حالات حاضرہ کا منظوم پورٹریٹ۔۔۔۔۔۔۔سید مجتبی حیدر شیرازی

زمیں کے گندے بچوں نے
فضا مسموم کر دی تھی
ہوا شاکی تھی
پنچھی سانس لینے سے بھی ڈرتے تھے
خلا میں سسکیوں کے ڈھیر تھے
آ ہوں کے دوزخ
اشک جن پر تیل کی صورت بھڑکتے تھے
کئی معصوم پریاں
اپنے ٹوٹے پھوٹے جسموں پر درندوں کی بہیمیت کی بدبو کی شکایت کر رہی تھیں
کئی پچکے شکم گندم کے دانے کیلئے نیلام پر بیٹھے ہوئے تھے
فرشتوں کی طرح معصوم بچے
خون میں لت پر خدا سے آسماں کے ٹوٹ پڑنے کی دعائیں کر رہے تھے
زمیں کے گندے بچوں نے فضا مسموم کر دی تھی
زمین و آسماں کے خالق و مالک کو غصہ آ گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں