آرزو کر گئی کہاں سے گریز۔۔۔۔۔۔۔۔مدبر آسان قائل

احمد فراز کی زمین میں

نام سے دور اور نشاں سے گریز
گردِ رہ کو ہے کارواں سے گریز

ہم نے جس راہ پر قدم رکھا
لوگ کرتے رہے وہاں سے گریز

دل! فقط دل سے ہو غرض تجھ کو
کر زمین اور آسماں سے گریز

پاوں اٹھتے رہے اسی جانب
راہ کرتی رہی جہاں سے گریز

وحشت انگیز ہیں در و دیوار
اور ممکن نہیں مکاں سے گریز

مبتلا آگہی کو کیا معلوم
آرزو کر گئی کہاں سے گریز

دل کو زنجیرِ دو جہاں معلوم
پائے وحشت کو دو جہاں سے گریز

جب کریں گے صنم جزا طَلَبی
کیا کرے گا خدا بُتاں سے گریز

تُو نے مجھ سے مراد پائی ہے
لفظ! مت کر مری زباں سے گریز

یعنی اوجِ سخنوری خواہش
یعنی امکان بھر بیاں سے گریز

ہے گماں زاد یہ یقیں قائلؔ
ناخَلَف کو مگر گماں سے گریز

مدبر آسان قائلؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں