین کے گوش گزار کرنے کا باعٹ گزشتہ ہفتے ضلع قصور میں سوا سو سال پرانی احمدیہ مسجد پر ملانوں، ضلعی انتظامیہ اور حکومت کے کارندوں کا مشترکہ قبضہ ہے جس پر ریاست کی چشم پوشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی لا علمی نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔
جیسا کہ پہلے گزارش کی تھی کہ ایسے مضامین نہ تو قبضہ واگزار کروانے کے لئے لکھے جاتے ہیں اور نہ ان کے ذریعے کسی نوعیت کی داد رسی مقصود ہوتی ہے۔ ان کی حیثیت زیادہ سے زیادہ یہ ہوتی ہے کہ آج حال میں آئینہ ایسے رخ سے رکھا جائے کہ کسی سعید زاویے پہ کھڑے اہل نظر کو قبضہ کرنے اور قبضہ برداشت کر جانے والوں کا مستقبل اپنی روشنیوں اور تاریکیوں کے ساتھ نظر آ جائے اور اس دور کی نسل کے ذہنوں کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں کی تلخی میں کچھ کمی آ سکے۔
حالات حاضرہ پر سرسری نظر رکھنے والوں کو بھی یہ بات تو بہت ناقابل فہم لگی کہ عین اس دن جب پاکستان اپنے وسیع المشربی کے تاثر کو کرتار پور راہداری پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دعوت دے کر تقویت دے رہا تھا تو سو کلو میٹر پرے قصور میں احمدیوں سے مسجد ضبط کر کے ختم نبوت کے ملوانوں کے سپرد کی جا رہی تھی۔ اور خکومت اور ریاستی کل پرزے اور تمام میڈیا چیخ چیخ کر بین الاقوامی برادری کو بتا رہا تھا کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی فضا میں اقلیتوں اور تمام مذاہب کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔
اس کے متوازی نظارت امور عامہ ربوہ سے جاری ایک پریس ریلیز تفصیل سے اعلان کر رہا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2014 کے فیصلے کے برخلاف، آئین میں دئے گئے مذہبی آزادی کے حق کے بالکل بر خلاف اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، آج قصور میں یہ واقعہ ہو رہا ہے اور مزید آزادی کے طلبگار میڈیا کو اس پریس ریلیز کا ذکر تک کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
جس چیز کو حکومت پاکستان ایک سفارتی کامیابی سمجھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پہ خوش تھی دراصل وہ ایک سفارتی بے وقوفی تھی اور راقم نے اقوام متحدہ کو ایک ذاتی حیثیت میں خط لکھ کر استفسار کا فیصلہ کیا ہے کہ آیا یہ موقر ادارہ واقعی ایسا بے خبر ہے یا پھر پاکستان اتنی ترقی کر گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنی رکھیل کی طرح رکھ سکے اور ایسی واضح اور متضاد پالیسیوں پہ یو ۔آین کو بھی چشم پوشی پہ مجبور کر سکے۔ لیکن یہ تو اکیڈیمک نوعیت کے سوالات ہیں۔
زمینی حقائق اور احوال واقعی کی طرف واپس آتے ہیں اور میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ احمدی حقوق ، احمدی عبادت گاہوں پہ قبضے اور ایسی ظالمانہ کاروائیوں پر احمدی رد عمل کی بھی ایک تاریخ، ایک نظام اور ایک ماضی کے ساتھ ایک مستقبل ہے۔ خلافت کی آغوش کسی طرح بھی احمدیہ سسٹم پر ایک بالغ نظر اور انتہائی دعا گو مادر مہربان سے کم نہیں۔
ربوہ میں جب ستر کی دہائی میں سوا سو کنال اراضی پر قبضہ کروا کر بھٹو انتظامیہ نے “مسلم کالونی” بنوائی تھی اور جس قبضے کو واگزار کروانے کا عدالتی فیصلہ تا دم تحریر پچھلی چار دہائیوں سے محفوظ چلا آ رہا ہے، تو اس وقت وہ قبضہ بھی احمدیوں کے حوصلے اور صبر نے جھیل لیا مگر ستر میں احدیت کا نفوذ ابھی پچاس سے زیادہ ممالک میں نہیں تھا۔
اگر مسلم کالونی کا قبضہ لینا ہو تو عقل نہیں مانتی کہ پچانوے فیصد سے زائد آبادی اگر چاہے تو وہ چند گھنٹوں میں وہ قبضہ واگزار نہ کروا سکے مگر ان کی ماں نے سمجھایا ہے کہ ان مخالفین اور غاصبین کی پہنچ بس یہاں تک ہی ہے اور افراد جماعت احمدیہ ایسا بیج نہیں ہیں جو ان بے ضمیروں کے خلاف رد عمل میں ہی ضائع کر دیا جائے۔ اس لئے ان کو یہ جامن کھانے دو کیوں کہ ان کا مستقبل آگے نہیں ہے اور یہ بس قبضوں اور دھونس دھاندلی کی کمائی ہی کھاتے رہیں گے، ان کا اقوام عالم اور اگلی صدیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اور احمدیوں کے سامنے دنیا کے ڈھائی سو ممالک اور آنے والی صدیاں پھیلی پڑی ہیں اور اللہ نے صبر، ظرف اور ہمت کے ساتھ وسائل اور قربانی کی روح بھی عطا کر رکھی ہے۔ اس لئے اپنی انرجی اور صلاحیتوں کو ان چچیروں اور پھپھیروں پر ضائع نہیں کرنا۔
اسی لئے تئیس فروری سن دو ہزار تئیس کی شام امام جماعت احمدیہ مرزا مسرور احمد صاحب نے ساوتھ آل لندن میں ایک نئی احمدی مسجد کا افتتاح فرمایا جس کی تقریب میں چار سو کے قریب مقامی شرفاء، پارلمنٹیرینز ، میئرز اور شہری انتظامیہ کے عہدیداران نے شرکت کی۔
مطلب یہ کہ احمدیوں کے لئے دنیا میں انواع و اقسام کے پھل منتظر ہیں اور ملوانوں کا چونکہ کوئی مستقبل نہیں اس لئے وہ احمدیوں کے پس خوردہ پر قبضے کر کے ناچ رہے ہیں۔
اگر خدا کے سلوک کو دیکھیں تو قبضے کی حیثیت ذرہ برابر بھی نہیں۔ اسی لئے عنوان میں سلیم کوثر کا شعر باندھا تھا کہ،
وہ لوگ ہم جو تیری آواز سن کے تیرے ہوئے
وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں۔
اور مطلع تو اس سے بھی زیادہ بھر پور اور بر محل ہے، کہ

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
وہ گفتگو ، درو دیوار کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیں اس سے آپ اور آپ کی ریاست دن بدن کمزور اور برہنہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ برہنگی اندر بھی ہے اور باہر بھی۔ آپ نے احمدیوں کو میٹھے چاول سمجھ رکھا ہے اور ان کی چپ اور صبر کو آپ شائید احمدیوں کی اقلیتی مجبوری سمجھے بیٹھے ہیں۔ اسی لئے صابر شاکر جیسے لپاڑئیے یہ بکواس کر رہے ہیں کہ سن چوہتر میں میدان سجا تھا تو احمدی کافر قرار دئے گئے، اور اگر اب سجا تو واجب القتل قرار دئے جائیں گے۔
بد بخت نہ ہوں تو ستر کی دہائی کے پاکستان کا آج کے پاکستان سے موازنہ ہی کر کے دیکھ لیں!!!
مگر ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ نصیب ہی جل گئے۔ عقل ہی ماری گئی ہے اور بے ضمیری کے خمیر سے اٹھائی گئی بے غیرت زبان رہ گئی ہے۔۔۔۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون

اپنا تبصرہ بھیجیں