ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔رشید قیصرانی

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔رشید قیصرانی

غزل

کچھ سائے سے ہر لحظہ کسی سمت رواں ہیں
اس شہر میں ورنہ نہ مکیں ہیں نہ مکاں ہیں

ہم خود سے جدا ہو کے تجھے ڈھونڈنے نکلے
بکھرے ہیں اب ایسے کہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں

جاتی ہیں ترے گھر کو سبھی شہر کی سڑکیں
لگتا ہے کہ سب لوگ تری سمت رواں ہیں

اے موجۂ آوارہ کبھی ہم سے بھی ٹکرا
اک عمر سے ہم بھی سر ساحل نگراں ہے

تو ڈھونڈ ہمیں وقت کی دیوار کے اس پار
ہم دور بہت دور کی منزل کا نشاں ہیں

سمٹے تھے کبھی ہم تو سمائے سر مژگاں
پھیلے ہیں اب ایسے کہ کراں تا بہ کراں ہیں

اک دن ترے آنچل کی ہوا بن کے اڑے تھے
اس دن سے زمانے کی نگاہوں سے نہاں ہیں

توڑو نہ ہمارے لیے آواز کا آہنگ
ہم لوگ تو اک ڈوبتے لمحے کی فغاں ہیں

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

آئینے پریشاں ہیں، اب نگارخانے میں۔۔۔۔۔۔غزل، ،۔۔صائمہ شاہ

بے کلی سی رہتی ہے دل کے چار خانے میں اتنی دیر کیوں کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend