چاند نکلا تو سمندر کے کنارے جاگے
لوگ سب سو گئے تب درد کے مارے جاگے

ہر ستارے کو بتا دو جو ہیں راتوں کے الم
جو ہمارا ہے وہی ساتھ ہمارے جاگے

حبس ایسا تھا کہ تحریر کا دم گھٹتا تھا
اس نے لکھا تھا تو حرفوں کے ستارے جاگے

دم بخود رہ گئے سب لوگ صحائف والے
حکم اور بدر کے جب تازہ شمارے جاگے

صبح تازہ کی ہوا تب ہی چلی بستی میں
جب مسیحا کی صدا لے کے منارے جاگے

ادھ کھلی آنکھ سے جب وصل کا پانی ٹپکا
میری اجڑی ہوئی اس جاں کے سہارے جاگے

جب بھی اس قوم نے پیروں پہ کلہاڑی ماری
ایسی ظلمت میں مسیحا کے ہی پیارے جاگے

(احمد منیب)