صابر ظفر

عکس پانی میں اگر قید کیا جا سکتا
عین ممکن تھا میں اس شخص کو اپنا سکتا

کاش کچھ دیر نہ پلکوں پہ ٹھہرتی شبنم
میں اسے صبر کا مفہوم تو سمجھا سکتا

بے سہارا کوئی ملتا ہے تو دکھ ہوتا ہے
میں بھی کیا ہوں کہ کسی کام نہیں آ سکتا

کتنی بے سود جدائی ہے کہ دکھ ہے نہ ملال
کوئی دھوکہ ہی وہ دیتا کہ میں پچھتا سکتا

زندگی بھر رہی ،عریانی ء دل کی یہ خلش
میں اسے درد کی پوشاک تو پہنا سکتا

نارسائی نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کو
کاش وہ ہی نظر آتا کہ جسے پا سکتا

میں نے اوڑھی ہے ترے پیار کی اجرک ایسی
اب تجھے چھوڑ کے پنجاب نہیں جا سکتا

الگنی پر ٹنگی آواز نچڑتی ہی گئی
حرف ہر قطرہ میں اس واسطے آیا سکتہ

کوئی جاگا ہوا رہتا ،مرے پہلو میں ظفر
میں کسی وصل کے لمحے کو جو دہرا سکتا