ہوم / حقوق/جدوجہد / علامہ جاوید غامدی کے تصور خاتمیت کا تجزیہ۔۔۔۔۔۔از عدیم احمد

علامہ جاوید غامدی کے تصور خاتمیت کا تجزیہ۔۔۔۔۔۔از عدیم احمد

جاوید احمد غامدی صاحب میرے استاذ ہیں جن سے میں نے دین کے بہت سے علوم و حقائق سمجھے ہیں۔ جماعت احمدیہ میں بیعت سے پہلے کچھ سال ان کی فکر سے منسلک رہا ہوں۔ اس دوران بہت کچھ سیکھا مثلاً نظم کی رعایت سے قرآن مجید کی تفہیم کے قواعد، مبادی تدبر سنت و حدیث، اخلاقیات کے باب کی دین میں اہمیت وغیرہ۔ ان کی کتب میزان، برہان، البیان (خصوصاً سورۃ بقرۃ کی تفسیر)، مقامات ، خاصی حد تک پڑھی ہیں۔ ان کے بےشمار ٹی وی پروگرام دیکھے ہیں اور بہت سے آرٹیکل بھی پڑھے ہیں۔ اور ان کی فکر سے منسلک بہت سے اہل علم کی کچھ کتابیں بھی نظر سے گزری ہیں۔ لیکن سب سے اہم چیز جو اس فکر سے سیکھی وہ وسعت نظری ہے۔

غرض انہی دنوں "ختم نبوت” پر ان کی ویڈیو سیریز سنی تھی اور بہت متاثر ہوا تھا کیونکہ انھوں نے روایتی مولویانہ انداز سے ہٹ کر بہت عمدہ اسلوب میں علمی نقد کی تھی۔ لیکن اب جب اس طرف دیکھتا ہوں تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ غامدی صاحب جیسے صاحب علم اور شریف النفس انسان کو بھی جماعت احمدیہ کے متعلق کس قدر غلطی لگی ہے۔ میں اکثر اس ویڈیو سیریز کے مختلف نکات پر غور کرتا ہوں جس سے ایک قسم کا تجزیہ ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔ سوچا کہ اپنے خیالات کو مختصراً قلم بند کر دوں تاکہ دوسرے بھی انھیں پرکھ سکیں۔ واضح رہے کہ میں نہ مولوی مربی ہوں نہ کوئی عالم، جماعت احمدیہ میں بیعت کو کچھ ہی عرصہ ہوا ہے اور مذہبی معلومات جو کچھ ہیں ذاتی کوشش کا نتیجہ ہے، باقاعدہ اس کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ آرٹیکل پڑھتے ہوئے یہ باتیں ذہن میں رکھیں۔

سب سے پہلے میں غامدی صاحب کا موقف اپنے الفاظ میں مختصراً بیان کئے دیتا ہوں۔

غامدی صاحب آیت خاتم النبيين کی تشریح سیاقِ کلام کے تناظر میں اس طرح کرتے ہیں۔ کہ چونکہ اعتراض تھا کہ بیٹے کی مطلقہ بیوی سے ہی شادی کر لی۔ اس لئے خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ بیٹا ہونے کا تو سوال ہی کیا ہے محمد ﷺ تو تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ ہیں ہی نہیں، وہ تو اللہ کے رسول ہیں۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ منہ بولے بیٹے کے متعلق قرآن نے شریعت ختم کر دی لیکن کیا اس پر عمل کر کے دکھانا بھی ضروری تھا تو بیان کر دیا کہ چونکہ آخری نبی ہیں اس لئے اس معاملے کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔

الفاظ "خاتم النبيين” کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں یعنی سلسلہ نبوت کو مہر بند کرنے والے ہیں۔ یہاں خاتم سے مراد seal ہے stamp نہیں، قرآن میں اس کے نظائر موجود ہیں لیکن اگر کوئی stamp پر ہی اصرار کرے تو پھر اس کا مطلب ہو گا کہ آپ ﷺ نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے گزشتہ انبیاء کی تصدیق کر دی اس لئے ہم سب کو مانتے ہیں، بعد میں آنے والے کسی نبی کی تصدیق نہیں کی اس لئے نہیں مانتے۔

قادیانی ختم نبوت کو مجازی معنوں میں لیتے ہیں، "خاتَم” کا ترجمہ آخری کر دیتے ہیں اور پھر اس طرح کی تقریر شروع کر دیتے ہیں "آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے” کہ اقبال نے جو داغ کو آخری شاعر کہا ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اب کوئی شاعر پیدا نہیں ہو گا بلکہ مدعا یہ ہے کہ ان جیسا بڑا شاعر اب پیدا نہیں ہو گا، شاعری گویا ان پر ختم ہو گئی۔ اب سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں "آخری” کا لفظ ہے ہی نہیں، "خاتِم” نہیں ہے بلکہ "خاتَم” کا لفظ آیا ہے جس کا مطلب ہے مہر۔ لہٰذا "آخری شاعر” والی تشریح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جناب غامدی صاحب نے جماعت احمدیہ کے علم کلام کو سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہے ورنہ ایسا کبھی نہ کہتے –

احادیث مبارکہ سے بھی قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ بخاری میں ہے : نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بچا سوائے مبشرات کے. پوچھا گیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا کہ کسی نیک آدمی کو کوئی اچھا خواب آ جائے۔ اس حدیث سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم ہو گئی بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے کمالات یعنی الہام و کشف پر بھی مہر لگ گئی کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

پھر حضرت مسیح موعود کے ایک مکتوب بنام حکیم نور الدین، کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے مثیل مسیح ہونے کا دعوٰی باقاعدہ مشاورت کے بعد کیا۔ یہ مکتوب 24 جنوری 1891 کا ہے اور مثیل مسیح کا دعوٰی بھی اسی سال کا ہے جو ان کی کتاب "فتح اسلام” میں درج ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مرزا صاحب نے اس مکتوب کے ایک آدھ ماہ بعد ہی یہ دعوٰی کر دیا تھا۔

فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب تصوف کے پس منظر سے تعلق رکھتے تھے جو کتاب "سیرت المہدی” سے واضح ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہاں بھی وہی صوفیانہ اوراد، وظائف اور چِلّے موجود ہیں۔ اسی سیریز میں غامدی صاحب نے ثابت کیا ہے کہ تصوف سے جڑے بہت سے جلیل القدر علماء نہ صرف نبوت کے کمالات یعنی کشف و الہام جاری ہونے کے قائل ہیں بلکہ غیر تشریعی نبوت جاری ہونے کے بھی قائل ہیں۔ صوفیاء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ "حقیقت محمدیہ” کا اظہار انسان کامل میں ہوتا رہتا ہے اور وہ اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں کہ مثلاً فلاں شخص میرے "شیخ” فلاں بن فلاں تو ہیں لیکن وہ "محمد ﷺ” بھی ہیں یعنی ان میں حقیقت محمدیہ کا ظہور ہوا ہے۔ مرزا صاحب کا تعلق بھی چونکہ تصوف سے تھا اس لئے انھوں نے بھی بالکل وہی صوفیانہ باتیں کی ہیں کہ مثلاً میں ظلی نبی ہوں، مجھ میں حقیقت محمدیہ کا ظہور ہوا ہے، میں محمد ﷺ ہوں وغیرہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے صوفیاء لوگوں کو مجبور نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کے دعاوی کو قبول کریں لیکن مرزا صاحب نے لوگوں کو دعوت دے ڈالی کہ وہ انھیں قبول کریں اور نہ ماننے والوں کی تکفیر بھی کر دی اور پھر ان کے بعد ان کے بیٹے نے انھیں مستقل نبی بھی قرار دے دیا (یہاں بھی غامدی صاحب نے سختجس کی وجہ سے معاملہ خراب ہو گیا ورنہ صوفیاء کی طرح ان کی باتیں بھی قابل تاویل تھیں اور بات وہیں تک رہ جاتی کہ صوفیاء اس طرح کی باتیں کرتے ہی رہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں کی گئی۔

یہ تو ہوا غامدی صاحب کا موقف. اب آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

سب سے پہلے آیت خاتم النبيين کی سیاق و سباق کے لحاظ سے تشریح دیکھتے ہیں۔ غامدی صاحب کی تشریح سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گویا ضمناً نبی ﷺ کا "آخری نبی” ہونا قرآن مجید میں آیا ہے یعنی اگر حضرت زید رضی اللہ عنہ کا معاملہ پیش نہ آیا ہوتا تو ممکن تھا کہ اتنا اہم معاملہ خدا تعالٰی بیان ہی نہ فرماتا۔ تصور کیجئے کہ ایسی معرکۃ الآراء تبدیلی آ گئی، انبیاء کا آنا منسوخ ہو گیا لیکن اس قدر اہم معاملہ بجائے اس کے کہ شرح و بسط سے بیان ہوتا، بالکل سرسری اور ضمنی طور پر ذکر ہوا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں حرفِ استدراک "لکن” آیا ہے، یہ لفظ اور اس کے ہم معنی الفاظ دنیا کی ہر زبان میں کسی شبہ کے رفع کرنے کے لئے آتے ہیں۔ نیز دو متضاد باتیں اس لفظ سے متصل کی جاتی ہیں۔ کیا کسی مرد کا باپ نہ ہونا نبوت و رسالت کے منافی ہے؟ یعنی اگر کسی نبی کی نرینہ اولاد نہ ہو تو وہ نبی نہیں رہے گا؟ پھر کیا وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف نبی ﷺ کی نرینہ اولاد کی نفی کی گئی ہے وہیں لکن کا لفظ لا کر دوسری طرف آپ ﷺ کی رسالت و نبوت کی تصدیق کی گئی ہے؟ اس پر جماعت احمدیہ کی تشریح درج ذیل ہے :

"جب حضرت زید رض کا واقعہ پیش آیا اور لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہوئے کہ زید کی مطلقہ سے جو آپ کا متبنی تھا آپ نے شادی کر لی ہے اور یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے کیونکہ بہو سے شادی جائز نہیں تو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ تم جو سمجھتے ہو کہ زید (رضی اللہ عنہ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں یہ غلط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بالغ جوان مرد کے باپ ہیں ہی نہیں اور "مَا کَانَ” کے الفاظ عربی زبان میں صرف یہی معنی نہیں دیتے کہ صرف اِس وقت باپ نہیں بلکہ یہ معنی بھی دیتے ہیں کہ آئندہ بھی باپ نہیں ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے "کَانَ اللہُ عَزِیزاً حَکِیماً” (سورۃ نساء) یعنی اللہ تعالٰی عزیز و حکیم تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اس اعلان پر قدرتاً لوگوں کے دلوں پر ایک اور شبہ پیدا ہونا تھا کہ مکہ میں تو سورۃ کوثر کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمن تو اولاد نرینہ سے محروم رہیں گے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) محروم نہیں رہیں گے لیکن اب سالہا سال کے بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ تو کسی بالغ مرد کے باپ ہیں نہ آئندہ ہوں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ سورۃ کوثر والی پیشگوئی (نعوذبااللہ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک ہے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَلکِن رَسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّین یعنی ہمارے اس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے یہ اعلان تو (نعوذبااللہ) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن اس اعلان سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے۔ باوجود اس اعلان کے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں بلکہ خاتم النبيين ہیں یعنی نبیوں کی مہر ہیں۔ پچھلے نبیوں کیلئے بطور زینت کے ہیں اور آئندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مہر اس پر نہ لگی ہو۔ ایسا شخص آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور ایک طرف سے ایسے روحانی بیٹوں کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکابر مکہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سورۃ کوثر میں جو بتایا گیا تھا وہ ٹھیک تھا۔ ابو جہل، عاص اور ولید کی اولاد ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب کر دے گی اور آپ کی روحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عورت کبھی فائز نہیں ہو سکتی یعنی نبوت کا مقام۔ جو صرف مردوں کے لئے مخصوص ہے۔۔۔ پس اگر خاتم النبيين کے یہ معنی کیے جائیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور آئندہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ تو یہ آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور کفار کا وہ اعتراض جس کا سورۃ کوثر میں ذکر کیا گیا ہے پختہ ہو جاتا ہے –

اب آتے ہیں دوسرے نکتے کی طرف کہ "خاتم النبيين” کے الفاظ کی درست تفہیم کیا ہے۔ اس میں پہلی بات تو یہ سمجھ لیجیے کہ احمدی ہرگز "خاتَم” کا ترجمہ "آخری” نہیں کرتے بلکہ "مہر” کرتے ہیں جو جماعت کے تمام قرآنی تراجم سے دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب جو ہمیشہ قرآنی الفاظ کی تفہیم کیلئے کلامِ عرب میں رائج معانی اور عرب محاورے جیسے قابلِ قدر اصولوں کی پیروی کرتے ہیں، لفظ "خاتم النبيين” کی تفہیم میں گویا ان اصولوں کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے وفات مسیح کی آیات میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ لفظ "توفی” کے کلام عرب میں رائج معانی ہی دیکھے جائیں گے نہ کہ لفظ کے مادے کی تحقیق کر کے، اسے رائج معنوں سے پھیر کر بالکل نئے معانی پہنا دیے جائیں۔ چنانچہ وہ اپنے لیکچر "غلام احمد پرویز کی فکر” میں فرماتے ہیں :

"کسی کلام کا متکلم جب اپنا مدعا بیان کرتا ہے تو اس میں یہ چیز کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ جو لفظ اس نے استعمال کیا اس لفظ کی تعریف کیا ہے۔ اس میں یہ چیز اہمیت رکھتی ہے کہ اس نے یہ لفظ جب استعمال کیا اُس وقت یہ کس معنی میں بولا جاتا تھا۔ جو محاورہ استعمال کیا اُس زمانے میں اس کا کیا مفہوم تھا۔”

اگرچہ "خاتَم” کا لفظی ترجمہ "مہر” ہی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے آیت کے سیاق و سباق سے واضح کیا ہے یہاں خَتَمَ کے معنی طَبَعَ کے ہیں یعنی نقش پیدا کرنا۔ آنحضور ﷺ کے لیے لفظ خاتَم میں ان کی اتباع میں فیوض اور برکات کے انتشار کی طرف اشارہ ہے جس پر سورہ النساء کی آیت 69 دلیل ہے۔ مزید لفظ خاتَم میں افضل اور اعلٰی کا مضمون بھی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کلام عرب میں "خاتَم” کے مضاف کے ساتھ استعمال ہونے والے الفاظ کسی کا اعلی ترین درجہ ظاہر کرنے کیلئے آتے ہیں۔ عرب خاتَم النبيين کے ہی محاورے پر مختلف لوگوں کو خاتَم الشعراء، خاتَم الحكماء، خاتَم الأولياء، خاتَم المحدثین، خاتَم الحفاظ وغیرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ جب وہ کسی کو یہ خطاب دیتے تو ان کا مدعا ہرگز یہ نہ ہوتا کہ یہ زمانے کے لحاظ سے آخری شاعر ہے اور اس کے بعد کوئی شاعر پیدا نہیں ہو گا بلکہ یہ مطلب ہوتا تھا کہ شاعری گویا اس پر ختم ہو گئی یعنی ایک شخص شاعری میں جو بلند ترین درجہ حاصل کر سکتا ہے وہ اس خاتم الشعراء نے حاصل کر لیا اور کوئی اس سے بڑھ نہیں سکتا۔ مثلاً آپ ﷺ نے فرمایا ہے : "میں خاتَم الانبیاء ہوں اور اے علی! تم خاتَم الأولياء ہو۔” لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد کوئی ولی نہیں آئے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ انھوں نے ولایت کا آخری درجہ پا لیا۔ اسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ہے : "اے میرے چچا! بیشک آپ خاتَم المهاجرين ہیں جیسے میں خاتَم النبیین ہوں۔” اب ظاہر ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ دنیا کے آخری مہاجر تو نہیں ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا ہے : "بیشک میں آخِر الأنبياء ہوں اور میری مسجد آخِر المساجد ہے۔” اب ظاہر ہے اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ مسجد نبوی کے بعد کوئی مسجد تعمیر نہیں ہو گی کیونکہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد سفرِ طائف میں بھی ایک مسجد تعمیر فرمائی اور آج تک مساجد تعمیر ہو رہی ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد نبوی اعلی ترین مسجد ہے اور جیسے اس کے اتباع میں تمام مساجد تعمیر کی جائیں گی اسی طرح نبی ﷺ سب سے بلند درجہ نبی ہیں اور اب آپ ﷺ کے کامل متبعین میں سے ہی نبی آ سکتے ہیں۔ لہٰذا آیت مبارکہ کے الفاظ "خاتَم النبیین” کا درست مفہوم بھی یہی ہے اور لازم ہے کہ اس کی تفہیم میں عرب محاورے کو مد نظر رکھا جائے۔ پھر سیاق کلام بھی کوئی اور معنی قبول نہیں کرتا۔ یعنی آپ ﷺ آخری نبی ہیں لیکن درجے کے لحاظ سے نہ زمانے کے لحاظ سے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ جو دین آپ ﷺ لائے ہیں وہ اکمل ترین ہے لہٰذا کبھی منسوخ نہیں ہو سکتا اس طرح آپ آخری تشریعی نبی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ابن خلدون، ملا علی قاری، قاسم نانوتوی سمیت بہت سے اہل علم خاتم النبيين کے یہی معنی کرتے آئے ہیں۔

اب رہی یہ بات کہ قرآن میں نظائر موجود ہیں کہ "خاتَم” کا مطلب seal ہی ہے stamp نہیں۔ واضح ہو کہ ہمارے تراجم میں اس کا ترجمہ seal ہی کیا جاتا ہے۔ غامدی صاحب کے مطابق اور نظائر واضح کرتے ہیں کہ "خاتم النبيين” کا مطلب ہے نبوت مہر بند ہو گئی ہے۔ جیسے "ختم على قلوب” ہے جس کا مطلب ہے کہ دلوں پر مہر ہو گئی یعنی مہر بند ہو گئے۔ لیکن یہ استدلال اس لئے درست نہیں کیونکہ ایک تو سیاق و سباق اسے قبول نہیں کرتا دوسرا، ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی لفظ مختلف مرکبات میں مختلف معانی اختیار کر لیتا ہے۔ مثلاً ہماری زبان میں ایک لفظ "انتقال” ہے جس کا مطلب ہے "منتقل ہونا”۔ جب "انتقالِ خون” بولتے ہیں تو یہی مطلب ہوتا ہے کہ "خون کی منتقلی” لیکن جب کہتے ہیں کہ فلاں شخص انتقال کر گیا ہے تو ہر شخص جانتا ہے کہ اس کا مطلب ہوتا ہے فلاں شخص مر گیا ہے۔ اس لئے جیسا کہ غامدی صاحب بھی مانتے ہیں کہ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ لفظ کی تعریف کیا ہے بلکہ یہ چیز اہمیت رکھتی ہے کہ اُس وقت لفظ کس معنی میں بولا جاتا تھا۔ لہٰذا ہم جانتے ہیں کہ "خاتم النبيين” کلام عرب میں کس معنی میں بولا جاتا تھا۔

غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے سے پہلے انبیاء پر تو مہر تصدیق stamp لگائی ہے لیکن اپنے بعد کسی نبی کی تصدیق نہیں کی۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلم میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی ہے اسے چار مرتبہ "نبی اللہ” کہہ کر پکارا ہے۔

اب آئیے احادیث مبارکہ کی طرف۔ غامدی صاحب "مبادی تدبر حدیث” میں تفہیم حدیث کا ایک اصول "قرآن کی روشنی میں” سمجھنا بھی بیان کرتے ہیں۔ اب جبکہ قرآن تشریعی نبی کا آنا جائز نہیں رکھتا تو لامحالہ "لا نبي بعدي” کا بھی یہی مطلب ہو گا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت والا نبی نہیں آ سکتا لیکن غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے۔ ابن قتیبہ، امام شعرانی، ابن عربی، ملا علی قاری، امام طاہر گجراتی اور شاہ ولی اللہ سمیت بہت سے جلیل القدر علماء نے اس حدیث کے یہی معنی کئے ہیں۔ اب آتے ہیں بخاری کی حدیث کی طرف جس میں بیان ہوا ہے نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بچا سوائے رؤیا صالحہ کے۔ اس سے غامدی صاحب نتیجہ نکالتے ہیں کہ وحی و الہام سب ختم ہو گیا۔ حالانکہ "مبادی تدبر حدیث” میں غامدی صاحب نے "موقع و محل” اور "احادیث باب پر نظر” کے اصول بھی لکھے ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ تنہا کسی حدیث سے کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا کیونکہ اکثر اوقات حدیث کا سیاق و سباق اور موقع و محل سامنے نہیں ہوتا جس کی وجہ سے غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لئے اس باب کی تمام احادیث کو سامنے رکھ کر کوئی نتیجہ برآمد کیا جائے گا۔ لیکن ختم نبوت کے باب میں ایسا لگتا ہے کہ غامدی صاحب اپنے ان اصولوں کو بھی جو درحقیقت زریں اصول ہیں، نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایک ہی حدیث سے اتنا بڑا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اس باب کی کسی حدیث سے ان کے موقف کی تائید نہیں ہوتی لہذا ضروری ہے کہ یہ حدیث قرآن اور دیگر احادیث کی روشنی میں سمجھی جائے۔ چنانچہ "الا المبشرات” سے واضح ہے کہ رؤیا صالحہ بھی دراصل نبوت ہی ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں اسے نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بھی واضح ہوا کہ نبوت مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی بلکہ مبشرات پر مشتمل نبوت جاری ہے جس کی ایک مثال کے طور پر رؤیا صالحہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔

اب اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کیا حضرت مسیح موعود نے مشاورت سے دعوٰی مثیل مسیح کیا؟ غامدی صاحب نے جس خط کا حوالہ دے کر یہ نتیجہ نکالا ہے وہ 24 جنوری 1891 کا ہے جو "مکتوبات جلد پانچ” میں 61 نمبر خط ہے جبکہ حضرت صاحب کی کتاب فتح اسلام جس میں مثیل مسیح کا دعوٰی کیا گیا ہے اس خط سے کم از کم دو ہفتے پہلے ہی چھپ چکی تھی دیکھئے اس کتاب کے بارِ اول کا ٹائٹل۔ اس کے علاوہ دیکھئے خط نمبر 60 جو 20 دسمبر 1890 کا ہے جس کے مطابق 20 دسمبر سے بھی پہلے "فتح اسلام” تالیف کے تمام مراحل سے گزر کر پرنٹنگ پریس میں بھی پہنچ چکی تھی۔ اب دیکھئے غامدی صاحب جو ایک شریف النفس اور سراسر علمی شخصیت ہیں معاندین احمدیت کے بےبنیاد اعتراضات کو معتبر جان کر کس قدر فاش غلطی کر گئے ہیں۔

اب آئیے غامدی صاحب کے اس اعتراض کی طرف کہ مرزا صاحب بھی ایک صوفی ہی تھے اور گزشتہ صوفیاء ہی کی طرح اوراد، وظائف اور چِلّے کرتے رہے اور صوفیاء ہی کی طرح الہام و کشف، نبوت، حقیقت محمدیہ وغیرہ جیسے دعوے کرتے رہے لہٰذا انھوں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ یہ اعتراض تو ایسا بے بنیاد ہے کہ اس کے رد کیلئے بہت صاحب علم ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ تصوف کے مختلف سلسلے بھی سب کے سامنے ہیں اور سلسلہ احمدیہ بھی۔ ایک عامی بھی بتا سکتا ہے کہ دونوں میں کوئی مماثلت نہیں۔ مثلاً تصوف کے تمام سلسلے انہی یوگا نما ریاضتوں کی تاکید اپنے سلسلے میں شامل ہونے والوں کو کرتے ہیں اور اسی قسم کی ذکر کی محفلیں یہ لوگ لگاتے ہیں۔ دوسری طرف سلسلہ عالیہ احمدیہ ہے۔ ہماری تمام ریاضتیں اور چِلّے نماز و روزہ سے شروع ہوتے ہیں اور انہی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ نوافل میں زیادہ زور تہجد پر رہتا ہے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وظائف اور چِلے تھے اور اسی کی تاکید انھوں نے اپنی جماعت کو کی ہے۔ حضور علیہ السلام نے تصوف کی غلط باتوں پر تنقید بھی کی ہے مثلاً وحدت الوجود، بدعتی اوراد و وظائف اور چِلّے، طبلہ سارنگی سے مزین متصوفانہ "ذکر” کی محافل وغیرہ۔ لیکن جو بہت سی درست باتیں تصوف میں موجود ہیں ان کی پذیرائی بھی فرمائی ہے۔ جہاں تک "حقیقت محمدیہ” کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ کا کامل متبع جو فنا فی الرسول کے درجے پر پہنچ جائے، اس کی ذات میں ہمارے سید و مولی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی ذات کا عکس ظاہر ہوتا ہے، اسی کو صوفیاء نے "حقیقت محمدیہ” کا نام دیا ہے اور اسی کے حصول کی تعلیم قرآن دیتا ہے۔ جیسا کہ آیت کا مفہوم ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری (رسول اللہ ﷺ کی) پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا۔ دیکھئے اسی اتباع رسول ﷺ میں فنا ہو جانا ہی تو حقیقت محمدیہ ہے۔ ہاں البتہ یہ درست ہے کہ تصوف کی باز اصطلاحیں مثلاً "ریاضت، چِلّا، قطب، ابدال” وغیرہ استعمال کی گئی ہیں لیکن اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیئے کہ یہ بعینہ وہی چیزیں ہیں جو بہت سے صوفیاء مختلف بدعتوں کی صورت میں مانتے آئے ہیں۔ بلکہ حضور علیہ السلام نے تمام بدعتی رسوم و عقائد پر شدید نقد کی ہے. شاید انہی اصطلاحات کے استعمال کی وجہ سے غامدی صاحب کو بھی دھوکہ لگا ہے.

صوفیاء کے دعووں کی نوعیت مرزا صاحب کے دعووں سے بہت مختلف ہے۔ ان کے دعوے الہام و عرفان کے تو رہے ہیں لیکن کسی ایک نے بھی مسیح و مہدی اور نبی اللہ ہونے کا دعوٰی نہیں کیا۔ اور یہ بھی نری خام خیالی ہے کہ مرزا صاحب نے تو نبوت کا دعوٰی نہیں کیا تھا لیکن خلیفہ ثانی نے بات بڑھا دی۔ حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ایک بڑی تعداد صحابہ کی موجود تھی جن کی اکثریت خلیفہ ثانی کے ساتھ کھڑی تھی۔ تکفیر امت کے متعلق بھی آپ کو غلط فہمی ہے، ہم کسی کلمہ گو کی تکفیر نہیں کرتے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

توبہ ، استغفار وصول الیٰ اللہ کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ‌ؕ پوری کوشش سے اُس کی راہ میں لگے رہو منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بُخل نہیں ۔ آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور اَبدال اور غوث ہوئے ۔ اب بھی اُس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ۔ قلبِ سلیم پیدا کرو ، نماز سنوار کر پڑھو ، دُعائیں کرتے رہو ، ہماری تعلیم پر چلو ، ہم بھی دُعا کریں گے ۔ یاد رکھو ! ہمارا طریق بعینہٖ وہی ہے جو آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ کا تھا ۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں ۔ یہ چِلّے اور وِرد وظائف جو انہوں نے رائج کر لئے ہیں ۔ ہمیں ناپسند ہیں ۔ اصل طریقِ اسلام قرآنِ مجید کو تدبّر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اُس پر عمل کرنا اور نماز توجّہ کے ساتھ پڑھنا اور دُعائیں توجّہ اور انابت الیٰ اللہ سے کرتے رہنا ۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے ۔ یہ ہے تو سب کچھ ہے ! (ملفوظات جلد پنجم : ۴۳۱ ، ۴۳۲)

(عدیم احمد)

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend