ہوم / زبان و ادب / نظم۔ صفوان احمد ملک۔ جرمنی

نظم۔ صفوان احمد ملک۔ جرمنی

اگر محبت یہی ہے جاناں؟
تو زندگی کے تمام رستوں کو بھول کر میں
تیری محبت کے گیت گاؤں
میں بھول جاؤں وہ ساری باتیں
وہ سارے قصے ، وہ تلخ یادیں
جو بے ارادہ اندھیری راتوں کی نذر ہو کر
فنا ہوئی ہیں ، دعا ہوئی ہیں
میں تیرے چہرے کی اک جھلک پر
تمام رشتے ، تمام ساتھی
وجود اپنا مٹا کے جاناں
ہزار جانیں نثار کردوں
مگر مجھے تو بتا ذرا یہ ؟
محبتوں کے یہ پھول دل میں
تمارے کس نے کھلا دئیے ہیں؟
کہ اس قدر مسکرا دئیے ہیں
کیا؟ دل میں یادیں میری چھپا کے
تمہیں یہ احساس ہو چلا ہے
کہ اضطرابِ جھلک سے اب تو
فگار سینہ یہ ہو چلا ہے
کہ میرے بن اب کوئی نہیں ہے
جو تیری گالوں پہ ہاتھ رکھ کر
جو تیرے کانوں کی لو کو چھو کر
گلاب چہرہ شراب کر دے
دہکتے شعلوں کو آب کر دے
جو تونے اب کے لکھا ہے جاناں
’’میں تم کو چاہوں تمہی کو سوچوں‘‘
یہ ایک مصرہ ہزار مصروں کو مات دیکر
میرے وجودِ شجر میں اب یوں
سما گیا ہے د کھا گیا ہے
اب کوئی بھی نہ ہو گا حائل
میں ہوں تمہارا ، رہوں گا جاناں
یہ زندگی اب نہیں ہے میری
-ہر ایک پل اب تمہارا ٹھرا

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

آئینے پریشاں ہیں، اب نگارخانے میں۔۔۔۔۔۔غزل، ،۔۔صائمہ شاہ

بے کلی سی رہتی ہے دل کے چار خانے میں اتنی دیر کیوں کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend