ہوم / زبان و ادب / غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد منیب

غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد منیب

چاند نکلا تو سمندر کے کنارے جاگے
لوگ سب سو گئے تب درد کے مارے جاگے

ہر ستارے کو بتا دو جو ہیں راتوں کے الم
جو ہمارا ہے وہی ساتھ ہمارے جاگے

حبس ایسا تھا کہ تحریر کا دم گھٹتا تھا
اس نے لکھا تھا تو حرفوں کے ستارے جاگے

دم بخود رہ گئے سب لوگ صحائف والے
حکم اور بدر کے جب تازہ شمارے جاگے

صبح تازہ کی ہوا تب ہی چلی بستی میں
جب مسیحا کی صدا لے کے منارے جاگے

ادھ کھلی آنکھ سے جب وصل کا پانی ٹپکا
میری اجڑی ہوئی اس جاں کے سہارے جاگے

جب بھی اس قوم نے پیروں پہ کلہاڑی ماری
ایسی ظلمت میں مسیحا کے ہی پیارے جاگے

(احمد منیب)

مصنف admin

Check Also

کنکاں چھڈ،۔۔۔۔۔کپاہ لینے آں)…..پنجابی غزل، ۔۔۔طاہر احمد بھٹی)

(کنکاں چھڈ ، کپاہ لینے آں) تیرے ساہیں، ساہ لینے آں ساہ کیہڑے نے، پھاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend