دئے کا کام ہے جلتے رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

ہمارے عزیز دوست زاہد کاظمی صاحب سے پہلا تعارف دو دہائیاں قبل منو بھائی کے ایک کالم سے ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ زاہد کاظمی نے نو عمری میں باقاعدہ تعلیم کو تیاگ کر تعلیم کی بجائے علم سے راہ و رسم بڑھا لی اور ہری پور کے ایک دور افتادہ علاقے میں باب العلم نام سے ایک لائبریری کے قیام کا ڈول ڈال دیا۔
منو بھائی نے ان کے اس غلط فیصلے کی جی بھر کے تائید کی اور دل کھول کر داد دی۔ نہ صرف کالم لکھا بلکہ اس ” گمراہ ” نوجوان کی کتابوں سے اعانت کی اور اس کا فون نمبر اپنے کالم میں شائع کر کے اور لوگوں کو بھی اس غیر سنجیدہ اور غیر نفع بخش کام کی تائید و اعانت کرنے کی تحریک کی۔
اس کے کئی سال بعد اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہو گئی اور پھر۔۔

روز ملنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف
عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

کے مصداق وہ سلسلہ چل نکلا ، پھر مشترکہ دوست احباب کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور خواب دیکھنے کی علت میں ایک اور ساتھی چالان ہو گیا۔ یعنی تعلق میں گرفتار ہو گیا بلکہ ہمارے بارہ کہو والے گھر میں ۔۔۔۔دھر لیا گیا۔
یہ شعر پہلی بار انہی سے سنا تھا کہ،

رات باقی تھی جب وہ بچھڑا تھا
عمر گذری ہے، رات باقی ہے۔۔۔!

موصوف کا ظاہر تو دانشوروں کا سا تھا ہی اور کبھی کبھار بالوں کی پونی بھی بنا لیتے تھے اور کراچی سے دوہرے تعلق کی بناء پر پاجامے یا جینز پر کھلی آستینوں کا کرتا بھی بڑے وثوق سے پہنتے تھے مگر ایک دن خلافت لائیبریری کے تذکرے پر تیار ہو گئے کہ چلو جناب، ربوہ چلتے ہیں۔
عرض کیا کہ درست مگر جناب۔۔۔۔۔
ضرور چلئے، میرا تو گھر بھی ہے اور مرکز بھی ۔۔۔۔مگر۔۔۔صاحب!
اس میں دو چار بڑے سخت مقام آتے ہیں۔
اگلے دن ہم گئے، خلافت لائیبریری کو جس اشتہاء اور ندیدے پن سے انہوں نے دیکھا، ہم تو رشک ہی کرتے رہ گئے، بعد میں برادرم صادق صاحب لائیبریرین سے پتا چلا کہ انہوں نے کچھ بہت اچھی، کمیاب اور کچھ نایاب کتب بھی خلافت لائیبریری کو بھجوائیں۔
بس پھر ہمارا بھی “جھاکا” کھل گیا کیونکہ جو دوست اعتماد کے ساتھ ربوہ جانا اور پھر اس وزٹ کا تذکرہ کرنا افورڈ کر لیں ان سے پھر راقم کو بھی کوئی تحفظات نہیں رہتے۔
اختلاف فکر اور عقائد کو جو کوئی ہمارے شودر ہونے کی دلیل اور جواز نہ بنائے اس شخص میں انسانیت کے ساتھ ساتھ قابل قدر حد تک فکری دیانت اور سماجی رکھ رکھاو پایا جاتا ہے اور وہ زندگی کو اپنی خداداد اخلاقی جرات اور تہذیبی تیقن کے ساتھ گزارتا ہے، اہل جبر و جور کے اشاروں اور آشیر باد سے نہیں۔
ایسے احباب کے لئے ہمارے در ہائے اخلاص و محبت بھی باز اور کھلے ہی نہیں بلکہ انگریزی محاورے کے مطابق Flung Open رہتے ہیں۔
اب ان کی دوستانہ عزت افزائیوں اور برادرانہ احسانات سے قطع نظر کرتے ہوئے ایک اور خدمت کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ موصوف نے ہمارے جلیل القدر بزرگ پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کو ایک پوری جلد پس نوشت کی تحریر و ترتیب کے دوران اردو سوانح عمریوں کی متعدد کتب کینیڈا پہنچانے کا بھی خوب ذمہ داری سے اہتمام کئے رکھا، جس کا تذکرہ پروازی صاحب کی کتاب کے دیباچے میں پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔
ادھر ہم جرمنی کو سدھارے تو ادھر کاظمی صاحب نے ایک اور کار زیاں کا خواب دیکھا اور ساتھ ہی تعبیر کھودنے بیٹھ گئے۔ موصوف نے انتہائی کم آمدنی والے والدین کے بچوں کے لئے ایک ایسا سکول کرائے کی بلڈنگ میں شروع کر دیا کہ جس میں فیس علامتی طور پر صرف ایک روپیہ ماہانہ مقرر کی مگر بچوں کو کتابیں، ٹرانسپورٹ، سکول کے دیگر لوازمات اور یونیفارم سکول مفت مہیا کرتا ہے اور اساتذہ کی تنخواہ بھی معیاری رکھی گئی کہ، اساتذہ بچوں کی ترقی کا بنیادی زینہ بھی ہیں اور قرینہ بھی۔
لیکن جب یہ “غلط” فیصلہ کیا تو اس وقت منو بھائی نہیں تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
پچھلے سال سکول کی سالانہ تقریبات کچے پکے صحن والے کیمپس میں ہوئیں تو مہمانوں میں بہت سے اہل ذوق کو دیکھا۔ تسلی ہوئی کہ خواب دیکھنے والے ہی نہیں بلکہ خوابوں کی تائید کرنے والے بھی موجود ہیں۔
برادرم طاہر ملک، برادرم فیض علی کے علاوہ بی بی سی کے کالم نگار محترم وسعت اللہ خان ان بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اس دور افتادہ گاوں قطبہ میں پہنچے ہوئے تھے اور وسعت اللہ خان صاحب تو ان بچوں کے انٹرویوز کر کے اور ان سے خوش گپیاں کر کے ان کی اعتماد سازی میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آئے۔ ماشاللہ ، چشم بد دور۔
اس کے علاوہ مہمانان خصوصی نے ایک، دو یا دس بچوں کی سپانسر شپ بھی قبول کی جو ایک بچے کے لئے ایک تعلیمی سال کے لئے اس سال پینتیس ہزار ہے جو کہ گزشتہ سال تیس ہزار فی بچہ، سالانہ تھی۔
اخبارات نے اس پہ حیرت کا اظہار کیا ، کچھ مضامین چھپے مگر ان ستر یا اس سال تک ایک سو چالیس بچوں کی سپانسر شپ کسی صوبائی، یا مرکزی ادارے کو نصیب نہیں۔
وسعت اللہ صاحب نے خوب کہا کہ کراچی لاہور یا اسلام آباد میں تو ہمارے ایک بچے کی اوسط درجے کے سکول کہ ماہانہ فیس بھی ان بچوں کی سالانہ فیس ہی نہیں بلکہ سالانہ خرچ سے زیادہ ہے۔
اس سال برادرم زاہد کاظمی صاحب نے اپریل 2020 سے شروع ہونے والے تعلیمی سال کے لئے ان بچوں کی سپانسر شپ کی تحریک کرنے کا اخباری مضمون لکھنے کے لئے آئینہ ابصار کو کہا اور مجھے مندرجہ بالا سطور لکھنے کے بعد ذیل میں ان بچوں کی تعلیمی اعانت کے لئے رابطہ نمبرز 00923345958597 اور 00923005091908 شائع کرتے ہوئے اطمینان بھی ہے اور میری دعا بھی ہے کہ اللہ تعالی اس سال بھی اور آئیندہ بھی اس کار خیر کو جاری رکھنے کے لئے بہتر اور بھر پور سامان عطا فرمائے۔ آمین۔
دنیا کے حالات جیسے بھی ہوں، خواب اور دئے کی فلاسفی وہی رہتی ہے کہ

دئے کا کام ہے جلتے رہنا، جلتے جلتے جل جانا
اس کے بعد بھی رات رہے تو اور کسی کے نام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں