ہوم / حقوق/جدوجہد / علامہ طاہر اشرفی کو چیلنج کا جواب الجواب، از قلم۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان احمد داؤد

علامہ طاہر اشرفی کو چیلنج کا جواب الجواب، از قلم۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان احمد داؤد

قصہ کچھ یوں ہوا کہ علامہ طاہر اشرفی صاحب نے قومی سیرت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے جذبات میں آ کر یہ الفاظ بولے تھے۔

’میرے عزیزو، میں چیلنج کر رہا ہوں، یہ عالمی فورم ہے، اس عالمی فورم کے اوپر کہ مرزا قادیانی کی تمام کتابوں میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھو لیکن اس محمد سے مراد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں، اس محمد سے مراد مرزا قادیانی لو۔‘

میں نے جواباً لکھا کہ علامہ طاہر اشرفی صاحب تمام کتابوں سے نہیں صرف ایک کتاب سے ہی اپنا دعوی ثابت کر دیں۔ میں نے تو یہاں تک لکھا کہ بے شک وہ یہ بات خلفاء احمدیت کی ہی کسی تحریر و تقریر سے دکھا دیں۔ علامہ طاہر اشرفی صاحب کے چیلنج کے جواب میں میرایقینی جواب کہ ایسا کوئی حوالہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے اس بات کا اعلان تھا کہ علامہ طاہر اشرفی صاحب نے بانی جماعت احمدیہ پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔

میرے جواب کے بعد ان کا فرض بنتا تھا کہ اپنے آپ پر سے جھوٹ کا عیب ہٹانے کے لئے وہ مرزا صاحب کی کسی کتاب میں سے یا ان کے خلیفہ کی کسی کتاب میں سے اپنی کی گئی بات کا معین حوالہ پیش کرتے اور یا حوالہ نہ ملنے کی صورت میں اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے۔ مجھے معلوم تھا کہ ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے اور میں نے یہ اپنے مضمون میں بھی لکھا تھا کہ ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ آپ نے چیلنج کا حوالہ نہ دکھا سکنے پر کہاں دوڑ لگانی ہے۔ اسی لئے میں نے مرزا صاحب کی کتب اور ان کے خلفاء کی تحریر و تقریر پر حصر کر دیا تھا کہ کج بحثی کی گنجائش ہی ختم ہو جائے اور مولانا نے اگر اپنے چیلنج کی آبرو بچانے کے لئے اس حصر کو توڑ دیا تو ان کا یہ عمل خود ہی ان کے دعوی کے برخلاف جائے گا کہ کہاں دعوی تمام کتب کا اور کہاں حوالہ نہ مرزا صاحب کا اور نہ ہی ان کے کسی خلیفہ کا۔

میرے مضمون کے جواب میں طاہر اشرفی صاحب کے ٹویٹر ہینڈل @TahirAshrafi پر میرے مضمون کو شیئر کر کے بار بار مرزا مسرور احمد صاحب (احمدی جماعت کے پانچویں خلیفہ) کو مناظرہ و مباہلہ کا غیر ضروری چیلنج دیا جا رہا ہے۔ُ ھر بار بار اس خاکسار کو جماعت احمدیہ کا ترجمان باور کرا کر مرزا مسرور احمد صاحب سے مناظرے اور مباہلے کی طرح ڈالی جا رہی ہے۔ بات بالکل سیدھی سی ہے، اگر حوالے موجود ہیں تو حوالے دے کر اپنے چیلنج پر دلائل کے پہاڑ کھڑے کر دیں مگر یہ فضول کی یاوہ گوئی کر کے آپ کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟

علامہ طاہر اشرفی نے 7 دسمبر 2018 کو ایک ویڈیو بنوا کر اپنے ٹویٹر ہینڈل پر اپ لوڈ کی جس میں انہوں نے فضولیات کے علاوہ اپنی دانست میں اپنے چیلنج کو سپورٹ دینے اور مجھے جواب دینے کے لئے دو حوالے بھی دئے ہیں۔ علامہ طاہر اشرفی صاحب کے چیلنج کے جواب میں میرے مضمون پر کسی مولانا اسید الرحمن سعید صاحب نے بھی ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان تھا ’چیلنج قبول ہے‘۔ میں ویڈیو کا اور مضمون کا عنوان پڑھتے ہی سمجھ گئے کہ مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کے فتاوی (کہ احیا حق کے واسطے کذب درست ہے ۔ کہ اگر راستی سے حق تلف ہوتا ہو تو تعریض سے جھوٹ بول کر احیاء حق کرنا مباح ہے) پر علماء کے عمل کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ دونوں نے صرف دو حوالے دئے ہیں، ایک جیسے۔ اب ذرا ایک دفعہ پھر علامہ طاہر اشرفی صاحب کے چیلنج کے الفاظ پر غور کر کے ان کے پیش کئے گئے حوالوں کی نوعیت ملاحظہ کریں۔

بقول علامہ صاحب، مرزا صاحب کی ’تمام‘ کتب میں جو بات لکھی ہے اور جس کو ثابت کرنے کے لئے میں نے انہیں خلفاء کی کتب سے بھی حوالہ پیش کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس کے لئے علامہ صاحب پہلا حوالہ 1915 میں چھپی ایک کتاب کلمتہ الفصل کا دیتے ہیں(یاد رہے کہ مرزا صاحب 1908 میں فوت ہو گئے تھے) اور اسے مرزا بشیر الدین صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہ کتاب مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب کی قطعاً بھی نہیں ہے جو کہ جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ تھے بلکہ یہ کتاب تو مرزا بشیر احمد صاحب کی ہے جو کہ مرزا صاحب کے بیٹے اور جماعت احمدیہ کے ایک بزرگ عالم تو تھے مگر خلیفہ نہیں تھے۔

یعنی دعوی تو یہ تھا کہ مرزا صاحب کی تمام کتب میں یہ بات لکھی ہے، مگر جب دعوی کے دلائل دینے کی بات آئی تو مرزا صاحب کی اسی سے زیادہ کتب، ان کے ملفوظات، اشتہارات و مکاتیب کی تمام جلدوں میں سے ایک حوالہ بھی نہیں ملا، بلکہ ان کے خلفاء کی تحریرات و تقاریر میں سے بھی ایک حوالہ نہیں ملا، اور ان کے پہلے خلیفہ کی بھی وفات کے بعد 1915 میں لکھی گئی ایک کتاب سے ایک حوالہ مصنف کا نام بدل کر (تاکہ خلیفہ کے نام کے ساتھ مشاہبت پیدا ہو) پیش کیا جاتا ہے۔ علامہ، جب میں اپنا پہلا مضمون لکھ رہا تھا تو مجھے تب بھی آپ کی بے بسی کا احساس تھا اور میں نے اپنے مضمون میں مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتب کا حصر بھی جان کر لگایا تھا کہ آپ کو جب حوالہ نہیں ملے گا اور آپ اس حصر سے باہر نکلیں گے تو خود ہی اپنے دعوی کے جھوٹا ہونے کی دلیل بن جائیں گے۔

مولانا اسید الرحمن سعید صاحب نے یہی حوالہ کلمتہ الفصل جلد 14 صفحہ 158 کی طرف منسوب کیا ہے۔ جبکہ کلمتہ الفصل تو نوے صفحات کی کتاب ہے اور جلد 14 تو ریویو آف ریلیجنز کی 1915 کے شماروں کی جلد ہے نہ کہ کلمتہ الفصل کی۔ چونکہ یہ حوالہ علامہ طاہر اشرفی صاحب کے اپنے دعوی اور حوالہ پیش کرنے کی ہماری بڑھی ہوئی پیشکش کے خلاف ہے تو اصل میں تو یہ حوالہ دلیل کے طور پر پیش ہی نہیں ہو سکتا۔ علامہ طاہر اشرفی صاحب کو بھی یہ بات پتا تھی اسی لئے انہوں نے نام کو بشیر احمد سے بدل کر بشیر الدین بولا تاکہ خلیفہ دوم کے نام کے ساتھ مشاہبت پیدا ہو، اور اسی لئے مولانا اسید الرحمن سعید صاحب نے لکھا کہ یہ مرزا صاحب کے بیٹے مرزا بشیر کی کتاب ہے ، تاکہ وہ یہ کہہ کر اپنے دعوی کے مقابلے میں اپنی دلیل کی کمزوری کو چھپا سکیں۔

میں اس حوالہ کو صرف نظر کرکے بھی گزر جاؤں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ حوالہ تو خود علامہ کی بے بسی کی تصویر ہے،مگر جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے لئے مختصر سی بات عرض کر دیتا ہوں۔ حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اس طرح ہے۔

’پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آیا ہوتا تو ضرورت پیش آتی۔‘

اب اس حوالہ کو صرف سرسری طور پر سیاق وسباق کے بغیر پڑھنے کے باوجود بھی وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو علامہ طاہر اشرفی صاحب نے کانفرنس میں اپنی تقریر میں نکالا تھا کہ کلمہ میں محمد سے مراد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اس محمد سے مراد مرزا صاحب ہیں۔ اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ جو کلمہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہی اب بھی جاری ہے اور اس محمد سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی مراد ہیں۔ اسی صفحہ پر اسی کلمہ کے بارے میں مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا تھا کہ۔

’محمد ؐ رسول اللہ کا نام تو کلمہ میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آ جاتے ہیں ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

دیکھیں کہ کیسے اسی صفحہ پر کلمہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاص وصف بتایا گیا ہیے۔ مختصراً، نہ صرف یہ حوالہ علامہ طاہر اشرفی صاحب کے دعوی سے میل نہیں کھاتا بلکہ اس سے وہ بات ثابت بھی نہیں ہوتی جو کہ انہوں نے ثابت کرنی تھی۔

اس کے بعد علامہ طاہر اشرفی صاحب اور مولانا اسید الرحمن سعید صاحب مرزا صاحب کی ایک کتاب سے حوالہ دیتے ہیں۔ اور ایسے باور کراتے ہیں جیسے مرزا صاحب نے ایک قرانی آیت میں لفظ محمد کا مصداق اپنے آپ کو بنایا ہے (معاذاللہ)۔ مولانا اسید الرحمن سعید صاحب نے تو جست لگا کر الفاظ ’قران کریم کی آیت‘ بھی لکھ دئے ہیں تاکہ پڑھنے والے جنہوں نے تحقیق نہیں کرنی وہ دھوکہ کھا جائیں جبکہ علامہ طاہر اشرفی صاحب نے یہ والی تحریف تو نہیں کی مگر مقصد ان کا بھی یہی ہے کہ یہ آیت قرانی کا مصداق بننا ہے۔ جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ علامہ طاہر اشرفی صاحب کے دئے گئے حوالہ سے چار پانچ سطر پہلے مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ۔

’چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک ۔۔۔‘ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206)۔

یعنی کہ مرزا صاحب قرانی آیات کی طرف اشارہ نہیں کر رہے بلکہ اپنے الہامات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو انہوں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں لکھے تھے۔ یہ کل چار الہامات ہیں، جن میں سے دو آیات قرانی بھی ہیں، مگر یہاں پر ان کے آیات قرانی ہونے پر بحث نہیں ہو رہی بلکہ ان کے اپنے اوپر ہونے والے الہام پر بحث ہو رہی ہے۔ تھوڑی سی عقل رکھنے والا بندہ بھی بتا سکتا ہے کہ یہاں آیت قرانی کا مصداق قرار نہیں دیا گیا بلکہ اپنے پر الہام ہوئی قرانی آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ موقع نہیں ہے ورنہ تفصیل سے ثابت کیا جاتا کہ قرانی آیات کا اولیاء امت پر الہام ہونا علامہ صاحب کے اکابر علماء و صوفیاء کے نزدیک ثابت شدہ امر ہے بلکہ وہ آیات جن میں خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب تھا اگر وہ بھی کسی کو الہام کی گئی ہیں تو وہ اس الہام کا مصداق اپنے حالات کے مطابق ہوگا (نہ کہ آیت کا مصداق بن جائے گا)۔

آیت زیر بحث کے مصداق پر تو مرزا صاحب نے بہت صاف طور پر لکھا ہے کہ۔

’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ہیں (ا) ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے ۔ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم … ذالک مثلھم فی التورتہ۔ (۲) دوسرا نام احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الٰہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے ۔ و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔ مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مدینہ کی زندگی جلالی رنگ میں۔‘ (اربعین نمبر 4، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 443)

دونوں حوالوں کا کافی و شافی جواب دے لینے کے بعد ہم علامہ طاہر اشرفی سے دست بدستہ درخواست کرتے ہیں کہ یہی مان لینے میں عزت ہے کہ آپ سے لسانی سبقت ہوگئی ہے۔ نہ مرزا صاحب اور ان کے خلفاء نے ایسی کوئی تعلیم جماعت کو دی ہے جیسا آپ نے الزام لگایا ہے اور نہ ہی یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ ہم اپنی بات پر اب بھی قائم ہیں کہ آپ نے اپنی تقریر میں جو الزام مرزا صاحب پر لگایا تھا وہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور اتنا شور ڈال کر بھی آپ اپنی تقریر کا الزام صحیح ثابت نہیں کر سکے۔

ؓعلامہ طاہر اشرفی صاحب کی ویڈیو اور مولانا اسید الرحمن سعید صاحب کی باقی فضولیات اور یاوہ گوئیوں سے میں صرف نظر کرتا ہوں کہ ان دونوں کا مقصد اس سے کج بحثی کرنا ہے جو کہ میرا مقصد نہیں ہے۔

مصنف admin

Check Also

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی

خواب اس آنکھ میں بھریں کیسے۔۔۔۔!غزل۔۔۔۔۔۔طاہر احمد بھٹی دیپ کچھ تھے ، مگر جلے ہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend