ہوم / حقوق/جدوجہد / مذہبی شعائر کے کاپی رائٹ کی پابندی اور تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ ناصرالدین

مذہبی شعائر کے کاپی رائٹ کی پابندی اور تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ ناصرالدین

احمدیوں کے خلاف فیصلہ کن دلیل
’’اسلامی شعار کی رجسٹریشن‘‘
اور کاپی رائٹ کی پابندی

(عبداللہ ناصر الدین )

اوریا مقبول جان اور ان کی طرح کے بعض ’’دانشوروں اور علماء دین ‘‘نے گزشتہ دنوں پاکستان میں احمدیوں کے خلاف جاری بحثوں کو سمیٹتے ہوئے ایک ایسی نادر ، نایاب اور حتمی دلیل پیش کردی ہے جس پر انہیں اگر نوبل پرائز نہیں بھی دیا جاسکتا تو کسی بڑے ملکی اعزاز سے ضرور نوازا جانا چاہئے ،کیونکہ اس تجویز پر عمل درآمد سے نہ صر ف احمدیوں کو اسلامی شعار استعمال کرنے سے روکا جاسکے گا بلکہ اسلام کو لاحق دیگر بہت سے خطرات کی بھی بروقت اور ضروری پیش بندی ہوجائے گی۔ ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ احمدی کیونکہ اسلامی شعار اور اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں اور کئی عشروں سے جاری حکومتی اور عوامی مشق ستم کا نشانہ بننے کے باوجود، ان اصطلاحات کے استعمال سے باز نہیں آتے اسلئے اس جرم کو کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی تصور کرکے ان کے خلاف کارروائیوں میں مزید سختی پیدا کی جانی ضروری ہے۔ان کا یہ کہنا ہے کہ جیسے کسی بھی معروف کمپنی یا برانڈکا نام استعمال کرنا جرم تصور ہوتا ہے اسی طرح اسلامی اصطلاحات اور شعار کا استعمال بھی صرف اسلام کے ساتھ مخصوص کرکے باقی تمام لوگوں کو اس کے استعمال سے روک دینا چاہئے تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے اور دین مکمل طور پر محفوظ ہوجائے۔یہ دلیل ایسی فیصلہ کن اور قطعی ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی شخص کو شاید اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور مغربی ممالک کو تو بالکل بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہاں تو رجسٹریشن، ٹریڈ مارک اور کاپی رائٹ کے قوانین نہایت موثر رنگ میں پہلے سے ہی نافذ العمل ہیں۔
اس دلیل کے سننے کے بعد یہ اطمینان تو بہرحال ہوگیا کہ ابھی پاکستانی قوم کو ایسے ’’دانشور اور علماء ‘‘میسر ہیں جو محض قیل و قال کی بجائے عقل اور استدلال پر اپنی باتوں کی بنیاد رکھتے ہیں اور جب تک ایسے لوگ معاشرے میں موجود ہیں کوئی بھی ملک دشمن قوت پاکستان کی گزشتہ کئی عشروں سے جاری’’ غیرمعمو لی ترقی‘‘ کو ہرگز نہیں روک سکتی اوراس صورت میں شاید انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔لیکن یہ دلیل سننے کے بعد نہ جانے کیوں دل میں یہ وہم بھی زور پکڑ گیاہے کہ اگر اس پُر حکمت بات کی خبر کہیں کسی نے غلطی سے دیگر مذاہب کے پیروکاروں یا عیسائیوں اور یہود و ہنود کو دے دی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ایک طوفان کھڑا کردیں اور بعض ایسی اصطلاحات یا شعار اپنے مذہب کے نام سے رجسٹرڈ کروالیں جن پر صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ یوں یہ امر بعدمیں امت مسلمہ کی دل شکنی یا دل آزاری کا باعث بھی بن سکتا ہے اور قانون بن جانے کے سبب انہیں ان اصطلاحات کو ترک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اس غرض سے دین کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے اور ان’’ دانشور احباب اور علماء ‘‘کی مدد کے خیال سے ان کے لئے ایک مختصر فہرست تیار کرنے کا خیال آیا کہ ایسی چیزیں جو سب سے اہم ہیں اور اسلام کے لئے اساس اور بنیادکی حیثیت رکھتی ہیں انہیں تو فوری رجسٹرڈ کروالینانہایت ہی ضروری ہے تاکہ غیر مذاہب کے پیروکاروں کو نہ صرف ان پر عمل سے روکا جاسکے بلکہ قانون شکنی کی صورت میں انہیں سخت سزائیں بھی دی جاسکیں۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ تمام امور وہ ہیں جنہیں دیگر مذاہب کے پیروکار قرآن کریم کے بیان کی روشنی میں بڑی آسانی کے ساتھ نہ صرف اپنے مذہب کی طرف منسوب کرکے رجسٹرڈ کرواسکتے ہیں بلکہ علماء اور ان دانشور حضرات سے لائسنس لئے بغیر ان پر نہایت آسانی سے عمل بھی کر سکتے ہیں جس کا سد باب نہایت ہی ضروری ہے۔
عقیدہ توحید اور کلمہ طیبہ اور بسم اللہ
اسلام کی بنیاد، کلمہ طیبہ اور توحید کے اقرار پر رکھی گئی ہے۔ اللہ پر ایمان لانا اور اسے واحد اور لاشریک تسلیم کرنا اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ہے۔ حدیث کے مطابق دنیا میں آنے والے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور قرآن میں نام بہ نام مذکور 25انبیاء بار بار اپنی قوموں کو خدائے واحد کا تصور پیش کرکے اس کی طرف بلاتے رہے ہیں اسلئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ عقیدہ توحید کی حفاظت کی غرض سے اور کسی بھی ابہام سے بچنے کی خاطر یہ عقیدہ اور اللہ کا نام فوری طور پر پیٹنٹ کروالیا جائے تاکہ کوئی غیر مسلم توحید کا اقرار کرکے یا اللہ کا نام استعمال کرکے اسلام کو ضرر نہ پہنچا سکے۔ہاں انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں یہ اجازت ضرورہونی چاہئے کہ مثلاً ہندو اپنے معبود کو’’ بھگوان ‘‘اور زرتشتی اپنے خالق کو ’’خدا ‘‘ کے نام سے بروقت رجسٹرڈ کروالیں اور ایسی صورت میں حفیظ جالندھری کی روح سے معذرت کرکے قومی ترانے کا آخری مصرعہ بھی انہیں دانشور احباب کے مشورے کے بعد مناسب طور پر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ا س سلسلے میں یہ امر قابل غور ہوگا کہ قرآن اپنی بالکل ابتدائی آیات میں ہی اللہ تعالیٰ کا تعارف رب المسلمین کی بجائے رب العالمین کے الفاظ میں کرواکر، اوربعد ازاں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بھی رحمۃ للعالمین ہی کے طور پر پیش کرکے نیز یہ کہہ کر کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے نام اپنے خط کا آغاز بسم اللہ الرحمان الرحیم سے کیا تھا ان ’’دانشوروں ‘‘کیلئے ایک مشکل کھڑی کردیتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی قوی امید ہے کہ ایسی غیر معمولی دانش اور فہم فراست رکھنے والے دماغوں کے لئے اس مشکل کا حل پیش کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔
نماز اور زکوۃ
اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے جسے قرآنی الفاظ میں الصلوٰۃ کہا جاتا ہے جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں شامل ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کو پیٹنٹ کروانا تو نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ قرآن کریم نے یہ لفظ سورۃ البقرۃ آیت 84میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم نے یہود کو دیگر احکامات دین کے ساتھ ساتھ الصلوٰۃکے قائم کرنے اور زکوٰۃکے ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اب اگر کوئی یہودی قرآن میں مذکور اس حقیقت کو بیان کرکے ان دونوں الفاظ کو اپنے نام سے رجسٹرڈ کروانے میں کامیاب ہوگیا تو عالم اسلام کے لئے ایک مشکل کھڑی ہوجائے گی اورکاپی رائٹ کا قانون کسی بھی وقت حرکت میں آکر مسلمانوں کو ان اصطلاحات کے استعمال سے روک دے گا۔یہود کو نماز اور زکوٰۃ سے باز رکھنے کے لئے ان عبادات اور اصطلاحات کو فوری طور پر پیٹنٹ کروانا نہایت ضروری ہے۔
روزہ
روزہ بھی بنیادی اسلامی احکامات میں شامل ہے،لیکن اسے کاپی رائٹ کے حصول کی غرض سے خالص اسلامی عبادت ثابت کرنا اسلئے مشکل ہوجائے گا کہ قرآن کریم سورۃ البقرۃ آیت184میں جہاں روزوں کی فرضیت کا ذکر کرتا ہے وہیں اسی آیت میں یہ بھی بیان فرمادیتا ہے کہ تم پر روزے ویسے ہی فرض کئے گئے ہیں جیسے پہلی قوموں پر فرض کئے گئے تھے۔اب اس آیت کی موجودگی میں تو کوئی بھی یہودی ، عیسائی یا ہندو بڑی آسانی سے نہ صرف روزے رکھنے میں کامیاب ہوسکتا ہے بلکہ روزے کو اپنے دین کی طرف منسوب کرکے باقی سب دنیا کو اس کی بجاآوری سے بھی روک سکتا ہے ۔اب یہ دقت کیسے دور کی جاسکتی ہے یہ کام بھی ہمیں انہیں علماء اور دانشور وں پر چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ ان کے پاس اس بنیادی اسلامی حکم کے کاپی رائٹ کے حصول کا کوئی نہ کوئی خاص طریقہ ضرور ہوگا آخر ان کے دماغ یہود و نصاریٰ سے کچھ کم تو نہیں ہیں۔
حج
خوش قسمتی سے حج بیت اللہ کے کاپی رائٹ ان دنوں مسلمانوں کے ہی ایک گروہ کے پاس ہیں، جو دیگر مسلمانوں کے ساتھ اپنے روزمرہ معاملات میں کچھ زیادہ اچھی شہرت کا حامل نہیں ہے لیکن پھر بھی فی الوقت سوائے احمدیوں کے کسی اور کے حج کرنے پر کھل کرپابندی بھی نہیں لگاتا۔ تاہم احتیاط اچھی چیز ہے ۔قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حج اور خانہ کعبہ کو بھی مسلمانوں کے نام سے بروقت مخصوص کرلینا اچھی حکمت عملی ہوگی کیونکہ اگر یہ روایت چل ہی نکلی تو کل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے تعمیر کعبہ کا حوالہ دے کر ابراہیمی مذاہب میں سے کوئی بھی مذہب اس عبادت کو اپنے نام کے ساتھ مخصوص کرکے ایک نئی مشکل کھڑی کر سکتا ہے، کیونکہ سورۃ البقرۃ آیات 126تا128کی موجودگی میں ان کے لئے یہ عمارت اور عبادت رجسٹرڈ کروانابہت آسان ہوجائے گا۔
مسجد
مسلمان اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں اور اب تک اس سلسلہ میں بظاہر تو کسی اور مذہب کی طرف سے کوئی دعویٰ بھی سامنے نہیں آیا لیکن اس نام کو بھی خالص اسلامی عبادت گاہ کے طور پر پیٹنٹ کروالیا جائے تو اچھا ہوگا ،ورنہ سورۃ الکہف آیت22کی روشنی میں یہ احتمال ہمیشہ موجودرہے گا کہ اصحاب کہف یعنی ابتدائی عیسائی کسی بھی وقت اپنی اس اصطلاح کی واپسی کا مطالبہ کردیں گے اور اس صورت میں احمدیوں کے ساتھ ساتھ باقی مسلمان بھی اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے کے حق سے قانوناً محروم کردئیے جائیں گے یا اس لفظ کو استعمال کرنے کی پاداش میں پاکستان کے احمدیوں کی طرح سالہا سال کے لئے جیلوں میں ڈال دئیے جائیں گے۔
اسلام اور مسلمان
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ گزشتہ بہت سے انبیاء اور ان کی امتوں کے لئے مسلم کے الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے نے ابھی اس اصطلاح کے حوالے سے اپنا دعویٰ دائر نہیں کیا۔ سورۃ البقرۃ آیت 129حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مسلم بیان کرتی ہے تو اسی سورۃ کی آیت134 حضرت اسحاق اور یعقوب کو بھی مسلم نام سے ہی یاد کرتی ہے۔سورۃ آل عمران آیت 53 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری مسلمان ہونے کا دعوی کررہے ہیں تو سورۃ یونس آیت85میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو مسلمان ہونے کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنے کی تلقین کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔اس لئے اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ کسی بھی دوسرے کام سے پیشتر لفظ مسلم یا مسلمان یا اسلام کو فوراً پیٹنٹ کروالیا جائے تاکہ کل کو کوئی اس لفظ کے کاپی رائٹ کے بارہ میں پریشانی نہ کھڑی کردے۔یہاں ایک مشکل پھر درپیش ہوگی کہ اسلام کے حقیقی کاپی رائٹ کس فرقے کے نام رجسٹرڈ کئے جائیں گے کیونکہ شیعہ، سنی، دیوبندی ،بریلوی ،وہابی اور دیگر بہت سی تقسیموں، ایک دوسرے کے بارہ میں کفر کے حتمی فتوے بانٹتے مولویوں اور ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار اسلامی ممالک کے ہوتے ہوئے اس بارہ میں کسی ایک نکتہ نظر پر اکٹھا ہونا بظاہر تو ناممکن دکھائی دیتا ہے۔لیکن مجبوری ہے کوئی درمیانی حل تونکالنا ہی پڑے گا ۔
صحابہ،صاحب یا اصحاب
اصحاب رسول اللہ ﷺ کی اصطلاح ان پاک وجودوں کے بارہ میں استعمال کی جاتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی حیات مبارک میں آپ سے ملنے یا آپ کے ساتھ وقت گزارنے کا شرف عطا کیا۔لیکن اہل علم سے یہ امر ہرگز مخفی نہیں ہے کہ صاحب یا اصحاب کا لفظ تنہاہرگز ایسے کوئی معنی نہیں دیتا بلکہ اس لفظ کے معنی محض ساتھی اور دوست کے ہیں اور اس کی رسول اللہ کی طرف اضافت کی وجہ سے اس میں وہ معنی پیدا ہوتے ہیں جو عرف عام میں مسلمانوں میں معروف اور مستعمل ہیں اور کثرت استعمال کی وجہ سے اصحاب کو اصحاب رسول کا قائمقام سمجھ لیا گیا ہے جو قرآن کی رو سے درست ثابت نہیں ہوتا کیونکہ قرآن میں یہ لفظ اس کثرت کے ساتھ مختلف اضافتوں کے ساتھ استعمال ہوا ہے کہ جنہیں بیان کرنا بھی ایک لمبے مضمون کا متقاضی ہے۔ مثلاً اصحاب الجنہ، اصحاب الاعراف، اصحاب مدین، اصحاب الایکۃ، اصحاب الکھف، اصحاب الحجر، اصحاب الرقیم، اصحاب الرس، اصحاب السفینہ، اصحاب المیمنۃ، اصحاب الیمین، اصحاب القبور، اصحاب الاخدود ، اور ایسے بہت سے قرآنی الفاظ بڑی وضاحت سے یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ صاحب یا اصحاب کا لفظ اپنی اضافت کے مطابق معنی دیتا ہے اسلئے اگر اس لفظ یا اصطلاح کو بھی پیٹنٹ کروانا ضروری ہو تو اسے اصحاب رسول اللہ ﷺ کی اصطلاح کے طور پر پیٹنٹ کروانا مناسب ہوگا تاکہ کوئی شخص زمان ومکان کی حدوں کو پھلانگتے ہوئے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کسی کو اصحاب رسول میں شامل نہ کردے ۔گو ایسے کسی شخص کے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے تو تاریخ و سیرت کی کتابیں ہی بہت کافی ثبوت ہیں۔
ناموں کی رجسٹریشن
گو ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذاہب کی اصطلاحات کو رجسٹرڈ کروانے کے لئے یہ درخواست کہاں دی جائے گی لیکن کاپی رائٹ کی رجسٹریشن کے لئے بھیجی جانے والی درخواست میں لگے ہاتھوں تمام سابق انبیاء کے نام بھی مسلمانوں کے لئے باقاعدہ رجسٹرڈ کروالئے جائیں تو اچھا ہے کیونکہ آدم، موسیٰ، عیسیٰ، ہارون، اسحاق،یعقوب،یونس، یوسف ، ابراہیم، اسماعیل اور ایسے ہی بہت سے ناموں کے متعلق بھی کاپی رائٹ کا تنازعہ کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ تاریخ کے جبر کی وجہ سے یہ نام مسلمانوں کے علاوہ پرانے تمام مذاہب کے لوگ بھی آزادانہ استعمال کرسکتے ہیں جس سے ان کی مسلمانوں کے ساتھ مشابہت کی صورت پیدا ہوسکتی ہے جو دین کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسلامی اخلاق اور کردار کی رجسٹریشن
دنیا بھر کی اسلام دشمنی اور کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں تو اسی بات سے ثابت ہورہی ہے کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے گزشتہ کچھ صدیوں سے غیر مسلم ملکوں نے تمام اسلامی اخلاق کو نہ صرف پورے طور پراپنا لیا ہے بلکہ بے محابہ، کھلے بندوں بغیر کسی روک ٹوک کے اپنے ملکوں میں ان کا استعمال کرکے ترقی بھی کرتے چلے جارہے ہیں اور اس نامناسب استحصالی رویہ کی وجہ سے مسلمان ملکوں کے عوام ان اخلاق کے استعمال سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔اوریا مقبول جان اور ان ہی کی طرح کے ہزاروں درد دل رکھنے والے دانشور اور علماء اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کوئی منصوبہ بنائیں بھی تو کیسے بنائیں کہ تمام اعلیٰ اخلاق پر تو ترقی یافتہ ملکوں اور ان کی عوام نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سچائی، امانت، دیانت، عدل، انصاف،توکل، عاجزی، انکساری، ملاطفت،میانہ روی، اتحاد، حسن سلوک،حسن معاشرت، عفت، پاکیزگی، غض بصر، تقویٰ ، طہارت ،امن،سلامتی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ،اصلاح بین الناس ،عورتوں، بچوں، بوڑھوں، یتیموں ،بیواؤں کی خبر گیری اور ایسے ہی بہت سے خوبصورت افعال و اعمال درحقیقت اسلام کے عظیم شجرۂ طیبہ کے شیریں پھل ہیں جنہیں بدقسمتی سے غیر اقوام کی جھولی میں ڈال کر مسلم اقوام دنیا بھر میں رسوا ہوتی چلی جارہی ہیں اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اب سے پہلے کسی بھی شخص نے یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ یہ سب اخلاق اور آداب معاشرت تو اسلامی کاپی رائٹ کا حصہ اورگزشتہ چودہ سو سال سے ہمارے نام پر رجسٹرڈ ہیں ۔ جب ہر ایک قوم ہی مسلمانوں سے اجازت لئے بغیر ان اخلاق کو اپنانا شروع کردے گی تو خود مسلمان ملکوں کے عوام کیسے ان اخلاق کو اختیار کریں گے اور اگر وہ کوشش کرکے کہیں ان اخلاق کو اپنابھی لیں تو معاشرے میں فوراً ہندو، یہودی یا قادیانی کے نام سے پکارے جانے لگیں گے۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت عقائد، اعمال ،افعال،اسماء، شعار اور کردار کی مکمل رجسٹریشن ،اس کے مکمل نفاذ اوردنیا بھر کو ان چیزوں کے استعمال سے روکنے کے بعد’’ اوریا مقبول جان اور ان کے ہم قبیل دانشور اور علماء ‘‘یقیناًقوم کی فلاح و بہبود کے لئے معاشرے میں ان اخلاق کے فروغ کے لئے بھی کھل کر کام کرسکیں گے کیونکہ اب تک تو ان قوانین کی عدم موجودگی کے سبب ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ہاں رواداری اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ جب اپنے لوگ ان اخلاق سے جی بھر کر مستفیض ہوجائیں تو اوریا مقبول جان اور ان کے ہم قبیل علماء دنیا بھر میں بھی اپنی نامزدکردہ برانچز کے ذریعہ لوگوں کو ان قرآنی اخلاق کو اپنانے کے لائسنس ضروردے دیا کریں کیونکہ آخر کو ان کے نزدیک مذہب اور دین بھی ایک منافع بخش تجارتی کمپنی اور کاروباری برانڈ کی طرح ہی توہے جس کے کاپی رائٹ اللہ تعالیٰ کی بجائے ان علماء کے پاس ہیں۔
(نوٹ: اس مضمون میں درج کردہ آیات نمبر میں بسم اللہ الرحمان الرحیم کو پہلی آیت کے طور پر شمار کیا گیا ہے)

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend