بقاء کا روزنامچہ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

کل کے روزنامچے کی جگہ برادرم نعیم باجوہ صاحب کے افریقہ سے اپڈیٹ نے لے لی اور فائدہ اس کا یہ ہوا کہ پاکستان کے قارئین دیکھ لیں کہ اقدامات کرنے کے لئے وسائل سے زیادہ سماجی اور معاشرتی قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج پاکستان کے ضلع رحیم یار خاں کے ڈپٹی کمشنر کے آفیشل پیج سے کچھ دل خوش کن اپ ڈیٹس ملے ہیں، آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ انہوں نے عام دیہاتی دکانوں اور بینکس و دیگر پبلک مقامات پر چونے سے نشان لگوا کر باہمی فاصلہ قائم کرنے کا شعور بیدار کیا۔
ضلعی پولیس افسر کے ساتھ مل کر عوام کو درپیش مشکلات کے لئے رابطہ اشخاص اور رابطے کے فون نمبرز متعارف کروائے۔
اور اپنے دفتر سے کرونا وباء کے حوالے سے رابطے کو آسان بنایا اور۔۔۔۔
اپنے ضلعے کی عوام کے لئے ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔
اچھی روایت ڈالی ہے۔
اس سے خیال آیا کہ چھوٹے اضلاع مثال کے طور پر،
حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، چنیوٹ، قصور، وہاڑی، وغیرہ کو تو یہ کام فوری طور پر کرنا چاہئے۔
بڑے اضلاع لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور سگودھا جیسے ڈی سی صاحبان کے ایک تو ڈی سی ہاوس اور آفس بہت بڑے ہیں اور کچھ ان کی سیاسی الجھنیں بھی ہونگی، مگر چھوٹے اضلاع کو دیر نہیں کرنی چاہئے اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کے ماڈل کو جلدی اپنا کر اپنے رابطے نمبرز اور رابطہ اشخاص کے نمبرز پبلک کرنے چاہئیں۔
اس طرح اگر پچیس اضلاع بھی پاکستان میں ایسا کر گزریں تو والنٹئرز کو اپنی خدمات معین اور منظم طور پر پیش کرنے میں آسانی ہو گی۔
دوسرا اقدام جس کی طرف ابھی پوری توجہ نہیں وہ آپ کی سپلائی لائن ہے۔ جرمنی نے اپنی سپلائی لائن بحال رکھی ہے مگر بارڈر بند کئے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا نے بھی بارڈر بند مگر سپلائی لائن کھلی رکھی ہے۔
پاکستان کی خوش قسمتی یہ کہ اس کی سپلائی لائن باہر نہیں، ساری کی ساری مقامی ہے۔
گندم، چنا، چاول، سبزیاں، دودھ، گنا، گڑ ، شکر، مرچ، نمک اور گوشت کے جانور۔۔۔۔سب کچھ مقامی ہے۔
صرف اپنے کسان، دیہات اور کھیت مویشی کے ساتھ کام کرنے والے آدمی، ڈرائیور، سائیکل یا موٹر سائیکل سوار کو آگاہی دے کر اور اس سے تعاون کر کے، اس کے اہل خانہ کی ضروریات میں اپنے پس انداز اور خوراک دوائی کے ذخیرے سے حصہ ڈال کر۔۔۔۔۔اس کا اعتماد زندہ رکھ لیں۔
اللہ بد ترین صورت حال سے بچائے، لیکن اس کے تدارک اور سروائیول کی جنگ، موت زندگی کے دو بدو مقابلے میں آپ کی خطے اور موسموں اور فصلوں کی صورت حال بہت سازگار ہے۔صرف اس مشکل وقت میں رابطے، احساس اور حالات سے نمٹنے والی سادہ مگر دیرپ منصوبہ بندی کر کے رکھ لیں اور اپنے علاوہ ایک دو مزید افراد اور خاندانوں کو بچانے کا تہیہ کر لیں۔
مصیبت گزرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔بہت ساروں کی ضرورت ہو گی۔
اکیلے ۔۔۔۔۔۔بچ کے کیا کریں گے، اس لئے اپنے ساتھ بچ رہنے والے ساتھی بنائیں۔
اور دیہات جونکہ فاصلے پہ ہیں اور زیادہ گنجان نہیں، اور ہماری فوڈ سپلائی کا سر چشمہ بھی ہیں۔
اس لئی دیہی علاقوں اور کم ترقی یافتہ اضلاع اور ان کے ڈپٹی کمشنر صاحبان کے لئے جیتنے کے زیادہ مواقع ہیں۔
بس سٹیڈیم کے شور اور میڈیاء کی ہڑبونگ میں کہیں اپنا کیچ نہ چھوڑ بیٹھیں۔

فی امان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں