بقاء کا روزنامچہ، 1۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

آج حسب وعدہ پھر حاضر خدمت ہوں۔
کل کی گفتگو کو کافی جگہوں پر پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اور بڑی عمر کے جید احباب سے لے کر نوجوانوں اور بچوں نے اس میں تعاون کا رابطہ استوار کرنا شروع کیا ہے۔
وباء جلدی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ اور اگر ہو گئی تو ست بسم اللہ۔۔۔۔اور کیا چاہئے۔
لیکن اگر لمبی چلی تو آپ میں اور ہم میں بنیادی انسانی اوصاف کے مظاہرے کا تقاضا کرے گی۔ پاکستان کے پاس بظاہر وقت ہے کہ وہ منظم ہو جائے اور جوانوں اور کچھ کرنے کے خواہشمندوں کو قدرت موقع بھی دے گی۔ جن لوگوں کو اس اندھیرے کے بعد کی چمکتی صبح میں زندہ رہ کر آنکھیں کھولنے کا یقین ہے وہ اب

ایک دوسرے سے 6 فٹ کے فاصلے پہ رہنا شروع کر دیں۔

گھر کا دروازہ بند رکھیں اور باہر مجبوری کی علیحدگی اختیار کرنے کا ہاتھ سے لکھا ہوا سہی، مگر سادہ سا نوٹس لگا دیں۔

گھر کی ضروریات اور کاموں کی لسٹ بنا کر اسے خوب اچھی طرح شارٹ لسٹ کریں، اور ان کاموں اور ضرورتوں میں سب سے اچھی صحت والا فرد ہی باہر جائے۔ افراد خانہ گھر میں رہنے کو خود پر لازم کر لیں۔

ابھی سے ایک دن، انتہائی سادہ کھانا بنانے اور کھانے کی مشق شروع کر دیں۔ یاد رکھیں کے کم سپلائی میں اللے تللے چھوڑ کر زندہ رہنا اور ہر ممکن حد تک دوسروں کو زندہ رہنے میں مدد دینا ہی اصل امتحان ہے، جو پورے ملک کو اور قوم کو بھی دینا پڑ سکتا ہے۔

آج زیادہ تر حصہ ملک کا لاک ڈاون ہو گیا ہے۔ خود پہ کرفیو کا نفاذ رضاکارانہ طور پر کر کے اٹھارٹیز اور اداروں کے اہل کاروں کو فری رکھیں تا کہ وہ زیادہ اہم کام کے لئے موجود ہوں۔

صحت اور حفظان صحت کے علاوہ پہلے سے بیمار اور بیماریوں کے لحاظ سے انتہائی ضرورتمندوں کی مدد کے لئے اپنی، عمر، وسائل، سواری، مہارت اور قربانی کے لئے ممکنہ طور پر دئے جا سکنے والے وقت کا جائزہ لے کر ایک سادہ اور رف سکیچ جیسی لسٹ مرتب کرلیں ، جو بوقت ضرورت منظم اداروں اور سرکاری اہلکاروں کی معاونت کے لئے کام آئے۔

پاکستان کی فوڈ سپلائی چین کٹ نہیں سکتی، گندم اپریل میں آنی شروع ہو جائے گی، ساری فصلیں اور سبزیاں مقامی ہیں، لائیو سٹاک کی بہت گنجائش ہے، بس کچھ وقت کے لئے جعلی لائف سٹائل اور دکھاوے کے کھابے ، کھانے اور برگر پیزوں کو آئیڈیلائز کرنا بند کر دیں۔

پٹرول اور بجلی کو اور پانی کے استعمال کو عادت بنا کے بچانا شروع کریں۔

لاء انفورسمنٹ کے اداروں کی نفری کو بجلی گھروں، پانی کے ذخائر، خوراک کے گوداموں اور ہیلتھ کیئر کے کاموں کے لئے فری رکھیں اور اندرون شہر و گلی محلہ انتظامی مشقت میں خود آگے آئیں۔ اپنی سپورٹ کے لئے ایک آدھ وردی والا انتظامیہ سے مانگ لیں اور باقی کام رضاکارانہ طور پر چلائیں۔

باعزت اور باوقار طور پر راشن اکٹھا کر کے انتہائی نادار کے گھر تک پہنچانے کی سکیمیں، سوچیں، بنائیں اور عملدرامد شروع کریں۔

یاد رکھیں کہ آپ نے خود بھی زندہ رہنا ہے اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے میں مدد دینی ہے۔ بے وسائل اور کمزور لیکن ہمت کرنے والے اور دوسروں کا خیال کرنے والے ایک طرف اور لالچی، زر و دولت کے غلام، خود غرض اور دوسروں کا خیال نہ رکھنے والے دوسری طرف ہوتے جائیں گے۔
بعد میں ہی پتا چلے گا کہ آگ اور دھوئیں کے دوسری طرف کونسے لوگ پہنچتے ہیں۔

ملتان سے ایک سینئر صحافی، ایک ہائیکورٹ کے سینئر وکیل، اسلام آباد سے ایک ڈاکٹر، دو یونیورسٹی پروفیسرز، ہری پور سے ایک علم دوست پرنسپل، جرمنی سے ایک جرمن ڈاکٹر اور واشنگٹن سے ایک سینئر کنسلٹنٹ، ایک ٹیلی کیمیونیکیشن انجینئر، سکھیکی سے ایک یونیورسٹی کی گریجویٹ، چند کالج کے طلباء و طالبات، ہمارے کرلوٹ کالج کے بہت سے پرانے طلباء تو اس عزم میں شامل بھی ہو چکے۔
آپ بھی آگے آئیں، یہ آپ کا اپنا پورٹل ہے، ہم آپ کو روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی اخلاقی،، پیشہ وارانہ اور آگے چل کے عملی معاونت بہم پہنچائیں گے اور آپ کے لئے دعا ئیں کریں گے۔
اللہ اس آفت سے نبر آزما ہونے کا حوصلہ اور توفیق دے اور کم سے کم نقصان کے ساتھ اللہ پاکستان کے عوام کو یہ جنگ جیتنے کی توفیق دے۔
کل سے اپنے دیہات کو بچانے پہ سوچنا شروع کریں اور اپنے رابطوں کے ذریعے پاکستان کہ دیہاتی آبادی میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھنے، میل ملاقات کم یا بند کرنے اور دور سے صاحب سلامت کا شعور بیدار کرنے کی کوشش شروع کر دیں۔
فی امان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں