ہوم / کالم / !!یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ۔۔۔

!!یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ۔۔۔

جن دنوں پروفیسر ڈاکٹر اصغر قادر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈین آف نیچرل سائینسز تھے تو راقم کو ان کا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ پروفیسر صاحب موصوف اور ان کے بھائی بشارت قادر صاحب کی شفیق طبع اور مہمان کی تواضع کے آداب اور رکھ رکھاو سے لا جواب ھو کر ایک فقرہ مجھ سے بے ساختہ سرزد ھوا کہ تہذیب اس خاندان میں مذھب کی حیثیت اختیار کر گئی ھے۔۔۔تو اس ملاقات میں موصوف نے ایک ایسی بات فرمائی جس کی پرتیں اب ایک دھائی سے کھلتی جا رھی ھیں۔

ڈاکٹر اصغر قادر صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سائینس معرض خطر میں نہیں کیونکہ سائینس کے اصولوں اور قوانین سے انحراف فوری نتائج دے کر آپ کو خبردار کر دیتا ھےکہ بات یوں نہیں ھے مگر ھسٹری اور سوشل سائینس کے میدان میں مسائل ھونگے کیوں کہ جب تاریخ مسخ کی جا رھی ھو یا سماجی اصولوں سے انحراف کیا جا رھا ھو تو اس کے اثرات دیر سے ظاھر ھوتے ھیں اور دیرپا زوال پر منتج ھوتے ھیں اس لئے اھل دانش کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ کرنی چاھئے۔

بعد میں اھل دانش نے توجہ کی بھی۔ ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر پرویز ھود بھائی، قسم کی آوازیں سنائی دیں مگر دیر ھو چکی تھی، رات گہری ھوگئی تھی اور چراغ کم، نحیف اور بے آسرا ھوتے گئے اور ایک ایک کر کے یا بجھتے گئے یا رات کے ھمنوا ھوتے گئے اور اب عالم یہ کہ منظر بھوپالی کے یہ چار مصرعے ھمارے ترجمان لگ رھے ھیں۔

کدھر کو جائیں گے اھل سفر نہیں معلوم

وہ بد حواسی ھے اپنا ھی گھر نہیں معلوم

ھم اپنے گھر میں بھی بے خوف رہ نہیں سکتے

کہ ھم کو نیت دیوار و در نہیں معلوم۔

یہ تاریخ کا سبق اور سیاسیات کا اصول تھا کی ایک سوسائٹی میں دو پیمانے نہیں چل سکتے۔

ایک گروہ یا طبقے کو ظلم کا نشانہ بننے دیا گیا اور ریاست نے آنکھیں بند کیں تو سب کا تحفظ داو پہ لگے گا۔

عدم برداشت کو اگر ایک دفعہ ریاستی تائید ملی تو آئیندہ وہ خود اپنے بچے دے لے گی اور ریاست کو نہیں پوچھے گی۔

بات زیادہ اکیڈیمک نہ رھے اور سب کے لئے ایک جیسی قابل فہم ھو سکے تو یوں سمجھ لیں کہ ایک شریر نے کسی مخصوص طبقے کی کار پنکچر کرنے کے لئے سڑک پر کیل پھینک دئے اور روکنے والوں نے روکا نہیں۔ اب وھی کیل ھیں جو سب کی کاروں کے ٹائر پھاڑ رھی ھیں حتی کہ سرکاری اور فوجی گاڑیوں کے بھی۔

اور نظام ریاست کے بگڑنے کے  ساتھ ساتھ کچھ اور نقصان بھی ھو رھے ھیں۔ عدم تحفظ ھی نہیں عدم اعتماد پیدا ھو رھا ھے اور سستی شھرت آگے آرھی ھے اور حقیقی دانش منہ چھپا رھی ھے اور سچ کے لئے آگے آنے سے اس لئے خائف ھے کے ریاست کی دیانت اور غیر جانبداری پہ سوال اٹھ رھے ھیں اور مادر وطن کی عملی تصویر ریاستی عملداری تذبذب کا شکار ھے-

پچھلے ایک ھفتے کے واقعات میں سے دو کا ذکر تو حسن نثار صاحب نے کر دیا اور تیسرے کا شائید کوئی نثار بھی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔اور جب میں کروں گا تو وھی سمجھا جاونگا جو ھوں اور مجھے یہی بتایا جائے گا کہ۔۔۔ایہہ گل نئیں کرنی۔۔۔ایہہ برداشت نئیں ہوندی۔

پچاسی سالہ ووٹر کے کان اور ناک کاٹ دئے۔۔۔۔جب یہ عمل ھو رھا ھو گا تو اس کے سینے میں حب الوطنی کا جذبہ اور ریاست کے اختیارات پر اعتماد کس لیول پہ ھو گا اور یہ عدم برداشت اور فرعونیت نان سٹیٹ ایکٹرز میں کب آئی اور کہاں سے آئی؟

ڈسکے میں ایک میاں بیوی کو دن دیہاڑے کھمبے سے باندھ کے منہ کالا کیا ھوا ھے اور ایک گروہ یا دھڑا یہ کر کے بیٹھا ھے اور اس کو کسی کی پروا نہیں ھے۔

کئی سالوں سے قائم ھسٹاریکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا ڈائریکٹر ھٹا دیا جاتا ھے اور کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی اور ادارے میں کوئی ھلچل نہیں۔

ایک کمیونٹی کا اخبار جس کے سرورق پہ لکھا ھے کہ یہ صرف احمدیوں کے لئے ھے اس کا پرنٹر پبلشر راہ چلتے الزام لگا کر دھر لیا گیا اور الزام توھین مذھب کا ھے اب دونوں ھاتھ باندھے ھتکڑی میں کھڑا ھے اور ریاست چپ۔۔۔کی کریہے جی۔ مذھبی پرچہ اے۔۔۔۔

سپریم کے جسٹس کھوسہ کے ان ریمارکس کے بعد کیا کہنا باقی رہ جاتا ھے کہ

"مصیبت یہ ھے کہ جہاں مذھب کا نام آجاتا ھے وھاں قانون پس پشت ڈال دیا جاتا ھے۔۔!

پچاسی سالہ بک سیلر کتابیں بیچنے پہ اٹھا لیا اور رات کے اندھیرے میں مولوی(جو خود مطلوب ہیں) وہ ھائی ویز اور چوراھوں پہ شکرئے کے بینر لگا رھے ھیں اور قادیانیوں کی تحریف قرآن کو جلی حروف میں لکھ کر ۔۔۔۔۔۔کیا کرنا چاہ رھے ھیں۔؟

مجھے اور آپ کو پتہ ھے ایک ڈپٹی کمشنر کو نہیں پتہ۔۔اور ایک  SSP کو خبر نہیں !

آپ کو ایک لٹمس ٹیسٹ دیتا ھوں ۔ آپ اس بینر پہ احمدیوں کی جگہ مولویوں کے نام الیاس چنیوٹی وغیرہ لکھ کے منجانب جماعت احمدیہ کر کے دیکھیں تو پندرہ منٹ میں پولیس اور ھر سطح کی انتظامیہ پہنچ جائے گی۔

تو یہ ھے وہ بے محل اور بدنیتی اور نا اہلی پر مبنی برداشت اور چشم پوشی جس نے عدم برداشت اور عدم تحفظ کے بچے دئے ھیں۔

سوال یہ ھے کہ کیا سرور اور سمیرا منہ کالا کروا کے اور جوتے کھاتے ھوئے اور بوڑھا ووٹر ناک کٹواتے ھوئے اور شکور بھائی تھانے میں بے عزتی کرواتے ھوئے اور طاھر مہدی سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس کے یہ ریمارکس سن کر واپس جیل جاتے ھوئے کسی بھی شریف کا شکریہ ادا کر رھے ھوں گے۔۔

جبکہ دوسری طرف چنیوٹ اور چناب نگر میں آویزاں شر انگیز بینرز نے آپریشن ضرب عضب کے بعد ایک ضرب المثل بن جانے والے فقرے کا اعتبار اور وقار بھی مجروح کر دیا ھے۔

کوتاہ قامتی، سستے پن اور انحطاط کا حال یہ کہ جو جملہ ایک باوقار سپہ سالار کے لئے

"شکریہ ۔۔۔۔راحیل شریف”

کے طور پر رائج ھوا تھا وہ ھمارے دیکھتے دیکھتے ھی۔۔

” شکریہ۔۔۔۔۔۔ذوالفقار گجر "

کی سطح تک اتر آیا ھے۔

سمیرا اور سرور کو منہ کالا کر کے کھمبے کے ساتھ باندھنے۔۔۔

بوڑھے ووٹر کے کان اور ناک کاٹنے ۔۔

طاھر مہدی کو اعلی ترین عدلیہ سے مایوس ھونے اور ۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ راحیل شریف کو شکریہ ذوالفقار گجر ھونے سے روکنے کے لئے ریاست۔۔۔جی ھاں ریاست کو اپنی قدیمی، آئینی اور بینالاقوامی حیثیت کو واپس لے کر قائم کرنا پڑے گا اور یہ کام اگر اھل سیاست اور سول بیوروکریسی نے نہ کیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کو قومی سطح پر۔۔۔۔اور لمبے عرصے کے لئے۔۔۔۔۔؛

شکریہ راحیل شریف کہنا پڑے گا۔

ویسے یہ سارے افسران کوئی 24 کامن تو کوئی 28 کامن اور جیوڈیشل اکیڈمی آف پاکستان کے تربیت یافتگان کبھی غور تو کریں کہ اگر ۔۔۔۔ سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو سر بازار ڈنڈوں سے مار دینے والے۔۔۔نشان عبرت بن جاتے اور ان کا کیفر کردار کو پہنچنا سیالکوٹ والوں نے دیکھ لیا ھوتا تو ڈسکے میں سرور اور سمیرا کے لئے لوگ قانون اپنے ھاتھ میں لیتے؟

اگر الیکشن اخلاقیات کی خلاف ورزی اور ن لیگی یا حکومتی طرفداری وفاقی اور صوبائی سطح پہ عام نہ ھوتی تو یونین کونسل لیول پہ ووٹر کی ناک کٹتی؟

اگر گورنر پنجاب کا باوردی ممتاز قادری مذھب کے نام پر قتل سے ولی اللہ نہ بنتا تو طاھر مہدی کی ضمانت لینے سے عدالت عالیہ تذبذب میں پڑتی؟

اگر جہلم کی قبضہ شدہ عبادتگاہ حکومت واگزار کروا سکتی تو شکور بھائی پہ مولویوں کو سی ٹی ڈی کو مبارکبادیں دینے کی نوبت آتی؟

سب سوالوں کا جواب ھے۔۔۔نہیں۔۔کبھی نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔

تو پھر شیکسپئیر کے مطابق۔۔

Physician..heal thyself.!!!

مصنف admin

Check Also

تم ہمیں کیا نئی منزل کی بشارت دو گے۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

پاکستان کی صورتحال پہ کچھ لکھنے میں روک یہ ہوتی ہے کہ ، جب جسم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend