بقاء کا روزنامچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کل گرامی قدر برادرم وجاہت مسعود صاحب سے بات ہوئی کہ اب یہ بلا سر پہ آن پڑی ہے تو اب اس پہ روزانہ کی بنیاد پر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے، اس لئے لمبی غیر حاضری کے بعد پھر سے حاضر خدمت ہوں۔ اس حاضری میں میرے مخاطب چودہ سال سے چونتیس سال کے افراد ہیں جن کو موجودہ آئسولیشن اول اکیلے ہو کر اور۔۔۔۔۔مختلف قسم کے میلانات سے جبری علیحدگی اختیار کر کے کچھ سوچنے کا موقع ملے گا۔ اور پھر دوسرے قدم پہ اپنے ماحول اور معاشرے کے لئے اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے گا۔
وباء اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ ظاہر ہو چکی ہے اور اب وہ رنگ و نسل اور خطے یا مذہب و ملت میں تمیز کئے بغیر آگے بڑھے گی۔ اس لئے اب ہم وباء کا روزنامچہ لکھنے کی بجائے ۔۔۔۔۔۔بقاء کا روزنامچہ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔
یہاں جرمنی کی چانسلر اینجلا میرکل نے اس مسئلے پر چند دن قبل قوم سے اپنے ہنگامی خطاب میں مندرجہ ذیل اہم نکات سامنے رکھے۔
اول یہ کی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ سب سے بڑا چیلنج ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہمیں اس کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

ہم نے فرد اور معاشرے کی آزادیوں کا ہمیشہ تحفظ کیا ہے لیکن اب اسی وسیع تر تحفظ اور وسیع تر بقاء کی کوشش کے طور پر ہمیں بعض سخت اقدامات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لئے ملک گیر عوامی تعاون کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ریاست اپنے افراد میں سے ہر ایک کے ساتھ کھڑی ہے ۔
خود کو گھروں تک محدود کر کے ہمیں اس وباء کے پھیلاو کے آگے بند باندھنا ہو گا۔
یہ اجمالی مفہوم اور خاکہ ہے چانسلر کے خطاب کا، اور چانسلر یہاں اعلی ترین حکومتی عہدہ ہے۔
اب پبلک کا جواب یعنی رد عمل سن لیں۔

پسوں کا اگلا دروازہ بند کر دیا گیا کہ ڈرائیور سے فاصلہ رہے۔

ٹیکسی کی فرنٹ سیٹ فولڈ کر دی گئی ک اب سواری پیچھے بیٹھے۔

سٹورز میں خریداری کے بعد کیش کاونٹر پر دو میٹر کا فاصلہ شروع ہو گیا۔

ہاتھ ملانا اور تھامنا موقوف۔

ہجوم کی جگہیں بند اور کل سڑکوں پر کچھ لوگ گھوم پھر رہے تھے تو سٹی گورنمنٹ کی گاڑی آئی اور میگا فون سپیکر پر اعلان کیا تو خاموشی سے وہ سب بھی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
کوئی احتجاج یا کسی اکھڑپن کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
اب عام آدمی کی سوچ ملاحظہ فرمائیں۔
جہاں سے میں فریش دودھ لیتا ہوں اس کسان، مسٹر وائن سے کل بات ہوئی تو کہنے لگا کہ اگر لاک ڈاون ہو تو آپ ایک کام کر سکتے ہیں۔
کہ آپ کے قریب جو دس بیس فیملیز ہیں جن کے دودھ پینے والے بچے ہیں ان کی لسٹ بنا لیں اور جب اپنے لئے دودھ لینے آئیں تو ان کے لئے میں آپ کو ایک ڈرم میں دودھ ڈال دیا کروں گا اور آپ ان کو واپسی میں دیتے جائیں۔ آپ کے پاس گاڑی ہے، اور میرے پاس دودھ۔ تو ہم مل کے اپنے حصے کی سہولت تو پہنچائیں اس مشکل وقت میں۔
میں نے کہا کہ یہ میرے لئے اعزاز ہے اور اس نے یہ خدمت کی پیشکش اپنی شہری انتظامیہ کو دے دی۔
اوپر سے لے کر معاشرے کی نچلی سطح تک آپ کو میں نے نقشہ اور سوچ کا پیٹرن دکھا دیا ہے۔
یہ کوئی دس کروذ ہیں اور وسائل سے مالا مال مگر ان کو کوئی اور کام نہیں مشکل وقت میں سوائے ممکنہ سہولت اور خدمت کے بہم پہنچانے کے۔
ہم پاکستان میں بائیس کروڑ ہیں اور ہمارے پاس وسائل نہیں مگر ابھی وقت ہے ہمارے پاس۔ اٹلی یا یورپ کے پاس وسائل تھے اور ہیں مگر وقت اور مہلت کم ہے۔ اب وہ پلاننگ سے ٹائم بائی کرنے کی بات کرتے ہیں۔
آپ کو قدرت نے ٹائم دیا ہوا ہے، خریدنے کی ضرورت نہیں۔
میرے مخاطب بڑے لوگ اور بڑی شخصیات نہیں ہیں۔
عام لوگ، چھوٹی شخصیات اور چھوٹی عمر کے لوگ ہیں۔ اپنے اوپر مشق کے طور پر آج سے پابندیاں لگائیے اور اس سیلف آئیسولیشن کی پریکٹس شروع کریں۔
گندم آپ کے پاس ہے، نمک اور مرچ گھروں میں رکھیں اور چٹنی، لسی، سادہ سی چائے یا گڑ اور پھنے ہوئے چنے، شکر اور روٹی جیسی چیزوں کی رضا کارانہ مشق شروع کریں۔

ایک بات اور بتانا چاہتا ہوں۔۔ادھر یورپ والے ممکریوں اور کارٹونوں کے باپ ہیں، مگر آج کل نہیں کر رہے۔ یہ اچھے دنوں کے چونچلے ہیں۔۔۔۔۔اچھے دنوں تک پہنچنے کا راستہ پکڑیں فی الحال۔
میری اب آپ سے یہاں روزانہ ہی ملاقات ہوا کرے گی۔ میں نے بھی تحریر کی اچھے کھانوں کی میز ترک کر کے۔۔۔دال چاول اور گڑ شکر شروع کر دی ہے۔ معنی خیزیاں بعد میں ہوتی رہیں گی۔
ابھی ہمیں ہمسائے کے بچوں کو دودھ پہنچانا ہے، لپیٹی ہوئ صبح کی چپاتی کسی کے ساتھ مل کے کھانی ہے اور چسکے چھوڑ کے زندہ رہنے کے لئے ناگزیر کو اپنی ترجیح بنانا ہے۔ امتحانات معطل ہو ں یا سال مارے جائیں۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔
ہمیں زندگی کو سطح زمین پر باقی رکھنے کی کوششوں میں اپنا انسانی کردار ادا کرنا ہے۔
سیاسی، تعلیمی اور مذہبی اور نسلی کردار بعد میں ادا ہوتے رہیں گے۔
ان غیر معمولی آز مائش کے دنوں میں سیاسی پوائینٹ سکورنگ کرنے والوں، حکومتوں پہ تبرے بھیجنے والوں اور سوشل میڈیا پہ وائرس کو شکست دینے والوں نیز جمعے اور دیگر اجتماعات پر پابندی ناں ماننے والوں یا ان دنوں آپ زم زم کی تقدیس پہ حملہ آوروں اور جملے بازوں کو کھلا چھوڑ دیں اور اپنی انرجیز اور صلاحیتیں۔۔۔۔۔سوکھی چپاتی، ابلے چاولوں، چٹنیوں اور دودھ وغیرہ کی مانگ اور سپلائی پر مرکوز کریں۔
پاکستان کو ایک باشعور رضاکاروں اور خدمتگزاروں کی بہت بڑی چین اور ٹیم درکار ہے، جو شائید یہ جملے باز نہیں ہیں۔
اگر ضرورت پڑے تو ان کو قابل اجمیری کا یہ شعر سنائیں اور آگے چل دیں، کہ،

خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آ جائے گا
تم وہاں تک آ تو جاو، ہم جہاں تک آ گئے،
اللہ چاہے تو کل پھر آپ سے ملاقات ہو گی۔ ہم نے نوجوان باشعور افراد کا ایک آگاہی مہم کا پورٹل بنانا ہے جسے آپ سب نے چلانا یے۔
فی امان اللہ ۔۔۔۔۔پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں