ہوم / حقوق/جدوجہد / مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

مولانا کی الٹی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصغر علی بھٹی

ہوٹل کے دروازے پر لٹکتی مولانا فضل
الرحمٰن صاحب کی الٹی فوٹو
سینٹ کے حالیہ سیشن میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جماعت سے
تعلق رکھنے والے ایک معزز سینٹر صاحب نے جو خود بھی مولانا ہیں نے وزیر
اعظم پاکستان کے حوالے سے کلام شروع کیا تو جناب چئیرمین صاحب نے وہ
الفاظ حذف کروادئیے دوسرے لقب بولا پھر تیسرا بولا وہ بھی حذف کروادیے
گئے ۔ ساتھ کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب ماحول خراب نہ کریں
دیکھیں مولانا صاحب ایسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ مولانا صاحب ان الفاظ پر
معذرت کر لیں۔چئیرمین سینٹ بولتے اور ہمارے مولانا صاحب بھی بولتے
رہے۔مولانا نے مزید کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ آج کل ایک ویڈیو
سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے جس میں ایک ڈرائیور وردی پہن کر آگے سٹیرنگ
پر بندر کو بٹھاتا ہے سٹیرنگ بندر کے ہاتھ میں ہے۔ چلا گاڑی ڈرائیور رہا
ہے مگر بندر بیچارہ سمجھتا ہے کہ گاڑی وہ چلا رہا ہے۔چئیرمین صاحب پھر
سدا لگاتے ہیں کہ مولانا صاحب ایسے نہ کریں آپ ماحول خراب کر رہے ہیں
۔مولانا صاحب آپ بیٹھ جائیں۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ علمائے کرام
جو شریعت کے وارث ہیں اور پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے دن
رات سینہ کوبی کرتے ہیںاگر وہ اتنی ابتدائی بات کہ ولا تنا بزوا
بالالقاب پر بھی عمل کے لئے اپنی زبان مبارک کو بریک نہیں لگا سکتے
توعوام جسے علمائے کرام کالانعام فرماتے ہیں وہ شریعت کی مشکل ترین
راہوںیعنی تقویٰ اور پر ہیز گاری پر کیسے عمل پیرا ہونگے؟ سوچ کے اسی
بھنور میں مجھے ماضی کی دو سیدھی اور ایک اُلٹی فوٹو کی یاد آنے لگ
گئی۔آئیے میں مولانا کی بندر والی ویڈیو کے ساتھ ساتھ آپ کو تین
اورفوٹو کی کہانی بھی سناتا ہوں
پہلی فوٹو جوآج کے سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہےجس میں ایک لحیم شحیم
بھاری بھرکم مولوی صاحب ،کندھے پہ پٹکاڈالے،آنکھوں میں سرمہ چمکائے ،سر
پر بڑی سی پگڑی پہنے،ایک کرسی پر بیٹھی عورت کے قدموں کے پاس سامنے
زمین پر بیٹھے ہیں۔فوٹو میں ان مولوی صاحب اور اُس کرسی والی عورت کا
چہرہ صاف دکھائی دیتا ہے۔کرسی پر براجمان یہ مقتدر عورت ہمارے ملک کی
مرحوم سابق پرائم منسٹر جناب بینظیر بھٹو صاحبہ تھیں اور زمین پہ ایڑیوں
کے بل بیٹھے ہماری شریعت کے محافظ،اورہمارےملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے
کے داعی جناب مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہیں۔دوسری تصویر میں بھی ایک مرد
اور ایک عورت اور ایک کرسی ہے مگر ایک فرق کے ساتھ ۔ کرسی پہ براجمان
نظر آنے والی شخصیت مرد ہے، جومعمول کے کپڑے پہنے ،آنکھوں پہ نظرکا
چشمہ سجائے،آنکھوں میںگہری سنجیدگی ،چہرے پہ باشرع داڑھی کے ساتھ سمٹی
سمٹائی سی نظر آرہی ہے۔اوراس ضعیف سی شخصیت نے اپنے پائوں سکیڑ رکھے
ہیں یعنی اپنی طرف سمیٹے ہوئے ہیں جبکہ قدموں میں زمین پر بیٹھی ایک عورت
نظر آ رہی ہے۔ جواپنے رکھ رکھائو،اور پہناوے میں مثال لگ رہی ہے۔آنکھوں
میں بلا کی چمک ہے۔اردگرد اس کے محافظوں اور ماتحتوں کے دستے کا حصار بنا
ہواہے۔چہرے پہ وقار لئے یہ عورت اس ضعیف بوڑھے کے قدموں کو چھونا اور ان
میں بیٹھنا اپنے لئے اعزاز سمجھ رہی ہے۔ جبکہ یہ بزرگ شخصیت اپنے پائوں
سمیٹ رہی ہے۔اس فوٹو میں بھی چہرے اور فوٹو کے لوگ بآسانی پہچانے جا
سکتے ہیں۔ کرسی پہ بیٹھا یہ بزرگ عمر شخص پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام ہے
جسے انڈین گورنمنٹ نے سرکاری دعوت پر اپنے ملک بلایا ہواہے اور قدموں میں
بیٹھی یہ پر وقار عورت انڈیا کی مرحوم پرائم منسٹر جناب اندرا گاندھی
صاحبہ ہیں جو ڈاکٹر صاحب کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت قبول کرنے پر
شکریہ ادا کر رہی ہیں اور ساتھ ہی قدموں میں بیٹھ کر عجز سے اپنے ملک کی
شہریت قبول کرنے کے لئے التجا کر رہی ہیں۔
یہ دونوں فوٹو تاریخ پاکستان کا حصہ ہیں مگرکافی عرصہ سے بے التفاتی کی
گرد میں ڈوبی ہوئیں تھیں۔امسال مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے یوم آزادی
پاکستان منانے سے انکار کر دیا تو آپ کے یار دوستوں نے آپ کی فوٹو سے
ہی نہیں آپ کی اسلام دوستی سے بھی گرد جھاڑ دی ۔جبکہ ڈاکٹر صاحب کی
فوٹو کچھ زیادہ ہی گرد میں تھی وہ تو کالم کے پیٹ کی بھوک کےستائے جناب
جاوید چوہدری صاحب اس تہہ خانے میں آنکلے اور ان کے پیچھے پیچھے ڈاکومینٹری
بنانے والے دو نوجوان بھی اس گہرے غار میں کود گئے یوں آج اس فوٹو کو
عظمت کردار کی روشنی نصیب ہوئی۔
استاد مرحوم فرمایا کرتے تھے جو لوگ ایک دفعہ اپنے کردار اور ضمیر کے
ساتھ سمجھوتا کر لیتے ہیں وہ سدا کے کے لئے ایک پھسلواں ڈھلان کے مسافر
بن جاتے ہیں ۔یعنی کبھی مجبوری سے لڑھکے توکبھی مفاد کے لئے لڑھکے۔ کبھی
یار دوستوں نے لڑھکا دیا تو کبھی شوق سے لڑھک گئے۔گویا زندگی میں مفاد
پورا ہونا چاہئیے عزت تو آنی جانی چیز ہے کی سچی اور پکی تصویر بن جاتے
ہیں۔ بقول ہارون الرشید اور اوریا مقبول جان صاحب جناب مولانا فضل الر
حمٰن صاحب نے اپنے ہی والد کی پرائیویسی حکومت وقت کوبیچ کر اپنی
سیاسی زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔اورجب آغاز اتنا مبارک ہے تو بلندی
کتنی مطہر ہو گی۔وہ ہمیں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے ایک ہوٹل کے دروازے
پر نظر آئی۔
جناب مولانا نے محترمہ بینظیر صاحبہ کے قدموں میں بیٹھ کر بہت سے پرمٹوں
کے ساتھ ساتھ اُمور خارجہ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی چئیرمین شپ بھی حاصل کر
لی اور پھر وہ مبارک گھڑی بھی آئی جب آپ اپنے منصب کے فرائض کی ادائیگی
کے لئے بیرونی دنیا کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے اور یوں آپ جرمنی کے شہر
فرینکفرٹ میں جا وارد ہوئے ۔ ہوٹل میں کھایا پیا ،آرام کیا ، قیام کیا۔
اور قیام کے بعد بقول جناب ظفر اقبال صاحب جاتے ہوئے نہ بل ادا کیا نہ
چابیاں دینے کے لئے سلام دعا کیا بلکہ چابیاں نیفے میں اُڑسیں اور یہ جا
اور وہ جا۔معاملہ پاکستان ہائی کمیشن تک پہنچا مگراُنہوں نے اس ناگہانی
بل کی ادائیگی کا انکار کردیا چنانچہ ہوٹل کے قواعد کے مطابق ایسی
ادائیگی نہ کرنے والے کی فوٹو ہوٹل کے مین گیٹ پر تما م کوائف کے ساتھ
اُلٹی لٹکا دی جاتی ہے چنانچہ انتظامیہ نے مولانا فضل الر حمٰن صاحب چئیر
مین سٹینڈنگ کمیٹی برائے اُمور خارجہ پاکستان کی فوٹو اور ہوٹل کے مین
گیٹ پر اُلٹی لٹکا دی۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے قاعدہ بناتے ہوئے کبھی سوچا
بھی نہ ہو گا کہ اس قاعدے کا پہلا شکار ہی ایسا شاہکار ہوگا۔
فوٹو اُلٹی لٹکا دی گئی اور کئی دن تک لٹکتی رہی اور فوٹو کے ساتھ
پاکستان کا نام اور مولوی صاحب کےکوائف بھی اس گندی صلیب پر جھولتے
رہے۔یہاں تک کہ بقول جناب ظفر اقبال صاحب یہ اطلاع فرینکفرٹ میں موجود
ڈاکٹر عبد السلام کی احمدیہ کمیونٹی تک پہنچی۔ اُنہوں نے چندہ کرکے
مولوی صاحب کے ہوٹل کا بل ادا کیا اور آپ کی اُلٹی فوٹو کو اس صلیب سے
اُتروایا۔مولانا کافروں کے دیس کےکامیاب دورے کے بعد پاکستان لوٹ آئے
اور ایک بار پھر قدموں میں جا بیٹھے اور ڈیزل کے پرمٹ حاصل کر لئے۔اب ہر
جگہہ فرینکفرٹ والے راندہ درگاہ سرکاری کافر تو نہیں ہوتے جو چندہ کرکے
پاکستان کے نام کو بے حرمتی کی صلیب سے بھی اُتاریں اور خاموش بھی رہیں
چنانچہ اگلے چند ہی دنوں میں سیالکوٹ کے خواجہ صاحب نے اسمبلی فلور پر
مولانا ڈیزل کا نعرہ لگا دیا اور پھر کیا ہوا پکے سچے مسلمان بھائیوں نے
ذرا حیا نہ کیا اورہر گلی ہر جلسے میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگنا شروع کر
دئیے مگر مجال ہے جو ہم نے کبھی برا منایا ہو یا اپنی چال بدلی ہو۔
آج مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بھائی جان صاحب وزیر اعظم عمران خان کے
اس بیان پرغصہ میں لال پیلے تھے کہ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے شکر
کریں کہ نیب میرے انڈر نہیں ورنہ اب تک 50 بندے اندر ہونے تھے۔حیران ہو
کر سوچ رہا ہوں کہ جنہوں نے ہوٹل کے گیٹ سے مولانا کی اُلٹی فوٹو
اُتروائی وہ توپکےوطن کے غدار ہوگئے،جس نے ڈیزل کے پرمٹ دئیے وہ یار غار
ہو گئےاور جس خواجہ صاحب کی پارٹی نے قومی اسمبلی میں مولانا ڈیزل کے
خطاب سےنوازا وہ جمہوریت کے شاھکار ہوگئے۔
مولانا عطاء الرحمٰن صاحب جب آپ کے بھائی قبلہ کے بارے میں انصار عباسی
صاحب حامد میر صاحب کے پروگرام میں بیٹھ کر ایک کے بعد ایک دستاویزات
دکھاتے ہیں کہ کس طرح مولانا نے پرویز مشرف سے جائیدادیں لیں اور کیسے
جھوٹ بول بول کر اپنے ملازموں کے نام یہ یہ ہزاروں ایکڑ زمین کی
جائیدادیں لگا کر چھپانے کی کوشش کی۔ آپ غصہ نہیں ہوتے۔جب اوریا مقبول
جان صاحب آپ کے بھائی قبلہ کو اپنے ہی باپ کا نافرمان اور چور ثابت کرتے
ہیں آپ ناراض نہیں ہوتے ؟ جب آپ کے بھائی ایک احمدی ڈاکٹر مبشر احمد
صاحب سے دل کا علاج کرواتے ہیں آپ ناراض نہیںہوتے اور جب آپ کے بھائی
کی اُلٹی فوٹو ہوٹل کے دروازے سے احمدی اُترواتے ہیں تو آپ ناراض نہیں
ہوتے لیکن اگر وزیر اعظم صاحب کہہ دیں کہ میں چوروں کو نہیں چھوڑںگا آپ
ناراض ہو جاتے ہیں کیوں؟کیا آپ کے بھائی جان کا چوروں سے کوئی خاص تعلق
ہے ؟

مصنف admin

Check Also

جرمنی اپنے شہریوں کے سول رائیٹس کے ایک دھیلے پر بھی سمجھوتا نہیں کرتا۔۔۔۔۔اداریہ

گزشتہ ہفتے جرمنی کے علاقے ایرفرٹ میں جماعت احمدیہ کی مسجد کے سنگ بنیاد رکھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend