ہوم / حقوق/جدوجہد / نئے پاکستان کی پرانی روش۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار

نئے پاکستان کی پرانی روش۔۔۔۔اداریہ، آئینہ ابصار

عید قربان سے چند دن قبل ہی نیا پاکستان، ایک نئے مسیحا کے ساتھ امیدوں کا ہجوم لے کر طلوع ہوا تھا اور لڑکے بالے ہی کیا کھیلے کھائے بزرگ بھی یک گونہ سر شار تھے کہ شائید اب کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔
ہم جیسے چوٹ کھائے اور چوٹ سہے ہوئے بھی چپ چاپ دیکھ رہے تھے اور دل میں دعا رکھتے تھے کہ اللہ کرے۔۔۔ایسا ہی ہو!
ہر چند کہ کچھ سوشیو پولیٹکل اشاریے یہ بتا رہے تھے کہ، پنجابی مثل کے مصداق،
"جے گاواں گواچیاں تے کھرا کدھر جانا ایں….”
پر جب تک کچھ ہو نہ چکے، امید کا گلا گھونٹنا اچھا نہیں۔
اب عید والے دن، گھسیٹ پورہ میں احمدیہ مسجد پر حملے اور لڑائی کے بعد، اور لاہور میں احمدیوں کے قربانی کے جانور زبردستی چھین لئے جانے کے بعد، اور لبیک کے ملوانوں کی ایمان افروز ویڈیو سن لینے کے بعد اگر کوئی خوش فہمی کی گنجائش رہ گئی تھی تو وہ موجودہ وزیر اطلاعات کے پریس کانفرنس میں بیان کئے گئے موقف سے ختم ہو گئی ہے۔
یہ وہی فواد چوہدری ہیں جو کل تک سیالکوٹ کے واقعے پر انسانی حقوق اور اقلیتوں کے آئینی تحفظ کی بات کرتے تھے۔ مگر یہ جب کی بات ہے کہ جب تحفظ دینے کا بوجھ نواز اور شہباز حکومت پر تھا۔ فواد چوہدری نے صرف ٹاک شو میں بیٹھ کر تیلی لگانی تھی، اس کی اپنی ذمہ داری کوئی نہیں تھی۔
اب فواد چوہدری ٹھہرے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات۔ اور فیصل آباد کا آر پی او ان کا دست راست، سامنے میڈیاء کا ہجوم، اور داو پہ لگے ہیں صرف احمدی۔۔۔۔۔۔تو وزیر اطلاعات کا معاملے کو دو گروہوں کا باہمی تنازعہ اور مرغوں کی لڑائی قرار دینا تو بنتا ہے ناں۔ اس پہ کیا تعجب؟
آپ سے پہلے، مریم اورنگزیب، ان سے پہلے قمر الزمان کائرہ اور اس سے پہلے شیخ رشید بھی یہی کیا کرتے تھے۔
پاکستان نیا کیسے بنے گا جب تک آپ کی حرکتیں وہی رہیں گی۔
ناظر امور عامہ ، صدر انجمن احمدیہ پاکستان جو پریس ریلیز جاری کرے اس کی اہمیت کیوں نہیں؟
جن کے گھر جلیں اور مسجد کو آگ لگائی جائے ان کا موقف درست کیوں نہیں؟؟
جن کے گھر سے بکرے اور قربانی کے جانور کھول کے تھانے لے جائیں ان کی بات جھوٹ کیوں؟؟؟
اور فواد چوہدری اور ان کا آر پی او ہی کیوں دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔
مرغوں کی لڑائی ہوئی تھی؟
اچھا حضرت ذرا بتائیے تو کہ پاکستان میں کتنی جگہ ایسا ہوا یا ہوتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی پہ دوسرے فریق کی مسجد کو آگ لگا دی جائے۔
اور دوسرا یہ کہ مرغوں کی لڑائی کے فیصلے کرنے کے لئے لبیک یا رسول اللہ کے مولویوں کو سر پنچ کس نے بنا لیا اتنی افرا تفری میں؟
اور اس سب کو چھوڑو،
وزیر اعظم کا حلف نامہ اس بار سابق وزراء اعظموں سے اتنا مختلف کیوں تھا کہ ملک، ریاست اور سیاسی ذمہ داریاں چھوڑ کے صرف ختم نبوت کے لئے ہی وقف ہو گیا۔
بات سنیں، مسئلہ کچھ اور ہے۔ دولتانہ صاحب بے ایمان اور مذہبی منافرت کا کارڈ نہ کھیلتے تو جنرل اعظم والے مارشل لاء کی نوبت نہیں آنی تھی۔
آپ لوگوں کو پہلے دن سے ہی ڈھیلی نیکر پہنا کے اسمبلی اور حکومت میں چھوڑا گیا ہے۔ اب آپ ہمیں اور ہمارے مفاد اور تحفظ کو کیا سنبھالیں گے، آپ کو تو اپنی نیکر سنبھالنے سے ہی فرصت نہیں مل رہی اور آپ کے سیاسی حریفوں کو اس کمزوری کا خوب ادراک ہے۔
آپ دلیری نہیں کر سکتے تو ناں کریں لیکن وہی گھسے پٹے حربے تو نہ آزمائیں جن کے خلاف کل تک آپ خود بول رہے تھے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ آپ کہتے کہ واقعہ ہوا ہے، ہم کوشش کریں گے کہ ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا نہ دی جا سکے۔
آپ کا لولی پاپ تو میں تب مانوں اگر مجھے گھسیٹ پورے والوں کا پتا نہ ہو یا ربوہ اور ناظر امور عامہ کے پریس ریلیز کے مستند ہونے کے معیار سے بے خبری ہو۔
بقول آپ کے جو گھسیٹ پورے میں مرغے لڑانے والا احمدی بھی تھا، اس میں اتنا ڈسپلن تو تھا کہ اس نے فریق مخالف کی مسجد پہ حملہ نہیں کیا۔

حضرت ، آپ نے ایک بے جوڑ اور بے تکی بات کی ہے اپنی پریس کانفرنس میں ۔
اور یہ حرکت آپ سے صرف کرسی، اقتدار اور منصب وزارت نے کروائی ہے۔ اور آپ کی اس بات سے آپ کے سے پہلے حکومتی وزیروں کی مجبوری اب خود آپ کو بھی سمجھ میں آگئی ہو گی۔
کرسی ایسے ہی بے دست و پاء کر دیتی ہے۔
باقی یہ کہ اگر بکرے گرفتار نہ ہوتے تو احمدی بھی آپ لوگوں کی طرح صرف جانور ہی قربان کرتے مگر ایسے واقعات نے ان کو اپنے جذبات اور سیاسی، سماجی اور آئینی حقوق کی قربانی دینے کا موقع دے دیا ہے اور وہ بکروں کو ذبح کرنے سے اوپر اٹھ کر "ذبح عظیم” کا ذائقہ چکھ گئے اور آپ کھالوں، خون اور گوشت تک ہی محدود رہ گئے، کہ جس کے بارے میں خدا تعالی نے پہلے ہی ارشاد فرما دیا ہے کہ گوشت اور خون مجھ تک نہیں پہنچتے۔
آپ تمام سرکاری مسلمانوں کو خدا تک نہ پہنچنے والی قربانیاں مبارک ہوں۔

یاد رکھیں کہ حکومت سنبھالتے ہی یہ پہلی سیاسی مجبوری سے آپ کا واسطہ پڑا ہے اور آپ نے احمدیوں کے حقوق پر چھری چلانے سے گریز نہیں کیا۔ اب آپ کی یہ پہلی کمزوری آگے آپ سے ملک کے دیگر مفادات پر سمجھوتوں کی چھریاں چلوائے گی اور یوں آپ کے دور میں وہ سارے خوب چکنا چور ہوں گے جو آپ کی وکٹری سپیچ سے لے کر اب تک دکھائے جا رہے ہیں۔ آپ کو یہ سب شائید نظر نہ آ رہا ہو مگر مجھے تو دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کے طور پر دکھائی دے رہا ہے، اور پاکستان کی تاریخ میں یہ ہی تسلسل ہے جس کا ر خ آج تک نہیں موڑا گیا اور آپ کے موجودہ سٹینڈ سے لگ رہا ہے کہ آپ بھی اسی میں بہہ جائیں گے۔ اللہ آپ کی نوزائیدہ حکومت پر رحم کرے۔ احمدیوں کو تو یہ سب کچھ دیکھتے اور بھگتتے ہوئے سات نسلیں ہونے کو آئی ہیں۔ اب کیا دل کو رنجیدہ کریں۔
اب آگے کیسے چلنا ہے، آپ وفاقی وزیر ہیں۔۔۔۔آپ کو بہتر پتا ہو گا۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکائیت ہو گی!!!

مصنف طاہر بھٹی

Check Also

Censorship Never Conceals the Truth! By Waseem Altaf

Fiaz International Festival was held at Lahore from 16-18 November, 2018. Javed Akhtar and Shabana

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Send this to friend