فرمودہ اقبال، مذہبی دلال اور کرونا کا وبال۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

عاجز کو اعتراف ہے کہ بہتان و الزام کے جواب میں خاموش رہنا جس وسیع حوصلے کا متقاضی ہے، سر دست اس حالت صد رشک سے سرفراز نہیں ہوں۔ اس کے باوجود جب سے کرونا وباء کا عالمگیر اور دلگیر ماحول پیدا ہوا ہے خاکسار کا ارادہ تھا کی احمدیت مخالف رویوں کے جواب میں بھی کسی گیلی منڈیر پہ پیر نہ پڑے۔ زخم اور چرکے جب پہلے ہی کھیتوں کی طرح کھلے پڑے ہوں تو اہل دکھ اور مصیبت زدگان سے ان کے سابقہ رویوں اور ماضی کی لغزشوں پر بات کرنا اچھا نہیں لگتا۔ امن اور معمول کے دنوں میں اس پہ بات ہو سکتی ہے، وہ بھی مخاطب کے جذبات اور عزت نفس کا لحاظ رکھتے ہوئے۔
چند دن شدت وباء سے پیدا شدہ بے دلی میں گزرے، کچھ احباب سے بات تو ہوئی مگر لکھا کچھ نہیں، کہ

کیا نذر دیں جو کوئی نئی آرزو کریں
دل میں تو ٹوٹنے کی بھی ہمت نہیں رہی!

اسی دوران ایک اخباری تراشہ ملا جس میں ختم نبوت کے پرچارکوں کی طرف سے انتظامیہ اور حکومت کو خبردار کیا گیا تھا کی قادیانی ان دنوں ناداروں کو امداد اور حکومت کے ریلیف فنڈ میں امداد کے ساتھ ساتھ ٹائیگر فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کو روکا جائے اور اگر کہیں رجسٹریشن ہو چکی ہو تو منسوخ کی جائے۔

پھر سوشل میڈیاء پر یہ اشتہار آ گیا کہ علامہ اقبال کا فرمان ہے کہ، قادیانی ملک اور اسلام دونوں کے غدار ہیں۔

پھر یہ تحریک ہوئی کہ راشن کے تھیلوں میں تسلی کر لی جائے کہ ان میں قادیانی مصنوعات، شیزان وغیرہ یا دیگر احمدیوں کی پراڈکٹس شامل نہ ہوں، اس سے مسلمانوں کے ایمان پہ ڈاکہ پڑتا ہے۔

آج ایک مکمل ویڈیو، الیاس چنیوٹی کی ملمع سازی اور جھوٹ پر مشتمل پیش کی جا رہی تھی جس میں وہ
احمدیوں کو پاکستان کے غدار کہنے کی دلیل یہ دے رہا تھا کہ سن پینسٹھ کی جنگ میں احمدی ربوہ سے لائیٹس مار کر ہندوستانی جہازوں کو حملے کے لئے مخبریاں کر رہے تھے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ نکال کے لائے کہ ترجمان جماعت احمدیہ کے پریس ریلیز والے لیٹر پیڈ میں چناب نگر کی بجائے ربوہ کیوں لکھا تھا جبکہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد سے نام بدل کر چناب نگر رکھا جا چکا ہے۔

جس وقت پوری دنیا کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، لاکھوں اموات ہو چکی ہیں، اور پتہ نہیں کتنے ملین کو وباء نے پکڑ رکھا ہے اور دنیا میں کس پر کیا وبال پڑے اور کون بچے، عین اس زمانے ، عین ان مصیبت کی گھڑیوں میں، یہ بد نصیب، پیچھے کتابوں کی الماریاں جمائے، ساتھ سرکاری اور ریست کے جھنڈوں کا کراس سجائے، اس ملک کے شہریوں، بلکہ ساتھ کے ہمسائے شہریوں اور ان کی انسانیت کو سہارا دینے کی معین، منظم اور مستحکم کاوشوں پر ایسی Hate Speach کا مرتکب ہو رہا ہے، اور تاریخی، سیاسی، آئینی اور سماجی دروغ گوئی اور بد زبانی کی معجون مرکب بیچ رہا ہے مگر، کسی ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او، یا کرنل کو جو مشترکہ فلیگ مارچ کرنے ربوہ پہنچے ہوتے ہیں، یہ توفیق نہیں ہو رہی کہ وہ اس بد بخت اور جھوٹے کے منہ پر کوئی ماسک چڑھا سکیں۔

اب ذرا جائزہ لیں، کہ احمدی فلاحی سر گرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سن سینتالیس میں پاکستان بن ریا ہے اور اڑتالیس میں ہی، پاکستان کو کشمیر کی طرف دفاع کے لئے افرادی قوت کی ضرورت پڑتی ہے، تو آپ تو ابھی کلیمز بھرنے اور پیر جمانے میں لگے تھے مگر جماعت احمدیہ انہی مشکلات میں فرقان بٹالین نام سے پوری بٹالین حکومت کو پیش کر دیتی ہے۔ راقم کے دادا اس میں شامل تھے اور بچپن تک وہ وردی بطور سوینئر دیکھتے رہے ہیں۔
چار سال بعد ہی جب آپ کے آباواجداد کو سر چھپانے کی جگہ مل گئی تو آپ کو احمدی غدار نظر آنے لگے اور 1953 کی شورش آپ کے آباء نے پاکستان میں برپاء کی اور پہلے منی مارشل لاء کے ذمہ دار سیاستدان نہیں، مولوی تھے۔
مگر اسی دہائی کے تاریخی سیلابوں میں احمدیوں نے کشتیوں کے ذریعے گھر گھر کھانا بھی پہنچایا اور ڈوبنے والوں کی مدد بھی کی، اور رضاکاروں نے راج گیری کر کے مکان دوبارہ کھڑے کرنے میں بھی اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کی مدد کی۔
ابھی سن تہتر اور چوہتر 1973/74 کی آئینی اور مذہبی بد ذاتیاں آنے والی تھیں اور 1984 کا آنا باقی تھا جس میں ریاست پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی بدولت انسانی سطح سے بھی نیچے گرنا تھا لیکن،
احمدیوں نے یہ سب بھگتا۔۔مگر
کسی موقعے پر انسانی ہمدردی کے راستے میں عقیدے کے فرق کو حائل نہیں ہونے دیا۔
جس وقت الیاس چنیوٹی یہ خرافات بول رہے تھے تو عین اس وقت ایک سنی عقیدے کے دوست سے جو سرگودہا سے ہیں اور سعودی عرب میں تھے، یہ بات ہوئی تو موصوف نے کہا کہ ہمیں اپنے سنی مسلمان ہونے میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور آپ ربوہ سے ہمارے لئے تحائف لاتے ہیں اور ہم ربوہ جا کر اپنی فیملی کے ساتھ قیام کرتے ہیں۔ کبھی ایمان پہ ڈاکہ نہیں پڑا۔
اس کے بعد انہوں نے بھی غصے میں آکر مولویوں کے آباو اجداد کی فہرست میں پدری حیثیت سے گھسنے کی سخت کوشش کی جسے میں نے بمشکل تمام روکا۔
بات یہ ہے کہ الیاس چنیوٹی کی کیا ہمت کہ وہ منہ پھاڑ کر ایسی خرافات عام کرے، اس میں شہہ اور چشم پوشی اہل اختیار کی ہے۔
کس آئین شکنی کی بات کر رہے ہو۔ چناب نگر کو اس کے باسیوں کی مرضی کے بغیر نام تبدیل کرنے کا اختیار کس آئین نے دیا۔ جبکہ یہ واحد شہر ہے جو زر خرید جگہ پہ جماعت احمدیہ نے آباد کیا ہوا ہے۔
پچاس ہزار سے زیادہ کہ آبادی کی ٹاون کمیٹی کے سارے یونین کونسل کے ممبران ربوہ سے باہر کے غیر احمدی ہیں، یہ کونسا آئین ہے۔

وسیع اراضی پہ قبضہ کر کے “مسلم کالونی” بنانا کونسا آئینی اور قانونی کام ہے۔
اور علامہ اقبال کا یہ فرمان تو بغیر سند کے مشتہر کر رہے ہو، تو اول تو

علامہ اقبال پاکستان بننے سے نو سال پہلے وفات پا گئے تھے، تو کون سے ملک کے غدار ہیں قادیانی، ؟
جو علامہ کی زندگی میں تھا ہی نہیں!
اور وہ تقریر کا حصہ تو نصاب کی کتابوں سے تمہارے بد نیت اور خائن آباواجدادنے حذف کر دیا ہے مگر نیشنل آرکائیوز آف پاکستان میں آج بھی وہ تقریر موجود ہے جس میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ

“آج اگر اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ کسی نے دیکھنا ہو تو وہ جماعت احمدیہ قادیان میں دیکھ سکتا ہے”
اگر اقبال سے فیض پانا ہے تو پورا فائدہ اٹھائیں اور آئین کی بات کرنی ہے تو پاکستان کے شہریوں کے آئینی حقوق کی بات کرنی پڑے گی، جس کی پامالی کے مولویان پاکستان اور ریاست پاکستان اکٹھے مرتکب ہوئے ہیں۔
آئین پاکستان صرف ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان، سلیم الدین صاحب کے لیٹر پیڈ پہ لکھے ایڈریس میں ہی محدود نہیں ہے۔ اپنی” منجی تھلےڈانگ پھیر ” مولوی۔۔۔۔۔اس بد دیانتی اور جھوٹ کے ساتھ تو اب تم لوگ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔
اب آخری تکلیف کا کچھ ذکر۔۔۔۔کہ احمدی ٹائیگر فورس میں دھڑا دھڑ رجسٹر ہو رہے ہیں، اور فنڈ میں رقم جمع کروائی ہے۔
اس کی وجہ بھی وہی ہے جو تمہاری خرافات کو برداشت کرنے کی ہے۔
پاکستان میں تم جیسے ملوانوں کو آخر ہمت کیسے ہوتی ہے پرامن، باعزت اور باوقار شہریوں کے اوپر زبان درازی کی؟
صاف وجہ ہے کی ریاست اور حکومت اس گند کو روکنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہی۔۔۔۔۔اور کبھی وہ ایسا کرنا نہیں چاہ رہی ہوتی۔ ورنہ افواج پاکستان کو تو وار کالج میں نصاب کے طور پر احمدی جرنیلوں کی 1965 کی جنگ کی وار سٹریٹیجی پڑھائی جاتی ہے، اور چھاونیوں کی سڑکیں احمدی افسران اور جرنیلوں کے نام سے موسوم ہیں۔ ایئر مارشل ظفر چوہدری اسی احمدیہ جماعت سے تھے جو بقول آپ کے ٹارچیں مار کے مخبریاں کرتے تھے۔
آپ کی واہیاتیوں کے عام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افواج پاکستان ایسے پروپیگنڈے کے جھوٹ کو جانتے ہوئے بھی چپ سادھے رہتی ہیں۔
اور احمدیہ جماعت جب تک ریاست اور حکومت ہے، اس کے فنڈ میں رقوم بھی جمع کروائے گی اور ریلیف کی سرگرمیوں میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ تعاون بھی کرے گی۔
اگر خدا نخواستہ حکومت کی رٹ نہ رہی۔۔۔۔۔۔تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔
اور دنیا کے حالات اب ان انسانی طبقوں کو نتھار کر الگ کرنے کی طرف جا رہے ہیں کہ جن کو زندہ رہنے کے طور طریقے آتے ہوں۔ کرونا وائرس کا حملہ انسانوں پر ہے۔ جن طبقات میں انسانیت مضبوط ہو گی وہ سروائیو کر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔اس لئے اپنی انسانیت کی فکر کریں۔ احمدی ربوہ کو ربوہ ہی کہیں گے اور آپ سے اپنے انسانی حقوق کی فریاد کرنے کی بجائے خود میں انسانی قدروں کو زندہ تر رکھنے میں کوشاں رہیں گے۔
بالکل اسی طرح جیسے آپ اور حکومت کے غیر مسلم قرار دینے کے باوجود ہم اپنے اور اپنی نسلوں میں اسلام اور اسلامی اقدار کو زندہ تر رکھنے میں لگے ہیں۔ آپ کے سرٹیفکیٹ کی نہ کل ضرورت تھی نہ آج ہے اور نہ کبھی آئیندہ ہو گی
رشید قیصرانی مرحوم خوب فر ما گئے ہیں کہ،

تمہاری نبضیں ہمارے دم سے جواز ڈھونڈیں کی زندگی کا
کہ لکھنے والے نے لکھ دیا ہے، مریض تم ہو طبیب ہم ہیں۔
باقی مولوی کہ ویڈیو کا ویڈیو جواب ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔وہ تو عاجز بھی ویڈیو میں ہی دے گا لیکن اس آیت کا مفہوم سمجھ میں خوب آیا الیاس چنیوٹی کی کتابیں دیکھ کر کہ۔۔۔۔

مثل الذین حمل التورات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمثل الحمار یحمل اسفارا
واقعی کتابوں کی الماریاں مولوی الیاس چنیوٹی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں، مگر ایک سعید الفطرت انسان کو اس موت زندگی کے دنوں میں ضرور خدا یاد رہتا ہے۔
بد نصیبی کی انتہا ہے کے موت کا رقص سامنے دیکھ کر بھی سر پر قادیانی، ربوہ اور سلیم الدین صاحب کا لیٹر پیڈ ہی سوار ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون…..!!

اپنا تبصرہ بھیجیں