بقاء کا روزنامچہ 3۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پاکستان میں سرکاری مصدقہ کیسز کی تعداد تیرہ سو سے تجاوز کر چکی ہے،
اموات بارہ 12 اور صحتیاب 23 افراد ہیں اور یہ تناسب ہی بہت خطرناک ہے۔
اب آئیے اپنے وزیر اعظم کی طرف،
موصوف اس عالمگیر اور انتہائی پر آشوب وقت میں بھی،
ملاں سے ڈرے ہوئے ہیں اور اس بیوقوف ، بد نصیب، بد کردار کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ پریس کانفرنس میں چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ہوتی ہیں اور صورت حال کا پولیٹیکل ول اور قائدانہ حوصلے سے سامنا نہیں کر پا رہے۔ تس پہ اگر نیو یارک ٹائمز ان کے بارے میں یہ انکشاف کرے کہ فوج نے ان کو سائیڈ لائن کر کے لاک ڈاون کیا پے تو کم ازکم تعجب کی کوئی بات نہیں۔
فوج تو بہت بڑی بات ہے، ان کو تو لاہور کے ڈی ایس پی لیول کے دو افسران نے ہی سائیڈ لائن کر دیا ہے۔ وہی جنہوں نے دو مولویوں کو “بریفنگ دے کر” ان سے اسی دن ان کے جاہلانہ بیان بدلوائے اور جوابی ویڈیوز وائرل کروا دیں۔ کیونکہ پرائم منسٹر اور ان کی کچن کیبنٹ تو علماء و مشائخ کو ساتھ لئے جمعے نماز وں کی جماعت پہ ہی دل ہارے بیٹھے ہیں۔
اللہ کے بندو اب بلاء وارد ہو چکی ہے۔ اب کون سی نمازیں؟
مرض الموت کی توبہ والا معاملہ ہے اب تو۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو وہ نمازیں کام دیں گی جو پہلے پڑھتے آئے۔
اقبال اقبال تو بہت کرتے ہو،
یہ مصرعہ نہیں یاد آیا کہ

وہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔

مجھے پہلے دن سے ہی یہ خطرہ اور خدشہ تھا کہ جہالت کے گڑھ میں اس وقت اہل فہم کی مدد اور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے اور مذہبی اور سیاسی دھڑے بندی سے بالا تر ہو کر جب اور جہاں سخت فیصلے کرنے پڑیں وہ کریں۔ اسی کو تو وزیر اعظمی کہتے ہیں، ورنہ پبلک کو آپ کے کرتے شلواریں اور پشاوری چپلوں میں کم از کم ان دنوں میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اب ایک سوال کا جواب دیں۔
کل سندھ میں 83 ایف آئی آرز درج کر کے بلا امتیاز کئی مکاتب فکر اور فرقوں کے امام جمعہ کی امامت کروانے، پر موذن سمیت گرفتار کر لئے گئے۔
سندھ حکومت پر کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔
آپ ملک گیر سطح پہ بھی ہمت کر لیتے تو کچھ نہیں ہونا تھا۔ صرف یہ کہ آپ وزیر اعظم نہیں ہیں، بلکہ آپ کو وزیر اعظم قرار دے دیا گیا ہے۔ یعنی کیکر کو آم قرار دے بھی دیا جائے تو اس پہ آم لگ نہیں سکتے۔
اب آپ کریں میٹنگیں اور بنائیں ٹائیگر فورس۔
اتنی ننگی کم ظرفی کہ اس وقت بھی پی ٹی آئی رضا کار بنانے لگے ہیں۔
او جناب۔۔۔۔یہ وقت سیاسی اور مذہبی یا لسانی اور علاقائی ٹھپے سے بالا تر ہو کر اقدامات کرنے کا تھا۔۔۔۔
مگر آپ کسی کے بہکانے میں کب آئیں گے، آپ تو ۔۔۔۔۔۔قرار دئے گئے وزیر اعظم ہیں۔

کاش کچھ اقدار ہوتیں، جو نہیں
پھر بھلا جی کیا جلانا ، فارہہ

اب چھوڑیں وزیر اعظم کو۔ تسلی کی بات یہ کہ مقامی پولیس افسران، ایس ایچ اوز اور عام سفید پوش آدمی میں بھی زیادہ ول پاور اور فیصلے کی ہمت ہے، اسی لئے تو مولویوں کا سافٹ وئیر تھوڑی سی بریفنگ سے ہی یکسر تبدیل ہو گیا۔
کراچی میں البتہ دو تین واقعات قابل شرم ہیں۔
راشن تقسیم کرنے والے سماجی گروہوں نے ہندو اور مسیحی بستیوں کو دانستہ انکار کیا۔۔۔۔۔شرم آنی چاہئے!!
اور دہلی کالونی میں احمدی راشن تقسیم کرنے والے کارکنان کو مارا پیٹا اور جلوس نکالا گیا کی قادیانی کیوں آئے۔
اس طرز عمل کے ان مشکل دنوں میں تدارک کی ضرورت ہے۔ اگر بچ گئے تو بعد میں یہ گند ڈال لیجئے گا۔
کل یہاں جرمنی کے ایک سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر سے بات ہوئی ، موصوف آج پاکستان اور ایسے معاشروں کے لئے سادہ اور مختصر سا پیغام اور احتیاطی تدابیر کا چارٹ لکھ بھیجیں گے۔ اسے عام آدمی تک کٹرت سے پہنچا دیں اور جرمنی سے ان کی پاکستان، افریقہ اوردیگر ملکوں کے عام آدمی کے لئے نیک خواہشات اور محبت کا پیغام اس روزنامچے کی معرفت قبول فرمائیے۔

ہاتھ دھوتے رہئے

فاصلہ قائم رکھیں۔

حتی المقدور گھر تک محدود رہیں۔

اور اپنے ارد گرد ضروتمندوں کو تلاش کر کے ممکن حد تک ان کے ساتھ غذا اور دوا شیئر کریں۔

انسانی اوصاف کو زیادہ شدت سے زندہ کریں۔ اس وائرس کا حملہ ہی انسان پر ہے۔
سرادار اختر مینگل صاحب نے اپنا ویڈیو پیغام دیا ہے جو بلوچستان کے دیہی علاقوں میں زیادہ سمجھا جاسکتا ہے۔
مگر ان کا مخاطب کوئی مختیارا نہیں تھا۔
اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے مختیاروں کا بہت خیال رکھیں۔ اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔

فی امان اللہ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں